PAK Magazine | An Urdu website on the Pakistan history
Thursday, 13 June 2024, Day: 165, Week: 24

PAK Magazine |  پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان ، ایک منفرد انداز میں


پاک میگزین پر تاریخِ پاکستان

Annual
Monthly
Weekly
Daily
Alphabetically

سوموار 13 مئی 1861

پاکستان ریلوے

پاکستان ریلوے
پاکستان ریلوے کا قیام
1861ء میں عمل میں آیا تھا

پاکستان ریلوے کا قیام 1861ء میں عمل میں آیا تھا۔۔!

برصغیر پاک و ہند کے لیے انگریز راج کا سب سے بڑا تحفہ یقیناً ریل کا نظام تھا جس نے لنڈی کوتل سے راس کماری تک پورے ہندوستان کو ایک لڑی میں پرو دیا تھا۔ دوردراز مقامات تک رسائی کے لیے مسافر اور مال گاڑیوں نے نقل و حمل کو بہت سستا اور آسان بنا دیا تھا۔

انسانی تاریخ میں برسہا برس تک گھوڑوں ، بیلوں اور اونٹوں کی مدد سے سفر ہوتا تھا۔ اس دوران گھوڑا اور بیل گاڑیاں وغیرہ بھی بنیں لیکن 1825ء میں کوئلے کے بھاپ انجن سے چلنے والی پہلی مسافر ریل گاڑی کا آغازبرطانیہ میں ہوا جو باقی دنیا کی طرح برصغیر میں بھی متعارف ہوئی۔ برطانوی راج میں 1853ء میں بمبئی سے تھانے تک 32 کلومیٹر کی پہلی ریل لائن کا افتتاح ہوا تھا۔ بھارت میں اس وقت ایک لاکھ کلومیٹر سے طویل لائن والی دنیا کی چوتھی بڑی ریلوے ہے جس میں بارہ لاکھ سے زائد افراد کام کرتے ہیں۔

پاکستان ریلوے کی تاریخ

پاکستان ریلوے

تقسیم سے قبل انگریز راج میں موجودہ پاکستان میں چار بڑی لوکل پرائیویٹ ریلوے کمپنیاں ، "پنجاب ریلوے" ،"سندھ ریلوے" ، "دہلی ریلوے" اور "انڈین فلوٹیلا ریلوے" تھیں جنھیں 1885ء میں حکومت نے خرید کر سرکاری تحویل میں لیا اور 1886ء میں "نارتھ ويسٹرن اسٹیٹ ریلوے" کی بنیاد ڈالی جو بعد میں "نارتھ ويسٹرن ریلوے" کہلائی۔

قیامِ پاکستان کے بعد 1961ء میں "شمال مغربی ریلوے" (North Western Railway) کو "پاکستان مغربی ریلوے" اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد 1974ء میں "پاکستان ریلوے" کا نام ملا۔ صدر مقام لاہور میں ہے جہاں مغل پورہ میں سب سے بڑی ورکشاپ بھی ہے جو 1904ء میں قائم ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ پاکستان لوکوموٹیو فیکٹری 1993 میں رسالپور میں 10 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہوئی جہاں سالانہ 150 کوچز بنتی ہیں۔ پاکستان ریلوے کے پاس 190 ڈیزل الیکٹرک انجن ہیں۔

پاکستان ریلوے کی پہلی لائن

موجودہ پاکستان کی پہلی ریلوے لائن 3 مئی 1861ء کو کراچی اور کوٹری کے درمیان 169 کلومیٹر طویل لائن تھی۔ نصف صدی میں پایہ تکمیل تک پہنچنے والی پونے آٹھ ہزار طویل اس ریل نیٹ ورک پر پانچ سو سے زائد سٹیشن ہیں جو لنڈی کوتل سے کیماڑی تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اوسطاً پونے دو لاکھ افراد روزانہ سفر کرتے ہیں۔ ڈیڑھ سو پرانے اس ریل ٹریک پر زیادہ سے زیادہ رفتار 120 کلومیٹر ہے۔ لاہور سے کراچی تک ایک ہزار کلومیٹر ڈبل ٹریک بھی ہے۔ ابتداء بھاپ انجنوں سے ہوئی جو ڈیزل انجنوں میں تبدیل ہوئی۔ اب دنیا بھر میں بجلی سے چلنے والی انتہائی تیز رفتار اور ڈرائیور کی مدد کے بغیر خودکار ٹرینیں عام ہورہی ہیں لیکن پاکستان میں بجلی کی ریل گاڑیاں متروک ہو چکی ہیں۔

پاکستان میں بجلی کی ریل کار

لاہور اور خانیوال کے مابین چلنے والی بجلی کی ٹرین
لاہور اور خانیوال کے مابین چلنے والی
بجلی کی ٹرین بند کر دی گئی

