Pakistan History


1949

Main headings



Latest updated video

بھٹو کا بنگلہ دیش کو تسلیم کرنا
پاکستان نے 22 فروری 1974ء کو بنگلہ دیش کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا تھا لیکن 10 اپریل 1973ء کو منظور ہونے والے متفقہ آئین کے مطابق بنگلہ دیش ، مشرقی پاکستان کی صورت میں پاکستان کا ایک مستقل حصہ تھا۔ ایسے میں بنگلہ دیش کو ایک الگ ریاست کے طور پر تسلیم کرنا آئین شکنی تھی۔ دوسری طرف 1971ء کی جنگ میں ذلت آمیز شکست کے بعد بنگلہ دیش ایک آزاد ملک کے طور پر دنیا کے نقشہ پر موجود تھا جسے بیشتر ممالک تسلیم کر چکے تھے ، صرف پاکستان اور اس کے چند قریبی حلیف ممالک نے تسلیم نہیں کیا تھا۔ معاہدہ شملہ (1972) میں جہاں بھارت ، پاکستان سے کشمیر پر کوئی مستقل سمجھوتہ چاہتا تھا ، وہاں بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کی شرط پر نوے ہزار جنگی قیدیوں کو رہا کرنا چاہتا تھا لیکن بھٹو صاحب نے جہاں اپنے مقبوضہ علاقے واپس لے لئے تھے اور کشمیر کو ایک متنازعہ علاقہ بھی تسلیم کروا لیا تھا ، وہاں بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کی شرط پر جنگی قیدیوں کی رہائی پر راضی نہیں تھے۔ بنگلہ دیش ایک حققیت بن چکا تھا جسے جلد یا بدیر تسلیم کرنا تھا لیکن آئینی رکاوٹ کے علاوہ اندرون ملک کئی ایک پریشر گروپس بھی تھے جو "بنگلہ دیش نامنظور" کی تحریک چلا رہے تھے۔ ایسے میں بھٹو صاحب نے جس طرح اس مسئلہ کو حل کیا وہ ان جیسا دور اندیش ، زیرک اور معاملہ فہم رہنما ہی کر سکتا تھا۔ پاکستانی عوام کے لئے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ جنگی قیدیوں کی رہائی تھی لیکن اس میں تاخیر کی وجہ دشمن کا یہ مطالبہ تھا کہ پہلے پاکستان ، بنگلہ دیش کو تسلیم کرے۔ بھٹو صاحب نے اس مسئلہ کے حل کے لئے 11 مئی 1973ء کو عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ جنیوا معاہدہ کے تحت بھارت کو جلد از جلد جنگی قیدیوں کو رہا کرنا لازم ہے۔ بھارت متوقع فیصلے سے گبھرا گیا تھا اور 28 اگست 1973ء کو سہ طرفہ معاہدہ دہلی کے تحت غیر مشروط طور پر نہ صرف جنگی قیدیوں کو رہا کرنے کا پابند ہوا بلکہ بنگلہ دیش ، 195 پاکستانی فوجی افسران پر جنگی جرائم کے تحت مقدمہ چلانے کے مطالبہ سے بھی دستبردار ہو گیا تھا۔ معاہدہ شملہ کے بعد معاہدہ دہلی بھی بھٹو صاحب کی ایک اور بہت بڑی سیاسی فتح تھی لیکن اگلا چیلنج آئین شکنی سے بچنا تھا۔ اس سلسلے میں 4 جولائی 1973ء کو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ کو عزت بخشی گئی تھی جب بھٹو صاحب نے بنگلہ دیش کوتسلیم کرنے کے لئے رجوع کیا تھا۔ 7 جولائی 1973ء کو عدالت عالیہ نے قومی اسمبلی کو مطلوبہ قانون سازی کی اجازت دے دی تھی۔ 10 جولائی 1973ء کو پارلیمنٹ نے اکثریتی فیصلہ سے بھٹو صاحب کو یہ اختیار دے دیا تھا کہ وہ جب چاہیں بنگلہ دیش کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ 23 اپریل 1974ء کو آئین میں پہلی ترمیم اسی ضمن میں ہوئی تھی۔ اس طرح ذوالفقار علی بھٹو جیسی عظیم المر تبت ہستی نے قواعد و ضوابط کے احترام اور الجھے مسائل کو سلجھانے کی جو مثال قائم کی تھی وہ اپنی مثال آپ تھی۔۔!
Pakistan recognized Bangladesh
Bhuttos visit to Bangladesh in 1974..
AP Archive

History

The latest updates


Basic informations on Pakistan - پاکستان کی بنیادی معلومات
The Goegraphical History of Pakistan - پاکستان کی جغرافیائی تاریخ
The fall of East Pakistan - المیہ مشرقی پاکستان
Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah - قائد اعظم محمد علی جناح
Zulfiqar Ali Bhutto - ذولفقار علی بھٹو
General Zia-ul-Haq - جنرل ضیا الحق
Presidents of Pakistan - پاکستانی صدور
Presidents of Pakistan - پاکستانی وزرائے اعظم
Army Chiefs of Pakistan - پاکستان کے ارمی چیفس
Chief Justice of Pakistan Supreme Court - پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس
The Mughal Empire - مغلیہ سلطنت
PakistanChronicle - پاکستان کرونیکل
Syed Qasim Mehmood - سید قاسم محمود
Danish Politics - ڈنمارک کی سیاسی تاریخ
A Train tour to Italy - اٹلی کا ایک ٹرین ٹور
The Hajj Journey - سفر نامہ حج
Sher-o-Shairi - شعروشاعری
Saiful Maluk - سیف الملوک
Health Magazine - ہیلتھ میگزین
Film Magazine - پاکستان فلم میگزین

Some useful history sites


Pakistan on Wikipedia ISPR Government of Pakistan Pakistan Constitution Pakistan History in Urdu