PAK Magazine
Sunday, 25 February 2024, Week: 08

Pakistan Chronological History
Annual
Monthly
Weekly
Daily
Alphabetically

1949

کرنسی نوٹ

جمعہ یکم جولائی 1949
پاکستانی نوٹوں پر چاند کی مختلف شکلیں
پاکستان کے کرنسی نوٹوں پر چاند تارا

پاکستان کی تاریخ تضادات کا مجموعہ ہے۔ بڑے بڑے عجوبے ملتے ہیں۔ کرنسی نوٹ بھی اس کی ایک بہت بڑی مثال ہیں۔۔!

قیام پاکستان کے پہلے تقریباً دو برسوں میں یعنی 30 جون 1949ء تک پاکستان میں برطانوی ہند کے نوٹ چلتے رہے جن پر کنگ جارج پنجم کی تصویر ہوتی تھی۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے جاری کردہ نوٹوں پر انگریزی اور اردو میں "حکومت پاکستان" کی مہر چسپاں ہوتی تھی۔ یہ نوٹ بھارت سے چھپ کر آتے تھے جن کا پاکستان معاوضہ ادا کیا کرتا تھا۔

پاکستانی نوٹ کب جاری ہوئے؟

یکم جولائی 1949ء کو پاکستان نے پہلی بار اپنے کرنسی نوٹ جاری کیے جو ایک ، پانچ اور دس روپے مالیت کے تھے۔ ان نوٹوں کی خاص بات یہ تھی کہ ان پر چاند تارا ، پاکستان کے قومی پرچم ، ڈاک ٹکٹوں اور سکوں کی طرح الٹا تھا یعنی ہلال کی شکل کا نہیں تھا۔ یہ "غلطی" 1952ء میں درست کی گئی جب چاند تارے کو موجودہ شکل میں تبدیل کیا گیا تھا۔

نوٹوں کی زبان

پاکستان میں سکوں اور نوٹوں کی زبان اردو اور انگلش رہی ہے لیکن 1954ء میں پہلی بار اس میں بنگالی زبان بھی شامل تھی جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی تک جاری رہی۔

تقسیم سے قبل انگریز دور میں نوٹوں پر ہندوستان کی بڑی بڑی زبانوں میں الگ الگ سے نوٹ کی مالیت لکھی ہوئی ہوتی تھی جو تقسیم کے بعد بھارتی نوٹوں پر بھی جاری رہی لیکن پاکستان میں یہ تکلف صرف ایک مختصر سی مدت میں ہوا جب پاکستان کی دیگر بڑی زبانوں کو اس قابل سمجھا گیا تھا۔

یہ کارنامہ بھی ظاہر ہے ذوالفقار علی بھٹوؒ جیسا عظیم لیڈر ہی انجام دے سکتا تھا جن کے دور حکومت میں پہلی بار 16 مئی 1974ء کو ایک روپے کا جو نوٹ جاری ہوا ، اس پر اردو اور انگریزی کے علاوہ پاکستان کی چاروں بڑی زبانوں یعنی پنجابی ، سندھی ، پشتو اور بلوچی میں بھی نوٹ کی مالیت لکھی ہوئی تھی جو کچھ اس طرح سے تھی:

ایک روپے کے نوٹ پر مختلف زبانوں میں تحریرایک روپے کے نوٹ پر مختلف زبانوں میں تحریر
  • پنجابی میں "اک روپیہ" ، سندھی میں "ہک رپییوء" ، پشتو میں "یوہ روپےء" اور بلوچی میں "یک روپی"

یہ نوٹ ایک سال بھی نہ چل سکا کیونکہ اس سے "صوبائیت کو فروغ" مل رہا تھا جس سے نام نہاد "قومی وحدت کو خطرہ" پیدا ہوگیا تھا۔ اس لیے بیوروکریسی نے عوامی حکومت کی ایک قابل تعریف کاوش کو ناکام بناتے ہوئے 15 اپریل 1975ء کو اس نوٹ کو منسوخ کروا دیا تھا۔

کون سا نوٹ کب جاری ہوا؟

کسی بھی ملک میں بڑی مالیت کے نوٹ جہاں اس ملک کی اقتصادی حالت کا احوال بیان کرتے ہیں وہاں مقامی کرنسی کی قیمت اور اہمیت کا اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں بڑی مالیت یعنی سو روپے کا نوٹ پہلی بار 1953ء میں ، پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے نوٹ 1986ء میں جبکہ پانچ ہزار کا نوٹ 2005ء میں جاری ہوا۔ مکمل تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

  • 1949ء : ایک ، 5 اور 10 روپے کے نوٹ جاری ہوئے۔
  • 1953ء : 100 روپے کا نوٹ جاری ہوا۔
  • 1957ء : 50 روپے کا نوٹ جاری ہوا۔
  • 1974ء : ایک روپے کا نوٹ اردو اور انگریزی کے علاوہ پنجابی ، سندھی ، پشتو اور بلوچی میں بھی جاری ہوا۔
  • 1986ء : 2 ، 500 اور 1000 کے نوٹ جاری ہوئے۔
  • 2005ء : 20 اور 5000 کے نوٹ جاری ہوئے۔
  • 14 اگست 2022ء کو 75ویں یوم آزادی پر 75 روپے کا نوٹ بھی جاری کیا گیا جس کے ایک طرف مارخور دکھایا گیا ہے!

