حروفِ تہجی
ص
صاد (ص، Saad) ، عربی زبان کا مخصوص حرف ہے جو زبان کی نوک اور اوپر کے دانتوں کے اندرونی کنارے سے ادا ہوتا ہے اور "س" کے برعکس موٹا پڑھا جاتا ہے۔
"ص" کی تاریخ
"ص" کا حرف قدیم فونیشین زبان میں 18ویں حرف Sadhe کے طور پر مچھلی پکڑنے والی کھونٹی یا Fishhook کی شکل میں لکھا جاتا تھا۔
"ص"، اردو/پنجابی (ساد/سواد) کا 20واں، فارسی (سے) کا 17واں اور عربی (صاد) کا 14واں حرف ہے۔ صوتی اعتبار سے اردو کا 31واں حرف ہے۔ ہندی اور انگریزی میں S ہی سے لکھا جاتا ہے۔
"ص" کی خصوصیات
- عربی گرامر میں "ص"، ایک مذکر اور شمسی حرف ہے، "ال" لکھا تو جائے گا لیکن لام نہیں پڑھا جائے گا اور اگلا حرف مشدد ہوجائے گا جیسے کہ "الصمد" میں "اصمد" (As-Samd) وغیرہ۔
-
علمِ تجوید میں "ص" کے حرف کو تین الف کے برابر کھینچ کر سیٹی کی آواز نکالتے ہوئے موٹا پڑھا جاتا ہے۔ "سیٹی والے" 3 حروف (ز، س اور ص) کو "حروفِ صفیریہ" کہا جاتا ہے۔
"ص"، کو ہمیشہ موٹا پڑھے جانے والے 7 حروف (خ، ص، ض، ط، ظ، غ، ق) میں بھی شمار کیا جاتا ہے جنھیں "حروفِ مستعلیہ" کہتے ہیں۔
"ص" کو قرآت کے دوران چھپائے جانے والے کل 15 حروف (ت، ث، ج، د، ذ، ز، س، ش، ص، ض، ط، ظ، ف، ق، ک) میں بھی شمار کیا جاتا ہے جنھیں "حروفِ اخفا" کہتے ہیں۔
"ص"، قرآن شریف کی 38ویں سورۃ کا نام بھی ہے جبکہ تلاوت کے رموز اوقاف کے مطابق آیات میں "ص" کی علامت آئے تو وہاں وقف کرنے کی رخصت ہے البتہ ملا کر بھی پڑھا جا سکتا ہے۔
"ص" کو ﷺ کے مخفف ؐ کے طور پر بھی لکھا جاتا ہے۔ - علمِ ہجا میں "ص" کو "صاد مہملہ" اور "صاد غیر منقوطہ" بھی کہتے ہیں جو "حروفِ سنویہ امتصاصی" (Dental aspirated) یعنی دانتوں والے حروف میں شامل ہے۔
- فنِ خطاطی میں "ص"، ایک "اصلی حرف" ہے جو خطِ نستعلیق میں چاروں لائنوں میں لکھا جاتا ہے۔
- حسابِ ابجد کی رو سے "ص"، 18واں حرف (سعفص) ہے جس کے 90 عدد مقرر ہیں۔
- علم الاعداد میں "ص"، ایک "بادی حرف" ہے جس کی تاثیر "ہوا"، برج دلو (Aquarius) اور سیارہ زحل (Saturn) ہے۔
تازہ ترین
پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ
پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ
-
28-03-1929: قائدِاعظمؒ کے چودہ نکات
06-08-2020: ML1 ریل منصوبہ
25-04-2009: مرزا اسلم بیگ کا ایک انٹرویو