PAK Magazine | An Urdu website on the Pakistan history
Friday, 21 June 2024, Day: 173, Week: 25

PAK Magazine |  پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان ، ایک منفرد انداز میں


پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان

Annual
Monthly
Weekly
Daily
Alphabetically

جمعتہ المبارک 16 اگست 1946ء

یوم راست اقدام

وزیر اعلیٰ سہروردی اور خواجہ ناظم الدین
سہروردی اور ناظم الدین

16 اگست 1946ء کا دن برصغیر کی تاریخ کا ایک المناک دن تھا جب تقسیم کے بعد ہونے والے خونزیر فرقہ وارانہ فسادات کا ایک خوفناک ٹریلر نظر آیا تھا۔۔!

ڈائریکٹ ایکشن ڈے

29 جولائی 1946ء کو قائداعظمؒ نے "یوم راست اقدام" یا Direct Action Day منانے کا حکم دیا۔ انھوں نے ملک بھر میں آل انڈیا مسلم لیگ کے کارکنوں کو ہندوستان سے الگ ، آزاد اور خودمختار "پاکستان" کی حمایت میں بھرپور احتجاج ، مظاہرے ، دھرنے ، ہڑتال اور جلسے جلوس کرنے کا کہا گیا تھا۔ ان کی اس اپیل پر ملک بھر میں پرامن احتجاج ہوا لیکن کلکتہ (یا کولکتہ) میں صورتحال ایسی بگڑی کہ ہندوستان کی تاریخ کے بدترین خونی فسادات ہوئے۔ ہزارہا افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔ بے گھر ہونے والوں کی کمی بھی نہ تھی۔ فسادی شیطانی قوتیں اپنی تمام تر خباثتوں کے ساتھ میدان عمل میں تھیں۔

کلکتہ کے فسادات کیوں ہوئے؟

Direct Action 1946
Direct Action 1946

کلکتہ کے ان خونریز فسادات کا آغاز اسوقت ہوا جب قائداعظمؒ کی اپیل پر بنگال کی صوبائی حکومت نے 16 اگست 1946ء کو صوبہ بھر میں سرکاری تعطیل کا اعلان کردیا جس پر ہندو پریس اور لیڈران خاصے برہم تھے حالانکہ اس حکم کو انگریز گورنر کی حمایت بھی حاصل تھی۔ بنگال ، واحد صوبہ تھا جہاں مسلم لیگ کی حکومت تھی۔ وزیراعلیٰ حسین شہید سہروردی تھے جنھیں ہندو پریس ، فسادات کا سب سے بڑا ذمہ دار قرار دیتا تھا اور "بنگال کا قصاب" بھی کہتا تھا۔

جب کشیدگی ، فسادات بن گئی

کلکتہ میں احتجاجی جلسہ وزیراعلیٰ حسین شہید سہروردی اور خواجہ ناظم الدین کی قیادت میں شروع ہوا۔ اس دوران مسلم لیگی کارکنوں نے ہندوؤں کی دکانیں اور کاروبار زبردستی بند کروانا شروع کردیے جنھوں نے اپنے مقامی ہندو لیڈروں کے کہنے پر ہڑتال کو نظرانداز کردیا تھا۔ اس پر کشیدگی اتنی بڑھی کہ باہمی جھگڑے ، قتل و غارت گری کی بڑی وجہ بن گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ یہ فسادات پورے بنگال اور بہار میں پھیل گئے تھے۔ جہاں ہندوؤں کی اکثریت تھی ، وہاں مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور جہاں مسلمان زیادہ تعداد میں آباد تھے وہاں سے نہ صرف ہندوؤں کا صفایا ہوا بلکہ دونوں طرف سے بڑی تعداد میں نقل مکانی بھی ہوئی جس نے مغربی بنگال کو ہندوؤں اور مشرقی بنگال کو مسلمانوں کا علاقہ بنا دیا تھا۔ حقیقت میں تقسیم بنگال کے ساتھ ہی تقسیم ہند کا آغاز بھی ہوگیا تھا۔

