حروفِ تہجی
ے
بڑی یے (Bari Yeh)، اردو/پنجابی زبانوں کا مخصوص حروفِ علت/مصوتہ (long vowel) ہے۔
"ے" کی تاریخ
19ویں صدی کے آغاز تک اردو زبان میں "ے" کا حرف نہیں ہوتا تھا اور اس کی جگہ "ی" کو استعمال کیا جاتا تھا اور "ہے" کو "ہی" اور "نے" کو "نی" وغیرہ لکھا جاتا تھا۔
اردو کے علاوہ پنجابی، بروہی اور شینا زبانوں میں "بڑی یے" ہے۔ سرائیکی میں دو "یے" ہیں لیکن سندھی میں یہ حرف نہیں ہے البتہ پشتو کی پانچ "ی" میں سے ایک کی آواز "ے" کی ہے۔
"ے"، اردو/پنجابی (بڑی/وڈی یے) حروفِ تہجی کا 37واں اور صوتی اعتبار سے 54واں اور آخری حرف ہے جو صرف ایک حروفِ علت یا مصوتہ ہے جس سے "ڑ، ھ، ں اور ء" کی طرح کوئی لفظ شروع نہیں ہوتا۔ "ے"، صرف الفاظ کے درمیان اور آخر میں آتا ہے۔
"ے" کا استعمال
عربی زبان میں مختلف اعراب و علامات کے علاوہ تین لمبے مصوتے یا حروفِ علت (long vowels) "الف، و اور ی" ہیں لیکن "ے" کا حرف نہیں ہے البتہ اگر "ی" سے پہلے کے حرف پر زبر ہو تو "ے" کی آواز بنتی ہے جیسے کہ "عین" کا لفظ ہے۔ بعض عرب علاقوں میں مثلاً "قرآن" کو "قرین" پڑھتے ہیں جس میں ہمزہ کا استعمال بھی کرتے ہیں۔
فارسی زبان میں بھی "ے" کا حرف نہیں ہے۔ ہمارے ہاں عربی اور فارسی کے الفاظ کے آخر میں لکھی گئی "زیر" کو "ے" سے پڑھا جاتا ہے جو غلط ہے، یہ "ی" کا آدھ یا ایک short vowel ہوتا ہے۔
اردو زبان کی بنیاد یعنی کہ ہندی زبان میں "بڑی یے" کو صرف vowel کی صورت میں لکھا جاتا ہے جو کسی لفظ کے آغاز میں "اے" ए کی آواز دیتا ہے اور درمیان یا آخر میں حرف کے اوپر ایک کش یا ماترا لگا دی جاتی ہے۔
انگلش یا رومن میں "یے" کی آواز لفظ کے درمیان میں a,e,ai,ea وغیرہ اور لفظ کے آخر میں ay سے لکھا جاتا ہے، جیسے کہ Railway یا takeaway وغیرہ میں۔ بھارت میں رومن لکھتے وقت "ے" کے لیے آخر میں صرف e لکھ دیا جاتا ہے جو شاید مناسب نہیں، کیونکہ اب Lahore کو "لاہورے" تو نہیں پڑھا جائے گا۔۔!
"ے" کی خصوصیات
- علم ہجا میں "ے" کو اگر پوشیدہ زیر کے ساتھ "سیر" یا सेर) Ser) میں لکھا جائے تو "یائے مجہول" کہلاتا ہے اور اگر نرم اور ترچھی زبر کے ساتھ"سیر" یا सैर) Sair) میں لکھا جائے تو "یائے لین" کہلاتا ہے۔
- فنِ خطاطی میں "ے"، ایک "فرشی حرف" ہے جو خطِ نستعلیق میں درمیان کی دو لائنوں میں لکھا جاتا ہے۔
تازہ ترین
پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ
پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ
-
12-08-1983: قائد اعظم ؒ اور صدارتی نظام
21-02-1987: جنرل ضیاع کی کرکٹ ڈپلومیسی
17-10-1951: ملک غلام محمد