حروفِ تہجی
ج
جیم (Jeem) کا مخرج ، "چ" کی طرح، زبان کا درمیانی حصہ اوپر کے تالو کے ساتھ لگنے سے ادا ہوتا ہے۔
"ج" کی تاریخ
دنیا کی پہلی حروفِ تہجی، فونیشین زبان میں "ج"، Gimel کی صورت میں تیسرا حرف تھا جس کا مطلب "اونٹ" (Camel) ہے۔ دورِ حاضر کی عبرانی کی طرح قدیم عربی حروفِ تہجی "ابجد" میں بھی "ج"، تیسرا حرف ہوتا تھا۔
الف (بیل) اور بے (گھر) کے بعد جیم کو "اونٹ" کی علامت بنایا گیا جس کو "صحرائی جہاز" بھی کہا جاتا ہے جو اس دور میں صحراؤں میں لمبے سفر پر جانے کا بہترین ذریعہ ہوتا تھا۔
فونیشین زبان ہی سے متاثر یونانی زبان میں بھی "ج" کو Gamma کی صورت میں تیسرا مقام حاصل ہے لیکن رومن/لاطینی زبانوں میں "ج" کی آواز نہیں ہوتی تھی، اس لیے الف بے یا AB کے آگے C آئی۔ بعد میں C اور G دونوں حروف وجود میں آئے۔
"ج"، اردو/پنجابی (جیم) کا 7واں، فارسی (جے) کا چھٹا، عربی (جیم) کا 5واں اور ہندی کا 8واں ज (جا) حرف ہے۔ صوتی اعتبار سے اردو کا 12واں حرف ہے۔
سندھی اور سرائیکی میں جیم کی دو قسمیں ہیں، ایک عام "ج" اور دوسری جیم میں دو عمودی نقطے ہوتے ہیں جو شاید پنجابی زبان کے "چ" اور "جھ" کا تلفظ ہے۔
انگریزی میں "ج" کا حرف؟
"ج" کو انگریزی/رومن میں G یا J سے لکھا جاتا ہے۔ عام طور پر انگلش میں C اور G کے آگے e,i,y کے حروفِ علت ہوں تو C کو S (سین) اور G کو J (جیم) پڑھا جاتا ہے جبکہ a,o,u کے vowels ہوں تو C کو K (کاف) اور G کو G (گاف) پڑھا جاتا ہے۔
"ج" کی خصوصیات
- عربی زبان کے قواعدہ ضوابط میں "ج" ایک قمری حرف ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی لفظ سے پہلے"ال" لکھا جائے گا تو پڑھا بھی جائے گا جیسے کہ "الجمیل" یا "الجواد" وغیرہ۔ جیم کی تذکیر و تانیث میں اختلاف ہے۔
-
علمِ تجوید میں "ج" کو تین الف کے برابر کھینچ کر اور ناک سے بچا کر صرف منہ سے پڑھا جاتا ہے۔
قرآنِ مجید کے رموز اوقاف میں آیات کے درمیان جب "ج" آتا ہے تو وہاں رکنے اور ملا کر پڑھنے کی اجازت ہوتی ہے۔
اللہ تعالی کی شان کبریائی بیان کرنے کے لیے "جل جلالہ" لکھنے کے لیے بھی "ج" کی علامت استعمال کی جاتی ہے۔ - علمِ ہجا میں "ج" کو "جھ، چ، چھ، ش اور ی" کی طرح "تالو کے حروف" یعنی "حروفِ شجریہ"یا "حروفِ حنکی" (Palatal) بھی کہتے ہیں۔
- فنِ خطاطی میں "ج"، ایک "اصلی حرف" ہے جو خطِ نستعلیق میں چاروں لائنوں میں لکھا جاتا ہے۔
- حسابِ ابجد میں "ج"، تیسرا حرف (ابجد) ہے جس کے 3 عدد مقرر ہیں۔
- علم الاعداد میں "ج"، ایک "آبی حرف" ہے جس کی تاثیر "پانی"، برج جدی (Capricorn) اور سیارہ زحل (Saturn) ہے۔
جھ
جھے (Jhay) ، حنک (تالو) سے ادا کئے جانے کی وجہ سے حنکیہ (Palatal) اور تحریر میں "ھ" کی وجہ سے "ج کی ہائیہ" شکل کہلاتا ہے۔
"جھ"، اردو/پنجابی کا چھٹا مرکب اور 5واں ہائیہ حرف ہے۔ صوتی اعتبار سے اردو کا 13واں حرف ہے جو ہندی زبان کا 9واں مفرد حرف झ (جھا) ہے اور انگریزی/رومن میں Jh سے لکھا جاتا ہے۔
پنجابی زبان میں "جھ" کا تلفظ
"جھ"، پنجابی زبان میں لفظ کے شروع میں "چ" اور "جھ" کی درمیانی آواز دیتا ہے لیکن لفظ کے درمیان اور آخر میں اردو/ہندی کی طرح کی آواز بن جاتی ہے جیسے کہ "جھلا"، "ماجھا" یا "سانجھ" وغیرہ۔ سندھی اور سرائیکی میں بھی "جھ" کو اسی طرح سے لکھتے ہیں۔ سکھوں کی گرمکھی پنجابی میں بھی اس حرف کا صرف پہلا تلفظ موجود ہے، دوسرا نہیں ہے۔
تازہ ترین
پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ
پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ
-
26-04-1963: پاک بھارت کشمیر مذاکرات
24-07-1965: آپریشن جبرالٹر
18-09-1966: جنرل یحییٰ خان