PAK Magazine
Saturday, 24 February 2024, Week: 08

Pakistan Chronological History
Annual
Monthly
Weekly
Daily
Alphabetically

1971

اُدھر تم ، اِدھر ہم

اتوار 14 مارچ 1971
ادھر تم ادھر ہم

گزشتہ نصف صدی سے یہ پروپیگنڈہ بڑے تواتر سے کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان ٹوٹنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ بھٹو نے "اُدھر تم ، اِدھر ہم" کا نعرہ لگایا اور پاکستان دو لخت ہوگیا تھا۔۔!

کوئی بہت بڑا پاگل دا پتر ہی اس بہتان تراشی پر یقین کر سکتا ہے کہ اس طرح سے کوئی ملک دو ٹکڑے ہوسکتا ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ اگر 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں شرمناک فوجی شکست نہ ہوتی تو مشرقی پاکستان کبھی بنگلہ دیش نہ بنتا۔۔!

کیا بھٹو نے "ادھر تم ادھر ہم" کہا تھا؟

تاریخی حقائق یہ ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب ذوالفقار علی بھٹوؒ نے 14 مارچ 1971ء کو کراچی کے نشتر پارک میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے جنرل یحیٰی خان کی فوجی حکومت کو یہ تجویز پیش کی تھی کہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کو اقتدار سونپ دیا جائے تا کہ آئینی بحران ختم ہو سکے۔ اس خبر کو لاہور کے ایک اخبار آزاد نے "اُدھر تم اِدھر ہم" کی شہ سرخی سے شائع کیا تھا جو نیوز ایڈیٹر عباس اطہر کے ذہن کی اختراع تھی۔ یہ بلا شبہ پاکستان کی صحافتی تاریخ کی سب سے بڑی شہ سرخی تھی جسے بنیاد بنا کر بھٹو کے مخالفین انہیں سانحہ مشرقی پاکستان میں ملوث کرنےکی ناکام کوشش کرتے رہے ہیں۔

"ادھر تم ادھر ہم" اور پاکستان کا سیاسی بحران

حقیقت یہ تھی کہ اس وقت کے سیاسی بحران میں اس سے بہتر کوئی حل نہیں تھا۔ بنگالی ، مکمل آزادی اور خودمختاری پر تلے بیٹھے تھے۔ اکثریتی آبادی ہونے کے باوجود آزادی کے بعد سے انہیں ان کے جائز حق سے محروم رکھا گیا تھا۔ وہ کسی طور پر پاکستان کے آمرانہ نظام حکومت کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔ 1970ء کے انتخابات میں کامیابی سے قانونی اور اخلاقی طور پر بھی ان کی پوزیشن مضبوط تھی۔ ایسے میں اس وقت دو ہی حل تھے۔ جن میں سے پہلا حل یہ تھا کہ اس وقت کی مختار کل فوجی حکومت ، شیخ مجیب کو حکومت دے دیتی جو چھ نکات پر ملک کا آئین بناتا اور پاکستان خودبخود پانچ حصوں میں تقسیم ہوجاتا جس سے مرکزیت ختم ہوجاتی اور اس کا سب سے بڑا نقصان ہمیشہ سے مقتدر قوتوں کو ہوتا جو وہ کبھی برداشت نہ کرتے۔

کیا "ادھر تم ادھر ہم" ہی پاکستان کے مسئلے کا حل تھا؟

دوسرا حل جو بھٹو نے تجویز کیا تھا یعنی " اُدھر تم اِدھر ہم " ، وہ مکمل طور پر زمینی حقائق کے عین مطابق اور اس حقیقت کا ادراک اور اعتراف بھی تھا کہ اصل مقتدر حلقوں کی رضامندی کے بغیر پاکستان میں کچھ نہیں ہو سکتا۔ اگر ان کی یہ تجویز مان لی جاتی تو ایسے میں پرامن طور پر دونوں حصوں میں الگ الگ خودمختار حکومتیں قائم ہوجاتیں اور صرف خارجہ پالیسی اور دفاع ، مشترکہ ہوتے۔ ایسے میں علیحدگی ، خانہ جنگی اور ذلت آمیز فوجی شکست کی نوبت نہ آتی اور بنگلہ دیش جیسا منحوس نام بھی سننے کو نہ ملتا۔

