25th celebration

Golden Memories

An Urdu article on golden film memories from the 1970s..


سنہرا فلمی دور

پاکستان فلم میگزین جیسی منفرد اور تاریخ ساز ویب سائٹ، پاکستان کی سنہری فلمی یادوں کی امین ہے اور راقم الحروف، اُس سنہرے دور کا "عینی شاہد" ہے۔۔!



1970 کی فلمی یادیں

میں عینی شاہد تھا جب 1970ء میں پاکستان میں ریکارڈ 130 فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں برصغیر کی فلمی تاریخ کی سب سے بڑی پنجابی فلم، ہیررانجھا (1970) بھی شامل تھی۔۔!

1970 کی فلمی یادیں

پاکستان کی فلمی تاریخ میں پہلی بار 1968ء میں سو سے زائد فلمیں ریلیز ہوئیں۔ 1969ء میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا اور 1970ء میں فلموں کی سنچریوں کی پہلی ہٹ ٹرک مکمل ہوئی تھی۔

1970ء کی ریکارڈ 130 فلموں میں 46 اردو اور 42 پنجابی فلمیں تھیں۔ بدقسمتی سے یہ "متحدہ پاکستان" کا آخری مکمل سال ثابت ہوا جس میں ڈھاکہ کی 38 بنگالی فلمیں بھی شامل تھیں جن میں سے تین فلمیں اردو میں ڈب کر کے موجودہ پاکستان میں ریلیز کی گئیں۔ 5 سندھی فلموں کے علاوہ اسی سال، پہلی پہلی پشتو اور گجراتی فلمیں بھی ریلیز ہوئی تھیں۔

پنجابی فلموں کا عروج

1970ء تک سینما تفریح، چند بڑے شہروں سے نکل کر پاکستان کے چھوٹے شہروں اور قصبوں تک پھیل گئی تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ علاقائی فلموں کا بزنس، قومی زبان اردو کی فلموں سے زیادہ ہونے لگا۔ پاکستان کے دو تہائی سینما گھر صرف صوبہ پنجاب میں ہوتے تھے جہاں پنجابی فلموں کا بزنس، اردو فلموں کے مقابلے میں چار پانچ گنا زیادہ ہوتا تھا۔ اردو فلمیں، عام طور پر چند بڑے شہروں تک محدود رہتی تھیں۔

1970ء کی اردو فلموں میں انجمن، انسان اور آدمی اور رنگیلا (1970) جبکہ پنجابی فلموں میں انورا، سجناں دوردیا، ماں پتر، ٹیکسی ڈرائیور اور ہیررانجھا (1970) کامیاب ترین فلمیں تھیں۔

فلم ہیررانجھا (1970)

1970ء کی ریلیز شدہ فلموں میں میعار کے لحاظ سے ہیررانجھا (1970) سب سے بڑی تاریخ ساز، رومانوی اور نغماتی فلم تھی۔ پنجابی سینما کو اگر کسی فلم پر ناز ہو سکتا ہے تو بلاشبہ یہ فلم پہلے نمبر پر آئے گی۔

لاہور میں مرکزی سینما پر سولو سلورجوبلی اور مجموعی طور پر "گولڈن جوبلی" کرنے والی یہ کلاسک پنجابی فلم کراچی میں بمشکل کمبائنڈ "سلورجوبلی" ہی کرسکی تھی۔ راولپنڈی کے سنگیت سینما میں سات ہفتے چلی جبکہ میرے آبائی شہر یا قصبے کھاریاں میں میری ہوش میں مسلسل دو ہفتے چلنے والی پہلی فلم تھی اور پہلی ہی فلم تھی جس کو میں نے دو بار دیکھا تھا۔

بچپن میں رات کو سونے سے قبل اپنے کزنوں کے ساتھ دادی اماں (مرحومہ) سے کہانیاں سنا کرتے تھے جن میں ہیررانجھا کی کہانی بھی ہوتی تھی۔ فلم دیکھنے کے بعد جب کہانی میں لقمہ دیا کرتا تو حیران ہوتیں کہ مجھے کیسے علم ہے۔ میرے بارے میں ان کا یہ جملہ ہمیشہ یاد رہا کہ "ایس بچے دے ٹڈھ وچ داڑھی اے۔۔!"

یہ دنیا، یہ محفل، میرے کام کی نہیں

ہمارے ایک رشتہ دار کا ایک "مبارک ہوٹل" ہوتا تھا جہاں پہلی بار گراموفون ریکارڈز دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔ اتفاق سے وہاں محمدرفیع کا مشہورِ زمانہ گیت "یہ دنیا، یہ محفل، میرے کام کی نہیں۔۔" کا ریکارڈ خوب بجتا تھا اور جس پر لکھا ہوا فلم "ہیررانجھا" دیکھ کر خاصی الجھن کا شکار ہوتا تھا کیونکہ دو بار دیکھنے کے باوجود یہ گیت فلم میں نہیں تھا۔

میری الجھن کو اس انکل نے پہلی بار پاکستان اور بھارت کا فرق بتا کر دور کرنے کی سعی کی لیکن اصل سمجھ اگلے سال یعنی 1971ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران آئی تھی۔ آل انڈیا ریڈیو پر پنجابی لوک گیت اور پنجابی فلمی گیت بڑے ذوق و شوق سے سنے جاتے تھے اور یہ جان کر بڑا صدمہ پہنچا تھا کہ یہ مشہورِ زمانہ گیت ہمارے نہیں بلکہ ہمارے "دشمن ملک" کے ہیں۔

فلم انورا (1970)

1970ء میں پنجابی فلموں کی مقبولیت اور بزنس کا یہ عالم تھا کہ کراچی میں ایک عام فارمولا ٹائپ بلیک اینڈ وہائٹ پنجابی فلم انورا (1970)، "پلاٹینم جوبلی" منانے والی پہلی پنجابی فلم بن گئی تھی۔ چھ ماہ تک مسلسل چلنے والی اس فلم نے سولو سلورجوبلی منائی اور دیگر سینماؤں کو ملا کر 75 ہفتے والی فلم کہلائی۔

پنجابی زبان اور پنجابی فلموں کو "پینڈو یا غیرمہذب" سمجھا جاتا تھا جنھیں شہری طبقات میں حقیر جانا جاتا تھا۔ اس فلم کی غیرمعمولی کامیابی کی اصل وجہ فلم کی ہیروئن، اداکارہ نغمہ کا مغربی لباس، رقص اور steps تھے جو اس فلم کے مقبول ترین گیت "سن وے بلوری اکھ والیا۔۔" میں دیکھنے کو ملے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی فلم کی تقلید میں فلم اصغرا (1971) بنی جس میں اداکارہ نغمہ سے ویسا ہی کام لیا گیا لیکن اس بار اہلیانِ کراچی کو متاثر نہ کیا جا سکا جس کی بڑی وجہ شاید گیت کے بول ہوں گے جو کچھ اس طرح سے تھے: "منڈا شہر لاہور دا، میرے دل تے تیر چلاوے۔۔"

فلم انورا (1970) کے ایک اور مشہور گیت "لاج محبتاں دی رکھ وے۔۔" کی فلمبندی پر ایک فلم بین کی تنقید آج بھی یاد ہے کہ وہ "لانگ شارٹس" میں کیوں فلمایا گیا ہے۔

فلم اصغرا (1971) کا اچھی طرح سے یاد ہے کہ دوپہر کا میٹنی شو دیکھ رہے تھے، قیصرسینما کھاریاں کی چھت نہیں تھی لیکن ترپال ڈال کر اندھیرا کیا جاتا تھا۔ اس دن موسلا دار بارش اور تیز آندھی نے کئی بار ترپال کو اڑایا اور فلم نامکمل ہی دیکھ پائے تھے۔

فلم ماں پتر (1970)

اسی سال، پنجابی فلم ماں پتر (1970) نے بھی کراچی میں "پلاٹینم جوبلی" منائی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لاہور میں یہ فلم صرف "سلورجوبلی" ہی کر سکی تھی۔

اس نغماتی اورڈرامائی فلم کی کہانی 1947ء کے مہاجرین کے بارے میں تھی جس میں سدھیر، رخسانہ اور نبیلہ کی اعلیٰ پائے کی جذباتی اداکاری کے علاوہ رنگیلا کی کامیڈی یادگار تھی جس کا تکیہ کلام: "ونگیاں ٹنگاں، پولس مقابلے، گچا گچ تے ڈزا ڈز۔۔" زبانِ عام ہوا تھا۔

یہ فلم اسی ہفتے کھاریاں کے سازین سینما میں ریلیز ہوئی جس ہفتے گھر بتائے بغیر قیصرسینما پر فلم زرقا (1969) دیکھنے چلا گیا تھا۔۔!

فلم ماں پتر (1970) کو پہلی بار 1980 کی دھائی میں VCR کے دور میں دیکھا۔ ایک دن ویڈیو سنٹر سے اس فلم کے علاوہ ان دیکھی دو سپرہٹ پنجابی فلمیں، مکھڑا چن ورگا (1969) اور سجناں دور دیا (1970) بھی ملیں۔ اتفاق سے اس دن میرا وی سی آر پلیئر مرمت کے لیے گیا ہوا تھا لیکن صبر نہ ہوا اور اپنے انکل کا ویڈیو سیٹ ادھار لے کر پہلی ہی فرصت میں یہ تینوں فلمیں ایک ہی نشست میں دیکھ ڈالی تھیں۔

فلم سجناں دور دیا (1970)

فلم سجناں دور دیا (1970)، اپنے وقت کی بہت بڑی نغماتی اور ڈرامائی فلم تھی جس کا روزنامہ جنگ راولپنڈی میں قیصرسینما کے فلمی اشتہار یار تے پیار (1970) کے ساتھ "آئندہ پروگرام" کے طور پر ذہن پر نقش ہے۔ یہ فلم وعدے کے باوجود ریلیز نہیں ہوئی تھی اور لوگوں کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے سینما مینجر بتا رہا تھا کہ انھیں یہ فلم نہیں مل رہی۔

آج کے دور میں تو ڈیجیٹل سینما کی وجہ سے ایک فلم دنیا بھر کے ہزاروں سینماؤں میں ایک ساتھ دکھائی جا سکتی ہے لیکن اس وقت ہر سینما کو فلم کا ایک پرنٹ درکار ہوتا تھا۔ فلمساز، ایک محدود تعداد میں فلموں کے پرنٹ بنواتے جو پہلے بڑے شہروں کے سینماؤں میں ریلیز کرتے، بعد میں چھوٹے شہروں اور قصبوں کی باری آتی تھی۔ جتنی کامیاب فلم ہوتی تھی، اتنا ہی دیر سے ہمیں دیکھنے کو ملتی تھی۔ اسی لیے گھاگھ فلم بین، "لاہور کے ساتھ ساتھ" کے چکر میں بڑے شہروں میں جا کر نئی فلمیں دیکھا کرتے اور ہم اناڑی فلم بینوں کو اپنے شہر کے سینماؤں پر اکتفا کرنا پڑتا تھا۔ بیشتر ناکام اردو فلموں کا ذکر تو صرف اخبارات یا ریڈیو پر ہی سنتے البتہ گئی گزری پنجابی فلمیں بھی دیکھنے کو مل جاتی تھیں۔

فلم ات خدا دا ویر (1970)

اسی سال ریلیز ہونے والی پنجابی فلم ات خدا دا ویر (1970) بھی ایک بہت بڑی نغماتی فلم تھی۔ خاص طور پر موسیقار بخشی وزیر صاحبان کی یہ دھن لاجواب تھی: "جدوں ہولی جئی لیناں میرا ناں، میں تھاں مر جانی آں۔۔" میڈم نورجہاں نے اپنی عظمت کی دھاک بٹھا دی تھی۔

یہ فلم قیصرسینما کھاریاں میں ایک ہی رات میں فلم نیا سویرا (1970) کے ساتھ دیکھی جو زندگی کا پہلا تجربہ تھا۔ اس فلم میں احمدرشدی کا خوبصورت گیت "اے زندگی، اے زندگی، میں نے تیرے ہر موڑ پر، دامن غموں کا چھوڑ کر، پائی ہے اک تازہ خوشی۔۔" ہمیشہ یاد رہا۔

عید کی پہلی فلم

یکم دسمبر 1970ء کو عیدالفطر کے موقع پر قیصرسینما پر دیکھی ہوئی پہلی فلم سیاں (1970) تھی اور اسی دن سازین سینما پر فلم رنگو جٹ (1970) چلائی گئی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس عید پر لاہور میں فلم سردارا (1970) نمائش کے لیے پیش ہوئی جو قریباً دو ماہ بعد یعنی 7 فروری 1971ء کو عیدالاضحیٰ کے دن قیصرسینما کھاریاں میں دیکھی تھی۔ اس فلم کے ایک سینما بورڈ پر "فردوس اور حبیب" کے نام بھی پہلی بار لکھے تھے۔

سازین سینما، صدربازار، کھاریاں کینٹ میں دیکھی ہوئی میری پہلی فلم بہرام (1970) تھی لیکن اس دوردراز سینما پر ریلیز کی وجہ سے جو فلمیں نہ دیکھنے کا افسوس رہا، ان میں محلے دار، دونین سوالی ، سجن بیلی، ماں پتر، ٹیکسی ڈرائیور، غیرت شان جواناں دی، رنگوجٹ اور چن پتر (1970) وغیرہ شامل تھیں۔

چند فلمی یادیں

اسی سال، سینما پر دیکھی ہوئی بھٹی برادران کی پہلی فلم دنیا مطلب دی (1970) تھی جس میں "عوامی گلوکار" عنایت حسین بھٹی کا ٹائٹل سانگ "دنیا مطلب دی او یار۔۔" زبانی یاد ہوگیا تھا۔ اس فلم کے پوسٹر پر فردوس کو جس شرٹ میں دکھایا گیا تھا، فلم میں وہ چند سیکنڈ کا ایک سین تھا۔

دنیا مطلب دی (1970) کے اسی فلم پوسٹر پر عنایت حسین بھٹی کے گلے میں جو مفلر لٹک رہا ہے، ہم ان کی تقلید میں بچپن میں شدید سردی میں بھی مفلر گلے میں لپیٹنے کی بجائے اسی طرح لٹکا دیا کرتے تھے اور گھر والوں سےڈانٹ پڑا کرتی تھی۔

فلم چن سجناں (1970) سینما پر تو نہ دیکھ سکا لیکن کھاریاں کے مشہور "میلہ مہدی شاہ" پر ایک خیمے میں اس کے چند سین دیکھے۔ فلم آپریٹرز، فلم کی ریلوں سے ٹکڑے کاٹ کر بیچا کرتے تھے اور ایک چھوٹی سینمامشین کی مدد سے بہت سے لوگوں کا کاروبار بن جاتا تھا۔

قیصرسینما پر فلم ٹکہ مٹھے دا (1970) کے فلم پوسٹر پر اداکارہ نغمہ کے چہرے کے تصویر تھی جس کو فردوس سمجھتا تھا لیکن ہم عمر لڑکوں نے تصحیح کی تھی۔ اسی سینما پر فلم درندہ (1970) کا فوٹوسیٹ، فلم شاہی فقیر، نیا سویرا اور چڑھدا سورج کے فلم پوسٹرز اور فلم جلوہ (1966) کا ٹریلر ہمیشہ یاد رہا۔

سازین سینما پر فلم محلے دار، بھائی چارہ اور لارالپا کے فلم پوسٹر بھی ذہن پر چھائے رہے جبکہ فلم محرم دل دا، بدنالوں بدنام برا، آنسو بن گئے موتی، دل دیاں لگیاں، ریشماں، پائل اور گل بکاؤلی (1970) کے مختلف مقامات پر لٹکے ہوئے رنگ برنگے فلم کیلنڈرز آج بھی ذہن میں موجود ہیں۔

1970 کی یادگار اردو فلمیں

1970ء میں اردو فلموں میں سال کی بہترین فلم، انسان اور آدمی (1970) تھی جس میں زیبا اور محمدعلی کی کردار نگاری لاجواب تھی۔ ان دونوں کی ایک بڑی دلکش رنگین تصویر روزنامہ جنگ کے فلمی ایڈیشن پر آج بھی ذہن پر نقش ہے۔

اداکارہ آسیہ کی یہ پہلی فلم تھی۔ میڈم نورجہاں اور مہدی حسن کا گیت "تو جہاں کہیں بھی جائے، میرا پیار یاد رکھنا۔۔" بڑا دلکش گیت تھا۔ یہ فلم وی سی آر کے دور میں دیکھی تھی۔

فلم انجمن (1970)، اس سال کی اکلوتی پلاٹینم جوبلی اردو فلم تھی جس میں اردو فلموں کے سپرسٹار رومانٹک ہیرو وحیدمراد کو پہلی بار دیکھا تھا۔ اپنے مقامی سینما میں پوری فلم دیکھنے سے پہلے اس فلم کا ٹریلر کئی ہفتے تک دیکھا جس میں احمدرشدی کے دو گیت بڑے یادگار رہے۔ پہلا گیت: "بھابھی، میری بھابھی، تم جیو ہزاروں سال۔۔" تھا جو اپنے کزن کی شادی پر بھابھی کو تنگ کرتے ہوئے سناتا تھا جبکہ دوسرا گیت زبانی یاد ہوگیا تھا جس کو اکثر گنگناتا رہتا تھا: "یادش بخیر، بچپن میں کھیلے تھے گھر آنگن میں، ہو کے جوان شرمانے لگے، کیوں؟ آنچل میں مکھڑا چھپانے لگے۔۔"

رنگیلا کا دھماکہ

1970ء میں اردو فلموں میں سب سے بڑا دھماکہ مزاحیہ اداکار رنگیلا نے کیا جب اس نے اپنے ہی نام کی سپرہٹ فلم رنگیلا (1970) میں نہ صرف ہیرو کا رول کیا بلکہ اس کا فلمساز، ہدایتکار اور مصنف بھی خود تھا۔

محمدعلی، وحیدمراد، ندیم، کمال اور رحمان جیسے اردو فلموں کے خوبرو ہیروز کی موجودگی میں رنگیلا کا ہیرو بننا، فلمی پنڈتوں کے لیے ایک ناقابلِ یقین حقیقت تھی۔ جس کی شکل و صورت کا مذاق اڑایا جاتا تھا، پورا ملک تصورخانم کے مشہور گیت "وے سب توں سوہنیا۔۔" کی صورت میں اس کے حسن کے قصیدے گا رہا تھا۔ یہ فلم پہلی بار VCR کے دور میں دیکھی تھی۔

چند یادگار اردو فلمیں

1970ء میں اردو فلموں کی سب سے بڑی دریافت اداکارہ نشو تھی جس کو فلم بازی (1970) میں متعارف کروایا گیا تھا۔ یہی پہلی فلم تھی جس میں محمدعلی اور ندیم ایک ساتھ نظر آئے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی سال کی نغماتی فلم چاند سورج (1970) میں ندیم کے ساتھ وحیدمراد بھی تھے لیکن یہ ایک منفرد فلم تھی جس کی دو الگ الگ کہانیاں تھیں جس کی وجہ سے اردو فلموں کے یہ دونوں سپرسٹارز ایک ساتھ نظر نہیں آئے۔ یہ دونوں فلمیں پہلی بار یوٹیوب پر دیکھی تھیں۔

اس سال، اداکار سیدکمال کی فلم ہنی مون (1970) کا رنگین ٹریلر ہمارے مقامی سینما میں خوب چلا اور بڑا منفرد لگا۔ میڈیا سے گہری دلچسپی کی وجہ سے ان کی فلموں کے انگلش نام ذہن نشین ہوگئے تھے جن میں اس سال کی دیگر دو فلمیں، لو ان یورپ اور روڈ ٹو سوات (1970) کے علاوہ اگلے سال کی فلم نائٹ کلب (1971) بھی تھیں۔

اسی سال فلم ہم لوگ (1970) میں کوئی روایتی ہیرو ہیروئن نہیں تھی اور دو بچوں، مراد اور جگنو کو مرکزی کرداروں میں پیش کیا گیا تھا۔ ایک مذہبی ڈاکومنٹری فلم دیارِ پیغمبراں (1970) بھی بنائی گئی تھی۔ یہ دونوں فلمیں اپنے مقامی قیصرسینما کھاریاں میں دیکھنے کا موقع ملا تھا۔

نئے تجربات

1970ء میں چند نئے تجربات ہوئے جن میں اردو فلموں کی مقبول اداکاراؤں، دیبا کو پہلی بار پنجابی فلم سجناں دور دیا (1970) اور اداکارہ روزینہ کو پہلی بار پنجابی فلم پردیسی (1970) میں متعارف کروایا گیا تھا۔ بے چاری رانی کو فلم محرم دل دا (1970) میں مظہرشاہ کی ہیروئن بنایا گیا تھا۔

ان کے علاوہ، گلوکار مسعودرانا کو فلم شاہی فقیر (1970)، اداکار ناظم کو فلم شمع پروانہ (1970) اور ٹی وی کے مقبول کمپئر ضیاء محی الدین کو فلم مجرم کون (1970) میں سولو ہیرو بنانے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔

اسی سال پنجابی فلموں کے مقبول اداکار اکمل کی آخری فلم بہادرکسان (1970) بھی ریلیز ہوئی تھی۔ میں نے اس دور میں اکمل کی اکلوتی فلم اکبرا (1967) دیکھی تھی اور چند سال پرانی ہونے کے باوجود بہت پرانی فلم لگتی تھی۔

اسی سال، بدرمنیر، یاسمین خان اور نعمت سرحدی، پشتو فلموں جبکہ رزاق، مشرقی پاکستان کی فلموں کے بہت بڑے نام سامنے آئے تھے۔

1970 کے مقبول فنکار

پنجاب سرکٹ میں سدھیر سب سے مقبول فلمی ہیرو تھے لیکن مجھے ذاتی طور پر اعجاز اور حبیب زیادہ پسند تھے۔ پنجابی فلموں پر نغمہ اور فردوس کو مکمل اجارہ داری حاصل ہوتی تھی۔ اردو فلموں میں زیبا، دیبا، رانی، شمیم آرا اور شبنم مقبول اداکارائیں تھیں جبکہ محمدعلی، وحیدمراد، ندیم، کمال اور رحمان، چوٹی کے فلمی ہیرو تھے۔ رنگیلا اور منورظریف، پنجابی فلموں جبکہ لہری اردو فلموں کے مقبول ترین کامیڈین تھے۔ پنجابی فلموں میں ساون، مرکزی کرداروں میں ہوتے تھے جبکہ مظہرشاہ اور اسدبخاری، پنجابی فلموں اور اسلم پرویز، اردو فلموں کے صفِ اول کے ولن اداکار تھے۔

