حروفِ تہجی
ش
شین (Sheen) کا مخرج، وسطِ زبان اور وسطِ تالو کے درمیان ہوا کے اخراج سے ہوتا ہے۔
"ش" کی تاریخ
قدیم فونیشی رسم الخط میں "ش"، 23 حرف Shin ایک دانت یعنی Tooth کی علامت تھی جو قدیم مصری ہیروغلیفی تصاویر میں ایک بیسن Basin کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ "ش" کو یونانی زبان میں مشہور سگما (sigma Σ) کے نشان سے جانا جاتا ہے۔
"ش"، اردو/پنجابی (شین) کا 19واں، عربی (شین) کا 13واں، فارسی (شے) کا 16واں اور ہندی کا 30واں حرف श ہے۔ صوتی اعتبار سے اردو کا 30واں حرف ہے جو انگریزی/رومن میں عام طور پر آغاز میں Sh اور درمیان میں C اور T سے بھی لکھا جاتا ہے۔
"ش" کی خصوصیات
- عربی گرامر میں "ش"، ایک مذکر اور شمسی حرف ہے، "ال" لکھا جائے گا لیکن لام نہیں پڑھا جائے گا اور اگلا حرف مشدد ہوجائے گا جیسے کہ "الشمس" میں "اشمس" (Ash-Shams) وغیرہ۔
-
علمِ تجوید میں "ش" کو تین الف کے برابر کھینچ کر ناک سے بچاتے ہوئے منہ سے ادا کیا جاتا ہے۔
"ش" کا تعلق "حروفِ اخفا" یعنی قرآت کے دوران چھپائے جانے والے کل 15 حروف (ت، ث، ج، د، ذ، ز، س، ش، ص، ض، ط، ظ، ف، ق، ک) میں ہوتا ہے۔ - علمِ ہجا میں "ش" کو "ج اور ی" کی طرح "حروفِ شجریہ" یا "حرفِ حنکی" (Palatal) کہتے ہیں۔
- فنِ خطاطی میں "ش" کا شمار "اصلی حروف" میں ہوتا ہے جو خطِ نستعلیق میں چاروں لائنوں میں لکھا جاتا ہے۔
- علم الاعداد میں "ش"، 21واں حرف (قرشت) ہے جس کے 300 عدد مقرر ہیں۔
- علم الاعداد میں "ش"، ایک "آتشی حرف" ہے جس کی تاثیر "آگ"، برج دلو (Aquarius) اور سیارہ زحل (Saturn) ہے۔
تازہ ترین
پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ
پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ
-
12-08-1983: قائد اعظم ؒ اور صدارتی نظام
01-03-2010: پاکستان کرونیکل
04-04-1965: رن آف کچھ کا تنازعہ