کیا "ادھر تم ادھر ہم" کہنے سے پاکستان ٹوٹ سکتا تھا؟

بھٹو جیسا دوراندیش رہنما جو کچھ دیکھ رہا تھا ، عقل کے اندھے سیاسی مخالفین ، بغلول قسم کے صحافیوں اور خردماغ حکمرانوں کو نظر نہیں آرہا تھا۔ ویسے بھی یہ ایک تجویز تھی ، بھٹو کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں تھا کہ وہ ' اُدھر تم اور اِدھر ہم ' پر عمل کرتا یا اس سے ملک توڑنے کی بہتان تراشی کرنے والوں کو کوئی جواز ملتا۔ تمام اختیارات اس وقت کے فوجی حکمرانوں کے پاس تھے جو مختار کلُ اور عقل کلُ بھی تھے اور جنہوں نے طاقت کے بل بوتے پر مسائل کو حل کرنے کی ناکام کوشش کی تھی جس کا نتیجہ ایک شرمناک فوجی شکست اور ایک خونی تاریخ کی صورت میں سامنے آیا تھا۔





Udhar Tum Idhar Ham
(Daily Azad Lahore, 15 March 1971)

Idhar Ham Udhar Tum
(Daily Azad Lahore, 16 March 1971)


Udhar Tum Idhar Ham

Sunday, 14 March 1971

Pakistan Peoples Party Chairman Mr. Zulfikar Ali Bhutto in a public mass in Karachi on March 14, 1971 proposes that his party should rule over West Pakistan while Sheikh Mujibur Rehman's Awami League could control East Pakistan. His political rivals claimed that it was the first step to break Pakistan..!


Udhar Tum Idhar Ham (video)

Credit: Naamver


1993
معین قریشی
معین قریشی
1951
گورنر جنرل ملک غلام  محمد
گورنر جنرل ملک غلام محمد
1978
جنرل ضیاع صدر بنا
جنرل ضیاع صدر بنا
1974
قادیانی، غیر مسلم قرار پائے
قادیانی، غیر مسلم قرار پائے
1947
سر محمد ظفر اللہ خان
سر محمد ظفر اللہ خان



تاریخ پاکستان

پاک میگزین ، پاکستانی تاریخ پر اردو میں ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر اہم تاریخی واقعات کو بتاریخ سالانہ ، ماہانہ ، ہفتہ وارانہ ، روزانہ اور حروفانہ ترتیب سے چند کلکس کے نیچے پیش کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اہم ترین واقعات اور شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مخصوص صفحات ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تصویر و تحریر ، ویڈیو اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ ایک انفرادی کاوش اور فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ ہے جو اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!



تاریخ پاکستان ، اہم موضوعات
تحریک پاکستان
تحریک پاکستان
جغرافیائی تاریخ
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
سقوط ڈھاکہ
شہ سرخیاں
شہ سرخیاں
سیاسی ڈائری
سیاسی ڈائری
قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
بے نظیر بھٹو
بے نظیر بھٹو
نواز شریف
نواز شریف
عمران خان
عمران خان
سکندرمرزا
سکندرمرزا
جنرل ایوب
جنرل ایوب
جنرل یحییٰ
جنرل یحییٰ
جنرل ضیاع
جنرل ضیاع
جنرل مشرف
جنرل مشرف
صدر
صدر
وزیر اعظم
وزیر اعظم
آرمی چیف
آرمی چیف
چیف جسٹس
چیف جسٹس
انتخابات
انتخابات
امریکی امداد
امریکی امداد
مغلیہ سلطنت
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
حج بیت اللہ
سیف الملوک
سیف الملوک
شعر و شاعری
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
فلم میگزین
میڈیا لنکس
میڈیا لنکس

پاکستان کے بارے میں اہم معلومات

Pakistan

چند اہم بیرونی لنکس


پاکستان کی فلمی تاریخ

پاکستانی فلموں کے 75 سال …… فلمی ٹائم لائن …… اداکاروں کی ٹائم لائن …… گیتوں کی ٹائم لائن …… پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد …… پاکستان کی پہلی پنجابی فلم پھیرے …… پاکستان کی فلمی زبانیں …… تاریخی فلمیں …… لوک فلمیں …… عید کی فلمیں …… جوبلی فلمیں …… پاکستان کے فلم سٹوڈیوز …… سینما گھر …… فلمی ایوارڈز …… بھٹو اور پاکستانی فلمیں …… لاہور کی فلمی تاریخ …… پنجابی فلموں کی تاریخ …… برصغیر کی پہلی پنجابی فلم …… فنکاروں کی تقسیم ……


غلام حسین شبیر
غلام حسین شبیر
کریم شہاب الدین
کریم شہاب الدین
اے حمید
اے حمید
مسرور انور
مسرور انور
راگنی
راگنی


PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.