1970 کی یادگار نغماتی فلمیں

1970ء میں ایسی فلمیں جو اس وقت نہ دیکھ سکا لیکن ان کے گیت یادداشت میں محفوظ رہے، مندرجہ ذیل ہیں:

  • فلم وچھوڑا (1970) کا سینما بورڈ نہیں بھولا۔ اس فلم میں میڈم نورجہاں کا ایک سپرہٹ گیت تھا: "کوئی نواں لارا لاکے مینوں رول جا، جھوٹیا وے اک جھوٹ ہور بول جا۔۔"
  • فلم محرم دل دا (1970) کا "مخے کباب والے" کی دکان پر لٹکا ہوا کیلنڈر نہیں بھولا۔ اس فلم میں بھی میڈم نورجہاں کا سپرہٹ گیت اکثر سننے کو ملتا تھا: "کنوں حال سناواں دل دا، کوئی محرم راز نہیں ملدا۔۔"
  • ٹی وی پر فلم شمع اور پروانہ (1970) میں مجیب عالم کا یہ مشہور گیت ذہن پر نقش ہے: "میں، تیرے اجنبی شہر میں، ڈھونڈتا پھر رہا ہوں تجھے، مجھ کو آواز دے۔۔"
  • فلم دونین سوالی (1970) کا سازین سینما کا تانگہ نہیں بھولتا، اس فلم میں عنایت حسین بھٹی کا یہ گیت اکثر سننے کو ملتا تھا: "دم عشق دا بھرنا پے گا نی، ہن پیار تے کرنا پے گا نی۔۔"
  • قیصرسینما کے "آئندہ پروگرام" کے طور پر لکھا ہوا فلم اک سونا اک مٹی (1970) نہیں بھولتا جس میں نورجہاں اور مہدی حسن کا یہ دوگانا اکثر گنگناتا رہتا تھا: "اج تسی گئے مل، ساڈا ہار گیا دل، بازی جت پیار نیں۔۔"
  • ایک ناکام اور گمنام اردو فلم یہ راستے ہیں پیار کے (1970) میں مسعودرانا کا گایا ہوا میرا پسندیدہ ترین گیت ریڈیو پر اکثر گونجتا تھا: "زمانے میں رہ کے، رہے ہم اکیلے، ہمیں راس آئے نہ دنیا کے میلے۔۔"
  • پنجابی فلم بھائی چارہ (1970) کا سازین سینما پر فلم پوسٹر یاد رہا جس میں مسعودرانا کا سپرہٹ گیت "صدقے میں جاواں انھاں توں، جنھاں دیاں بانکیاں ٹوہراں۔۔" ایک سٹریٹ سانگ ثابت ہوا تھا۔
  • ریڈیو پر گونجنے والا اس سال کی اردو فلم نصیب اپنا اپنا (1970) میں احمدرشدی کا گایا ہوا میرا پسندیدہ گیت تھا: "اے ابرِ کرم، آج اتنا برس، اتنا برس کہ وہ جا نہ سکیں۔۔"
  • اسی سال کی فلم دل دیاں لگیاں (1970) میں مسعودرانا کا گایا ہوا شاہکار گیت "یا اپنا کسے نوں کر لے، یا آپ کسے دا ہو بیلیا۔۔" ہمیشہ لبوں پر مچلتا رہا۔ ایک ہوٹل میں اس کا فلم کیلنڈر بھی نہیں بھولا جس پر رانی کے کندھے پر بندر بیٹھا ہوا ہوتا ہے۔
  • اکمل کی آخری فلم بہادرکسان (1970) میں مسعودرانا کا کورس گیت "میرا سوہنا دیس کساناں دا۔۔" اکثر ریڈیو پر سننے کو ملتا تھا۔
  • فلم بھولے شاہ (1970) میں رونا لیلیٰ کا پنجابی گیت "لائل پوروں منگوایا جھمکا چاندی دا۔۔" بھی اکثر سننے میں آتا تھا۔
  • فلم ڈیرا سجناں دا (1970) کا فلم پوسٹر کبھی نہیں بھولا۔ اس فلم میں میڈم نورجہاں کا یہ گیت سن کر آج بھی وقت رک سا جاتا ہے: "تیرے خواب تے خیال رہندے، میرے نال نال۔۔"

1971 کی فلمی یادیں

میں عینی شاہد تھا جب 1971ء میں سقوطِ مشرقی پاکستان کی وجہ سے ڈیڑھ ماہ تک کوئی فلم ریلیز نہیں ہوئی اور اردو فلموں کے سپرسٹار ہیرو، وحیدمراد کو پہلی بار کسی پنجابی فلم میں کام کرنا پڑا تھا۔۔!

1971ء کی فلمی یادیں

1971ء میں سالانہ سو سے زائد فلموں کی ریلیز کا تسلسل ٹوٹ گیا تھا اور "صرف" 85 فلمیں ہی ریلیز ہوسکیں جس کی بڑی وجہ سانحہ مشرقی پاکستان تھا۔

پاکستان کی فلمی تاریخ میں پہلی بار پنجابی فلموں کی تعداد، اردو فلموں سے بڑھ گئی تھی۔ 32 اردو فلموں کے مقابلے میں 39 پنجابی فلمیں تھیں جبکہ 7 بنگالی، 5 پشتو اور 2 سندھی فلمیں بھی تھیں۔

اردو فلموں میں دوستی، آنسو، دل اور دنیا اور تہذیب (1971) اور پنجابی فلموں میں بابل، آسوبلا، عشق دیوانہ اور مستانہ ماہی (1971) کامیاب ترین فلمیں تھیں۔

اس سال، 16 دسمبر 1971ء کو سقوطِ ڈھاکہ ہوا جس کے میرے ذہن پر بڑے گہرے اثرات رہے ہیں اور صرف نو سال کی عمر میں پہلی بار پاکستان اور بھارت کا فرق اور دشمن کی پہچان ہو گئی تھی۔

فلم یہ امن (1971)

"متحدہ پاکستان" یعنی موجودہ پاکستان اور بنگلہ دیش (جو بالترتیب "مغربی پاکستان" اور "مشرقی پاکستان" کہلاتے تھے) کی آخری مشترکہ عیدالفطر، بروز ہفتہ 20 نومبر 1971ء کو منائی گئی جس پر لاہور میں جو سات فلمیں ریلیز ہوئیں، ان میں دو تاریخی موضوعات پر بنائی گئی فلمیں، العاصفہ اور یہ امن (1971) بھی تھیں۔

یہ امن (1971)
العاصفہ (1971)
غرناطہ (1971)
یہ امن، العاصفہ اور غرناطہ (1971)

اس سال ریلیز ہونے والی یہ آخری فلمیں تھیں کیونکہ 22 نومبر 1971ء کو بھارت نے مشرقی پاکستان پر باقاعدہ حملہ کردیا تھا اور نتیجہ 16 دسمبر 1971ء کو بنگلہ دیش کے قیام کی صورت میں سامنے آیا تھا۔

نامور فلمساز، ہدایتکار اور مصنف ریاض شاہد کی تاریخی فلم یہ امن (1971) میں ڈوگرا راج کے کشمیریوں پر مظالم کو موضوع بنایا گیا تھا۔

یہ ایک بہترین فلم تھی لیکن بدقسمتی سے غلط وقت پر ریلیز ہوئی کیونکہ اس وقت خود پاکستان کو بنگالیوں کے خلاف انھی مبینہ جنگی جرائم میں ملزم ٹھہرایا جا رہا تھا جو فلم میں دکھائے جارہے تھے، یہی وجہ تھی کہ اس فلم نےفلمی شائقین کو متاثر نہیں کیا تھا۔

فلم یہ امن (1971)، اس وقت دیکھی لیکن اس کی کہانی سمجھ میں نہیں آئی تھی البتہ اس فلم میں مہدی حسن اور میڈم نورجہاں کا الگ الگ گایا ہوا یہ گیت کبھی نہیں بھلا سکا: "ظلم رہے اور امن بھی ہو، کیا ممکن ہے؟ تم ہی کہو۔۔!"

فلم العاصفہ (1971)

اسی عید پر فلسطینی جدوجہد پر بنائی گئی دوسری فلم العاصفہ (1971) بھی ریلیز ہوئی لیکن سخت ناکامی کا شکار ہوئی کیونکہ زرقا (1969) کی کامیابی میں اس وقت کے حالات کا بڑا اہم کردار تھا جب قبلہ اول پر اسرائیل کا نیا نیا قبضہ ہوا تھا اور دنیا بھر کے بے بس مسلمانوں کے جذبات سخت مجروح ہوئے تھے۔

فلم غرناطہ (1971)

اسی سال ریاض شاہد کی ایک اور تاریخی فلم غرناطہ (1971) بھی سامنے آئی جو سپین میں مسلمانوں کے زوال پر بنائی گئی ایک اور ناکام فلم تھی۔ اس فلم میں میڈم نورجہاں کا گیت: "کس نام سے پکاروں، کیا نام ہے تمہارا۔۔؟" سپرہٹ ہوا تھا۔

دلچسپ بات یہ تھی ان تینوں تاریخی فلموں میں اردو فلموں کے کوئی روایتی ہیرو ہیروئن شامل نہیں تھے۔ العاصفہ اور غرناطہ (1971) کا ذکر صرف اخبارات اور ریڈیو پر سنتے تھے اور انھیں پہلی بار وی سی آر کے دور میں دیکھا تھا۔

فلم دوستی (1971)

1971ء کی کامیاب ترین فلم، فلمساز اور ہیرو اعجاز درانی کی سدا بہار نغماتی فلم دوستی (1971) تھی جس کی آدھی شوٹنگ لندن میں ہوئی تھی۔

یہ ایک بڑی بامقصد فلم تھی جس میں یورپ کے تارکینِ وطن پاکستانیوں کے مسائل کے علاوہ مغربی ماحول میں پیدا ہونے والے بچوں کی تربیت، شادی بیاہ اور والدین کی بے بسی کا مسئلہ اجاگر کیا گیا تھا۔

فلم دوستی (1971) میں میڈم نورجہاں نے سات سپرہٹ گیت گائے جن میں "چٹھی جرا سیاں جی کے نام لکھ دے۔۔" سب سے زیادہ گونجنے والا گیت تھا۔

فلم دوستی (1971)، پاکستان کی دوسری "ڈائمندجوبلی" فلم تھی، پہلی فلم، زرقا (1969) تھی اور ان دونوں فلموں کے ہیرو، اعجاز درانی تھے جنھیں اردو فلموں کا "بی کلاس" اداکار سمجھا جاتا تھا۔

اردو فلموں کی کامیاب ترین ہیروئن، اداکارہ شبنم کی درجن بھر "ڈائمندجوبلی" فلموں میں سے یہ پہلی فلم تھی جبکہ سائیڈ ہیرو کا رول کرنے والے مشرقی پاکستان کے مقبول ترین فلمی ہیرو، رحمان کی اس وقت کے مغربی پاکستان میں یہ پہلی فلم تھی۔ یہ دونوں بنگالی فنکار، اپنے اپنے عروج کے دور میں پاکستان میں رہے اور زوال کے دور میں واپس بنگلہ دیش چلے گئے تھے۔

جب فلم دوستی (1971) دیکھی

1971ء کا سال، میری فلم بینی کا دوسرا مکمل سال تھا۔ اخبارات میں نئی فلموں کے اشتہارات اور خبریں پڑھتا اور ریڈیو اور ٹی وی پر ان کے گیت سنتا تو ایسی فلموں کے دیکھنے کی خواہش پیدا ہوتی تھی۔ ایسے میں ایک معصومانہ سی دعا بھی کیا کرتا کہ "اے کاش! یہ فلم، سازین سینما، صدر بازار کھاریاں کینٹ میں ریلیز نہ ہو۔۔!"

وجہ یہ تھی کہ سازین سینما پر رات کو صرف دو شو ہوتے تھے۔ اندھیرا پڑنے پر گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ گھر سے کافی دوری بھی تھی، اس لیے اکیلے نہیں جا سکتا تھا۔ اس کے علاوہ، وہاں ٹکٹ بھی خریدنا پڑھتا تھا جبکہ قیصرسینما، گیمن کالونی کھاریاں کینٹ، شہر کے قریب ترین تھا، جہاں اتوار کو میٹنی شو ہوتا تھا اور سب سے بڑھ کر بلا ٹکٹ فلم دیکھنے کی سہولت بھی ہوتی تھی۔

فلم دوستی (1971) کی میڈیا میں بڑی شہرت تھی لیکن سازین سینما پر ریلیز ہوئی اور دیکھنے سے محروم رہ گیا تھا۔ 1982ء میں ڈنمارک واپس آیا تو VCR پر پہلی فلم جو دیکھی، وہ یہی فلم تھی۔

فلم دوستی (1971) کے علاوہ اس سال کی دیگر مشہور فلمیں جو سازین سینما پر ریلیز ہوئیں اور دیکھنے سے محروم رہا، ان میں بندہ بشر، سہرا، اچی حویلی، یاربادشاہ، عشق دیوانہ، جی او جٹا اور پہلوان جی ان لندن (1971) شامل تھیں۔ یہ آخری فلم، پہلی پنجابی فلم تھی جو لندن میں فلمائی گئی تھی۔

فلم دوستی (1971) کی "ڈائمنڈجوبلی"

کراچی میں فلم دوستی (1971) نے نام نہاد "ڈائمندجوبلی" کی یعنی بظاہر سو ہفتوں یا دو سال تک چلی جو سراسر جعل سازی اور غلط بیانی ہے۔

پہلی بات تو یہ کہ "ڈائمندجوبلی" کا مطلب 60 ہوتا ہے، 100 نہیں، دوسرا یہ فلم کراچی میں مسلسل 33 ہفتے چلی لیکن سبھی سینماؤں کو ملا کر کل 101 ہفتے بنا دیے گئے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ لاہور میں یہی فلم مسلسل 29 ہفتے چلی لیکن کم سینماؤں کی وجہ سے کل 42 ہفتے ہی کر سکی تھی۔ یعنی صرف چار ہفتوں کے فرق سے ایک شہر میں "ڈائمندجوبلی" اور دوسرے شہر میں صرف "سلورجوبلی"، کیا کہنے، جعلی جوبلیوں کے۔۔!

کراچی میں جعلی جوبلیوں کے چند مزید کمالات ملاحظہ فرمائیں:

فلم آنسو (1971)

فلم آنسو (1971)، ایک یادگار نغماتی، ڈرامائی اور جذباتی فلم تھی جس میں پنجابی فلموں کی سپرسٹار ہیروئن، فردوس نے ینگ ٹو اولڈ رول کیا تھا۔ یہ اس کے کیرئر کی واحد کامیاب اردو فلم تھی۔

بچپن میں فردوس کو ایک اردو فلم میں دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی تھی کیونکہ اسے صرف پنجابی فلموں کی اداکارہ سمجھا جاتا تھا۔ عام طور پر اردو بولنے والوں کو "ہندوستانی" کہا جاتا تھا، اسی نسبت سے پاکستان کی اردو فلموں کو بھی ہندوستانی فلمیں سمجھا کرتے تھے۔

فلم آنسو (1971) کی خاص بات یہ بھی تھی کہ 1970ء کی دھائی میں اردو فلموں کے چوتھے سپرسٹار خوبرو ہیرو، شاہدحمید کی یہ پہلی فلم تھی جس میں انھوں نے ایک منفی رول کیا لیکن اسی سال فلم تہذیب (1971)، بطورِ سولو ہیرو پہلی کامیاب فلم تھی۔

اپنے فلم بینی کے پہلے دور (1969/73) میں ندیم صاحب کی یہ اکلوتی فلم تھی جو دیکھنے کا موقع ملا۔ اس فلم میں مسعودرانا صاحب کے گائے ہوئے گیت "تیرے بنا یوں گھڑیاں بیتیں۔۔" کا میری ذاتی زندگی سے بڑا گہرا تعلق رہا ہے جس کی وجہ سے یہ ایک یادگار فلم تھی۔

یہ کیسا عجب اتفاق ہے کہ پنجابی فلموں کی دوسری سپرسٹار ہیروئن، نغمہ کی بھی واحد کامیاب اردو فلم دیا اور طوفان (1969) تھی جس میں اس نے بھی ینگ ٹو اولڈ رول کیا تھا لیکن وہ فلم میری ہوش سے پہلے کی تھی اور وی سی آر کے دور میں دیکھی تھی۔

فلم انصاف اور قانون (1971)

1971ء میں ریلیز ہونے والی اردو فلموں میں انصاف اور قانون (1971)، ایک منفرد اور شاہکار فلم تھی جس میں "شہنشاہِ جذبات" محمدعلی نے جذباتی اداکاری کا ایک نیا معیار مقرر کیا تھا۔

کوپن ہیگن ڈنمارک کے ساگا سینما میں یہ یادگار فلم دیکھی جس میں خاص طور پر احمدرشدی کا دلکش گیت "اگر تو برا نہ مانے، تجھے پیار میں سکھا دوں۔۔" کبھی نہیں بھلا سکا۔

ہدایتکار شباب کیرانوی صاحب نے جس طرح سے اس گیت کو فلمایا، وہ لاجواب تھا۔ زیبا، زمین پر بیٹھی آٹا گوندھ رہی ہے اور محمدعلی، محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کرسی پر بیٹھے تصور میں یہ گیت گا رہے ہیں جو اصل میں پڑوس میں ریڈیو پر بج رہا ہے۔ ہماری فلموں میں بہت کم گیت، اتنے خوبصورت پکچرائز ہوئے ہیں۔

فلم افشاں (1971)

فلم افشاں (1971) میں وحیدمراد اور عالیہ کے رومانٹک مکالمے اور سین لاجواب تھے۔ مہدی حسن اور نورجہاں کا الگ الگ گایا ہوا گیت "خدا کرے کہ محبت میں یہ مقام آئے۔۔" بڑا پسند تھا جبکہ احمدرشدی اور نگہت سیما کا یہ دوگانا اکثر گنگناتا رہتا تھا "ملی ہے آج زمانے کہ ہر خوشی مجھ کو۔۔"

یہ فلم آدھی دیکھ کر گھر آنا پڑا تھا کیونکہ وقفے کے بعد اندھیرا پھیلنا شروع ہوگیا تھا۔ سردیوں کے موسم میں اتوار کے تین بجے کے میٹنی شو کے وقفہ پر ہی اندھیرا پھیل جاتا تھا۔ گرمیوں میں ایسا مسئلہ نہیں ہوتا تھا۔

قیصرسینما پر بھی روزانہ دو شو ہوتے تھے لیکن فلم بینی کے عروج کے دور میں اتوار کو چھت پر ترپال ڈال کر تین بجے کا میٹنی شو بھی ہوتا تھا جو پھر چار شو تک چلا گیا، اس طرح سے بارہ بجے کا پہلا شو دیکھنا آسان ہوگیا تھا۔

اپنے پہلے فلمی دور میں صبیحہ اور سنتوش کی جوڑی کی اکلوتی فلم گرہستی (1971) بھی دیکھی جو اصل میں اس عظیم جوڑی کی بطورِ ہیرو ہیروئن، آخری فلم تھی۔ اس فلم میں سنگیتا اور نئے اداکار جمال کو متعارف کروایا گیا تھا۔ اس معاشرتی فلم میں صبیحہ خانم کی جذباتی اداکاری نے رلا دیا تھا۔

1971 کی پنجابی فلمیں

پنجابی فلموں میں اس سال کی یادگار فلم مستانہ ماہی (1971) تھی جس میں اردو فلموں کے سپرسٹار وحیدمراد نے پہلی بار فلمساز اور ہیرو کے طور پر کام کیا لیکن پنجابی فلموں میں انھیں متوقع کامیابی نہیں مل سکی تھی۔

اس نغماتی فلم میں میڈم نورجہاں کا لازوال گیت "سیو نی میرا ماہی، میرے بھاگ جگاون آگیا۔۔" سال کا سب سے مقبول ترین گیت تھا۔ کوشش کے باوجود یہ فلم نہیں دیکھ سکا تھا اور وی سی آر کے دور میں جا کر دیکھی تھی۔

فلم سچا سودا (1971)

بھٹی برادران کی پنجابی فلم سچا سودا (1971)، ایک ناقابلِ فراموش فلم تھی جو منگلوار 23 مارچ 1971ء کو "یومِ پاکستان" کی خوشی میں قیصرسینما پر گورنمنٹ پرائمری اور ہائی سکولوں کے طالبِ علموں کو مفت دکھائی گئی تھی۔ دو دن قبل یعنی اتوار کے دن یہ فلم دیکھ چکا تھا لیکن دوسری بار بھی دیکھی تھی۔

اس وقت، چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا۔ ریڈیو، ٹی وی اور فلم بینی کے علاوہ ہر ہفتے چار اخبارات کے فلمی ایڈیشن اور ایک فلمی رسالہ بھی پڑھنے لگا تھا۔

1971ء کی دیگر پنجابی فلمیں

گلوکار رجب علی کی مقبولیت

موسیقار ایم اشرف نے گوالیار کے کلاسیکل موسیقار گھرانے سے تعلق رکھنے والے سولہ سترہ سالہ نوجوان گلوکار رجب علی سے پہلا گیت فلم یادیں (1971) کے لیے 7 جنوری 1970ء کو ریکارڈ کروایا تھا "مجھ سا تجھ کو چاہنے والا۔۔" لیکن ریلیز کے اعتبار سے پہلی فلم سردارا (1970) تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ رجب علی کے فلمی کیرئر کے بیشتر سپرہٹ گیت 1971ء کی فلموں میں شامل تھے:

1971 کی گیتوں بھری یادیں

ایسی فلمیں جو اس دور میں نہ دیکھ سکا لیکن اپنے گیتوں کی وجہ سے یاد رہیں:

