حروفِ تہجی
ض
ضاد ( Zaad) ، عربی زبان کا مخصوص حرف اور تلفظ ہے جو زبان کی کروٹ اور اوپر کی داڑھوں کی جڑ سے ادا ہوتا ہے۔
"ض" کی تاریخ
"ض" کا حرف قدیم فونیشی رسم الخط میں نہیں تھا۔ دیگر زبانوں میں بھی نہیں ملتا۔ اس حرف کا صحیح تلفظ غیر عرب افراد کے لیے بڑا مشکل ہوتا ہے۔ اہل عرب "ض" کو انگلش/رومن میں Dh سے لکھتے ہیں جو "د" کی بھاری آواز ہے۔
برصغیر پاک و ہند میں خاص طور پر ایک مخصوص مذہبی مکتبہ فکر میں "ض" کو Z (یا "ذ") کی آواز سے بولا جاتا ہے لیکن قرآنِ حکیم کی تلاوت کے وقت اس کو صحیح عربی تلفظ میں ادا کرنا ضروری ہے۔ مثلاً "ولاالضالین" کے معانی "بہکے ہوؤں کے راستہ مت چلا" ہیں لیکن اگر "ولاالذالین" پڑھا جائے تو معانی "راستہ بتانے والوں کے راستے مت چلا" بن جاتے ہیں۔
"ض"، اردو/پنجابی (زاد/زواد) کا 21واں، فارسی (زے) کا 18واں اور عربی (دھاد) کا 15واں حرف ہے۔ صوتی اعتبار سے اردو کا 32واں حرف ہے جو ہندی یا انگریزی میں نہیں پایا جاتا۔
"ض" کی خصوصیات
- عربی گرامر میں "ض"، ایک مذکر اور شمسی حرف ہے، "ال" لکھا تو جائے گا لیکن پڑھا نہیں جائے گا اور اگلا حرف مشدد ہوجائے گا جیسے کہ "الضُّحٰى" کو "اضحیٰ" (Ad-Duha) پڑھا جائے گا۔
-
علمِ تجوید میں "ض" کے حرف کو تین الف کے برابر کھینچ کر موٹا پڑھا جاتا ہے۔
"ض" کو ہمیشہ موٹا پڑھے جانے والے 7 حروف (خ، ص، ض، ط، ظ، غ، ق) میں شامل کیا جاتا ہے جنھیں "حروفِ مستعلیہ" بھی کہتے ہیں۔
"ض" کا تعلق "حروفِ اخفا" سے بھی ہے یعنی قرآت کے دوران چھپائے جانے والے کل 15 حروف (ت، ث، ج، د، ذ، ز، س، ش، ص، ض، ط، ظ، ف، ق، ک)۔ - علمِ ہجا میں "ض" کو "ضاد معجمہ" اور "ضاد منقوطہ" بھی کہتے ہیں اور اس کا تعلق "حروفِ حافیہ" یا "حروفِ امتصاصی حلقی" (Velar aspirated) سے ہے۔
- فنِ خطاطی میں "ض" ایک "اصلی حرف" ہے جو خطِ نستعلیق میں چاروں لائنوں میں لکھا جاتا ہے۔
- حسابِ ابجدمیں "ض"، 26واں حرف (ضظغ) ہے جس کے 800 عدد مقرر ہیں۔
- علم الاعداد میں "ض"، ایک "بادی حرف" شمار ہوتا ہے جس کی تاثیر "ہوا"، برج عقرب (Scorpio) اور سیارہ مریخ (Mars) ہے۔
تازہ ترین
پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ
پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ
-
11-07-2020: پاکستان ، پانچواں بڑا آبادی والا ملک
18-03-2013: ایم ایم عالم
13-12-1971: جنرل نیازی اور سرنڈر