پاکستان میں بھی 1970ء کی دھائی سے بجلی کی ریل کار چلتی تھی جو لاہور سے خانیوال تک 286 کلومیٹر طویل تھی۔ اس روٹ پر 29 الیکٹرک ریل کاریں چلتی تھیں جن پر چار سو کے قریب ملازمین تھے۔ 14 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والی اس ماحول دوست ، سستی اور تیز رفتار ٹرین سروس کو 2007ء میں جزوی طور پر اور 2010ء میں مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا حالانکہ اس ٹریک پر پاکستان ریلوے کو ڈیزل کے مقابلے میں بجلی کی ٹرین چلانے پر سالانہ 30 ارب روپے کی بچت ہوتی تھی۔ "ڈیزل مافیا" ، جو ٹرین پر ٹرکوں کو ترجیح دیتا ہے ، وہ بھلا بجلی کی ٹرینوں کو کیسے برداشت کر سکتا ہے جہاں ان کا کمیشن مارا جاتا ہے۔۔!

پاکستان ریلوے کی مال بردار ٹرینیں

پاکستان میں ٹرک اور ڈیزل مافیا کتنا طاقتور ہے ، اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی پہلی تین دھائیوں میں پاکستان ریلوے ، کراچی کی بندرگاہ سے باقی ملک تک 73 فیصد مال برداری کی خدمات انجام دیتی تھی جو 2015ء کے اعدادوشمار کے مطابق چار فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔

یاد رہے کہ 1970ء کی دھائی میں جہاں کراچی کی دوسری بندرگاہ پورٹ قاسم بنی ، وہاں 1974ء میں لاہور میں خشک گودی کا سلسلہ شروع ہوا جو دیگر صنعتی شہروں مثلاً سیالکوٹ، گوجرانوالہ ، فیصل آباد اور پشاور تک پھیل گیا تھا۔ اس سے پاکستان ریلوے اور کاروباری افراد کو بڑا فائدہ ہوا تھا۔ یاد رہے کہ کراچی کی لوکل ٹرین ، کراچی سرکلر ریلوے بھی "ٹرانسپورٹ مافیا" کی وجہ سے نہ چل سکی تھی۔

پاکستان ریلوے نیٹ ورک

پاکستان ریلوے

قیامِ پاکستان کے وقت ریلوے نیٹ ورک آٹھ ہزار کلومیٹر سے زیادہ طویل تھا جو سکڑ کر پونے آٹھ ہزار رہ گیا ہے۔ غیر منافع بخش روٹس ختم کر دیے گئے ہیں لیکن پھر بھی ریلوے خسارہ ہی میں رہی۔ پاکستان کا ریلوے نیٹ ورک حسبِ ذیل ہے:

پاکستان ریلوے کی مرکزی لائن ML-1

پاکستان ریلوے کی مرکزی لائن ML-1 یا " کراچی پشاور لائن" ، کیماڑی سے شروع ہو کر دریائے سندھ کے دائیں کنارے اور صوبہ سندھ ، پنجاب اور خیبرپختونخواہ کے اہم ترین اور گنجان آباد علاقوں سے گزرتی ہوئی پشاور چھاؤنی تک جا کر ختم ہوتی ہے۔ تقسیم کے وقت یہ لائن پاک افغان سرحد پر لنڈی کوتل تک جاتی تھی۔

1881ء میں مکمل ہونے والی یہ پہلی ریلوے لائن 1687 کلومیٹر طویل ہے جس پر 180 سے زائد سٹیشن ہیں۔ اس لائن پر کوٹری ، حیدرآباد ، روہڑی ، بہاولپور ، لودھراں ، ملتان ، خانیوال ، رائے ونڈ ، لاہور/شاہدرہ ، وزیرآباد ، لالہ موسیٰ ، ٹیکسلا اور اٹک اہم جنکشن ہیں جبکہ دیگر اہم شہروں میں نوابشاہ ، سکھر ، ساہیوال ، اوکاڑہ ، گوجرانوالہ ، گجرات ، جہلم ، راولپنڈی اور نوشہرہ شامل ہیں۔

پاکستان ریلوے کی دوسری لائن ML-2

پاکستان ریلوے کی دوسری بڑی لائن ML-2 یا "کوٹری اٹک لائن" ہے جس کا آغاز 1891ء میں ہوا تھا۔ یہ کوٹری (سندھ) سے شروع ہو کر دریائے سندھ کے بائیں کنارے سے ہوتی ہوئی اٹک (شمالی پنجاب) تک جاتی ہے۔ 1519 کلومیٹر طویل لائن پر 70 سے زائد سٹیشن ہیں۔ ان میں حبیب کوٹ ، جیکب آباد ، کوٹ ادو ، کندیاں ، جھنڈ اور حاسل ، اہم جنکشن ہیں جبکہ دیگر اہم شہروں میں سہیون شریف ، دادو ، لاڑکانہ ، راجن پور ، لیہ ، بکھر ، میانوالی اور داؤدخیل آتے ہیں۔