  • فلم نیند ہماری خواب تمہارے (1971) میں مسعودرانا کے گائے ہوئے گیت سپرہٹ ہوئے تھے۔ خاص طور پر "میرا محبوب آگیا، من میرا لہرا گیا، دل کی امنگیں، ہوئیں جوان۔۔" ریڈیو پر اکثر سننے کو ملتا تھا۔
  • فلم بھائیاں باج نہ جوڑیاں (1971) میں شوکت سلیم نامی گلوکار کا تھیم سانگ سننے میں آتا تھا جس کو لوگ مسعودرانا کا گایا ہوا گیت سمجھے تھے کیونکہ انھیں فلموں کے تھیم سانگ گانے پر مکمل اجارہ داری حاصل ہوتی تھی۔
  • فلم گھنگھرو (1971) میں نسیم بیگم کا یہ گیت اس دور کا مقبول ترین گیت تھا: "چناں وے اساں بنھے گھنگھرو۔۔"
  • میڈم نورجہاں کا گایا ہوا فلم جٹ دا قول (1971) میں سپرہٹ گیت "جان والیا، تینوں میں سنائی نئیوں گل دل والی۔۔" اکثر سننے میں آتا تھا۔
  • وحیدمراد اور منورظریف کی فلم خاموش نگاہیں (1971)، پہلی فلم تھی جو جاپان میں شوٹ کی گئی تھی۔ اس فلم میں احمدرشدی کا یہ شوخ گیت زبردست تھا: "الف سے اچھی، گاف سے گڑیا، جیم سے جاپانی، لوٹ لیا ہے تو نے ایک مسافر پاکستانی، او گڑیا جاپانی۔۔" یہ فلم ڈنمارک آ کر دیکھی تھی۔
  • فلم سلامِ محبت (1971)، ایک اور نغماتی فلم تھی جس میں مہدی حسن کا شاہکار گیت "کیوں ہم سے خفا ہوگئے، اے جانِ تمنا، بھیگے ہوئے موسم کا مزہ کیوں نہیں لیتے۔۔" اس طرح کے رومانٹک گیتوں نے کم عمری ہی میں عاشق مزاج بنا دیا تھا۔ ایسے گیت گھر والوں سے چھپ کر سنتے تھے کیونکہ معاشرتی اقدار ایسے گیتوں کی اجازت نہیں دیتی تھیں۔
  • فلم یاربادشاہ (1971) میں مسعورانا کا گایا ہوا یہ گیت ریڈیو پر خوب بجتا تھا: "میں کہیا، گل سن جا۔۔" اسی گیت کو تصورخانم نے بھی گایا تھا جو پہلی بار ریڈیو پاکستان ملتان کے سرائیکی پروگرام "جمہور دی آواز" میں سنا تھا۔
    بچپن ہی سے پنجابی زبان کی مختلف بولیوں کو سننے کا بڑا شوق رہا ہے اور اس کے لیے ریڈیو پاکستان لاہور اور آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس سے پنجابی زبان کی سٹینڈرڈ بولی، ماجھی، ریڈیو پاکستان ملتان اور بہاولپور سے سرائیکی (ملتانی اور ریاستی)، ریڈیو پاکستان راولپنڈی اور آزاد کشمیر کے ریڈیو تراڑکھل سے پوٹھواری اور پہاڑی اور مقبوضہ کشمیر کے ریڈیو جموں سے ڈوگری اور گوجری پروگرام سننے کا بڑا مزہ آتا تھا۔
  • فلم چراغ کہاں روشنی کہاں (1971) میں مسعودرانا کا یہ رومانٹک گیت بھی اکثر سننے میں آتا تھا: "حالِ دل، آج ہم سنائیں گے، بندہ پرور، کرم کچھ تو فرمایئے۔۔"
  • فلم دل اور دنیا (1971) میں رونالیلیٰ کا گیت "چمپا اور چنبیلی، یہ کلیاں نئی نویلی۔۔" بھی اکثر ریڈیو پر بجتا تھا۔ بطورِ ہیروئن اداکارہ آسیہ کی یہ پہلی کامیاب فلم تھی۔
  • فلم تہذیب (1971)، اس سال کی بڑی مشہور نغماتی فلم تھی جس میں گائے گئے مہدی حسن کے گیت "لگا ہے مصر کا بازار دیکھو۔۔" کو "لگا ہے حسن کا بازار دیکھو۔۔" سے تبدیل کیا گیا تھا۔
  • فلم جی او جٹا (1971) میں عنایت حسین بھٹی اور میڈم نورجہاں کا الگ الگ گایا ہوا گیت "او مرن ذرا نئیں ڈردے، جنھاں نین ملا لے نیں۔۔" بڑا مقبول گیت تھا جو عام طور پر میلے ٹھیلوں میں خوب بجتا تھا۔

1972 کی فلمی یادیں

میں عینی شاہد تھا جب 1972ء کا سال، مشرقی پاکستان کے بغیر موجودہ پاکستان کا پہلا مکمل سال تھا جس میں ایک عام ولن اداکار، سلطان راہی کو بامِ عروج پر پہنچتے ہوئے دیکھا۔۔!

1972 کی فلمی یادیں

1972ء میں 96 فلمیں ریلیز ہوئیں۔ پہلی مرتبہ پنجابی فلموں کی تعداد 50 تک جا پہنچی تھی جبکہ اردو فلموں کی تعداد 38 تھی۔ 7 پشتو اور 2 سندھی فلمیں بھی تھیں۔ اردو فلموں میں بہارو پھول برساؤ، میرے ہمسفر، میری زندگی ہے نغمہ اور امراؤ جان ادا (1972) جبکہ پنجابی فلموں میں خان چاچا، بشیرا، دورنگیلے، سلطان اور ظلم دا بدلہ (1972) کامیاب ترین فلمیں تھیں۔

مشرقی پاکستان کی علیحدگی

مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے
پاکستان میں فلمی سرگرمیوں پر 
کوئی فرق نہیں پڑا تھا
مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے
پاکستان میں فلمی سرگرمیوں پر
کوئی فرق نہیں پڑا تھا
مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے فلمی سرگرمیوں پر کسی قسم کا کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ گو اردو فلموں کا ایک اور سرکٹ کم ہو گیا تھا (پہلا بھارتی سرکٹ تھا جو 1965ء کی جنگ میں ختم ہوا تھا) لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ پاکستان کا فلمی سرکٹ کئی گناہ بڑھ گیا تھا جس کا زیادہ تر فائدہ پاکستان کی علاقائی زبانوں کی فلموں کو ہوا تھا۔

مشرقی پاکستان میں "متحدہ پاکستان" کے دور میں بھی زیادہ تر بنگالی فلمیں ہی بنتی اور چلتی تھیں جن میں سے کچھ اردو میں ڈب کر کے مغربی پاکستان میں بھی ریلیز کر دی جاتی تھیں جن میں چکوری (1967) اور تلاش (1962) جیسی مشہور فلمیں قابلِ ذکر ہیں۔

پاکستان کی اردو فلمیں، مشرقی پاکستان میں عام طور پر غیربنگالیوں کے علاوہ صرف "بہاری" ہی دیکھتے تھے جو 1947ء میں قیامِ پاکستان کے بعد ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہجرت کرکے مشرقی پاکستان میں آباد ہوئے لیکن 1971ء میں سقوطِ ڈھاکہ کے بعد بنگلہ دیش حکومت نے انھیں اپنا شہری تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ان میں سے بیشتر آج بھی زیادہ تر مہاجر کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔

جب کاغذ کی قلت ہوئی

روزمرہ کی زندگی میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے جو بڑے اثرات مرتب ہوئے، ان میں سے میرے ذہن پر جو بات نمایاں طور پر نقش ہے، وہ کاغذ کی شدید قلت تھی۔

پاکستان کی واحد پیپر مل، مشرقی پاکستان کے شہر کرنافلی میں تھی جو پورے ملک کی کاغذ کی ضروریات پورا کیا کرتی تھی۔ اس وقت ایک اخبار، عام طور پر آٹھ صفحات پر مشتمل ہوتا تھا لیکن کاغذ کی قلت کی وجہ چار صفحات تک محدود ہو کر رہ گیا تھا۔ کچھ دنوں بعد بڑا گھٹیا قسم کا اخباری کاغذ دیکھنے کو ملا، پھر بالکل سفید رنگ کا کاغذ آیا جو پتہ چلا کہ چین سے درآمد کیا گیا تھا۔

کاغذ کے علاوہ چائے کی پتی اور ماچسوں کا کال بھی پڑ گیا تھا۔ ان کے علاوہ چوتھی چیز، پٹ سن کی بوریاں تھیں جو نایاب ہو گئی تھیں۔

"نیا پاکستان"

سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد ایک "نیا پاکستان" وجود میں آیا۔ پاکستانی قوم کو اپنی تاریخ میں پہلی بار ایک منتخب جمہوری حکومت اور پہلا منتخب سربراہِ مملکت، ذوالفقار علی بھٹوؒ کی صورت میں ملا جس کو وراثت میں ایک ایسا پاکستان ملا جو ایک انتہائی شرمناک فوجی شکست کے نتیجہ میں دو لخت ہوچکا تھا۔

ذوالفقار علی بھٹوؒ 
پاکستانی قوم کے عظیم محسن ہیں
ذوالفقار علی بھٹوؒ
پاکستانی قوم کے عظیم محسن ہیں

نوے ہزار جنگی قیدی اور پانچ ہزار مربع میل سے زائد علاقہ دشمن کے قبضہ میں تھا۔ 195 فوجی افسران پر جنگی جرائم کے تحت مقدمہ چلنے کی بات ہورہی تھی۔ بنگلہ دیش (یا بھارتی جارحیت) کو تسلیم کرنے کا سخت دباؤ تھا۔ عالمی تنہائی اور رسوائی تھی۔ معیشت تباہ و برباد ہوچکی تھی اور باقی ملک کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی باتیں ہورہی تھیں۔

پوری قوم پر مایوسی اور ناامیدی طاری تھی لیکن جو لیڈر ملا، وہ واقعی ایک لیڈر تھا جس کی کارکردگی کی پاکستان کی تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ اس عظیم لیڈر نے ایک شکست خوردہ قوم کو انتہائی گھمبیر حالات میں سنبھالا دیا۔ سب سے بڑے احسان یہ کیے کہ ملک کو چلانے کے لیے ایک متفقہ دستور اور بچانے کے لیے ناقابلِ تسخیر ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد رکھ دی تھی۔

میں نے اس دور میں بھٹو کے حق اور مخالفت میں بہت کچھ پڑھا اور سنا۔ مختلف بحث و مباحثوں میں بہت سے حقائق روشن ہوئے اور تاریخ کے طالب علم کے طور پر بہت کچھ حاصل کیا جو آج تک ذہن پر نقش ہے۔

سلطان راہی کا عروج

1972ء کا سب سے بڑا فلمی واقعہ، فلم بشیرا (1972) سے سلطان راہی کو ملنے والا بے مثل عروج تھا۔ عام طور پر "عروج" کے بعد "زوال" بھی آتا ہے لیکن سلطان راہی، پاکستان کی فلمی تاریخ کا ایک ایسا خوش قسمت فنکار ہے کہ جس نے طویل عروج تو دیکھا لیکن زوال سے قبل ہی دارِ فانی سے کوچ کر گیا تھا۔

سلطان راہی کو فلم بشیرا (1972) سے
غیرمعمولی عروج ملا
سلطان راہی کو فلم بشیرا (1972) سے
غیرمعمولی عروج ملا

پاکستان فلم میگزین پر ساڑھے سات سو کے قریب فلموں کی غیرحتمی فہرست کے مطابق، بریک تھرو بننے والی فلم بشیرا (1972)، سلطان راہی کے فلمی کیرئر کی 190ویں فلم تھی۔ 211ویں فلم زرق خان (1973) میں پہلی بار سولو ہیرو آئے۔ انتہائی عروج کا دور 317ویں فلم مولاجٹ (1979) سے شروع ہوا جو 1996ء میں المناک قتل یا (تادمِ تحریر) 760ویں فلم تک جاری رہا تھا۔۔!

1972ء میں سلطان راہی نے دودرجن کے قریب فلموں میں کام کیا جن میں خان چاچا، خون پسینہ اور ٹھاہ (1972) جیسی بڑی بڑی فلموں میں بڑے خوفناک ولن کے طور پر سامنے آئے تھے۔ بچپن میں دیکھی ہوئی ان فلموں کا اتنا گہرا اثر رہا ہے کہ میرے ذہن نے سلطان راہی کو کبھی بھی ہیرو کے طور پر قبول نہیں کیا۔

سلطان راہی نے اس سال، فلم بشیرا اور سلطان (1972) جیسی سپرہٹ فلموں کے علاوہ ہیرا، جنگو اور راجو (1972) جیسی ناکام فلموں کے ٹائٹل رول کیے۔ فلم سردھڑدی بازی (1972) میں اقبال حسن اور شاہد کے بعد تیسرے ہیرو تھے اور ان پر ایک گیت بھی فلمایا گیا تھا۔

فلم بشیرا (1972)

ہدایتکار اسلم ڈار کی بلیک اینڈ وہائٹ پنجابی فلم بشیرا (1972) ہر لحاظ سے ایک بہترین ڈرامائی اور نغماتی فلم تھی۔ سلطان راہی، پہلی بار کسی ٹائٹل رول میں تھے۔

اس فلم کی ہائی لائٹ مسعودرانا کی گائی ہوئی مشہورِ زمانہ قوالی "کاہنوں کڈھنا ایں نک نال لکیراں، تو دل دی لکیر کڈھ لے۔۔" تھی جس کے دوران سلطان راہی کی اداکاری اور خصوصا فیس ایکسپریشن کمال کے تھے۔ اس کے بعد اس قوالی کو لکھنے والے شاعر اور اداکار مشیرکاظمی کے ساتھ سلطان راہی کے جو جذباتی مناظر تھے، ان کا شمار کلاسک سینما میں ہوتا ہے۔

فلم بشیرا (1972) کی اس یادگار قوالی پر ایک معصوم فلم بین کا یہ تبصرہ ہمیشہ یاد رہا کہ "سلطان راہی، پہلے بڑے بُرے کام کیا کرتا تھا لیکن یہ قوالی سن کر اس نے گناہوں سے توبہ کر لی اور پھر زندگی بھر نیک کام کرتا رہا۔۔"

فلم بشیرا (1972) کے روایتی ہیرو حبیب تھے جبکہ روزینہ کے فلمی کیرئر کی یہ سب سے بڑی فلم تھی جس میں اس کی اداکاری، ادائیں، گیت اور رقص بے حد پسند کیے گئے تھے۔ اس کا تکیہ کلام "میں ٹوٹے کردیاں گی۔۔" زبان زدِعام ہوا تھا۔ مجھے خاص طور پر عالیہ کے ساتھ اس کا زنانہ دنگل ہمیشہ یاد رہا۔

ان تمام تر خوبیوں کے علاوہ فلم بشیرا (1972) کا کامیڈی حصہ بھی بڑا جاندار تھا، رنگیلا کے ساتھ کوتاہ کامت اداکار رفیق موچھا ہوتا ہے جو ہر لڑکی کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگتا ہے جس پر رنگیلا کا یہ جملہ بڑا مقبول ہوا تھا: "موچھے، ٹکٹکی بند۔۔!"

ساون کا زوال

سلطان راہی کے عروج کی قیمت اداکار ساون کو ادا کرنا پڑی جو انھی کی طرح ایک عام ولن اداکار سے مرکزی کرداروں تک پہنچ گئے تھے۔

اس سال کی فلم خان چاچا (1972)، ساون کے کیرئر کی سب سے بڑی اور ایک انتہائی اعلیٰ پائے کی نغماتی اور ڈرامائی فلم تھی لیکن یہی فلم ان کے زوال کا باعث بن گئی تھی۔ معاوضے پر تنازعہ ہوا اور ساون، فلم بشیرا (1972) اور سلطان (1972) جیسی سپرہٹ فلموں سے محروم ہوگئے اور ان کی جگہ سلطان راہی نے لے لی تھی۔

ساون کی اس سال کی درجن بھر فلموں میں سے ایک اور فلم ذیلدار (1972) بڑی کامیاب فلم تھی جس میں رونالیلیٰ کے گائے ہوئے سپرہٹ پنجابی گیت "دو دل اک دوجے کولوں دور ہوگئے۔۔" کے بارے میں گیت نگار خواجہ پرویز کا دعویٰ تھا کہ اس کے گراموفون ریکارڈز ایک لاکھ کی تعداد میں فروخت ہوئے تھے۔

فلم ظلم دا بدلہ (1972)

بھٹی برادران کی فلم ظلم دا بدلہ (1972) کو پاکستان کی پہلی "ڈائمنڈجوبلی پنجابی فلم" کہا جاتا ہے۔

یہ فلم لاہور میں مسلسل 41 ہفتے تک چلی اور سبھی سینماؤں کو ملا کر کل 112 ہفتے بنائے گئے تھے۔ اخبار میں پڑھا تھا کہ اس فلم کی "ڈائمنڈجوبلی" کی خوشی میں عنایت حسین بھٹی نے ملک تھیٹر میں مٹھائی بانٹی تھی۔

فلم ظلم دا بدلہ (1972) میں پہلی بار "گنڈاسے" کے چھوٹے بھائی "ٹوکے" کا استعمال ہوا اور بھٹی صاحب نے اس آلے کی مدد سے اداکار جگی ملک کے دونوں بازو کاٹے جو سکرین پر کٹتے ہوئے نظر آتے ہیں اور وہی اس فلم کی کامیابی کی اصل وجہ بنے۔

یہ سفاکی اور بربریت بعد میں پنجابی فلموں میں عام ہوئی اور انسانوں کو گاجر مولیوں کی طرح سے کاٹا جانے لگا۔ بھٹی برادران نے بھی سماجی موضوعات چھوڑ کر پرتشدد فلمیں بنانا شروع کردیں جو عوام الناس میں بڑی مقبول ہورہی تھیں۔

بھٹی برادران کا عروج

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 1972ء کا سال، بھٹی برادران کے لیے بھی انتہائی عروج کا سال تھا جب ان کی اب تک کی سب سے زیادہ یعنی چھ فلمیں ایک سال میں ریلیز ہوئیں لیکن ان میں صرف ظلم دا بدلہ (1972) ہی ایک کامیاب فلم تھی۔

اسی سال بھٹی برادران کی پہلی رنگین فلم سجن دشمن (1972) بھی ریلیز ہوئی جس کے لیے پہلی بار خواہش پیدا ہوئی تھی کہ اس فلم کو کسی بڑے شہر میں یا "لاہور کے ساتھ ساتھ" دیکھنا چاہیے تھا۔

1972ء کی فلموں میں سے عنایت حسین بھٹی کے دو گیت بڑے مقبول ہوئے تھے جن میں "زلف دا کنڈل کھلے نہ۔۔ (ڈھول جوانیاں مانیں) کے علاوہ فلم دل نال سجن دے (1972) میں "پچھ پچھ ہاریاں اکھیاں دل توں، ہوسی کدوں دیدار، دلبر ملسی کہیڑے وار۔۔" کا میری ذاتی زندگی سے بڑا گہرا تعلق رہا ہے۔

بچپن ہی میں یہ محسوس کرتا تھا کہ عنایت حسین بھٹی کو "عوامی گلوکار" تو کہا جاتا ہے لیکن عام طور پر ان کے گیت صرف خود ان پر یا ان کے اپنے بھائی کیفی پر ہی فلمائے جاتے تھے جبکہ پنجابی فلموں کے دیگر اداکاروں کے لیے زیادہ تر مسعودرانا کی آواز استعمال کی جاتی تھی۔

فلم دورنگیلے (1972)

فلم دورنگیلے (1972)
1972ء کا سال رنگیلا کے لیے بھی انتہائی عروج کا سال تھا جب ایک طرف لاہور میں اس کی بطورِ ہیرو اور ولن، سپرہٹ پنجابی فلم دورنگیلے (1972) نے "پلاٹینم جوبلی" کی تو دوسری طرف کراچی میں بطورِ ہیرو اور کیریکٹرایکٹر، اردو فلم میری زندگی ہے نغمہ (1972) نے "گولڈن جوبلی" کی تھی۔ ان کے علاوہ متعدد فلموں میں سائیڈ ہیرو اور کامیڈین کے طور پر بھی بے حد کامیاب تھا۔

کمال یہ ہے کہ رنگیلا پروڈکشنز کی نغماتی اور ڈرامائی فلم دورنگیلے (1972) کے ہیرو، ولن، فلمساز، ہدایتکار، مصنف، موسیقار اور گلوکار کے طور رنگیلا کا نام ملتا ہے جو پاکستان کی تاریخ کا ایک عجوبہ ہے۔

فلم دورنگیلے (1972) کی خاص بات یہ بھی تھی کہ ہدایتکار ایم جے رانا نے بطورِ اداکار اس فلم میں کام کیا اور اسی رنگیلا کی ڈائریکشن میں جس کو انھوں نے کبھی فلم جٹی (1958) میں پہلی بار چانس دیا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ ریلیز کے چند ہفتوں کے بعد اس نغماتی فلم میں ایک نئے گیت کا اضافہ کیا گیا تھا۔ یہ فلم پہلے رن میں سازین سینما پر ریلیز ہوئی، اس لیے نہ دیکھ سکا لیکن پھر قیصرسینما پر چلی اور دیکھی تھی۔

فلم دورنگیلے (1972)، اداکارہ آسیہ کی بطورِ ہیروئن پہلی سپرہٹ پنجابی فلم تھی جس نے نغمہ، فردوس اور رانی وغیرہ کی اجارہ داری کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ اس فلم کے گیت بڑے مقبول ہوئے تھے، خاص طور پر مسعودرانا کا "سجناں، اے محفل، اساں تیرے لئی سجائی اے۔۔" سپرہٹ گیت تھا۔

فلم خون پسینہ (1972)

1972ء میں صرف دس سال کی عمر میں ایک گھاگھ فلم بین بن چکا تھا۔ فلم بینی کے علاوہ فلمی میڈیا کے مطالعہ نے بہت زیادہ ذہنی وسعت دی تھی۔ ایکشن فلموں سے دلچسپی نہ ہونے کے باوجود سدھیر کی ایکشن فلموں کی جو اہمیت اور خاصیت تھی وہ، سلطان راہی یا شان کی ایکشن پنجابی فلموں کی کبھی نہیں رہی۔ اس موضوع پر تفصیل سے بات مولا جٹ (1979) کے ضمن میں ہوگی۔

ہدایتکار حسن عسکری کی پہلی فلم خون پسینہ (1972)، اپنی کہانی، کردار نگاری اور خاص طور پر فلم پوسٹر کی وجہ سے یادگار فلم تھی۔ اس میں جہاں بطورِ ہیرو سدھیر کی کارکردگی لاجواب تھی، وہاں سلطان راہی نے ولن کے طور پر بڑا گہرا اثر چھوڑا تھا۔

اس فلم کی ایک اور خاصیت یہ بھی تھی کہ ملکہ ترنم نورجہاں کے گیتوں کے بغیر یہ فلم کامیاب ہوئی تھی۔ اعجاز سے تعلق کی وجہ سے اس سال اداکارہ فردوس کی بیشتر فلموں میں میڈم کے گیت نہیں ہوتے تھے اور جن فلموں میں ہوتے، ان میں میڈم کی آواز سیکنڈ ہیروئن پر ہوتی اور فردوس پر دیگر گلوکاراؤں کی آوازیں فلمائی جاتیں جو بڑی عجیب لگتی تھیں۔ فردوس کے زوال کی بڑی وجہ میڈم کے گیتوں کی عدم دستیابی تھی جس کی ایک مثال فلم عید دا چن (1972) تھی جو کبھی بھلا نہیں سکا۔

فلم سجن بے پرواہ (1972)

اس سال کی مشہور پنجابی فلم سجن بے پرواہ (1972) کی پہچان اس کی مقبولِ عام دھمال تھی: "بری بری امام بریؒ، میری کھوٹی قسمت، کرو کھری۔۔" اس فلم کے پوسٹر پر بری امامؒ کے مقبرے کے آگے جلتے ہوئے چراغ کے ساتھ اداکارہ زمرد کا چہرہ ہوتا ہے جو ذہن پر نقش ہوگیا تھا۔

فلم سجن بے پرواہ (1972) میں موسیقار نذیرعلی کے سبھی گیت زبردست تھے لیکن میڈم نورجہاں کا گایا ہوا یہ دلکش گیت "دل کملا، دل جھلا،کلا۔۔" ناقابلِ فراموش تھا۔ اس گیت کے دوران اداکارہ نغمہ کا سادہ لباس، ادائیں اور بے خودی کا عالم، دورِ نوجوانی میں راتوں کی نیندیں حرام کر دیا کرتا تھا اور اس گیت کا ویڈیو دیکھ کر جی نہیں بھرتا تھا۔

یہ فلم سازین سینما پر فلم دنیا پیسے دی (1971) کے ساتھ ایک ہی رات میں دیکھی تھیں، ساتھ کون تھا؟ یاد نہیں لیکن فلم کبھی نہیں بھولی۔

فلم ٹھاہ (1972)

اس سال کی ایک اور مشہور فلم ٹھاہ (1972) میں غزل گلوکار غلام علی کا گایا ہوا سپرہٹ پنجابی گیت "پہلی واری اج انھاں اکھیاں نیں تکیا۔۔" اکثر اپنے ایک انکل کے "مبارک ہوٹل" پر گراموفون ریکارڈ پر سننے کو ملتا تھا جو اتنا پسند تھا کہ ایک لڑکی کو سرِعام روک کر پورا گیت سنا دیا تھا۔

وہ بے چاری میری دیوانگی پر حیران و پریشان تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ فلم میں تو باغ باغیچوں وغیرہ میں گاتے ہوئے پس منظر سے ساز بھی بجتے ہیں لیکن یہاں میں اکیلا ہی اپنے سُر بکھیر رہا ہوں، اپنی اس بچگانہ حماقت پر آج بھی خاصا محظوظ ہوتا ہوں۔

یہی گیت، زندگی میں پہلی اور آخری بار، دس سال کی عمر میں کھاریاں کے "میلہ مہدی شاہ" میں ایک میجک شو پر مائیک پر گانے کا موقع ملا تھا۔ خیال تھا کہ غلام علی جیسی نہیں تو ان سے تھوڑی بہت ملتی جلتی آواز تو ہوگی لیکن جب لاؤڈ سپیکر سے صدائے بازگشت سنی تو ہنسی چھوٹ گئی تھی، اتنی باریک اور بچگانہ آواز۔۔!