راست اقدام کی ضرورت کیوں تھی؟

قائداعظمؒ کی پوری سیاسی زندگی میں یہ واحد موقع تھا کہ جب انھوں نے قانون و ضوابط کی پاسداری اور افہام و تفہیم کے بجائے سٹریٹ پاور کی ضرورت محسوس کی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ کانگریس نے کابینہ مشن پلان کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا جو ہندوستان کی تقسیم کو روکنے کا آخری حربہ تھا۔ اس پلان میں متحدہ ہندوستان کی ضمانت دی گئی تھی لیکن ساتھ ہی مکمل صوبائی خودمختاری کے ساتھ صوبوں کو یہ حق بھی دیا گیا تھا کہ دس سال بعد وفاق سے الگ ہوسکتے ہیں۔

مسلم لیگ نے اپنے 9 اپریل 1946ء کے قرارداد دہلی کے اعلامیے کے بالکل برعکس اس منصوبے کو 6 جون 1946ء ہی کو تسلیم کرلیا تھا لیکن کانگریس کسی طور بھی صوبوں کو مرکز سے علیحدگی کا حق دینے کو تیار نہ تھی۔ اس "راست اقدام" کے بعد ان کی عقل ٹھکانے آئی اور نہ صرف کیبنٹ مشن پلان کو من و عن تسلیم کیا بلکہ 15 اکتوبر 1946ء کو مسلم لیگ کے ساتھ مخلوط عبوری حکومت میں شرکت بھی کی تھی۔ لیکن یہ تلخی ایسی نہ تھی کہ مٹ جاتی ، نتیجہ تقسیم ہند کی شکل میں سامنے آیا اور برصغیر میں مسلمانوں کا ایک الگ وطن "پاکستان" وجود میں آگیا تھا۔

یوم راست اقدام
یوم راست اقدام
کلکتہ کے قتل عام 1946ء





Direct Action Day

Friday, 16 August 1946

Direct Action Day was called by Jinnah after Congress refused to accept the Cabinet Mission Plan in 1946..




پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ

پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ



پاکستان کے اہم تاریخی موضوعات



تاریخِ پاکستان کی اہم ترین شخصیات



تاریخِ پاکستان کے اہم ترین سنگِ میل



پاکستان کی اہم معلومات

Pakistan

چند مفید بیرونی لنکس



پاکستان فلم میگزین

پاک میگزین" کے سب ڈومین کے طور پر "پاکستان فلم میگزین"، پاکستانی فلمی تاریخ، فلموں، فنکاروں اور فلمی گیتوں پر انٹرنیٹ کی تاریخ کی پہلی اور سب سے بڑی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔


پاکستانی فلموں کے 75 سال …… فلمی ٹائم لائن …… اداکاروں کی ٹائم لائن …… گیتوں کی ٹائم لائن …… پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد …… پاکستان کی پہلی پنجابی فلم پھیرے …… پاکستان کی فلمی زبانیں …… تاریخی فلمیں …… لوک فلمیں …… عید کی فلمیں …… جوبلی فلمیں …… پاکستان کے فلم سٹوڈیوز …… سینما گھر …… فلمی ایوارڈز …… بھٹو اور پاکستانی فلمیں …… لاہور کی فلمی تاریخ …… پنجابی فلموں کی تاریخ …… برصغیر کی پہلی پنجابی فلم …… فنکاروں کی تقسیم ……

پاک میگزین کی پرانی ویب سائٹس

"پاک میگزین" پر گزشتہ پچیس برسوں میں مختلف موضوعات پر مستقل اہمیت کی حامل متعدد معلوماتی ویب سائٹس بنائی گئیں جو موبائل سکرین پر پڑھنا مشکل ہے لیکن انھیں موبائل ورژن پر منتقل کرنا بھی آسان نہیں، اس لیے انھیں ڈیسک ٹاپ ورژن کی صورت ہی میں محفوظ کیا گیا ہے۔

پاک میگزین کا تعارف

"پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔

Old site mazhar.dk

یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔

اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔

سالِ رواں یعنی 2024ء کا سال، "پاک میگزین" کی مسلسل آن لائن اشاعت کا 25واں سلور جوبلی سال ہے۔




PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor, I am not responsible for the content of any external site.