پاکستان ریلوے کی تیسری لائن ML-3

پاکستان ریلوے کی تیسری لائن ML-3 یا "روہڑی چمن لائن" کہلاتی ہے جو 1879ء میں بنی۔ یہ لائن ، صوبہ سندھ کے ریلوے جنکشن روہڑی سے شروع ہو کر صوبہ بلوچستان کے آخری ریل سٹیشن چمن تک جاتی ہے جہاں سرحد کے اس پار افغانستان کا شہر سپن بلداک ہے۔ 523 کلومیٹر طویل اس لائن پر 35 سٹیشن ہیں جن میں حبیب کوٹ ، جیکب آباد اور سپیزند ، جنکشن ہیں جبکہ شکارپور ، ڈیرا مراد جمالی ، سبی ، کوئٹہ ، بوستان اور گلستان ، دیگر اہم شہر ہیں۔

پاکستان ریلوے کی چوتھی لائن ML-4

پاکستان ریلوے کی چار بڑی لائنوں میں سے چوتھی کا نام ML-4 یا "کوئٹہ تا کوہِ تفتان لائن" ہے جو 1905ء میں قائم ہوئی۔ 633 کلومیٹر طویل اس ریلوے لائن پر کبھی 29 سٹیشن تھے لیکن اب صرف 14 رہ گئے ہیں۔ واحد سپیزند جنکشن ، کوئٹہ کو باقی ملک سے ریل کے نظام کو منسلک کرتا ہے۔ نوشکی ، دالبندین اور نوک کنڈی دیگر اہم سٹیشن ہیں۔ یہ لائن ایران کے شہر زاہدان تک جاتی ہے اور اسی رستے سے یورپ تک رسائی ہوتی ہے۔

پاکستان ریلوے کا نیٹ ورک

یاد رہے کہ دیگر برانچ لائنوں کے ذریعے پاکستان کے دیگر بڑے شہر مثلاً فیصل آباد ، سیالکوٹ ، شیخوپورہ ، قصور ، جھنگ ، پاکپتن ، کوہاٹ ، منڈی بہاؤالدین ، میرپور خاص اور ننکانہ صاحب وغیرہ تک رسائی بھی حاصل ہے البتہ ایبٹ آباد ، مری ، میرپور ، مظفرآباد ، چترال ، سکردو ، گلگت اور گوادر وغیرہ ریل رابطوں سے محروم ہیں۔

ان کے علاوہ دیگر منصوبوں کے علاوہ پاکستان ریلوے ، چین کے تعاون سے ML-5 منصوبہ پر بھی غور کر رہی ہے جو ٹیکسلا کو خنجراب اور چین سے ملائے گا۔ افغانستان اور وسطی ایشیا تک بھی ریل منصوبے زیر غور ہیں۔

سمجھوتہ ایکسپریس

پاکستان اور بھارت کے مابین واہگہ ، جموں اور تھر کے علاقہ سے ریل کا رابطہ رہا ہے جو جنگوں اور کشیدہ تعلقات کی وجہ سے متعدد بار منقطع ہوا۔ 1971ء کی جنگ کی وجہ سے بھی سبھی رابطے ختم ہو گئے تھے جنھیں بحال کرنے میں چند سال لگے۔ 22 جولائی 1976ء کو پاکستان اور بھارت کے مابین ایک "سمجھوتہ ایکسپریس" ٹرین شروع ہوئی جو روزانہ کی بنیاد پر لاہور سے امرتسر کا سفر کرتی تھی۔ غالباً اسی ٹرین پر ایک بھارتی وزیراعظم ، اٹل بہاری واجپائی ، لاہور آئے تھے لیکن 2007ء میں یہ ٹرین دہشت گردی کے ایک متنازعہ حملہ میں بند ہو گئی تھی۔