فلم اشتہاری ملزم (1972)

اس سال کی ایک یادگار فلم اشتہاری ملزم (1972) تھی جو "میلہ مہدی شاہ" کے موقع پر ریلیز ہوئی اور میلے کے تینوں دن دیکھی تھی۔

اس فلم میں پنجابی فلموں میں سائیڈ ہیرو کے طور پر نظر آنے والے اداکار، اقبال حسن کو ٹائٹل رول میں پیش کیا گیا لیکن انھیں سلطان راہی جیسی کامیابی نہیں ملی۔

یہ فلم دیکھ کر مجھے حیرت اور افسوس ہوا تھا کہ فردوس کو اعجاز کی موجودگی میں اقبال حسن کی ہیروئن بنایا گیا تھا۔ اس سے قبل یہ دونوں، اسی سال کی فلم چنگا خون (1972) میں جوڑی کی صورت میں پہلی بار نظر آئے تھے۔

اقبال حسن کی سولو ہیرو کے طور پر پہلی فلم دھی رانی (1969) تھی۔ بھرپور مواقع ملنے کے باوجود، ہیرو کے طور پر ناکام رہے لیکن ایک معاون اداکار کے طور پر بےحد کامیاب رہے اور بے شمار فلموں میں کام کیا تھا۔ شیرخان (1981) ان کے فلمی کیرئر کی سب سے بڑی فلم ثابت ہوئی اور 1984ء میں عین عروج کے دور میں ایک کار حادثے میں جان بحق ہوگئے تھے۔

1972ء کی دیگر یادگار پنجابی فلمیں

1972ء کی دیگر پچاس فلموں میں سے متعدد کامیاب فلمیں تھیں جن کے بزنس کا ریکارڈ معلوم نہیں لیکن وہ کامیاب فلمیں تھیں۔ ان فلموں میں ہیراموتی، غیرت تے قانون، پترداپیار، یارنبھاندے یاریاں، نظام اور انتقام (1972) وغیرہ شامل تھیں۔

1972ء کی اردو فلمیں

اپنے پہلے اور سنہرے فلمی دور یعنی 1969/73ء میں سب سے زیادہ فلمیں 1972ء میں دیکھیں جن کی تعداد 29 تھی۔ ان میں چھ اردو فلمیں تھیں۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ان میں جہاں چار کامیاب فلمیں، افسانہ زندگی کا، دولت اور دنیا، بہارو پھول برساؤ اور امراؤ جان ادا (1972) تھیں، وہاں دو ناکام فلمیں، پردیس اور کون اپنا کون پرایا (1972) بھی تھیں۔

عام طور پر پنجاب سرکٹ میں اردو فلمیں چند بڑے شہروں تک محدود رہتی تھیں اور چھوٹے شہروں اور قصبوں کے فلم بینوں کو صرف وہی فلمیں دیکھنے کو ملتیں جو کامیاب ہوتی تھیں لیکن مندرجہ بالا دونوں ناکام فلموں میں چونکہ پنجابی فلموں کے سپرسٹار حبیب، ہیرو تھے، اس لیے انھیں دیکھنے کا موقع ملا تھا ورنہ بڑے بڑے سٹارز کی بیشتر اردو فلموں کے بارے میں حسرت ہوتی تھی کہ اپنے مقامی سینما پر دیکھ سکیں۔

فلم افسانہ زندگی کا (1972)

فلم افسانہ زندگی کا (1972)، اکلوتی فلم تھی جو 20 نومبر 1971ء کو عیدالفطر کے بعد 21 جنوری 1972ء کی عیدالاضحیٰ تک کے دو ماہ کے عرصہ میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس دوران سانحہ مشرقی پاکستان ہوا تھا۔

یہ فلم، لاہور میں اپنی ریلیز کے کم از کم آٹھ نو ماہ بعد اپنے مقامی قیصرسینما کھاریاں میں دیکھی تھی۔ یہ اس لیے یاد ہے کہ جب "اپر کلاس" میں بیٹھ کر سینما مالک، فوجی افسران اور ان کی بیگمات کے ساتھ یہ فلم دیکھی تو اصل میں یہ "انعام" تھا اس سینما سلائیڈ کا جو اس دن لکھ کر دی تھی اور جس پر "آئندہ پروگرام" کے طور فلم "بہارو پھول برساؤ" لکھا تھا، یہ فلم لاہور میں 11 اگست 1972ء کو ریلیز ہوئی تھی۔

جب ایک دس سالہ بچہ اپنی لکھائی کو سلورسکرین پر دیکھ رہا تھا تو بڑی عجیب سی کیفیت تھی۔ اس دن کے بعد قیصرسینما کھاریاں میں جہاں چاہتا، جب چاہتا، جا کر فلم دیکھ آتا تھا۔ یہ میری فلم بینی کے انتہائی عروج کا دور تھا۔

فلم افسانہ زندگی کا (1972) میں میڈم نورجہاں کا ایک جذباتی گیت "سن میری بٹیا، سن میری رانی، غم کا فسانہ، غم کی کہانی۔۔" یہاں کوپن ہیگن کی ایک لائبریری میں ہیڈفون لگا کر سنا کرتا تھا جہاں باقاعدگی سے روزنامہ جنگ کراچی پڑھنے جاتا تھا جہاں سے کراچی کے فلمی اشتہارات ذہن نشین ہوئے اور بے شمار اردو ناول پڑھنے کا موقع بھی ملا تھا۔

فلم بہارو پھول برساؤ (1972)

فلم بہارو پھول برساؤ (1972)، اس سال کی ایک یادگار رومانٹک اور نغماتی فلم تھی جو میرے لیے مسعودرانا کے لازوال گیت "میرے دل کی ہے آواز کہ بچھڑا یار ملے گا۔۔" کی وجہ سے یادگار تھی۔ یہ اکلوتا گیت تھا جو اپنے والدصاحب مرحوم کو گا کر سنایا تھا جبکہ ڈنمارک میں پہلے تین سالہ قیام کے دوران دادا جان مرحوم سے اکثر اس گیت کا خط و کتابت میں حوالہ ہوتا تھا۔

فلم بہارو پھول برساؤ (1972) کی خاص بات یہ تھی کہ کراچی میں "گولڈن جوبلی" کرنے والی یہ کامیاب فلم، لاہور میں اپنے پہلے رن میں صرف "سلورجوبلی" ہی کر سکی تھی لیکن نومبر 1983ء میں وحیدمراد کے اچانک انتقال کے بعد ان کی یاد میں ریلیز ہونے والی فلموں میں سب سے کامیاب فلم تھی جس نے لاہور میں ایک ایسے "سلطانی دور" میں "گولڈن جوبلی" منائی جب ہر طرف ایکشن پنجابی فلموں کا راج ہوتا تھا۔

ان دنوں باقاعدگی سے روزنامہ جنگ لندن کے علاوہ لائبریری میں روزنامہ نوائے وقت لاہور اور روزنامہ جنگ کراچی بھی پڑھتا تھا جن میں فلمی اشتہارات کی بھرمار ہوتی تھی۔ فلمی معلومات پر تحقیق کا کام شروع ہوچکا تھا اور VCR پر ریلیز ہونے والی ہر پاکستانی فلم دیکھنا لازم ہوتا تھا۔

فلم امراؤ جان ادا (1972)

ہدایتکار حسن طارق کی اردو فلم، امراؤ جان ادا (1972)، اس سال کی کامیاب ترین اردو فلم تھی جس نے ملک گیر کامیابی حاصل کی تھی۔ کراچی میں مسلسل 30 ہفتے چل کر کل 82 ہفتوں کے ساتھ "پلاٹینم جوبلی" منائی جبکہ لاہور میں مسلسل 31 ہفتے چل کر 65 ہفتوں کے ساتھ "گولڈن جوبلی کر گئی تھی۔ میں نے بھی یہ شاہکار فلم اپنے مقامی سینما قیصر میں دیکھی تھی۔

اردو ادیب مرزا ہادی رسوا کے 1905ء میں اسی نام کے لکھے ہوئے ناول میں لکھنو کی ایک طوائف اور شاعرہ کی زندگی کی کہانی بیان کی گئی ہے جس کو پاکستان کے علاوہ بھارت میں بھی متعدد بار فلمایا گیا ہے۔

فلم امراؤ جان ادا (1972)، اداکارہ رانی کی شاندار کردارنگاری کی وجہ سے جانی جاتی ہے، ہیرو شاہد تھے۔ موسیقار نثاربزمی کی دھنوں میں رونا لیلیٰ کے گیت بڑے مقبول ہوئے تھے جو اکثر ریڈیو پر سننے کو ملتے تھے۔ اس فلم کا پوسٹر بھی بڑا خوبصورت ڈیزائن کیا گیا تھا جو ذہن پر نقش ہوکر رہ گیا تھا۔

فلم دولت اور دنیا (1972)

فلم دولت اور دنیا (1972) میں وحیدمراد کا ڈبل رول تھا۔ یہ ایک نغماتی فلم تھی جس میں مہدی حسن کے گیت "گا میرے دیوانے دل، اس دنیا سے کیا حاصل۔۔" کا جب یہ جملہ گاتا "ہم سے کوئی پیار کرے، ہم لوگ نہیں ہیں، اس قابل۔۔" تو میرا ایک فرسٹ کزن طنزیہ چوٹ کیا کرتا کہ "تم لوگ تو اس قابل ہو ہی نہیں۔۔!"

اصل میں ہم دونوں کزن، ایک ہی لڑکی پر عاشق تھے، اس لیے خالص رقیب بھی تھے۔۔!

اس کے بغض اور عداوت کا یہ عالم تھا کہ 1996ء میں جب عرصہ چودہ سال بعد پاکستان گیا اور بطورِ خاص اسے ملنے گیا تو اپنے بارے میں یہ طنزیہ لفظ "باہرلا" سنا جس کا بظاہر مطلب "باہر والا یا بیرونِ ملک رہنے والا" ہے لیکن اصل میں "باہرلا"، پنجابی زبان میں "جنگلی سور یا خنزیر" کو کہتے ہیں۔۔!

کبھی ہم لنگوٹیا دوست اور چچا/تایا زاد بھائی بھی تھے کیونکہ بچپن میں ایک ہی دادی اماں کی گود میں بیٹھ کر کہانیاں سنی تھیں۔ کھیل کود اور کبڈی کھیلی، مقابلے پر گنے چوسے، ایک ساتھ سکول داخل ہوئے اور اتفاق سے حج کی سعادت بھی ایک ہی سال حاصل ہوئی تھی۔ عمر میں مجھ سے ایک سال بڑا تھا۔ اس کی پٹائی کرنے پر تایا نے میری پٹائی کی اور پھر دیس نکالا ملا جو ایک الگ داستان ہے۔

اسی سال کی فلم پردیس (1972) کا واقعہ نقل کر چکا ہوں جبکہ اپنے مقامی قیصرسینما پر فلم سوداگر (1972) کے ٹریلر کبھی نہیں بھولے۔ باقی اردو فلموں کا ذکر اخبارات اور ریڈیو وغیرہ پر ہی سننے میں آتا تھا۔

مہدی حسن کا عروج

1972ء سے شہنشاہِ غزل خانصاحب مہدی حسن کے انتہائی عروج کا دور شروع ہوا جب ایک ہی موضوع پرتین مشہورِ زمانہ فلمی غزلیں بڑی مشہور ہوئیں جو ریڈیو پر اکثر سننے میں آتی تھیں۔ یہ تینوں فلمیں، پہلی بار وی سی آر کے دور میں دیکھنے کا موقع ملا تھا:
  • رنجش ہی سہی، دل ہی دکھانے کے لیے آ۔۔ (فلم محبت 1972)
  • اب کہ ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں۔۔ (انگارے 1972)
  • اک بار چلے آؤ، پھر آ کے چلے جانا۔۔ (فلم ایک رات 1972)
مہدی حسن نے پہلا فلمی گیت 1956ء میں گایا لیکن فلمی گلوکار بننے کے لیے خاصی جدوجہد کرنا پڑی۔ 1962ء میں پہلا ہٹ گیت گایا لیکن 1960 کی دھائی میں پہلے سلیم رضا اور منیرحسین اور پھر مسعودرانا اور احمدرشدی کی فلمی گائیکی پر اجارہ داری ہوتی تھی اور خانصاحب کو بہت کم گیت ملتے تھے۔

مہدی حسن، ایک آئیڈیل فلمی گلوکار نہیں تھے اور پلے بیک سنگر کے طور پر ہر طرح کا گیت نہیں گا سکتے تھے۔ ان کی فلمی گائیکی پر ان کی غزل گائیکی کی گہری چھاپ تھی۔ ان کی اردو فلمی گیتوں پر اجارہ داری کا سب سے بڑا نقصان احمدرشدی کو ہوا جو اردو فلم بینوں میں "لوک گلوکار" کے طور پر مقبول تھے جبکہ پاکستانی فلمی تاریخ کے واحد آل راؤنڈ گلوکار، مسعودرانا، میڈم نورجہاں کی طرح پنجابی فلموں تک محدود ہوکر رہ گئے تھے۔

1972ء کی گیتوں بھری یادیں

میرے گھر میں ریڈیو صرف شام کو سننے کو ملتا تھا لیکن ہر گلی، ہر محلے، دکانوں، ہوٹلوں اور لاری اڈوں وغیرہ پر ریڈیو پاکستان لاہور کی نشریات سارا دن چلتی رہتی تھیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی آپ کو سننا پڑتی تھیں۔ ایسے میں 1972ء کی ایسی فلمیں جن کے گیت بڑے مشہور ہوئے لیکن انھیں اس دور میں سینما پر نہ دیکھ سکا اور بعد میں ڈنمارک آکر سینما، وی سی آر، ٹی وی یا نیٹ پر دیکھیں، ان میں سے کچھ اس طرح سے ہیں:

1973 کی فلمی یادیں

میں عینی شاہد تھا جب 1973ء میں پاکستان کی فلمی تاریخ کے متعدد بڑے بڑے فنکاروں نے اپنے عروج و زوال کا دور دیکھا۔۔!

1973 کی فلمی یادیں

1973ء میں 95 فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں سے 38 اردو، 46 پنجابی، 7 پشتو، 3 سندھی اور ایک سرائیکی فلم شامل تھی۔

اردو فلموں میں نادان، انمول، پردے میں رہنے دو، گھرانہ، سوسائٹی اور دامن اور چنگاری (1973) جبکہ پنجابی فلموں میں ضدی، بنارسی ٹھگ، جیرابلیڈ اور غلام (1973) کامیاب ترین فلمیں تھیں۔

ایک سال میں دو ڈائمنڈجوبلی فلمیں

1973ء میں پاکستان کی فلمی تاریخ میں پہلی بار کراچی میں دو اردو فلموں، نادان اور انمول (1973) نے "ڈائمنڈجوبلی" منائیں۔

جیسا کہ "جوبلی فلمیں" کے مضمون میں تفصیل سے ذکر ہوچکا ہے کہ جوبلی فلموں کا تعلق صرف ہفتوں سے نہیں بلکہ سینماؤں کی تعداد سے بھی ہوتا تھا۔ 1970 کی دھائی میں جہاں سب سے زیادہ فلمیں ریلیز ہوئی وہاں ملک بھر میں سب سے زیادہ نئے سینما گھر بھی تعمیر ہوئے تھے۔

مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ جب کوپن ہیگن کی ایک بڑی لائبریری میں روزنامہ جنگ کراچی پڑھنے جاتا تھا تو اس میں بے تحاشا فلمی اشتہارات کے علاوہ جو چیز نمایاں نظر آتی تھی وہ کراچی کے مختلف علاقوں میں بننے والی کثیرالمنزلہ عمارتیں اور آئے دن نئے سینما گھروں کا افتتاح ہوتا تھا۔

1970 کی دھائی میں کراچی کے ہر علاقے میں دو دو تین تین سینما گھر ہوتے تھے۔ ایک اردو فلم بیس سے پچیس اور ایک پنجابی فلم دس سے بارہ سینماؤں میں بیک وقت ریلیز ہوتی تھی۔ یہی وجہ تھی وہاں فلموں کا جوبلیاں منانا بہت آسان ہوگیا تھا۔ البتہ ان جوبلی فلموں کا کامیابی یا معیار سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔ مثلاً اس دور میں عام طور پر کراچی کی "سلورجوبلی" فلمیں، اوسط درجہ کی یا ناکام فلمیں ہوتی تھیں جبکہ "گولڈن جوبلی" فلمیں اوسط سے کامیاب ہوتی تھیں۔ "پلاٹینم جوبلی" فلمیں کامیاب اور "ڈائمنڈجوبلی" فلمیں سپرہٹ ہوتی تھیں۔

ان کے علاوہ اگر کوئی فلم کراچی میں کامیاب اور پنجاب سرکٹ میں ناکام ہوتی تھی تو اس فلم کو ناکام یا زیادہ سے زیادہ اوسط درجہ کی فلموں میں شمار کیا جاتا تھا کیونکہ کراچی کا فلمی سرکٹ یا سینماؤں کی تعداد، پاکستان کے کل سینماؤں کا صرف دسواں حصہ ہوتا تھا جس کو "اردو سرکٹ" بھی کہتے تھے۔

فلم نادان (1973)

فلم نادان (1973) نے اداکار ندیم کو اردو فلم بینوں کا "عوامی ہیرو" بنا دیا تھا۔۔!