جب ڈالر پانچ روپے کا ہوتا تھا

1947ء میں قیام پاکستان کے وقت ایک امریکی ڈالر 3 روپے 31 پیسے کا ہوتا تھا جو اگلے بیس سال تک یعنی 1967ء تک چار روپے 76 پیسے تک جا پہنچا تھا۔ گویا دو دھائیوں میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں ایک روپیہ 45 پیسے یا 44 فیصد کمی ہوئی تھی۔

اگلے دس سال بعد یعنی 1977ء میں ڈالر پہلی بار ڈبل فگر میں داخل ہوا تھا یا روپے کی قیمت میں سو فیصد کمی واقع ہوئی تھی۔ یاد رہے کہ اس دوران پاکستان اور اس کی معیشت بھی آدھی رہ گئی تھی کیونکہ اکثریتی آبادی بنگلہ دیش کی صورت میں ایک الگ ملک بن چکی تھی۔

آزادی کے ستر سال بعد یعنی 2017ء میں ڈالر کی قیمت پہلی بار ٹرپل فگر یا سو پاکستانی روپوں سے تجاوز کر گئی تھی جو صرف پانچ برسوں میں 2022ء میں دو سو روپوں سے بھی تجاوز کر گئی جبکہ 300 تک پہنچنے میں ایک سال بھی نہیں لگا۔۔!

یکم جولائی 1949ء تک کے پاکستانی نوٹ





Pakistan Currency Notes

Friday, 1 July 1949

The first currency note in Pakistan was issued on July 1st, 1949..



1973
تیل کی عالمی قیمتیں
تیل کی عالمی قیمتیں
1930
نظریہ پاکستان
نظریہ پاکستان
1958
پاکستان میں پہلا مارشل لاء
پاکستان میں پہلا مارشل لاء
1961
وارسک ڈیم
وارسک ڈیم
1947
سر محمد ظفر اللہ خان
سر محمد ظفر اللہ خان



تاریخ پاکستان

پاک میگزین ، پاکستانی تاریخ پر اردو میں ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر اہم تاریخی واقعات کو بتاریخ سالانہ ، ماہانہ ، ہفتہ وارانہ ، روزانہ اور حروفانہ ترتیب سے چند کلکس کے نیچے پیش کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اہم ترین واقعات اور شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مخصوص صفحات ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تصویر و تحریر ، ویڈیو اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ ایک انفرادی کاوش اور فارغ اوقات کا بہترین مشغلہ ہے جو اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا ، ان شاء اللہ۔۔!



تاریخ پاکستان ، اہم موضوعات
تحریک پاکستان
تحریک پاکستان
جغرافیائی تاریخ
جغرافیائی تاریخ
سقوط ڈھاکہ
سقوط ڈھاکہ
شہ سرخیاں
شہ سرخیاں
سیاسی ڈائری
سیاسی ڈائری
قائد اعظمؒ
قائد اعظمؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
ذوالفقار علی بھٹوؒ
بے نظیر بھٹو
بے نظیر بھٹو
نواز شریف
نواز شریف
عمران خان
عمران خان
سکندرمرزا
سکندرمرزا
جنرل ایوب
جنرل ایوب
جنرل یحییٰ
جنرل یحییٰ
جنرل ضیاع
جنرل ضیاع
جنرل مشرف
جنرل مشرف
صدر
صدر
وزیر اعظم
وزیر اعظم
آرمی چیف
آرمی چیف
چیف جسٹس
چیف جسٹس
انتخابات
انتخابات
امریکی امداد
امریکی امداد
مغلیہ سلطنت
مغلیہ سلطنت
ڈنمارک
ڈنمارک
اٹلی کا سفر
اٹلی کا سفر
حج بیت اللہ
حج بیت اللہ
سیف الملوک
سیف الملوک
شعر و شاعری
شعر و شاعری
ہیلتھ میگزین
ہیلتھ میگزین
فلم میگزین
فلم میگزین
میڈیا لنکس
میڈیا لنکس

پاکستان کے بارے میں اہم معلومات

Pakistan

چند اہم بیرونی لنکس


پاکستان کی فلمی تاریخ

پاکستانی فلموں کے 75 سال …… فلمی ٹائم لائن …… اداکاروں کی ٹائم لائن …… گیتوں کی ٹائم لائن …… پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد …… پاکستان کی پہلی پنجابی فلم پھیرے …… پاکستان کی فلمی زبانیں …… تاریخی فلمیں …… لوک فلمیں …… عید کی فلمیں …… جوبلی فلمیں …… پاکستان کے فلم سٹوڈیوز …… سینما گھر …… فلمی ایوارڈز …… بھٹو اور پاکستانی فلمیں …… لاہور کی فلمی تاریخ …… پنجابی فلموں کی تاریخ …… برصغیر کی پہلی پنجابی فلم …… فنکاروں کی تقسیم ……


اے آر کاردار
اے آر کاردار
ظہیرریحان
ظہیرریحان
راجہ حفیظ
راجہ حفیظ
سنگیتا
سنگیتا
آسیہ
آسیہ


PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan's political, film and media history.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes, and therefor, I am not responsible for the content of any external site.