حروفِ تہجی
ن
نون (Noon) کا مخرج، زبان کے کنارے اور اوپر کے دانتوں کی جڑ اور تالو سے ٹکرانے سے ادا ہوتا ہے۔
"ن" کی تاریخ
قدیم فونیشین حروفِ تہجی میں 14ویں حرف Nun کے طور پر "نون" کو مچھلی یا Fish کی علامت کے طور پر لکھا جاتا تھا جبکہ قدیم مصری تصاویر میں "نون" کی شکل "پانی" (Water) کی سی تھی۔
"ن"، اردو/پنجابی (نون) کا 32واں، فارسی (نے) کا 29واں، عربی (نون) کا 25واں اور ہندی کا 20واں حرف न (نا) ہے۔ صوتی اعتبار سے اردو کا 47واں حرف ہے جو انگریزی کے 14ویں حرف N (این) کا ہم آواز ہے۔
"ن" کی خصوصیات
- عربی گرامر میں "ن"، ایک مذکر اور شمسی حرف ہے۔ اگر"ال" لکھا ہوگا تو پڑھا نہیں جائے گا جیسے "النصیر" کو "انصیر" (An-Naseer) پڑھا جائے گا۔
- علمِ تجوید میں "ن" کو تین الف کے برابر کھینچ کر باریک اور ناک میں نہیں پڑھا جاتا۔ یہ بھی "ر، ل، م، و اور ی" کی طرح ایک "یرملون حرف" ہے یعنی جب "نون ساکن یا نون تنوین" کے بعد ایسے حروف آئیں تو وہاں ادغام ہوتا ہے۔
- علمِ ہجا میں "ن" کو "ر" اور "ل" کی طرح "حروفِ طرفیہ" یا "حروفِ حنکی" (Palatal) کہتے ہیں۔
- فنِ خطاطی میں "ن" کا شمار "اصلی حروف" میں ہوتا ہے جو خطِ نستعلیق میں چاروں لائنوں میں لکھا جاتا ہے۔
- حسابِ ابجد کے مطابق "ن"، 14واں حرف (کلمن) ہے جس کے 50 عدد مقررہیں۔
- علم الاعداد کے مطابق "ن"، ایک "بادی حرف" ہے جس کی تاثیر "ہوا" اور برج عقرب (Scorpio) ہے۔
نھ
نھ (Nhay) بھی ہوا کے جھٹکے سے منہ سے نکلنے والی ہائیہ یا ہکاری آوازوں (Aspirated sounds) کا ایک حرف ہے جو "ن" اور "ھ" کو ملا کر ایک موٹی آواز پیدا کرتا ہے۔
اردو/پنجابی (نھے) کا آخری 16واں مرکب اور آخری 15واں " ہائیہ حرف" ہے یعنی وہ حرف جس کے ساتھ دو چشمی "ھ" لکھ کر آواز کو موٹا کیا جاتا ہے۔
"نھ" کو "انھیں"، "جنھیں"، "ننھا" یا "ننھیال" وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن یہ الفاظ ہندی میں "ن" اور "ہ" کے الگ الگ حروف سے لکھے جاتے ہیں جیسے नन्हा (ننھا) وغیرہ۔ انگریزی میں اس لفظ کو Nanha لکھا جائے گا۔
ں
نون غنہ (Noon Ghunna)، "ن" کی دوسری شکل ہے جس کو "نونِ غیر منقوطہ" بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے کوئی لفظ شروع نہیں ہوتا۔ یہ الفاظ کے آخر یا درمیان میں ناک سے بولا جاتا ہے اور اس میں کوئی حرکت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اس کی آواز "میم" سے بدل جاتی ہے۔
"ں" کی تاریخ
19ویں صدی تک کی اردو املا میں "ں" (نون غنہ) کا حرف نہیں ہوتا تھا اور "میں"، "ہاں" یا "ہوں" جیسے عام الفاظ کو بالترتیب "مین"، "ہان" اور "ہون" کی طرح سے لکھا جاتا تھا۔ پھر "ں" متعارف ہوئی لیکن کبھی بھی حروفِ تہجی میں اپنا جائز مقام نہ پا سکی۔
لسانایات کے جدید علوم کی بنیادوں پر جب 37 مفرد حروف کے بعد تمام 16 مرکب اور ہائیہ حروف کو بھی حروفِ تہجی کا حصہ بنایا گیا تو 53 حروف میں "ں" نہیں تھی لیکن جدید کمپیوٹر کمپوزنگ کی وجہ سے پاکستان کے ادارہ فروغ ِ قومی زبان کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ نون غنہ (ں) بھی ایک الگ حرف ہے اور اس کو بھی اردو کے معیاری کی بورڈ میں شامل کیا جائے۔ اس طرح سے "ں" ( نون غنہ)، حروفِ تہجی کا 54واں حرف بنا۔
"ں"، اردو/پنجابی (نون غنہ) کی حروفِ تہجی میں ترتیب کے لحاظ سے 49واں حرف بنتا ہے۔ ہندی زبان میں "نون غنہ" کو کسی حرف کے اوپر ایک نقطے یا ڈاٹ کی صورت میں لکھا جاتا ہے جبکہ انگلش/رومن میں ing کے طور پر لکھا جاتا ہے۔
تازہ ترین
پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ
پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ
-
06-10-2016: ڈان لیکس
22-03-2008: سید یوسف رضا گیلانی
16-05-1946: کیبنٹ مشن پلان