نادان (1973)
فلم نادان (1973) نے
ندیم کو اردو فلم بینوں کا
"عوامی ہیرو" بنا دیا تھا
کراچی میں مسلسل 36 ہفتے اور سبھی سینماؤں کو ملا کر کمبائنڈ 102 ہفتے چلنے والی فلم نادان (1973)، اداکار ندیم کی پہلی "ڈائمنڈجوبلی" فلم ثابت ہوئی تھی۔ لاہور کا فلمی ریکارڈ دستیاب نہیں۔ اس طرح سے ندیم، اعجاز کے بعد پاکستانی فلموں کے دوسرے "ڈائمنڈجوبلی ہیرو" بن گئے تھے۔

اداکار ندیم، کراچی کے "لوکل بوائے" تھے۔ اپنی پہلی ہی فلم چکوری (1967) سے وہاں بے حد مقبول تھے لیکن فلم نادان (1973) کے عوامی کردار نے انھیں تاحیات اردو فلم بینوں کا "عوامی ہیرو" بنا دیا تھا۔ اس فلم میں ان پر فلمایا ہوا احمدرشدی کا تھیم سانگ "بھولا بھولا میرا نام، ہنسنا گانا میرا کام۔۔" بے حد مقبول ہوا تھا۔

فلم نادان (1973) میں اداکار رحمان، سائیڈ ہیرو تھے۔ ان کا نام کہانی نویس کے طور پر دیا گیا تھا حالانکہ یہ فلم سین ٹو سین بھارتی فلم گوپی (1970) کی کاپی تھی جس میں دلیپ کمار نے ندیم والا رول کیا لیکن متاثر نہیں کر پائے بلکہ اوور ایکٹنگ کا شکار نظر آئے تھے۔

میرے ذہن میں آج بھی ہفت روزہ اخبارِ وطن لندن کے وہ صفحات تازہ ہیں جن پر بھارتی فلموں کے اشتہارات کی بھرمار ہوتی تھی اور ان میں فلم گوپی (1970) کا اشتہار نمایاں ہوتا تھا۔

جب فلم نادان (1973) دیکھی

فلم نادان (1973)، کراچی میں اپنی ریلیز کے سات ماہ بعد میرے آبائی شہر کھاریاں کے مرکزی قیصرسینما میں ریلیز ہوئی تھی۔

ارادہ تھا کہ اتوار 30 ستمبر 1973ء کو دن کے بارہ بجے یہ فلم دیکھنے جاؤں گا لیکن نجانے کیسے اس دن، اپنے کزن جاوید بھائی (مرحوم) کے ہتھے چڑھ گیا جو اپنے دو دوستوں کے ساتھ قریبی شہر جہلم لے گئے جہاں پہلی بار پیراڈائز سینما میں اسی ہفتے "لاہور کے ساتھ ساتھ" ریلیز ہونے والی پنجابی فلم خون بولدا اے (1973) دیکھی تھی۔ وقفے پر بڑے مایوس ہوئے تو میں نے یہ جملہ کہا تھا:
"کیا اس سے بہتر نہیں تھا کہ ہم فلم نادان ہی دیکھ لیتے۔۔"

فلم نادان (1973)، اپنی ریلیز کے 52 سال بعد پہلی بار اتوار 21 ستمبر 2025ء کو یوٹیوب پر دیکھی۔ اس مضمون کی تیاری کے سلسلے میں موازنے کے لیے ساتھ ہی بھارتی فلم گوپی (1970) بھی دیکھنا پڑی۔

فلم انمول (1973)

1973ء میں کامیابی کے لحاظ سے سب سے زیادہ چلنے والی "ڈائمنڈجوبلی" فلم انمول (1973) تھی جو کراچی میں مسلسل 40 ہفتے چلی اور سبھی سینماؤں کو ملا کل 117 ہفتے بنائے گئے تھے۔ لاہور میں یہ فلم مسلسل 15 ہفتے چلنے کے بعد 32 ہفتوں سے "سلورجوبلی" ہوئی تھی۔

انمول (1973)

فلم انمول (1973) کی کامیابی نے
اداکار شاہد کو اردو فلموں کا چوتھا سپرسٹار بنا دیا تھا

ہدایتکار پرویز ملک کی اردو فلم انمول (1973)، ہدایتکار اسلم ایرانی کی پنجابی فلم مفت بر (1961) کا ری میک تھی۔ ہیرو شاہد تھے جو اس فلم کی کامیابی سے اعجاز اور ندیم کے بعد تیسرے "ڈائمنڈجوبلی ہیرو" بنے اور محمدعلی، وحیدمراد اور ندیم کے بعد اردو فلموں کے چوتھے سپرسٹار ہیرو بن گئے تھے۔

اردو فلموں کی مقبول ترین ہیروئن شبنم کی فلم دوستی (1971) کے بعد انمول (1973)، دوسری "ڈائمنڈجوبلی" فلم تھی۔ اس پر فلمایا گیا تصورخانم کا یہ گیت بڑا مقبول ہوا تھا: "ایسی چال میں چلوں، کلیجہ ہل جائے گا، کسی کی جان جائے گی، کسی کا دل جائے گا۔۔" یہ فلم پہلی بار وی سی آر پر دیکھی تھی۔

1973ء کی کامیاب ترین اردو فلمی ہیروئن شبنم تھی جو فلم انمول (1973) کے علاوہ گھرانہ، آس، سوسائٹی، بادل اور بجلی اور نیا راستہ (1973) بھی کاسٹ ہوئی تھی۔ زیبا اور نشو کی ایک ایک جبکہ صاعقہ کی دو فلمیں کامیاب ہوئی تھیں۔

ندیم اور شاہد کا عروج

1973ء کا سال ندیم اور شاہد کے عروج کا سال تھا جب ان دونوں "ہلکے پھلکے لائٹ ویٹ منی سٹارز" کی فلمیں، نادان اور انمول (1973)، ڈائمنڈجوبلیاں منانے میں کامیاب ہوئیں۔ یہ کارنامہ، اردو فلموں کے "ہیوی ویٹ یا بھاری بھر کم سپرسٹارز"، محمدعلی اور وحیدمراد کی سولو ہیرو کے طور کبھی کوئی فلم سرانجام نہ دے سکی تھی۔

یہ کیسی دلچسپ حقیقت ہے کہ پاکستان کی فلمی تاریخ میں اردو فلموں کے "بی کلاس ہیرو" شمار ہونے والے اداکار، اعجاز کو اپنی دو فلموں، زرقا (1969) اور دوستی (1971) کی وجہ سے پاکستان کا پہلا ڈائمنڈجوبلی ہیرو ہونے کا ناقابلِ شکست اعزاز حاصل ہے۔۔!

ندیم کی 1973ء میں فلم نادان (1973) کے علاوہ سوسائٹی، بادل اور بجلی اور دامن اور چنگاری (1973) کامیاب فلمیں تھیں جبکہ شاہد کی 1973ء میں درجن بھر فلمیں ریلیز ہوئیں۔ انمول (1973) کے علاوہ گھرانہ (1973) بھی ایک سپرہٹ فلم تھی۔ فلم تیرا غم رہے سلامت (1973) میں شاہد، فرسٹ اور ندیم، سیکنڈہیرو تھے۔ ان کے علاوہ شاہد، آدھ درجن پنجابی فلموں میں بھی نظر آئے لیکن کامیابی سے محروم رہے۔

ندیم اور شاہد کی اردو فلموں کی کامیابیوں کی وجہ سے خاص طور پر وحیدمراد کی مقبولیت اور مانگ میں بڑی کمی واقع ہوئی تھی۔ اتفاق سے اس سال ریلیز ہونے والی ان کی چاروں فلمیں ناکام رہی تھیں۔ وحیدمراد کے برعکس اردو فلموں کے آل ٹائم نمبر ون ہیرو، محمدعلی، اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے تھے جن کی سولو ہیرو کے طور پر آس اور نیا راستہ (1973) جبکہ دیگر فلموں میں دامن اور چنگاری اور گھرانہ (1973) کامیاب فلمیں تھیں۔

وحیدمراد اور شمیم آرا کا زوال

1973ء کا سال، اردو فلموں کے سپرسٹار فنکاروں، وحیدمراد اور شمیم آرا کے زوال کاسال تھا۔۔!

وحیدمراد اور شمیم آرا
وحیدمراد اور شمیم آرا

اس سال جہاں دو "منی سٹارز" یعنی ندیم اور شاہد کی فلموں نے ڈائمنڈجوبلیاں منائیں، وہاں اردو فلموں کے دوسرے "سپرسٹار"، وحیدمراد کی چاروں اور اردو فلموں کی 1960ء کی دھائی کی مقبول ترین ہیروئن، شمیم آرا کی دونوں فلمیں ناکام رہیں۔

وحیدمراد کی دو نغماتی فلمیں، ملاقات اور خواب اور زندگی (1973) تو کراچی میں سلورجوبلی تک نہ کرسکیں لیکن ایک گمنام فلم انہونی (1973) کی بمشکل سلورجوبلی کے علاوہ وحیدمراد کی ذاتی فلم جال (1973) قدرے بہتر رہی لیکن سلورجوبلی سے آگے نہ بڑھ سکی تھی۔

مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ فلم جال (1973) سے راولپنڈی کے موتی محل سینما کا افتتاح ہوا جہاں یہ فلم صرف تین ہفتے ہی چل سکی تھی۔ میں نے یہ فلم پہلی بار یوٹیوب پر دیکھی تھی۔ اس فلم میں احمدرشدی اور رونالیلیٰ کا دلکش گیت "دل کی دھڑکن مدھم مدھم۔۔" دل کے تار چھیڑ دیتا ہے۔

فلم جال (1973) کی ناکامی سے وحیدمراد، اپنی زندگی کے باقی دس برسوں میں فلمساز کے طور پر کوئی دوسری فلم نہ بنا سکے تھے۔ بطورِ فلمساز ان کی آخری فلم ہیرو (1985)، ان کے انتقال کے بعد ریلیز ہوئی تھی۔

اس سال کی چاروں فلموں کی ناکامی نے وحیدمراد کی مارکیٹ ویلیو کم کردی اور اگلے سال سے انھیں اپنے روایتی حریف، سپرسٹار محمدعلی کے ساتھ مشترکہ فلموں میں کاسٹ کیا جانے لگا تھا۔

شمیم آرا کی دونوں فلمیں، فرض اور خواب اور زندگی (1973) میں بالترتیب کمال اور وحیدمراد، ہیرو تھے لیکن دونوں فلمیں ناکام رہیں اور شمیم آرا کا بطورِ ہیروئن، فلمی کیرئر بھی ختم ہوگیا تھا۔ فلم فرض (1973)، دیکھی تھی جس میں جنگ کے مناظر نہیں بھولے۔

اداکار کمال کا زوال

1973ء کا سال، 1960 کی دھائی میں اردو فلموں کے مقبول فلمی ہیرو، سید کمال کے زوال کا سال بھی تھا۔ اس سال، ان کی تینوں فلموں میں سے صرف انسان اور گدھا (1973) ہی اپنے سیاسی موضوع کی وجہ سے مشہور ہوئی لیکن باکس آفس پر کوئی بڑا کارنامہ سر انجام نہ دے سکی تھی۔ اس کی بڑی وجہ شاید یہ تھی کہ اس فلم میں پاکستانی عوام کی توہین کی گئی تھی اور انھیں گدھوں سے تشبیع دی گئی تھی۔

اداکار کمال کو اس دور میں ایک ٹی وی ٹاک شو سے بھی بڑی شہرت ملی تھی۔ انھوں نے ایک کتاب بھی لکھی جس میں یہ بہت بڑی غلط بیانی کی کہ ان کی فلم انسان اور گدھا (1973) کو بھٹوحکومت نے نمائش کی اجازت نہیں دی تھی۔

جھوٹ کے چونکہ پاؤں نہیں ہوتے، اس لیے یہ بہتان تراشی بھی کی جاتی رہی ہے کہ اس فلم سے متنازعہ سین نکال کر فلم ریلیز کی گئی تھی۔ یہ بکواس بھی سننے میں آئی کہ اس فلم کے بعد رنگیلا پر فلموں میں کام کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ فلمی زوال کے باوجود، رنگیلا نے اگلے تین برسوں میں پچاس سے زائد فلموں میں کام کیا تھا۔

فلم انسان اور گدھا (1973) کی ریلیز کے اشتہارات آج بھی میرے ذہن پر تازہ ہیں۔ میں نے یہ فلم بھٹو دور میں ہی ساگا سینما کوپن ہیگن ڈنمارک میں دیکھی تھی۔ نیٹ پر اس فلم کے پرنٹ میں رنگیلا کی وہ متنازعہ تقریر موجود ہے جس پر وہ گدھوں کے اجتماع میں "ڈھینچوں ڈھینچوں" کی صورت میں داد حاصل کرتا ہے۔

یاد رہے کہ کمال صاحب نے جنرل ضیاع مردود کے دور میں 1985ء کے غیرجماعتی انتخابات میں حصہ لیا اور بری طرح سے ناکام رہے تھے۔ اپنے ان تلخ سیاسی تجربات پر انھوں نے ایک اور ناکام ترین فلم سیاست (1986) بھی بنائی تھی۔

رنگیلا کا زوال

1973ء میں ایک اور تبدیلی یہ دیکھنے میں آئی کہ صرف ایک فلم کی ناکامی نے رنگیلا کو زوال پذیر کردیا تھا۔۔!

رنگیلا نے حیرت انگیز عروج دیکھا۔ ایک مزاحیہ اداکار سے منفرد فنکار ثابت ہوئے جس کی فلمساز، ہدایتکار، مصنف اور گلوکار کے طور پر فلم دیا اور طوفان (1969) کی حیران کن کامیابی ہی ان کے ناقدین کو ہضم نہیں ہوئی تھی کہ فلم رنگیلا (1970) میں ہیرو بن کر رنگیلا نے سب کے منہ بند کردیے تھے۔

دل اور دنیا (1971)، دورنگیلے، میری زندگی ہے نغمہ (1972)، پردے میں رہنے دو اور رنگیلا اور منورظریف (1973) جیسی سپرہٹ فلموں کے بعد جب رنگیلا نے ایک انتہائی سنجیدہ کہانی پر فلم کبڑاعاشق (1973) بنائی تو اس فلم کی ناکامی نے انھیں عرش سے فرش پر پھینک دیا تھا۔

رنگیلا نے بین الاقوامی میعار کی حامل اس فلم میں جو ٹائٹل رول کیا، وہ اتنا سنجیدہ، منفرد اور مشکل کردار تھا جو پاکستانی فلم بینوں کی سوچ، سمجھ اور توقع سے بالا تھا۔ فلم کی ناکامی کی یہی بڑی وجہ تھی۔

مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ فلم کبڑاعاشق (1973) کے فلمی اشتہار پر لکھا ہوا ہوتا تھا کہ اس پر سترہ لاکھ روپیہ خرچ ہوا ہے۔ اس وقت تک یہ پاکستان کی سب سے مہنگی فلم ثابت ہوئی تھی جس کی ناکامی نے رنگیلا کو دیوالیہ کردیا تھا۔

فلم کبڑاعاشق (1973) میں مہدی حسن کا گیت "تو حسن کی دیوی ہے۔۔" بڑا مشہور ہوا تھا لیکن فلم کا سب سے اہم گیت "میرے محبوب کی طرح مجھ پر، اے خدا، تو بھی مہربان ہوجا۔۔"، مسعودرانا کا گایا ہوا تھا۔ حمایت علی شاعر کو ایک ریڈیو انٹرویو میں انھوں نے اس گیت کو اپنا سب سے بہترین گیت قرار دیا لیکن فلم بھی ناکام ہوئی اور گیت بھی مقبول نہ ہوسکا تھا۔ یہ فلم وی سی آر پر دیکھی تھی۔

منورظریف کا عروج

1973ء کا سال، منورظریف کے لیے انتہائی عروج کا سال ثابت ہوا تھا۔۔!

فلم ڈنڈیاں (1961) سے فلمی کیرئر کا آغاز کرنے والے منورظریف کو بریک تھرو فلم ہتھ جوڑی (1964) سے ملا۔ ایک دھائی تک چوٹی کے مزاحیہ اداکار رہے۔ فلم پردے میں رہنے دو (1973) میں پہلی بار رنگیلا کے مقابل سیکنڈ ہیرو تھے۔ اس فلم کی کامیابی سے فلم رنگیلا اور منورظریف (1973) بنی جس میں انھوں نے ٹائٹل رول کیا۔ اس دوران فلم اج دا مہینوال (1973) میں پہلی بار روایتی ہیرو بنے اور دوسپرہٹ فلموں، بنارسی ٹھگ اور جیرابلیڈ (1973) نے انھیں بامِ عروج پر پہنچا دیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ منورظریف کی فلم بنارسی ٹھگ (1973) اور رنگیلا کی کبڑاعاشق (1973)، ایک ہی دن یعنی عیدالفطر 30 اکتوبر 1973ء کو ریلیز ہوئی تھیں۔ رنگیلا، اپنی فلم کی ناکامی سے زوال پذیر ہوگئے اور منورظریف، ایک سپرہٹ فلم سے مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچ گئے تھے۔

ہدایتکار اقبال کاشمیری کی پنجابی فلم بنارسی ٹھگ (1973)، فردوس اور اعجاز کی لی جنڈ جوڑی کی آخری سپرہٹ فلم تھی۔ اس فلم میں میڈم نورجہاں کے مشہورِ زمانہ گیت "اکھ لڑی بدوبدی۔۔" سے ایک "مجرا گرل" ممتاز کو بڑی شہرت ملی جو آگے چل کر پنجابی فلموں میں آسیہ کے بعد دوسری مقبول ترین ہیروئن بن گئی تھی۔

منورظریف کی فلم بنارسی ٹھگ (1973)، جہلم کے ریجنٹ سینما پر دیکھی ہوئی میری پہلی فلم تھی۔ اپنے پہلے فلمی دور کی یہ آخری بڑی فلم تھی جو ایک بڑے شہر میں دیکھنے کا بڑا مزہ آیا تھا۔ یہی فلم ڈنمارک کے ساگا سینما میں بھی دیکھی تھی۔

1973ء کی عیدالفطر، میری پاکستان میں آخری عید تھی جس پر قیصرسینما کھاریاں میں منورظریف کی فلم اج دا مہینوال (1973) دوبارہ لگائی گئی جو چند ہفتے پہلے دیکھ چکا تھا۔ اس لیے عید کا بارہ بجے کا شو سازین سینما پر فلم خدا تے ماں (1973) اور پھر تین بجے کا شو گیریژن سینما پر فلم بے ایمان (1973) کا دیکھا تھا۔ اتفاق سے ان دونوں فلموں میں بھی منورظریف نمایاں تھے۔

یوسف خان کا عروج

کامیابی کے لحاظ سے ہدایتکار اقبال کاشمیری کی فلم ضدی (1973)، سال کی سب سے زیادہ چلنے والی پنجابی فلم تھی جس نے لاہور میں مسلسل 36 ہفتے اور کل 76 ہفتے چل کر "پلاٹینم جوبلی" کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

فلم پرواز 1954ء سے فلمی کیرئر کا آغاز کرنے والے اداکار یوسف خان نے فلم ضدی (1973) کا ٹائٹل رول کیا اور اسی فلم نے انھیں سپرسٹار کا درجہ دیا تھا۔ فلم مولا جٹ (1979) تک یوسف خان، پنجابی فلموں کے مقبول اور مصروف ترین ہیرو تھے۔ اس کے بعد کے "سلطانی دور" میں بھی انھوں نے اپنی الگ شناخت قائم رکھی۔ یہاں تک کہ 2000ء کے "شانی دور" میں بھی بزرگ کرداروں میں فلموں کی ضرورت بنے رہے تھے۔

فلم ضدی (1973)، ہر لحاظ سے ایک سپرہٹ فلم تھی جس کی کہانی، کردارنگاری اور گیت کمال کے تھے۔ اس فلم میں جو چیز خاص طور پر محسوس کی گئی، وہ فرسٹ ہیروئن فردوس پر نیرہ نور اور رونالیلیٰ کے گیت تھے جبکہ سیکنڈہیروئن زمرد اور "مجرا گرلز"، ممتاز اور ادا پر میڈم نورجہاں کے گیت فلمائے گئے جو زیادہ مقبول ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ پنجابی فلمی گیتوں میں میڈم کے سوا دوسری آوازیں اجنبی لگتی تھیں۔

فلم ضدی (1973) کا ذکر آتے ہی مجھے اپنے ماموں جان (مرحوم و مغفور) یاد آ جاتے ہیں جنھیں صرف گیارہ سال کی عمر میں قیصرسینما کھاریاں میں "فلم دکھانے لے گیا تھا"، اس واقعہ کا تفصیلی ذکر کر چکا ہوں۔

سلطان راہی کے لیے مایوس کن سال

گزشتہ سال کی فلم بشیرا (1972) سے عروج حاصل کرنے والے سلطان راہی کے لیے 1973ء کا سال انتہائی مایوس کن رہا جب ان کی ڈیڑھ درجن فلموں میں سے صرف بنارسی ٹھگ (1973) ہی ایک کامیاب فلم تھی جس میں ان کا ایک ثانوی رول تھا۔

سلطان راہی کو اس سال، پہلی بار سولو ہیرو کے طور پر دو اردو فلموں، زرق خان اور سادھو اور شیطان (1973) میں موقع دیا گیا لیکن ناکامی ہوئی۔ اردو فلم بینوں نے کبھی بھی سلطان راہی کو ہیرو کے رول میں قبول نہیں کیا اور ان کی مقبولیت صرف پنجابی (ایکشن) فلموں تک ہی محدود رہی تھی۔

فلم سادھو اور شیطان (1973) میں سلطان راہی نے جہاں ایک کامیڈی رول کیا، وہاں اپنا اکلوتا فلمی گیت "بہنا، بھیا کی پیاری بہنا، یہی دعا ہے سسرال میں جا کے، سدا سکھی تم رہنا۔۔" بھی گایا تھا۔ یہی گیت پھر مہدی حسن کی آواز میں بھی ان پر فلمایا گیا تھا۔

اسی سال کی فلم پہلا وار (1973) میں سلطان راہی کی "ٹنڈ" بڑی مشہور ہوئی تھی۔

فلم آن (1973) کی یاد میں

اس سال کی ایک یادگار اور بامقصد پنجابی فلم آن (1973) تھی جو 1971ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد مشرقی پاکستان میں قید ہونے والے پاکستانی جنگی قیدیوں کے بارے میں ایک اشارتی فلم تھی۔

فلم آن (1973) میں رونالیلیٰ، منیرحسین اور مسعودرانا کا گایا ہوا عوامی دور کا یہ انقلابی کورس گیت لاجواب تھا: "سب ٹر گئے خان وڈیرے، تیرا میرا دور آگیا۔۔"

اس فلم کی ہائی لائٹ وہ منظر ہوتا ہے جب چوکیدار کے کرداروں میں منورظریف اور منیرظریف کو حبیب کی غیرموجودگی میں اقبال حسن، قیدیوں کی گنتی میں چکر دیتا ہے۔ سلطان راہی، اس فلم میں ولن کے کردار میں تھے۔

میرے لیے یہ فلم اس لیے یادگار تھی کہ جنوری 1973ء میں والدصاحب مرحوم و مغفور، پاکستان آئے اور ہم نے اپنے نیا مکان بنایا تھا۔ اس پر کام کرنے والے سبھی مستریوں اور مزدوروں کو سازین سینما پر یہ فلم دکھائی تھی اور یہ سارا بندوبست میرا تھا جو اس وقت تک ایک گھاگھ فلم بین بن چکا تھا۔

1973ء کے اہم فلمی واقعات

دھیاں نمانیاں (1973)
دھیاں نمانیاں (1973)
پاکستان کی پہلی سرائیکی فلم تھی

  • پاکستان کی پہلی سرائیکی فلم دھیاں نمانیاں، 7 دسمبر 1973ء کو ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم میں اداکارہ خانم کے ساتھ عنایت حسین بھٹی، ہیرو تھے جن کا گایا ہوا یہ گیت بڑا مقبول ہوا تھا: "مینڈا عشق وی تو، ایمان وی تو۔۔"
    روایت ہے کہ فلم دھیاں نمانیاں (1973) نے ملتان میں گولڈن جوبلی کی تھی۔
  • پنجابی فلموں کی ایک مشہور "بی کلاس جوڑی"، عالیہ اور اقبال حسن کی مرکزی کرداروں میں اکلوتی اردو فلم باغی حسینہ (1973) ریلیز ہوکر بری طرح سے ناکام ہوئی تھی۔
  • مشہور مزاحیہ اداکار خلیفہ نذیر کو بطورِ ہیرو فلم مستانہ (1973) میں آسیہ کے ساتھ ہیرو کے طور پر متعارف کروانے کے ناکام تجربہ کیا گیا تھا۔ اس فلم میں مسعودرانا نے سات گیت گائے جو سبھی خلیفہ نذیر پر فلمائے گئے تھے۔
  • اردو فلموں کی کلاسک جوڑی، نیرسلطانہ اور درپن کی آخری فلم عظمت (1973) بھی ریلیز ہوئی۔ اس ناکام ترین فلم میں مہدی حسن کا سدابہار گیت تھا: "زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں، میں تو مرکر بھی میری جان، تجھے چاہوں گا۔۔"
  • پنجابی فلمی تاریخ کے سب سے بڑے موسیقار جی اے چشتی کے فلمی کیرئر کا آخری سپرہٹ گیت فلم چن تارا (1973) میں تھا: "تک چن پیا جاندا ای، ویخ ویخ میرے چن نوں، پیا مکھڑا چھپاندا ای۔۔" میڈم نورجہاں کے ساتھ مہدی حسن کے شاگرد پرویز مہدی کا یہ پہلا اور اکلوتا سپرہٹ فلمی گیت تھا۔
  • فلم غیرت دا نشان (1973) میں حمیرا نامی گلوکارہ کا گایا ہوا یہ گیت سپرہٹ ہوا تھا: "مینوں دھرتی کلی کرا دے، میں نچاں ساری رات۔۔" روایت ہے کہ حمیرا، ٹی وی اداکار عابدعلی کی بیوی تھیں۔

