PAK Magazine
Saturday, 03 December 2022, Week: 48

Pakistan Chronological History
Annual
Annual
Monthly
Monthly
Weekly
Weekly
Daily
Daily
Alphabetically
Alphabetically


1970
جنرل یحییٰ کی ہوس اقتدار
جنرل یحییٰ کی ہوس اقتدار
1945
شملہ کانفرنس 1945ء
شملہ کانفرنس 1945ء
1957
نیپ (نیشنل عوامی پارٹی) کا قیام
نیپ (نیشنل عوامی پارٹی) کا قیام
1951
آدم جی جوٹ ملز
آدم جی جوٹ ملز
1963
سول اینڈ ملٹری گزٹ
سول اینڈ ملٹری گزٹ


1955

Pakistan International Airlines

Monday, 10 January 1955

Pakistan International Airlines (PIA) was founded on January 10, 1955..

پی آئی اے

سوموار 10 جنوری 1955
پی آئی اے
پی آئی اے کا قیام 10 جنوری 1955ء کو عمل میں آیا تھا

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز یا PIA کا قیام 10 جنوری 1955ء کو عمل میں آیا تھا۔۔!

قیام پاکستان کے وقت اورینٹ ایئر ویز ، واحد فضائی کمپنی تھی جو اصل میں قائداعظمؒ کی خواہش پر اس دور کے بڑے مسلم سرمایہ داروں ، مرزا احمد اصفہانی اور آدم جی حاجی داؤد گروپ نے مل کر 23 اکتوبر 1946ء کو کلکتہ میں قائم کی تھی۔ 30 جون 1947ء کو اس نے کام شروع کیا اور 11 مارچ 1955ء کو 5 کروڑ روپے کے سرمائے سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی صورت میں ایک سرکاری فضائی کمپنی میں ضم ہوئی تھی۔

پی آئی اے کی تاریخ

  • 10 جنوری 1955ء کو پی آئی اے کا قیام عمل میں آیا۔
  • 1955 میں قاہرہ اور روم کے راستے لندن کے لیے بین الاقوامی پروازوں کا آغاز کیا۔
  • مارچ 1960 میں جیٹ طیارے چلانے والی پہلی ایشیائی فضائی کمپنی بن گئی۔
  • 29 اپریل 1964 کو چین کے لیے پرواز کرنے والے کسی بھی غیر کمیونسٹ ملک کی پہلی ایئر لائن بن گئی۔
  • 10 مئی 1964 کو پی آئی اے ماسکو کے راستے یورپ کے لیے پروازیں کرنے والی پہلی غیرروسی ایئر لائن بن گئی۔
  • 1965ء میں پہلے بڑے خوفناک فضائی حادثے میں 121 افراد ہلاک ہوئے۔
  • 1970ء کی دھائی میں پی آئی اے نے دیگر فضائی کمپنیوں کو تیکنیکی امداد فراہم کی تھی جن میں چین ، فلپائن اور مالٹا وغیرہ کی فضائی کمپنیاں شامل ہیں۔
  • 1973ء میں بڑی تبدیلیاں ہوئیں جب پی آئی اے کے پرانے طیاروں کو تبدیل کیا گیا اور 1975ء میں یونیفارم بھی بدلے گئے۔
  • 1974ء میں پی آئی اے نے پہلی بار کارگو سروس کو متعارف کروایا تھا۔
  • 1985 میں متحدہ عرب امارات کی ایمریٹس ایئر لائن کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
  • 1990 میں، فرسٹ آفیسر ملیحہ سمیع پی آئی اے کی پہلی خاتون پائلٹ بن گئیں۔
  • 1993 میں 12 نجی ایئر لائنز کو پاکستان میں اندرون ملک کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی جس نے پی آئی اے کو بہت نقصان پہنچایا تھا۔
  • 10 نومبر 2005 کو پی آئی اے نے بوئنگ 777-200LR کو کمرشل ہوائی جہاز کے ذریعے دنیا کی طویل ترین نان سٹاپ پرواز مکمل کرنے کے لیے استعمال کیا۔ یہ پرواز ہانگ کانگ اور لندن کے درمیان مشرقی راستے یعنی بحرالکاہل پر سے 22 گھنٹے 22 منٹ تک جاری رہی۔

پی آئی اے ، اپنے عروج کے دور میں ساٹھ سے زائد طیاروں کے بیڑے پر مشتمل تھی لیکن اس وقت اس کے پاس تیس طیارے ہیں​​۔ روزانہ تقریباً سو پروازیں چلاتی ہے جو پورے ایشیا، یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ میں 18 مقامی اور 25 بین الاقوامی مقامات تک پرواز کرتی ہے۔ تجارتی پروازوں کے علاوہ، پی آئی اے ، نیویارک شہر میں روزویلٹ ہوٹل اور پیرس میں سوفیٹل پیرس سکرائب ہوٹل کا مالک بھی ہے۔

