PAK Magazine
Saturday, 24 July 2021, Week: 29

Pakistan History

سالانہ | ماہانہ | ہفتہ وارانہ | روزانہ | حروفانہ | اہم ترین | تحریک پاکستان | ذاتی ڈائریاں

Pakistan History

1971

اُدھر تم ، اِدھر ہم

اتوار 14 مارچ 1971

ادھر تم ادھر ہم
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب ذوالفقار علی بھٹوؒ نے 14 مارچ 1971ء کو کراچی کے نشتر پارک میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے جنرل یحیٰی خان کی فوجی حکومت کو یہ تجویز پیش کی تھی کہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کو اقتدار سونپ دیا جائے تا کہ آئینی بحران ختم ہو سکے۔ اس خبر کو لاہور کے ایک اخبار آزاد نے "اُدھر تم اِدھر ہم" کی شہ سرخی سے شائع کیا تھا جو نیوز ایڈیٹر عباس اطہر کے ذہن کی اختراع تھی۔ یہ بلا شبہ پاکستان کی صحافتی تاریخ کی سب سے بڑی شہ سرخی تھی جسے بنیاد بنا کر بھٹو کے مخالفین انہیں سانحہ مشرقی پاکستان میں ملوث کرنےکی ناکام کوشش کرتے رہے ہیں۔

حقیقت یہ تھی کہ اس وقت کے سیاسی بحران میں اس سے بہتر کوئی حل نہیں تھا۔ بنگالی ، مکمل آزادی اور خودمختاری پر تلے بیٹھے تھے۔ اکثریتی آبادی ہونے کے باوجود آزادی کے بعد سے انہیں ان کے جائز حق سے محروم رکھا گیا تھا۔ وہ کسی طور پر پاکستان کے آمرانہ نظام حکومت کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔ 1970ء کے انتخابات میں کامیابی سے قانونی اور اخلاقی طور پر بھی ان کی پوزیشن مضبوط تھی۔ ایسے میں اس وقت دو ہی حل تھے۔ جن میں سے پہلا حل یہ تھا کہ اس وقت کی مختار کل فوجی حکومت ، شیخ مجیب کو حکومت دے دیتی جو چھ نکات پر ملک کا آئین بناتا اور پاکستان خودبخود پانچ حصوں میں تقسیم ہوجاتا جس سے مرکزیت ختم ہوجاتی اور اس کا سب سے بڑا نقصان ہمیشہ سے مقتدر قوتوں کو ہوتا جو وہ کبھی برداشت نہ کرتے۔ دوسرا حل جو بھٹو نے تجویز کیا تھا یعنی " اُدھر تم اِدھر ہم " ، وہ مکمل طور پر زمینی حقائق کے عین مطابق اور اس حقیقت کا ادراک اور اعتراف بھی تھا کہ اصل مقتدر حلقوں کی رضامندی کے بغیر پاکستان میں کچھ نہیں ہو سکتا۔ اگر ان کی یہ تجویز مان لی جاتی تو ایسے میں پرامن طور پر دونوں حصوں میں الگ الگ خودمختار حکومتیں قائم ہوجاتیں اور صرف خارجہ پالیسی اور دفاع ، مشترکہ ہوتے۔ ایسے میں علیحدگی ، خانہ جنگی اور ذلت آمیز فوجی شکست کی نوبت نہ آتی اور بنگلہ دیش جیسا منحوس نام بھی سننے کو نہ ملتا۔ بھٹو جیسا دوراندیش رہنما جو کچھ دیکھ رہا تھا ، وہ اس کے عقل کے اندھے سیاسی مخالفین ، بغلول قسم کے صحافیوں اور خردماغ حکمرانوں کو نظر نہیں آرہا تھا۔ ویسے بھی یہ ایک تجویز تھی ، بھٹو کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں تھا کہ وہ ' اُدھر تم اور اِدھر ہم ' پر عمل کرتا یا اس سے ملک توڑنے کی بہتان تراشی کرنے والوں کو کوئی جواز ملتا۔ تمام اختیارات اس وقت کے فوجی حکمرانوں کے پاس تھے جو مختار کلُ اور عقل کلُ بھی تھے اور جنہوں نے طاقت کے بل بوتے پر مسائل کو حل کرنے کی ناکام کوشش کی تھی جس کا نتیجہ ایک شرمناک فوجی شکست اور ایک خونی تاریخ کی صورت میں سامنے آیا تھا۔