1973ء کی دیگر فلمی یادیں

1973ء کا سال میرے سنہرے فلمی دور کا آخری سال تھا جو بڑا ہنگامہ خیز ثابت ہوا تھا۔ فلم لچھی (1969) سے جس فلم بینی کے دور کا آغاز ہوا، اس کا اختتام، اتوار 2 دسمبر 1973ء کو قیصرسینما پر ہی دیکھی ہوئی آخری فلم وچھڑیا ساتھی (1973) سے ہوا تھا۔

اس سال ایک "آزاد پنچھی" بن چکا تھا۔ سال کی ابتداء میں داداجان مرحوم و مغفور، ایک حادثے میں اپنی ٹانگ تڑوا بیٹھے اور زندگی کے باقی چار برسوں میں مختلف علاج و معالجوں کے باوجود بستر پر ہی رہے۔ ہماری دکان بند ہوگئی تھی، اس لیے فلم بینی کے لیے ان سے آنکھ مچولی بھی ختم ہوگئی تھی۔ اتوار کو بارہ بجے کا شو آسانی سے دیکھ کر آ جاتا تھا بلکہ اس سال پہلی بار اپنے شہر سے باہر جہلم کے تینوں سینماؤں میں فلمیں دیکھنے کا موقع بھی ملا تھا۔

اس سال کے دیگر اہم ذاتی فلمی واقعات کچھ اس طرح سے تھے:

  • ہدایتکار الطاف حسین کی پرتشدد پنجابی فلم چار خون دے پیاسے (1973)، پہلی فلم تھی جو جہلم کے ریلوے روڈ پر واقع نازسینما میں دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ یہ "نوری نت فیم"، مصطفیٰ قریشی کی پہلی پنجابی فلم تھی۔
    یہ یاد نہیں رہا کہ یہ فلم کس کے ساتھ دیکھی تھی کیونکہ اپنے شہر کے باہر اکیلے میں کبھی کوئی فلم نہیں دیکھی تھی۔
  • اسی سال کی دوسری فلم خون بولدا اے (1973)، جی ٹی روڈ پر واقع پیراڈائز سینما میں دیکھی جس کا فلم نادان (1973) کے ضمن میں ذکر ہوچکا ہے۔ اچھی طرح سے یاد ہے کہ اس فلم کے دوران فلم بادل اور بجلی (1973) کے ٹریلرز بھی دیکھے تھے۔
    پیراڈائز سینما کا ہال بہت بڑا تھا جو پہلی بار دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ 1967ء میں دریائے جہلم پر ایک نئے پل کی تعمیر سے جی ٹی روڈ اونچا ہونے کی وجہ یہ سینما، انتہائی نشیب پر واقع تھا جس کے ساتھ پیراڈائز ہوٹل بھی تھا جہاں، والدصاحب اور داداجان (مرحومین) کے ہمراہ رات کا کھانا یاد ہے جب ہم کندیاں سے براستہ میانوالی، کالا باغ اور راولپنڈی سے ہوتے ہوئے کھاریاں آئے تھے۔
  • جہلم ہی کی بات ہورہی ہے تو یہاں ریجنٹ سینما میں دیکھی ہوئی تیسری اور آخری فلم بنارسی ٹھگ (1973) تھی جس کا ذکر منورظریف کے ضمن میں ہوچکا ہے۔
  • 1973ء میں ریلیز ہونے والی کل 38 اردو فلموں میں سے صرف تین فلمیں دیکھنے کا موقع ملا جن میں فلم فرض (1973) کے علاوہ دوسری فلم سرحد کی گود میں (1973) تھی جس میں محمدعلی ہیرو تھے۔ فردوس کی بطورِ ہیروئن، یہ آخری اردو فلم تھی۔
  • فلم بے ایمان (1973)، واحد اردو فلم تھی جو کسی عید کے دن دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ کھاریاں کینٹ کے فوجی سینما، گیریژن کی بند عمارت میں دیکھی ہوئی یہ اکلوتی فلم تھی۔
  • فلم نشان (1973)، سازین سینما میں مفت میں دیکھی جہاں بلا ٹکٹ گیلری میں بیٹھنے کے جرم میں مرغا بننا پڑا جو زندگی کا واحد اتفاق تھا۔
  • فلم شادو (1973) کے ریڈیو پروگرام سے متاثر ہوکر اپنے محلے میں اسی نام کی ایک چچی کو بڑا ستایا کرتا تھا۔
  • اسی سال کی اردو فلمیں، گھرانہ، دامن اور چنگاری، سوسائٹی، آس اور نیا راستہ (1973) کامیاب فلمیں تھیں جو پہلی بار ڈنمارک آکر دیکھی تھیں۔ دیگر فلموں کا ذکر صرف اخبارات و جرائد اور ریڈیو پر ہی سنا کرتے تھے اور ان میں سے بیشتر فلمیں وی سی آر کے دور میں دیکھیں۔

1973ء کی گیتوں بھری یادیں

1973ء میں بہت سی نغماتی فلمیں ریلیز ہوئیں لیکن یہاں صرف ایسی خاص خاص فلموں اور گیتوں کا ذکر ہورہا ہے جنھیں اس دور میں سینما پر نہیں دیکھ سکا لیکن ریڈیو پر ان کے گیت گونجتے تھے اور زبان زدِعام ہوتے تھے:

  • رنگیلا کی بطورِ ہیرو فلم مسٹربدھو (1973) میں مالا کا یہ خوبصورت گیت بڑا مشہور ہوا تھا: "ڈھولک بجا کے، سکھیاں بلا کے، بنڑے کے گیت میں گاؤں گی، اپنے بھیا کو دولہا بناؤں گی، بھیا، پیارے پیارے بھیا، بھولے بھالے بھیا۔۔"
  • شمیم آرا اور کمال کی فلم فرض (1973) میں احمدرشدی کا یہ گیت بڑا پسند تھا: "کسی کا ساتھ مل جائے، میری تقدیر بن جائے، میں بن جاؤں مصور، وہ میری تصویر بن جائے۔۔"
  • فلم خون دا دریا (1973) میں پہلی بار سلطان راہی پر مسعودرانا کا یہ مشہور رومانٹک گیت فلمایا گیا تھا: "دل نے قصور کیتا پیار دا، ہور کی گناہ اے گناہگار دا۔۔"
  • فلم زرق خان (1973) میں مسعودرانا کا ایک کلاسیکل گیت "یاد میں تیرے صدیاں بیتیں۔۔" اور اسی سال کی فلم ندیا کے پار (1973) میں مہدی حسن کا گیت "آج میرے سنگیت کے مالک، دے دے ایسا گیان۔۔" ایک ہی جیسی دھن میں تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ مسعودرانا نے اپنا گیت خود گایا لیکن مہدی حسن کو لمبی تان لگانے کے لیے گلوکار شوکت علی کی خدمات حاصل کرنا پڑی تھیں۔
  • فلم سہرے کے پھول (1973) میں مہدی حسن کا یہ گیت میرے پسندیدہ ترین گیتوں میں سے ایک رہا ہے جس کا ایک ایک لفظ آج بھی زبانی یاد ہے۔ کبھی آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اس گیت کو پرفارم کیا کرتا تھا: "آج تک یاد ہے وہ پیار کا منظر مجھ کو، جس کی تصویر نگاہوں میں لیے پھرتا ہوں۔۔"
  • فلم خواب اور زندگی (1973)، اپنے گیتوں کی وجہ سے بڑی مشہور ہوئی تھی خاص طور پر رونالیلیٰ اور مسعودرانا کا یہ دوگانا بڑا مقبول ہوا تھا: "کل بھی تم سے پیار تھا مجھ کو، تم سے محبت آج بھی ہے۔۔"
  • اس سال کی ایک اور ناکام فلم دکھ سجناں دے (1973) میں ملکہ ترنم نورجہاں کا یہ لازوال گیت گلی گلی گونجتا تھا: "سانوں نہر والے پل تے بلا کے تے خورے ماہی، کتھے رہ گیا۔۔"
    یہ گیت فردوس پر فلمایا گیا تھا۔ یقیناً یہ فلم دیر سے ریلیز ہوئی ہوگی کیونکہ اس وقت تک میڈم نورجہاں نے اپنے گیت فردوس پر فلمبند کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔
  • اس سال، غزل گلوکار غلام علی کے دو پنجابی گیت بڑے مشہور ہوئے تھے۔ فلم پہلا وار (1973) میں "نی چنبے دیے بند کلیے، تینوں کہیڑے ویلے رب نے بنایا۔۔" اور دوسرا گیت "میرے شوق دا نئیں اعتبار تینوں۔۔" یہ پنجابی گیت ایک اردو فلم ایک تھی لڑکی (1973) میں شامل کیا گیا تھا جس کے تین ہدایتکار تھے۔
  • اسی سال منورظریف کے ہیرو بننے سے مسعودرانا کی چاندی ہوگئی تھی اور وہ بڑے مصروف گلوکار بن گئے تھے۔ فلم بنارسی ٹھگ (1973) میں "نشیاں نیں ساڑیا، حلیہ وگاڑیا، اپنی تباہی آپے کرنا ایں پیاریا۔۔"، فلم خوشیا (1973) میں "میرے پیراں چہ گھنگھرو پوا دے، تے فیر میری ٹوہر ویخ لے۔۔" اور فلم جیرابلیڈ (1973) میں "تیرے مدھ بھرے نین مل پین تے چندرا شراب چھڈ دے۔۔" وغیرہ گلی گلی گونجنے والے گیت تھے۔

1974 کی فلمی یادیں

1974ء میں دیس سے پردیس کا پہلا تجربہ ہوا، اس لیے پاکستانی فلمی تاریخ کا عینی شاہد "نہیں" رہا تھا البتہ مستقل فلم بینی، ریڈیو اور اخبارات و جرائد سے پاکستانی فلموں سے تعلق قائم رہا۔

1974 کی فلمی یادیں

1974ء میں فلمی کاروبار اپنے انتہائی عروج پرتھا جب پاکستان کی فلمی تاریخ کی ایک کیلنڈر ایئر میں سب سے زیادہ یعنی 115 فلمیں ریلیز ہوئیں۔

گو "متحدہ پاکستان" کے 1968ء سے 1970ء کے تین برسوں میں اس سے بھی زیادہ فلمیں ریلیز ہوئیں لیکن ان میں بنگالی فلمیں بھی شامل تھیں جو ڈھاکہ (مشرقی پاکستان/بنگلہ دیش) میں بنیں اور موجودہ یا اس وقت کے مغربی پاکستان کے فلم بینوں کے لیے مکمل طور پر اجنبی ہوتی تھیں۔

1974ء کی ریلیز شدہ فلموں میں 49 اردو، 53 پنجابی، 7 پشتو، 3 سندھی، ایک سرائیکی، ایک گجراتی اور ایک پنجابی/سندھی ڈبل ورژن فلم شامل تھی۔ اردو فلموں میں دل لگی، شمع، پھول میرے گلشن کا، آئینہ اور صورت اور تم سلامت رہو (1974) جبکہ پنجابی فلموں میں نوکر ووہٹی دا، عشق میرا ناں، سدھا رستہ اور خطرناک (1974) کامیاب ترین فلمیں تھیں۔

عوامی دور کے "مضمرات"

1974ء میں پاکستان میں "عوامی دور" اپنے انتہائی عروج پر تھا جس میں سوچ و فکر کی آزادی اور اظہارِ خیال پر کوئی پابندی نہیں تھی لیکن اس آزادی کے کچھ مضمرات بھی سامنے آئے۔

فلم چکرباز (1974) میں منورظریف کے بقول "یہ عوامی دور ہے ، عوامی حکومت ہے۔ یہاں جو چاہے ، جب چاہے ، جیسے چاہے ، شور مچا سکتا ہے، چلا سکتا ہے ، چیخ سکتا ہے ، رولا پا سکتا ہے۔۔"

بدقسمتی سے اس غیرمتوقع اور غیرمستحق آزادی سے انتہائی ناجائز فائدہ اٹھایا گیا۔ سنسربورڈ کی نرم پالیسی کو کمزوری اور کھلی چھوٹ سمجھا گیا۔ خودغرض اور مفادپرست عناصر نے ایسی ایسی فلمیں بنائیں جو پاکستانی فلمی تاریخ پر کلنک کا ٹیکا ہیں۔ ایسی ہی بدنامِ زمانہ فلموں میں سے ایک بلیک اینڈ وہائٹ پنجابی فلم خطرناک (1974) تھی جس نے ملک گیر کامیابی حاصل کی تھی۔

فلم خطرناک (1974)

ایک امریکی ناول سے ماخوذ ایک پاورفل کہانی پر بنائی گئی فلم خطرناک (1974)، ایک بھرپور ایکشن فلم تھی جس میں یوسف خان کی زبردست کارکردگی کے علاوہ نیلو کی فلمی دنیا میں کامیاب واپسی ہوئی جو اپنے شوہر ریاض شاہد کی اچانک موت کے بعد اپنے بچوں (اداکار شان وغیرہ) کی پرورش کے لیے دوبارہ فلمی کیرئر اپنانے پر مجبور ہوگئی تھی۔ مصطفیٰ قریشی اور افضال احمد کے لیے بھی یہ پنجابی فلم ایک سنگِ میل کا درجہ رکھتی ہے۔

عین ممکن تھا کہ ایک گمنام تدوین کار رحمت علی کی بطورِ ہدایتکار یہ پہلی فلم اپنے انتہائی مخرب الاخلاق ناچ گانوں کے بغیر بھی بہت بڑی کامیابی حاصل کر لیتی لیکن اس فلم کی پہچان، پاکستان کی پہلی انتہائی فحش اور بے ہودہ فلم کے طور پر ہوئی جس میں تین مجرا اداکارائیں، انیتا، نازلی اور مزلہ، مال و زر کے لالچ میں ذلت و بے غیرتی کی پستی میں گری ہوئی نظر آئیں۔

یہ کتنا بڑا شرمناک ریکارڈ ہے کہ فلم خطرناک (1974) نے ملک بھر میں زبردست بزنس کیا تھا۔ یہ پہلی پنجابی فلم تھی جس نے کراچی جیسے "مہذب شہر" میں "ڈائمنڈجوبلی" یعنی جعلی سو ہفتوں کا بزنس کیا تھا۔ لاہور میں کم سینماؤں کی وجہ سے یہ بدنامِ زمانہ فلم صرف "پلاٹینم جوبلی" کر سکی لیکن پاکستان کے ان دونوں بڑے شہروں میں مسلسل چھ چھ ماہ چل کر سولو سلورجوبلیاں کا اعزاز حاصل کیا تھا۔۔!

اس کے علاوہ، اخلاقی دیوالیہ پن کی انتہا تھی کہ ان انتہائی قابلِ اعتراض مناظر کو فلمانے والے کیمرہ مین کو سال کی پچاس سے زائد پنجابی فلموں میں سے بہترین عکاس کا نام نہاد "معتبر" نگار ایوارڈ دے کر شرافت کا مذاق اڑایا گیا تھا۔۔!

میں نے یہ فلم، پہلی (اور آخری) بار یوٹیوب پر دیکھی اور اپنی فلم بینی پر انتہائی شرمسار ہوا تھا۔ اس فلم کا ذکر تک نہ کرتا اگر فلمی تاریخ سے دلچسپی کا روگ نہ پالا ہوتا۔۔!

"بدمعاش" لفظ کا پہلا استعمال

ذوالفقار علی بھٹوؒ کو جس ناکردہ جرم کی پاداش میں پھانسی کی سزا دی گئی، اس میں تو وہ معصوم قرار پایا لیکن اس کا یہ بہت بڑا اور ناقابلِ معافی جرم تھا کہ اس نے ایک عام آدمی کو پہلی بار زبان اور پہچان دی تھی۔۔!

مفاد پرست، مراعات یافتہ اور استحصالی طبقات کے خلاف جب کوئی پسا ہوا طبقہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتا ہے تو نام نہاد اشرافیہ اور اس کے گماشتے، اس شخص کو محتاط اور ٹکسالی زبان میں "غیرمہذب، بدزبان یا زبان دراز" قرار دیتے ہوئے غیرمحسوس اورخفیہ طریقوں سے دبانے اور مٹانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔

ان طاقتور طبقات کی زیادتیوں اور ناانصافیوں کے خلاف بغاوت کرنے والے ایسے شخص کو ہمارے ہاں عرفِ عام میں "غنڈہ اور بدمعاش" کہا جاتا ہے جو اصل میں محروم و مظلوم عوام کا ہیرو بن جاتا ہے۔ ہماری بیشتر ایکشن پنجابی فلموں کا یہی مرکزی خیال رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ "ایوبی دور" میں ریلیز ہونے والی علاؤالدین کی ایک پنجابی فلم حمیدا (1968) کا پورا نام "حمیدا وارداتیا" تھا جو اس وقت کے سنسربورڈ کو گوارا نہیں تھا لیکن "بھٹو دور" میں یوسف خان کی پنجابی فلم بدمعاش پتر (1974) ریلیز ہوئی تو سنسربورڈ کو اس کے نام پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے ناقدین کے بقول، بھٹو نے غنڈہ گردی اور بدمعاشی کو فروغ دیا تھا۔

پاکستان میں "بدمعاش" نام کی یہ پہلی فلم ایک بامقصد اور اصلاحی فلم تھی جس میں مزدوروں اور محنت کشوں کو ہڑتالوں اور مظاہروں کی بجائے محنت پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا جو اس دور کے "سوشلزم نظام" کا ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا تھا۔

اسی موضوع پر اس فلم میں ملکہ ترنم نورجہاں اور مسعودرانا کا یہ کورس گیت بڑا یادگار تھا: "مزدوری کوئی معنہ نئیں، محنت تو نہ گبھرا۔۔"

اسی سال، مزدوروں کے موضوع پر اداکار ندیم کی بطورِ فلمساز پہلی فلم مٹی کے پتلے (1974) بھی ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے ہدایتکار، ان کے خسر احتشام تھے جو بنگلہ دیش کی خستہ حال فلم انڈسٹری سے مایوس ہوکر پاکستان چلے آئے لیکن زیادہ عرصہ تک ٹک نہ سکے تھے۔ اس ناکام فلم کی ہیروئن، نشو تھی۔ اس فلم میں گلوکار اخلاق احمد کا گایا ہوا یہ پہلا مشہور گیت ایک تھیم سانگ تھا: "یہ ٹوٹے کھلونے، یہ مٹی کے پتلے، یہ بھی تو انسان ہیں۔۔!"