باکمال لوگ لاجواب سروس

پی آئی اے نے 1980ء کی دھائی تک خاصا عروج دیکھا تھا اور "باکمال لوگ لاجواب سروس" اس کی پہچان ہوتی تھی لیکن نجکاری کے نام پر اس کا بیڑا غرق کیا گیا۔ فوجی حکومتیں ، سیاسی حکومتوں پر الزام لگاتی ہیں کہ انھوں نے بے تحاشا سیاسی بھرتیاں کرکے ادارے کو خسارے کا شکار کیا ہے جبکہ سیاسی حلقے چہ مگوئیاں کرتے ہیں کہ ائیرفورس کے لوگوں کو بڑی تعداد میں ناجائز طریقوں سے زبردستی بھرتیاں کرنے سے اس قومی فضائی کمپنی کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ رہی سہی کسر ایک نااہل وزیر کے اس بیان نے پوری کردی تھی کہ چالیس فیصد پائلٹ جعلی ڈگریوں پر جہاز چلا رہے ہیں۔ 2016 کے آخر تک، پی آئی اے ، تین ارب ڈالر کی مقروض تھی۔

نااہل قیادت ، انجام تباہی

پی آئی اے پر یکم جولائی 2020ء سے شروع ہونے والے چھ ماہ کے لیے یورپی فضائی حدود میں پرواز کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی جب EASA نے یہ طے کیا کہ پی آئی آے ، قابل اطلاق بین الاقوامی معیارات کے مطابق اپنے آپریٹرز اور طیاروں کی تصدیق اور نگرانی کرنے کے قابل نہیں ہے۔ یہ فیصلہ اس انکشاف کے بعد کیا گیا کہ پاکستان میں جاری کیے گئے تمام پائلٹ لائسنسوں میں سے کم از کم ایک تہائی اصلی نہیں۔ پی آئی اے کو اس بندش سے اربوں ڈالروں کا نقصان ہوا لیکن غیر ذمہ دار ، ہڈحرام اور حرامخور اہلکاروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی اور نہ ہی کسی میں ان کے احتساب کی جرات ہے۔۔!

مریم مجتبیٰ ، ایک خاتون پائلٹ






1945
1945/46ء کے انتخابات
1945/46ء کے انتخابات
1961
وارسک ڈیم
وارسک ڈیم
1972
کراچی کا ایٹمی بجلی گھر
کراچی کا ایٹمی بجلی گھر
1954
قومی ترانہ
قومی ترانہ
1951
پاکستان آرڈیننس فیکٹری
پاکستان آرڈیننس فیکٹری

تاریخ پاکستان

پاک میگزین ، پاکستانی تاریخ پر اردو میں ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر اہم تاریخی واقعات کو بتاریخ سالانہ ، ماہانہ ، ہفتہ وارانہ ، روزانہ اور حروفانہ ترتیب سے چند کلکس کے نیچے پیش کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اہم ترین واقعات اور شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مخصوص صفحات ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تصویر و تحریر ، ویڈیو اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ ایک انفرادی کاوش اور فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ ہے جو اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!



تاریخ پاکستان ، اہم موضوعات
تحریک پاکستان
تحریک پاکستان
جغرافیائی تاریخ
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
سقوط ڈھاکہ
شہ سرخیاں
شہ سرخیاں
سیاسی ڈائری
سیاسی ڈائری
قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
بے نظیر بھٹو
بے نظیر بھٹو
نواز شریف
نواز شریف
عمران خان
عمران خان
سکندرمرزا
سکندرمرزا
جنرل ایوب
جنرل ایوب
جنرل یحییٰ
جنرل یحییٰ
جنرل ضیاع
جنرل ضیاع
جنرل مشرف
جنرل مشرف
صدر
صدر
وزیر اعظم
وزیر اعظم
آرمی چیف
آرمی چیف
چیف جسٹس
چیف جسٹس
انتخابات
انتخابات
امریکی امداد
امریکی امداد
مغلیہ سلطنت
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
حج بیت اللہ
سیف الملوک
سیف الملوک
شعر و شاعری
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
فلم میگزین
میڈیا لنکس
میڈیا لنکس

پاکستان کے بارے میں اہم معلومات

Pakistan

چند اہم بیرونی لنکس


پاکستان کی فلمی تاریخ

پاکستانی فلموں ، فنکاروں اور فلمی گیتوں پر ایک منفرد اور معلوماتی سلسلہ

ارشدکاظمی
ارشدکاظمی
سلیم رضا
سلیم رضا
حیدر چوہدری
حیدر چوہدری
ظہیرریحان
ظہیرریحان
ایم صادق
ایم صادق


PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.