Udhar Tum Idhar Ham
(Daily Azad Lahore, 15 March 1971)

Idhar Ham Udhar Tum
(Daily Azad Lahore, 16 March 1971)

Udhar Tum Idhar Ham

Sunday, 14 March 1971

Pakistan Peoples Party Chairman Mr. Zulfikar Ali Bhutto in a public mass in Karachi on March 14, 1971 proposes that his party should rule over West Pakistan while Sheikh Mujibur Rehman's Awami League could control East Pakistan. His political rivals claimed that it was the first step to break Pakistan..!



Naamver



World history

Pakistan History

تاریخ پاکستان
جنرل ایوب کی بنیادی جمہوریت
جنرل ایوب کی بنیادی جمہوریت
دنیا میں مذہبی رحجانات
دنیا میں مذہبی رحجانات
بھٹو حکومت کی اقتصادی کارکردگی
بھٹو حکومت کی اقتصادی کارکردگی
پاکستان کے پہلے سکے
پاکستان کے پہلے سکے
محمد علی بوگرا فارمولا
محمد علی بوگرا فارمولا

Other segments on Pak Magazine

مستقل سلسلے
اخبارات
اخبارات
جغرافیائی تاریخ
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
سقوط ڈھاکہ
قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ
بھٹو شہیدؒ
بھٹو شہیدؒ
آمر مردود
آمر مردود
صدر
صدر
وزیر اعظم
وزیر اعظم
آرمی چیف
آرمی چیف
چیف جسٹس
چیف جسٹس
مغلیہ سلطنت
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
حج بیت اللہ
سیف الملوک
سیف الملوک
شعر و شاعری
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
فلم میگزین

Pakistan Media

Some useful external links


Some useful history sites

World links

Some useful links

Cricket links

IT links

Urdu poetry links

Pakistan
Pakistan

وکی پیڈیا پر پاکستان کی تاریخ


Pakistan World Rankings

پاکستان کی عالمی درجہ بندی

پاکستان کی معیشت ، سیاست و ریاست اور دیگر اہم موضوعات میں عالمی درجہ بندیوں کی معلومات کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ روایتی حریف بھارت اور جڑواں بھائی بنگلہ دیش کی درجہ بندیوں کے علاوہ دنیا کی ایک مثالی جمہوریت ڈنمارک کو بھی موازنے کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ درجہ بندیوں میں چھوٹے اعداد بہترین اور بڑے بدترین ہیں جبکہ تمام رقوم امریکی ڈالروں میں ہیں۔
آبادی (لاکھوں میں)225213726170058
آبادی کی درجہ بندی528113
رقبہ33792130
فی کس آمدن12851877188858439
فی کس آمدن کی درجہ بندی1541391427
ڈالر ریٹ16071846
معیشت کا حجم2233051
زرمبادلہ کے ذخائر (اربوں میں)135844378
زرمبادلہ کے ذخائر کی درجہ بندی7154631
خوشحالی123591073
انسانی ترقی15413313110
تعلیم1281121552
صحت عامہ123591073
فوجی طاقت1044554
دہشت گردی سے متاثر783385
امن و امان کی صورتحال1531411015
مذہبی وابستگی50543145
ایمانداری124861461
جمہوری روایات10553767
پاسپورٹ کی عزت107851015


Pakistan Exchange Rates

Pakistan Rupee Exchange Rate