پاکستان ریلوے کے اہم سنگِ میل

  • موجودہ پاکستان میں ریلوے کا آغاز ، 13 مئی 1861ء کو کراچی سے کوٹری کی 169 کلومیٹر ریلوے لائن سے ہوا۔
  • 1865ء میں لاہور سے ملتان ریلوے لائن کا آغاز ہوا۔
  • 1876ء میں دریائے راوی ، دریائے چناب اور دریائے جہلم پر ریل پلوں کی تعمیر مکمل ہوئی جس سے لاہور سے جہلم تک ریل کا رابطہ ممکن ہوا۔
  • 1878ء میں دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر کوٹری سے سکھر براستہ دادو اور لاڑکانہ ریلوے لائن کو ٹرینوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا۔ اسی سال لودهراں سے پنوعاقل تک کی 334 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کا افتتاح بھی ہوا۔
  • 1880 میں جہلم سے راولپنڈی تک کا 115 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کا آغاز ہوا۔ اسی سال روہڑی سے سبی تک ریلوے لائن بچھانے کا کام بھی مکمل ہوا۔
  • 1881ء میں راولپنڈی سے اٹک کے درمیان 73 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کو کھول دیا گیا۔
  • 1882ء میں خیرآباد کنڈ سے پشاور تک 65 کلومیٹر طویل ریلوے لائن تعمیر مکمل ہوئی۔
  • 1883ء میں دریائے سندھ پر اٹک پل کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد پشاور ، راولپنڈی سے بذریعہ ریل منسلک ہو گیا۔
  • 887ء میں سبی اور کوئٹہ ریلوے لائن کی تعمیر مکمل ہوئی۔
  • 1889ء میں روہڑی اور سکھر کے درمیان پل کا افتتاح ہوا جس سے کراچی ، پشاور سے بذریعہ ریل منسلک ہو گیا۔
  • 1896ء میں روہڑی اور حیدرآباد براستہ ٹنڈو آدم، نواب شاہ اور محراب پور ریلوے لائن کا افتتاح ہوا۔
  • 1900ء میں کوٹری پل اور 8 کلومیٹر طویل کوٹری ، حیدرآباد ریلوے لائن مکمل ہو گئی۔ اس سیکشن کے مکمل ہو جانے کے بعد پاکستان ریلویز کی کراچی - پشاور موجودہ مرکزی ریلوے لائن بھی مکمل ہو گئی۔





Pakistan Railway

Monday, 13 May 1861

Pakistan Railway was found on May 13, 1861..




پاکستان کی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ

پاک میگزین ، پاکستان کی سیاسی تاریخ پر ایک منفرد ویب سائٹ ہے جس پر سال بسال اہم ترین تاریخی واقعات کے علاوہ اہم شخصیات پر تاریخی اور مستند معلومات پر مبنی مخصوص صفحات بھی ترتیب دیے گئے ہیں جہاں تحریروتصویر ، گرافک ، نقشہ جات ، ویڈیو ، اعدادوشمار اور دیگر متعلقہ مواد کی صورت میں حقائق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

2017ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم الشان سلسلہ، اپنی تکمیل تک جاری و ساری رہے گا، ان شاءاللہ



پاکستان کے اہم تاریخی موضوعات



تاریخِ پاکستان کی اہم ترین شخصیات



تاریخِ پاکستان کے اہم ترین سنگِ میل



پاکستان کی اہم معلومات

Pakistan

چند مفید بیرونی لنکس



پاکستان فلم میگزین

پاک میگزین" کے سب ڈومین کے طور پر "پاکستان فلم میگزین"، پاکستانی فلمی تاریخ، فلموں، فنکاروں اور فلمی گیتوں پر انٹرنیٹ کی تاریخ کی پہلی اور سب سے بڑی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔


پاکستانی فلموں کے 75 سال …… فلمی ٹائم لائن …… اداکاروں کی ٹائم لائن …… گیتوں کی ٹائم لائن …… پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد …… پاکستان کی پہلی پنجابی فلم پھیرے …… پاکستان کی فلمی زبانیں …… تاریخی فلمیں …… لوک فلمیں …… عید کی فلمیں …… جوبلی فلمیں …… پاکستان کے فلم سٹوڈیوز …… سینما گھر …… فلمی ایوارڈز …… بھٹو اور پاکستانی فلمیں …… لاہور کی فلمی تاریخ …… پنجابی فلموں کی تاریخ …… برصغیر کی پہلی پنجابی فلم …… فنکاروں کی تقسیم ……

پاک میگزین کی پرانی ویب سائٹس

"پاک میگزین" پر گزشتہ پچیس برسوں میں مختلف موضوعات پر مستقل اہمیت کی حامل متعدد معلوماتی ویب سائٹس بنائی گئیں جو موبائل سکرین پر پڑھنا مشکل ہے لیکن انھیں موبائل ورژن پر منتقل کرنا بھی آسان نہیں، اس لیے انھیں ڈیسک ٹاپ ورژن کی صورت ہی میں محفوظ کیا گیا ہے۔

پاک میگزین کا تعارف

"پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔

Old site mazhar.dk

یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔

اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔

سالِ رواں یعنی 2024ء کا سال، "پاک میگزین" کی مسلسل آن لائن اشاعت کا 25واں سلور جوبلی سال ہے۔




PAK Magazine is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor, I am not responsible for the content of any external site.