سلطان راہی کی بطورِ ہیرو پہلی پنجابی فلم

اسی سال، سلطان راہی کی بطورِ سولو ہیرو پہلی پنجابی فلم خاناں دے خان پروہنے (1974) ریلیز ہوئی جس میں ہیروئن آسیہ تھی۔ اس سے قبل بطورِ سولو ہیرو، ان کی دو اردو فلمیں، زرق خان اور سادھو اور شیطان (1973) ریلیز ہو چکی تھیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سلطان راہی کو سولو ہیرو کے طور پر پہلی بار کسی پنجابی فلم میں کسی اور نے نہیں، پاکستان کے لیجنڈری فلمساز اور ہدایتکار انورکمال پاشا نے کاسٹ کیا تھا۔ یہ ایک ناکام فلم تھی۔

اس سال کی دیگر فلموں میں سے ٹائٹل رول میں سلطان راہی کی بابل صدقے تیرے (1974)، ایک متاثرکن سوشل فلم تھی جس کی ہائی لائٹ مہدی حسن کا دلسوز گیت "تیرا بابل صدقے تیرے، نی بھاگاں والیے، نی کرماں والیے۔۔" تھا۔ ہدایتکار اسلم ڈار کی اس سماجی اور اصلاحی فلم کے روایتی ہیرو شاہد اور ہیروئن عالیہ تھی۔

اسی سال کی ایک اور کامیاب پنجابی فلم ہاشو خان (1974) میں سلطان راہی نے ایک سی کلاس ولن اداکار، فاضل بٹ کے مقابل ثانوی رول کیا جو پہلی اور آخری بار آسیہ کے ساتھ ہیرو آئے تھے۔ ٹائٹل رول میں اداکار ساون کی یہ آخری کامیاب فلم تھی۔ اس کے علاوہ اس سال کی کامیاب ترین اردو فلم، دل لگی (1974) میں بھی سلطان راہی نے اداکارہ نمو کے باپ کا مختصر رول کیا تھا۔

1974ء کا پنجابی فلمی نقشہ

1974ء میں باکس آفس پر کامیابی کے لحاظ سے یوسف خان، پنجابی فلمی ہیروز میں پہلے نمبر پر تھے۔ فلم خطرناک (1974) کے علاوہ ان کی پنجابی فلم سدھا رستہ (1974) بھی ایک سپرہٹ فلم تھی جس میں سائیڈ ہیرو سلطان راہی تھے جن کی اس سال کی مختلف کرداروں میں ڈیڑھ درجن فلموں میں سے یہ کامیاب ترین فلم تھی۔

1974ء کی پنجابی فلموں میں اقبال حسن بھی مصروف اور مقبول ترین اداکار تھے۔ ان کی بیس فلموں میں سے ولن کے طور پر عشق میرا ناں (1974)، ہیرو کے طور پر یارمستانے (1974) اور مہمان اداکار کے طور پر نوکر ووہٹی دا (1974) بہت بڑی فلمیں تھیں۔

پنجابی فلموں کے دیگر روایتی ہیروزمیں سدھیر کی لاٹری (1974) اور بھٹی برادران کی دھرتی دے لال اور چیلنج (1974) کامیاب فلمیں تھیں لیکن اعجاز اور حبیب کی سولو ہیرو کے طور پر کوئی فلم کسی قابلِ ذکر کامیابی سے محروم رہی تھی۔ پنجابی فلموں کی روایتی ہیروئنوں، نغمہ، فردوس اور رانی پر آسیہ، عالیہ، ممتاز اور نجمہ کو ترجیح دی جانے لگی تھی۔

ان کے علاوہ پنجابی فلموں کے غیرروایتی ہیروز میں سے وحیدمراد کی عشق میرا ناں (1974) ایک سپرہٹ فلم تھی۔ شاہد کی اس سال کی سولو ہیرو کے طور پر آٹھ میں سے صرف ایک پنجابی فلم جادو (1974) ہی کامیاب فلم تھی۔ اس میں بھی سدھیر، مہمان اداکار تھے۔ زوال پذیر رنگیلا کی بطورِ ہیرو اکلوتی پنجابی فلم منجی کتھے ڈاہواں (1974) ، ایک ناکام فلم تھی جبکہ فلم نوکر ووہٹی دا (1974) کی زبردست کامیابی سے منورظریف، مقبولیت کے سوا نیزے پر تھے۔

فلم نوکر ووہٹی دا (1974)

1974ء کی سب سے بہترین پنجابی فلم کی بات کی جائے تو بلاشبہ ٹائٹل رول میں منورظریف کے فلمی کیرئر کی شاہکار فلم نوکر ووہٹی دا (1974) تھی جو بلیک اینڈ وہائٹ ہونے کے باوجود لاہور میں روایتی سو ہفتے چلنے والی ایک "ڈائمنڈجوبلی" فلم بتائی جاتی ہے۔ آسیہ اور ممتاز، روایتی ہیروئنیں جبکہ شاہد معاون ہیرو تھے۔

فلم نوکر ووہٹی دا (1974) میں منورظریف نے جو کردارنگاری کی، اس کی مثال برصغیر کی فلمی تاریخ میں ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ اس حقیقت کا برملا اعتراف بھارتی سپرسٹار اداکار دھرمیندر نے بھی کیا جب انھوں نے منورظریف بننے کی ناکام کوشش کی تھی۔

گیت پکچرائز کروانے میں بھی جو کمال منورظریف کو حاصل تھا، وہ کسی دوسرے اداکار کو کبھی حاصل نہیں ہوا۔ نہ صرف گیت کے ایک ایک سرتال کے مطابق جسمانی حرکات اور چہرے کے تاثرات بلکہ حسبِ ضرورت زبردست رقص بھی منورظریف کا خاصا تھے جس کی بہت بڑی مثال اس فلم میں مسعودرانا کا گایا ہوا سپرہٹ گیت "چپ کر دھڑ وٹ جا، نہ عشقے دا کھول کھلاسہ۔۔" تھا۔ ایسے لگتا تھا کہ منورظریف کی ایک ایک ادا میں اداکاری رچی بسی ہے۔

منورظریف نے 1974ء میں دو درجن سے زائد فلموں میں کام کیا۔ مختلف فلموں میں روایتی کامیڈین کے علاوہ فلم بندے دا پتر، نمک حرام اور چکر باز (1974) میں ہیرو اور ٹائٹل رولز کیے۔ فلم بات پہنچی تیری جوانی تک، سچاجھوٹا اور ایماندار میں رنگیلا کے ساتھ سائیڈ ہیرو جبکہ مستانی محبوبہ، مس ہپی ، نیلام، بھول اور ننھا فرشتہ (1974) میں مرکزی کرداروں میں تھے۔ ان کے علاوہ منجی کتھے ڈاہواں (1974) میں بوڑھے کردار میں تھے اور ان پر احمدرشدی کے فلمی کیرئر کا گایا ہوا سب سے مقبول پنجابی گیت فلمایا گیا تھا: "میں کہیڑے پاسے جاواں، میں منجی کتھے ڈاہواں۔۔"

فلم بھولا سجن (1974) میں منورظریف نے ایک اور مزاحیہ بوڑھے کردار میں اداکاری کے علاوہ ایک دوگانے "گورو جی کہندے نیں، عشق دا رستہ ناپ۔۔" میں احمدرشدی جیسے مستند گلوکار کے مقابلے میں کلاسیکل گا کر میلہ لوٹ لیا تھا۔

1974ء کی اردو فلمیں

1974ء میں جہاں پاکستان کی تاریخ کی سب سے زیادہ فلمیں ریلیز ہوئیں وہاں اسی سال، پہلی بار کسی حکومت نے ایک مکمل "فلم پالیسی" کا اعلان کیا جس کے نتیجہ میں بڑے مثبت کام ہوئے۔ ان میں غیرممالک کے اشتراک سے فلمسازی کے منصوبے بھی تھے جنھوں نے پاکستان فلموں اور فنکاروں کو بین الاقوامی طور پر تجربات سے مالامال کیا تھا۔

اردو فلم ٹائیگر گینگ (1974)، پاکستان کی پہلی بین الاقوامی فلم تھی جو فلم بدنام (1966) کے شہرت یافتہ فلمساز اور ہدایتکار اقبال شہزاد نے ایک جرمن/اطالوی ہدایتکار کے ساتھ مل کر بنائی تھی۔ اس پہلی کوپروڈکشن میں امریکی، اطالوی اور جرمن ہنرمندوں اور اداکاروں کے علاوہ پاکستان سے زیبا، محمدعلی، نشو، قوی اور علی اعجاز وغیرہ تھے۔ پاکستان میں یہ فلم بری طرح سے ناکام ہوئی تھی۔

فلم تم سلامت رہو (1974)

اس سال کی گولڈن جوبلی سپرہٹ فلم تم سلامت رہو (1974)، اس لحاظ سے ایک یادگار فلم تھی کہ اس میں اردو فلموں کی تاریخ کے دو سب سے بڑے نام یعنی محمدعلی اور وحیدمراد، عرصہ آٹھ سال بعد ایک ساتھ نظر آئے تھے۔

محمدعلی اور وحیدمراد کی مشترکہ فلموں کا سلسلہ اتنا کامیاب ہوا کہ ان دونوں کو دو درجن کے قریب فلموں میں ایک ساتھ کاسٹ کیا گیا تھا۔

قبل ازیں، یہ دونوں فلمی ہیرو، اردو فلموں کے سپرسٹار بننے سے قبل دو فلموں، کنیز (1965) اور جاگ اٹھا انسان (1966) میں ایک ساتھ نظر آئے تھے۔ اس کے بعد 1967ء سے 1973ء تک قریب ترین حریف رہے تھے۔

مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ اس وقت کے فلمی میڈیا میں محمدعلی اور وحیدمراد کے پرستاروں کے مابین گھمسان کا رن پڑتا تھا۔ دونوں طرف سے اپنے اپنے پسندیدہ فنکاروں کے گن گائے جاتے اور مدح سرائی میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جاتے تھے۔

محمدعلی اور وحیدمراد کی مشترکہ فلموں پر یہ بحث ہوتی تھی کہ ان میں سے کس نے کس کا سہارا لیا ہے۔ حالانکہ اداکار اپنی مرضی سے کسی فلم میں کام نہیں کرسکتا، اس کو فلم میں کاسٹ کیا جاتا ہے جو فلمساز یا ہدایتکار کی صوابدید پر ہوتا ہے۔

وحیدمراد کا زوال، ایک سازش۔۔؟

اس وقت کے فلمی میڈیا پر وحیدمراد کے جنونی پرستار زیادہ ہوتے تھے (جس کی ایک جھلک آج بھی سوشل میڈیا پر نظر آتی ہے)۔ ان کے لیے یہ حقیقت تسلیم کرنا مشکل ہوتا تھا کہ وحیدمراد، زوال پذیر ہوچکے ہیں اور انھیں محمدعلی کا سہارا ملا ہے جو ندیم اور شاہد کی باکس آفس پر زبردستی کامیابی کے باوجود اپنی کامیابیوں کا سفر جاری رکھے ہوئے تھے۔ ان کے خیال میں وحیدمراد کا زوال کسی سازش کا نتیجہ تھا۔

تاریخی حقائق یہ ہیں کہ 1974ء میں بھی جہاں کراچی میں سولو ہیرو کے طور پر وحیدمراد کی سبھی فلمیں ناکام ہوئیں، وہاں محمدعلی کی سولو ہیرو کے طور پر آئینہ اور صورت اور قسمت (1974) گولڈن جوبلی اور متعد دیگر فلمیں سلورجوبلی تھیں۔ ان دونوں کی تینوں مشترکہ فلمیں، تم سلامت رہو، پھول میرے گلشن کا اور شمع (1974)، کراچی میں گولڈن جوبلیاں منانے میں کامیاب رہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سال شاہد کے لیے مایوسی کا سال تھا جب ان کی کوئی اردو فلم کسی بڑی کامیابی سے محروم رہی لیکن ندیم کی متعدد فلموں نے بڑی بڑی جوبلیاں منائیں جن میں سال کی کامیاب ترین فلم دل لگی (1974) بھی تھی۔

دل لگی (1974)

1974ء کی کامیاب ترین فلم دل لگی (1974) کی خاص بات یہ تھی کہ اردو فلموں کی لی جنڈ جوڑی، شبنم اور ندیم کی یہ پہلی فلم تھی جو پورے ملک میں سپرہٹ ہوئی تھی۔

ہدایتکار اسلم ڈار کی اس شاہکار نغماتی اور ڈرامائی اردو فلم نے لاہور اور کراچی میں سولو سلورجوبلیاں منائیں۔ سینماؤں کی تعداد کو ملا کر لاہور میں گولڈن جوبلی اور کراچی میں پلاٹینم جوبلیاں کیں۔ ریکارڈز کے مطابق، پنجابی فلم خطرناک (1974) کے بعد اس سال کی یہ واحد اردو فلم تھی جس نے کراچی میں سولو سلورجوبلی منائی تھی۔

دل لگی (1974) کے علاوہ ندیم کی اس سال، سولو ہیرو کے طور پر بھول اور انتظار (1974) کامیاب جبکہ دوبدن، شرافت اور مس ہپی (1974) اوسط درجہ کی فلمیں تھیں۔ ان سبھی فلموں میں شبنم، ہیروئن تھی۔ ان کے علاوہ ندیم کی محمدعلی کے ساتھ مشترکہ فلمیں، سماج، پھول میرے گلشن کا اور شمع (1973) بھی سپرہٹ ہوئی تھیں۔

فلم دل لگی (1974) کا ذہن میں آتے ہی ڈنمارک میں ہفت روزہ مصور لاہور کا وہ اکلوتا شمارہ ذہن میں آجاتا ہے جس کے ایک صفحہ پر گلوکار مسعودرانا کو اس فلم کے سپرہٹ گیتوں "مرجھائے ہوئے پھولوں کی قسم۔۔" اور "آگ لگا کر چھپنے والے۔۔" کی گائیکی پر بہترین گلوکار کا "مصور ایوارڈ" دینے کی تصویر اور تحریر تھی۔ یہ فلم پہلی بار پاکستان میں اپنے دوسرے دور میں سنگم سینما کھاریاں میں دیکھی تھی۔

فلم شمع (1974)

1974ء کی جملہ اردو فلموں میں سے جو فلم خاص طور پر بے حد پسند آئی، وہ ہدایتکار نذرشباب کی ملٹی کاسٹ، رومانٹک اور نغماتی فلم شمع (1974) تھی۔

اس شاہکار فلم کی کہانی طبع زاد نہیں تھی۔ تھوڑی بہت تبدیلیوں کے ساتھ نذرشباب کے اپنے والدِ گرامی، شباب کیرانوی کی مشہورِ زمانہ "گول گپے والا آیا۔۔" فیم سپرہٹ فلم مہتاب (1962) کا ری میک تھی۔

اس فلم کے کردار تقریباً ایک جیسے تھے۔ علاؤالدین کا کردار محمدعلی نے کیا اور خوب کیا۔ حبیب کا روایتی ہیرو کا کردار وحیدمراد نے کیا اور لاجواب کیا۔ اسدبخاری کا ولن ٹائپ کردار ندیم نے کیا اور اچھا کیا۔ نیرسلطانہ کا ٹائٹل رول، دیبا نے کیا اور کردار میں جان ڈال دی تھی۔ نغمہ اور رخسانہ کی جگہ زیبا اور بابرہ شریف اپنے کرداروں میں فٹ رہیں جبکہ زینت کی جگہ تمنا کا ویمپ کا کردار بڑا پاورفلم تھا۔ ان کے علاوہ خالدسلیم موٹا کا مزاح خوب رہا۔

ایم اشرف کی موسیقی اور تسلیم فاضلی کی گیت نگاری زبردست تھی۔ ناہیداختر اور مہدی حسن کے گیت سپرہٹ ہوئے۔ خاص طور پر خانصاحب کا یہ گیت اور اس میں وحیدمراد اور دیبا کی رومانٹک اداکاری بہت پسند آئی تھی: "یہ تیرا آنا، بھیگی راتوں میں، چپکے چپکے، سب سے چھپ کے۔۔"

فلم شمع (1974) ان گنی چنی اردو فلموں میں سے ایک تھی جو کراچی سے زیادہ لاہور والوں کو پسند آئی اور وہاں سولو سلورجوبلی منانے میں کامیاب ہوئی جو ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔ فلم خطرناک اور دل لگی (1974) کے بعد یہ تیسری فلم تھی جس نے ان دونوں فلمی مراکز میں کمبائنڈ گولڈن جوبلیاں کی تھیں۔

فلم شمع (1974)، ساگا سینما کوپن ہیگن میں میرے ڈنمارک میں پہلے تین برسوں کے قیام کے دوران تین بار آئی اور تینوں بار دیکھی تھی۔ میری ویڈیو کولیکشن کا لازمی حصہ بھی تھی۔

باکس آفس کے تلخ حقائق

فلم شمع (1974) کی خاص بات یہ تھی کہ اسی سال کی فلم پھول میرے گلشن کا (1974) کے بعد یہ دوسری فلم تھی جس میں اردو فلموں کے تینوں سپرسٹارز، محمدعلی، وحیدمراد اور ندیم، ایک بار پھر ایک ساتھ دیکھے گئے تھے۔ اگلے سال کی فلم جب جب پھول کھلے (1975) میں یہ تینوں سپرسٹارز، تیسری اور آخری بار ایک ساتھ نظر آئے تھے۔

اردو فلموں کے ان تینوں سپرسٹارز کی ان تینوں مشترکہ فلموں کے پوسٹروں کو بغور دیکھیں تو ان میں عروج و زوال کی ایک داستان پوشیدہ ہے۔

پہلی فلم پھول میرے گلشن کا (1974) کے پوسٹر پر محمدعلی، وحیدمراد اور ندیم، ایک ساتھ نظر آرہے ہیں۔ محمدعلی، درمیان میں ہیں جو پاکستان کی فلمی تاریخ میں اردو فلموں کے سب سے بڑے ہیرو تھے۔ ان کی دائیں جانب وحیدمراد ہیں، جو دوسرے اور بائیں جانب ندیم ہیں جو تیسرے سپرسٹار تھے۔

دوسری فلم شمع (1974) کے پوسٹر پر صورتحال مختلف نظر آتی ہے۔ ایک ثانوی کردار کرنے والے ندیم کو مرکزی کردار کرنے والے وحیدمراد پر اہمیت دی گئی ہے حالانکہ یہ فلم وحیدمراد کی تھی لیکن اس وقت تک ان کی باکس آفس مانگ میں بے حد کمی واقع ہوچکی تھی۔ ان کے لیے گزشتہ سال کی سبھی فلموں کی ناکامی کے بعد اس سال بھی صورتحال مختلف نہیں تھی۔

وحیدمراد کی بے قدری

1974ء میں وحیدمراد کے فلمی کیرئر کی اس وقت تک سب سے زیادہ یعنی 13 فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں سے چھ فلموں میں ان کے ساتھ محمدعلی تھے جن کی سولو ہیرو کے طور پر بھی متعدد فلمیں کامیاب رہیں جبکہ ان دونوں کی مشترکہ فلموں میں سے چار سپرہٹ اور دو اوسط درجہ یا ناکام فلمیں تھیں۔

المیہ یہ تھا کہ اس سال بھی سولو ہیرو کے طور پر وحیدمراد کی کراچی میں ساتوں فلمیں ناکام ہوئیں۔ صرف ایک فلم دیدار (1974)، بمشکل سلورجوبلی کر سکی۔ پنجابی فلم عشق میرا ناں (1974)، لاہور میں سپرہٹ پلاٹینم جوبلی ہوئی لیکن کراچی میں ناکام رہی۔ ایسے میں وحیدمراد کی باکس آفس پر اہمیت مزید کم ہوگئی تھی جو فلم شمع (1974) کے پوسٹر سے واضح طور پر نظر آتی ہے۔

اگلے سال کی فلم جب جب پھول کھلے (1975)، ان تینوں عظیم فنکاروں کی تیسری اور آخری مشترکہ فلم تھی جس کی کہانی میں وحیدمراد کی مرکزی حیثیت تھی لیکن فلم پوسٹر پر نہیں، یہاں محمدعلی کے بعد ندیم کو نمایاں کیا گیا جو اس وقت تک، باکس آفس پر اردو فلموں کے مقبول ترین اداکار بن چکے تھے۔

فلم چاہت (1974)

1960 کی دھائی میں مشرقی پاکستان کی اردو فلموں کے مقبول ترین ہیرو، رحمان نے سقوطِ ڈھاکہ سے قبل پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ وہ چندا (1962)، تلاش (1963)، ملن (1964) اور درشن (1967) جیسی سپرہٹ فلموں کی وجہ سے جانے جاتے تھے لیکن پاکستان میں پہلی دو فلموں، دوستی (1971) اور نادان (1973) میں معاون ہیرو تھے۔ اپنی تیسری فلم تم سلامت رہو (1974) میں محمدعلی اور وحیدمراد کے معاون ہیرو تھے جبکہ اسی سال مزید تین فلموں میں نظر آئے۔

رحمان نے فلمساز، ہدایتکار اور سولو ہیرو کے طور پر لاہور میں پہلی فلم چاہت (1974) بنائی جو ان کی اکلوتی کامیاب فلم رہی۔ شبنم ہیروئن تھی۔ مہدی حسن کے دلکش گیت "پیار بھرے دو شرمیلے نین۔۔" کے علاوہ گلوکار اخلاق احمد کا پہلا سپرہٹ گیت "ساون آئے، ساون جائے، تجھ کو پکاریں گیت ہمارے۔۔" بھی تھا جس میں رونا لیلیٰ نے بھی ساتھ دیا تھا جو اسی سال پاکستان چھوڑ کر اپنے آبائی وطن بنگلہ دیش چلی گئی تھی۔

اخلاق احمد کا یہ گیت میں نے پہلی بار ریڈیو پاکستان کی عالمی سروس سے سنا جو رفیع صاحب کے گیت "آجا تجھ کو پکاریں میرے گیت رے۔۔" سے متاثر نظر آتا تھا۔

ریڈیو پاکستان کی عالمی سروس پر ہی فلمی سرگرمیوں کے ایک پروگرام میں مہدی حسن کا فلم پیار ہی پیار (1974) کا گیت "وہ دن بچپن کے، ساتھی جیون کے، یاد آتے ہیں، تڑپاتے ہیں، سپنے بن بن کے۔۔" اور ایک غیرریلیز شدہ فلم بھول نہ جانا (1970) میں احمدرشدی اور رونا لیلیٰ کا گیت "دن بدلے مہینوں میں، مہینے بن گئے آخر کار، نہ آیا تجھ کو میرا خیال۔۔" کبھی نہیں بھولے۔

1974ء کے فلمی حقائق

1974ء میں جہاں بڑی تعداد میں فلمیں ریلیز ہوئیں وہاں بڑے تجربات بھی ہوئے۔ بابرہ شریف، کویتا، غلام محی الدین، جاویدشیخ، معین اختر، ناہیداختر، مہناز، اے نیر اور افشاں متعارف ہوئے۔ ان کے علاوہ مندرجہ ذیل یادگار فلمیں بھی تھیں:

پردیس میں فلم بینی

1974ء کا سال ڈنمارک میں پہلا مکمل سال تھا جس میں میری فلم بینی کے معمولات میں غیرمعمولی تبدیلی آئی۔

اب قیصرسینما کھاریاں کی آزادی سلب ہوگئی تھی جہاں جب چاہا، بلا معاوضہ فلم دیکھ لی۔ اب سینماٹکٹ اور بس کا کرایہ بھی درکار ہوتا تھا جس کے لیے والدصاحب (مرحوم) کی محتاجی اور اجازت درکار ہوتی تھی۔

والدصاحب ہی نے پاکستان میں قیصرسینما کھاریاں میں پہلی فلم لچھی (1969) دکھائی تھی۔ یہاں ڈنمارک میں بھی انھوں نے پہلی فلم آؤ پیار کریں (1972) دکھلائی تھی جو کوپن ہیگن شہر کے مرکزی علاقے میں واقع ساگاسینما میں دیکھی تھی۔ اس کے بعد اگلے تین برسوں میں صرف ایک فلم چھوڑ کر باقی سبھی فلمیں اسی سینما میں دیکھی تھیں۔

1974ء کی ان فلموں سے وابستہ کچھ یادیں درج ذیل ہیں:

  • عشق میرا ناں (1974)، پہلی فلم تھی جس میں اردو فلموں کے سپرسٹار وحیدمراد کو پہلی بار پنجابی بولتے ہوئے دیکھا سنا تھا۔ ان کی پہلی پنجابی فلم مستانہ ماہی (1971) نہیں دیکھ سکا تھا، یہ فلم پاکستان میں دوسرے دور میں جاکر دیکھی تھی۔
  • فلم بانورانی (1974) میں مہدی حسن کا گیت "رات بھی لے رہی ہے انگڑائی، میرے محبوب، آؤ سو جائیں۔۔" دل کے تار چھیڑ دینے والا گیت تھا جو اکثر گنگناتا رہتا تھا۔
  • فلم نشہ جوانی دا (1974)، ایک ناکام پنجابی فلم تھی لیکن اس کی کہانی کبھی نہیں بھلا سکا۔ علاؤالدین، غالباً گاؤں کا چوہدری ہے لیکن جوانی کے نشہ میں ایک غریب اندھی لڑکی نبیلہ کو بے آبرو کردیتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ ایک ناجائز بچی کی ماں بن جاتی ہے۔ فلم کے آخر میں جب دونوں بوڑھے ہوجاتے ہیں تو ہاتھوں کے لمس سے نبیلہ اپنے مجرم کو پہچان لیتی ہے۔
  • فلم نگری داتا دی (1974)، جہاں مسعودرانا کے لافانی گیت "سجنو، اے نگری داتا دی، ایتھے آندا کل زمانہ۔۔" کی وجہ سے یادگار تھی وہاں میری ویڈیو کولیکشن کا لازمی حصہ تھی کیونکہ اس فلم میں فروری 1974ء میں لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں وزیراعظم بھٹو کے علاوہ اس دور کے چند بڑے بڑے اسلامی رہنماؤں، شاہ فیصل، یاسرعرفات اور کرنل قذافی وغیرہ کی جھلکیاں بھی تھیں۔
  • فلم میں بنی دلہن (1974) کا مرکزی کردار شبنم اور شاہد کا تھا۔ یہ فلم اس لیے یادگار رہی کہ میرے تین کلاس فیلو سکھ بھائی بھی یہ فلم دیکھنے آئے جن سے ہمیشہ نظریاتی تکرار ہوتی تھی۔ ان کا باپ کوئی شاعر تھا اور "پروانہ" تخلص کرتا تھا، شاید اسی لیے ان تین بھائیوں کے دلچسپ نام کبھی نہیں بھلا سکا: منجیت مندر موہن سنگھ پروانہ، جسبیر جگنڈر جوہر سنگھ پروانہ اور سکھ دیو سرندڑ پال سنگھ پروانہ۔
  • فلم منجی کتھے ڈاہواں (1974) کے فلمساز قوی تھے جبکہ اس فلم کی روایتی جوڑی سنگیتا اور رنگیلا تھے۔ والدصاحب مرحوم نے یہ فلم میرے ساتھ خاص طور پر اس لیے دیکھی کہ وہ بتایا کرتے تھے کہ ہمارے کھاریاں لاری اڈے پر واقع ایک مشہور سگریٹ پان فروش، انور بنگالی، اس نام کی فلم بنانے کی بات کیا کرتا تھا، ان کے خیال میں یہ فلم اسی نے بنائی ہوگی۔
    مجھے آج بھی انور بنگالی کی دکان پر روزنامہ مساوات لاہور کا پورا سرورق ایک فریم کی صورت میں یاد ہے جس پر عوام کے جمِ غفیر پر بھٹو صاحب کا جلی حروف میں یہ بیان درج تھا: "لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ، میں مسلمان ہوں۔۔"
  • فلم پردہ نہ اٹھاؤ (1974) میں رنگیلا کا ٹرپل رول تھا۔ فلم کے آخر میں چوتھا رنگیلا بھی پیدا ہو جاتا ہے جس پر فلم آپریٹر کا سپیکر پر یہ جملہ یاد رہا: "لو جی، تین ہی کیا کم تھے، اب چوتھا رنگیلا بھی پیدا ہوگیا ہے۔۔!"
    اسی فلم سے کراچی کے ایک سینما، عرشی کا افتتاح ہوا تھا۔ اس دور کے اخبارات میں نئے سینماؤں کے اس طرح کے اشتہارات عام ہوتے تھے۔
  • نشو اور ندیم کی فلم، بہشت (1974)، باکس آفس پر تو ناکام رہی لیکن یہ ایک سدابہار نغماتی فلم تھی جس میں مہدی حسن کا ایک گیت "کیوں پوچھتے ہو، کیا تم سے کہوں، میں کس لیے جیتا ہوں۔۔" بے حد پسند تھا اور اکثر گنگناتا رہتا تھا۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ گیت ری میک تھا جو رشید عطرے ہی کی دھن میں سلیم رضا نے فلم آزاد (1964) میں گایا تھا اور جس میں "جیتا" کی جگہ "پیتا" تھا۔
    فلم بہشت (1974) ہی سے گلوکار اے نیر نے گلوکارہ روبینہ بدر کے ساتھ ایک ہٹ دوگانے "یونہی دن کٹ جائیں، یونہی شام ڈھل جائے۔۔" سے کامیاب فلمی کیرئر کا آغاز کیا تھا۔

1975 کی فلمی یادیں

1975ء میں دیارِغیر میں مقیم ہونے کی وجہ سے پاکستانی فلمی تاریخ کا عینی شاہد تو نہیں تھا لیکن باخبر ضرور تھا جب ایک بہت بڑا فلمی انقلاب آیا اور پنجابی فلموں کو انتہائی پرتشدد اور "وحشی" فلمیں بنا دیا گیا تھا۔۔!

1975 کی فلمی یادیں

1975ء میں ریلیز ہونے والی کل 111 فلموں میں سے 47 اردو، 52 پنجابی، 7 پشتو اور 6 سندھی فلمیں تھیں۔ اردو فلموں میں دلہن ایک رات کی، میرا نام ہے محبت، پہچان، اک گناہ اور سہی، اناڑی اور جب جب پھول کھلے (1975) جبکہ پنجابی فلموں میں وحشی جٹ، شریف بدمعاش، جیلر تے قیدی، ہتھکڑی اور خانزادہ (1975)، کامیاب ترین فلمیں تھیں۔

فلم وحشی جٹ (1975)

8 اگست 1975ء کو پاکستان میں ایک نئی فلمی تاریخ رقم ہوئی جب ہدایتکار حسن عسکری کی پنجابی فلم وحشی جٹ (1975) میں پہلی بار "گنڈاسا کلچر" متعارف ہوا تھا۔

"گنڈاسا بردار" اداکار سلطان راہی کو بریک تھرو فلم بشیرا (1972) سے ملا لیکن فرسٹ ہیرو کے طور پر پہلی سپرہٹ فلم وحشی جٹ (1975) تھی۔ ہیروئن، آسیہ اور سیکنڈ جوڑی، غزالہ اور اقبال حسن کی تھی۔ مرکزی ولن الیاس کاشمیری جبکہ افضال احمد، الطاف خان اور سیما وغیرہ دیگر اہم کردار تھے۔

فلم وحشی جٹ (1975)، ایک ایسے خردماغ اور کینہ پرور شخص کی کہانی ہے جو اپنے باپ کے قتل کا انتقام لینے کے لیے قانون کی بجائے تشدد کا راستہ اپناتا ہے اور اپنے "گنڈاسے" کی مدد سے دشمنوں کو گاجر مولیوں کی طرح سے کاٹتا ہے۔

گنڈاسا کلچر

فلم وحشی جٹ (1975) سے پاکستان کی پنجابی فلموں میں "گنڈاسا کلچر" کا آغاز ہوا جو اردو ادیب احمد ندیم قاسمی کے ایک افسانے "گنڈاسا" سے ماخوذ تھا۔

اس سے قبل، پنجابی فلموں میں لڑائی مارکٹائی یا ایکشن کے لیے روایتی اردو/ہندی فلموں کی طرح دوبدو لڑائی میں مکا بازی اور جسمانی طاقت وغیرہ استعمال ہوتی تھی۔ پھر لٹھ بازی (ڈانگ سوٹا) اور برچھی نیزے کا رواج ہوا جو تلواربازی کی دیسی شکل تھی۔ بندوق اور پستول وغیرہ بھی استعمال ہوئے۔ تاریخی نوعیت کی فلموں میں بھاری اسلحہ بھی نظر آیا لیکن انسانی اعضاء کاٹنا عام نہیں تھا۔

گو ہماری کاسٹیوم تاریخی اردو فلموں میں تلواربازی سے انسانی اعضاء کاٹے جاتے تھے لیکن ظلم دا بدلہ (1972)، پہلی پنجابی فلم تھی جس میں پہلی بار "ٹوکے" کا استعمال ہوا اور ولن کے دونوں بازو کاٹے گئے۔ "ٹوکا"، چارہ کاٹنے والا ایک آلہ یا اوزار ہوتا ہے جس کو ایک لمبی لاٹھی (ڈانگ) پر چڑھا کر "گنڈاسا" بنا لیا جاتا ہے۔ اس طرح دور ہی سے مخالف پارٹی پر کاری وار کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان کی ایکشن پنجابی فلموں میں "گنڈاسا" کے بے تحاشا استعمال کے علاوہ اس نام کی دو فلمیں، گنڈاسا (1991) اور رانجھے ہتھ گنڈاسا (2014) بھی بنائی گئی ہیں۔

"وحشی" فلموں کی تاریخ

فلم وحشی جٹ (1975) سے پہلے پنجابی فلموں میں لفظ "وحشی" کبھی استعمال نہیں ہوا البتہ اس نام کی دو اردو فلمیں، 1956ء اور 1971ء میں ریلیز ہو چکی تھیں۔

پاکستان فلم میگزین کے اعدادوشمار کے مطابق، تادمِ تحریر، ان دو "وحشی" اردو فلموں کے بعد اس نام کو مزید 13 فلموں میں استعمال کیا گیا جن میں سے 2 پشتو اور 11 پنجابی فلمیں تھیں۔

پنجابی فلموں میں جٹ دو بار "وحشی" ہوا جبکہ گجر، ڈوگر، راجپوت، ڈاکو، غنڈہ، بدمعاش، ٹولہ، عورت، حسینہ اور گوگا بھی ایک ایک بار "وحشی" ہوئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ قیامِ پاکستان سے قبل "وحشی" نام کی کوئی فلم نہیں ملتی۔۔!

جٹ فلموں کی تاریخ

پاکستان فلم میگزین کے ڈیٹابیس کے مطابق، پاکستان میں "جٹ" نام کی 39 فلمیں بن چکی ہیں جو سبھی پنجابی زبان میں تھیں۔ وحشی جٹ (1975)، اس سلسلے کی 11ویں فلم تھی۔

اردو فلموں میں لفظ "جٹ" یا "جاٹ" کبھی استعمال نہیں ہوا لیکن اہلِ پنجاب کی اکثریت چونکہ نسلاً "جٹ یا جاٹ قوم" سے تعلق رکھتی ہے، اس لیے یہ ایک عام فہم لفظ ہے۔ یہ اور بات ہے کہ فلمی تناظر میں لفظ "جٹ" کو سن کر ایک انتہائی خردماغ شخص اور ایک پرتشدد فلم کا تصور ذہن میں آجاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس سے قبل، پاکستان میں بننے والی "جٹ" نام کی کوئی بھی فلم پرتشدد نہیں تھی بلکہ اس نام کی پہلی فلم جٹی (1958)، ایک ہلکی پھلکی، صاف ستھری سوشل اور نغمہ بار رومانوی فلم تھی۔

پاکستان کی دوسری بلاک باسٹر فلم یکے والی (1957) بنانے والی ٹیم کے ہدایتکار ایم جے رانا کی اس فلم کا ٹائٹل رول، پنجابی فلموں کی پہلی "جٹی" یعنی مسرت نذیر نے کیا اور اس پر زبیدہ خانم کا یہ سدابہار گیت بھی فلمایا گیا تھا: "میری چنی دیاں ریشمی تنداں، وے میں گھٹ گھٹ دینی آں گنڈاں کہ چناں تیری یاد نہ بھلے وے تیری یاد نہ بھلے۔۔"

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت کی جٹ برادری کے مبینہ احتجاج پر اس فلم کا نام بدلنا پڑا جو "چٹی" رکھا گیا لیکن ریکارڈبکس میں یہ فلم "جٹی" ہی کے نام سے محفوظ رہی۔ اس فلم کے ہیرو سدھیر اور ولن الیاس کاشمیری تھے۔ نیلو اور ایم اسماعیل کے علاوہ ظریف مرکزی مزاحیہ اداکار تھے اور رنگیلا کی یہ پہلی فلم بتائی جاتی ہے۔

"جٹ" سیریز میں مرزاجٹ (1967)، نام کی ایک بہت بڑی لوک، رومانوی اور نغماتی فلم بھی تھی جس میں ہیررانجھا (1970) فیم جوڑی، فردوس اور اعجاز نے "مرزا صاحباں" کے لازوال کردار ادا کیے تھے۔

تقسیم سے قبل، برصغیر پاک و ہند میں "جٹ" نام کی اکلوتی فلم لاہور میں بنائی گئی ایک سپرہٹ پنجابی فلم یملاجٹ (1940) تھی جس میں "نورجہاں" کے نام سے پہلی بار لفظ "بےبی" ہٹا دیا گیا تھا۔ پاکستان کے سینئر ترین اداکار ایم اسماعیل، ٹائٹل رول میں تھے۔ بھارتی فلموں کے مشہور ولن اداکار پران، اپنی اس پہلی فلم میں ہیرو تھے۔ تقسیم کے بعد، بھارتی پنجاب میں بھی بڑی تعداد میں "جٹ" نام کی فلمیں بنائی گئی ہیں۔

فلم "وحشی جٹ" کا رائٹر کون؟

فلم وحشی جٹ (1975) کے ٹائٹل پر "مصنف" کے طور پر ناصرادیب کا نام ملتا ہے لیکن فلمی اشتہارات وغیرہ پر اس فلم کی کہانی کو اردو ادب کے ایک بہت بڑے نام، جناب احمد ندیم قاسمی کے ایک افسانہ "گنڈاسا" سے منسوب کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ناصرادیب صاحب اپنے وی لاگ میں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ فلم وحشی جٹ (1975) کی کہانی، ان کے اپنے ذہن کی اختراع تھی اور قاسمی صاحب کے افسانے "گنڈاسا" سے مماثلت محض اتفاقیہ تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم وحشی جٹ (1975) کے کہانی نویس کا نگارایوارڈ، احمد ندیم قاسمی کو دیا گیا جس پر ناصرادیب کو سخت اعتراض تھا۔ اس "ناانصافی" پر وہ خاموش نہیں بیٹھے بلکہ باقاعدہ منصوبہ سازی سے ایک ایسا بھرپور احتجاج کیا جو اس سےپہلے کبھی دیکھا نہ سنا۔

1960 کی دھائی کے ممتاز پنجابی فلمی ہیرو اکمل کی شاہکار فلم چوڑیاں (1963) کے نامور فلمساز اور ہدایتکار امین ملک کے داماد،محمدنواز عرف ناصرادیب نے اپنے "جٹ" ہونے کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے لاہور میں منعقدہ نگارایوارڈ کی تقریب کو درہم برہم کیا اور پنجابی فلم کے ایوارڈز تقسیم نہیں ہونے دیے۔ موصوف، اپنی حق تلفی پر اس قدر برہم تھے کہ باقاعدہ ایک پمفلٹ چھپوا کر تقسیم کروایا جس پر "ایوارڈ ناصرادیب کا، مورتی احمد ندیم قاسمی کو۔۔" لکھا ہوا تھا۔

اس تمام تر غنڈہ گردی اور بدمعاشی کے باوجود، ناصرادیب کو فلم وحشی جٹ (1975) کے کہانی نویس کا ایوارڈ نہیں ملا لیکن اگلے سال کی فلم طوفان (1976) کا نگارایوارڈ پا کر پرانی تمام رنجشیں بھلا کر مطمئن ہو گئے تھے۔

افسانہ " گنڈاسا" اور فلم وحشی جٹ

فلم وحشی جٹ (1975) کی ریلیز کے بعد جب یہ انکشاف ہوا کہ اس فلم کی کہانی بلااجازت نقل کی گئی ہے تو قاسمی صاحب کے شاگرد نامور فلمی شاعر جناب قتیل شفائی نے ناصرادیب کے خلاف کیس کردیا تھا۔

ناصرادیب صاحب کے بقول یہ معاملہ اس وقت رفع دفع ہوا جب موصوف بنفسِ نفیس، قاسمی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا موقف پیش کیا۔

اپنے وی لاگ پر موصوف نے جو مضحکہ خیز دلائل دیے، ان کا ایک محتاط خلاصہ یہی ہوسکتا ہے کہ قاسمی صاحب نے ان کی معروضات سننے کے بعد چند لمحات کے لیے سوچا ہوگا، پھر انھیں سرسے پاؤں تک گھورنے کے بعد زیرِلب مسکرائے ہوں گے اور بڑے پیار اور شفقت سے فرمایا ہوگا: "جا پتر، تینوں ستے خون معاف نیں، جا موج کر۔۔!"

ناصرادیب نے احمد ندیم قاسمی کی اس دریادلی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے تاریخی افسانے "گنڈاسا" کی برکت سے چار سو سے زائد فلموں کی کہانیاں لکھ ڈالیں اور خود کو پنجابی فلموں کا ریاض شاہد سمجھنے لگے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آدھ درجن مسلسل ناکام فلموں کے بعد فلم وحشی جٹ (1975)، موصوف کی پہلی کامیاب فلم تھی جس کی کہانی اور افسانہ "گنڈاسا" میں "اتفاقیہ" ایک آدھ نہیں بلکہ متعدد باتیں مشترک تھیں:

  • "گنڈاسا" افسانے کی طرح "مولا یا مولا بخش"، فلم وحشی جٹ (1975) کا مرکزی کردار بھی ہے۔ اس سے قبل شاید ہی کسی فلم میں کسی ہیرو کا ایسا نام ہو گا۔
  • اس فلم کی ریلیز سے پہلے "مولا" نام کا کوئی فلمی ٹائٹل بھی نہیں ملتا لیکن بعد میں درجن بھر فلموں کے ناموں میں لفظ "مولا" استعمال ہوا ہے جن میں سے فلم مولاجٹ (1979) پہلی فلم تھی جس کے رائٹر بھی ناصرادیب ہیں۔
  • "گنڈاسا" افسانے میں چارہ کاٹنے والا آلہ "ٹوکا"، جس پر لٹھ لگا کر "گنڈاسا" بنا لیا جاتا ہے، پہلی بار فلم وحشی جٹ (1975) میں متعارف ہوا تھا۔
  • "گنڈاسا" افسانے میں "باپ کے قتل کا انتقام"، گنڈاسے سے مخالف کی انتریاں نکالنا اور انتہائی سفاکانہ مکالمے مثلاً نسل در نسل بیٹوں اور پوتوں تک کا قتل، فلم میں بھی ملتا ہے۔
  • افسانے کی طرح فلم میں بھی اپنے باپ کے قتل کی خبر "مولے" کو ایک میلے میں ملتی ہے۔۔!
  • افسانے کی طرح فلم میں بھی "مولے" کا دوست "تاجا"، اسے نیک مشورے دیتا ہے۔
  • "گنڈاسا" افسانے میں ایک "گھی فروش" لڑکی کا کردار بھی ہے جو فلم میں "مکھو جٹی" کی صورت میں ایک خودسر اور خوبرو حسینہ کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔

سچ کیا جھوٹ کیا

مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں ناصرادیب کے کردار اور ان کی ذہنی حالت پر شکوک و شہبات پیدا ہوتے ہیں لیکن کسی کی نیت پر شبہ نہیں کرنا چاہیے۔ یقیناً وہ جھوٹ نہیں بول رہے ہوں گے لیکن سچ یہ ہے کہ پورا سچ بھی نہیں بول رہے یا شاید کسی خاص وجہ سے بولنا بھی نہیں چاہتے۔

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ فلم وحشی جٹ (1975) کی کہانی، احمد ندیم قاسمی کے افسانہ "گنڈاسا" ہی سے ماخوذ ہے جو آن لائن فلم دیکھ کر اور افسانہ پڑھ کر ہر کوئی جان سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنے ایک انٹرویو کے مطابق، ہدایتکار حسن عسکری کو فلم وحشی جٹ (1975) بنانے کا خیال، احمد ندیم قاسمی کا افسانہ "گنڈاسا" پڑھ کر آیا تھا۔ انھوں نے کہانی کا خلاصہ ایک فنانسر کو سنایا جو اس شرط پر راضی ہوا کہ اس کے ذاتی پیشے یعنی "گاڈی" کا کردار بھی فلم میں شامل کیا جائے گا۔

افسانہ "گنڈاسا" کی روشنی میں فلم کی کہانی، مکالمے اور منظرنامہ لکھنے کے لیے ایک گمنام رائٹر ناصرادیب کو موقع دیا گیا۔ عین ممکن ہے کہ موصوف سے اس افسانے کا ذکر تک نہ ہوا ہو اور انھیں صرف کہانی کا خاکہ اور مرکزی کردار ہی بتائے گئے ہوں۔ کہانی تو ظاہر ہے کہ فلمسازاور ہدایتکار کی مرضی کے بغیر نہیں فلمائی جا سکتی تھی۔

"گنڈاسا" افسانے کا مرکزی کردار ایک خردماغ شخص "مولا"، ایک عورت کی وجہ سے انسان بن جاتا ہے لیکن فلمی کہانی میں طبقاتی کشمکش یعنی جٹ اور ملک دشمنی (جو اگلی فلموں میں دوسری ذاتوں تک بھی پھیل گئی تھی)،بالا گاڈی اور قتل و غارت کا لامتناعی خونی سلسلہ ناصرادیب صاحب کے اپنے زرخیز ذہن کی پیداوار تھا۔ انھیں اس طرح کی خاندانی دشمنیوں کا بڑا گہرا اور تلخ تجربہ رہا ہے۔ موصوف کے بقول، ان کے اندر بھی ہمیشہ سے ایک "جٹ" چھپا ہوا ملتا ہے جو ان کی فلمی کہانیوں کی صورت میں ظاہر ہوا کرتا تھا۔

نگارایوارڈ کا حقدار کون۔۔؟

رہی بات نگارایوارڈز کی تو وہ ہمیشہ سے انتہائی متنازعہ رہے ہیں۔ فلم وحشی جٹ (1975) کے رائٹر کا نگارایوارڈ، احمد ندیم قاسمی کا نہیں بنتا تھا کیونکہ انھوں نے اپنا یہ تاریخی افسانہ بطورِ خاص اس فلم کے لیے نہیں لکھا اور نہ ہی فلمساز نے ان سے لکھوایا تھا بلکہ وہ تو مکمل طور پر بے خبر تھا۔ البتہ کاپی رائٹ ایشو ضرور بنتا تھا جس کا اوپر ذکر ہوچکا ہے۔ فلمی کہانی لکھنے پر یہ ایوارڈ ناصرادیب کو ہی ملنا چاہیے تھا جیسے کہ بدنامِ زمانہ بشیرنیاز کو دیا جاتا رہا ہے جو چربہ کہانیوں کی وجہ سے بڑے مشہور تھے۔

احمد ندیم قاسمی

ایک افسانے اور فلم میں بنیادی فرق یہ ہے کہ افسانہ، الفاظ کا گورکھ دھندہ ہوتا ہے جو صرف پڑھا اور سنایا جاتا ہے لیکن فلم دکھائی جاتی ہے جس کا ایک ایک سین لکھا جاتا ہے اور ایک ایک کردار بولتا، سنتا اور دیکھتا بھی ہے۔ ایسے میں فلم کا کہانی نویس (رائٹر)، مکالمہ نویس (ڈائیلاگ) اور منظرنامہ (سکرین پلے)، افسانہ نویس سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔

احمد ندیم قاسمی، اردو ادب کا بہت بڑا نام تھے لیکن انھوں نے کبھی کسی فلم کی کہانی نہیں لکھی بلکہ صرف تین فلموں، آغوش (1953)، دو راستے (1961) اور لوری (1966) کے مکالمے لکھے تھے۔ ان کے علاوہ فلم درندہ (1970) کے تین گیت بھی ان کے کریڈٹ پر ہیں اور یہی ان کا کل فلمی اثاثہ تھا۔

فلم وحشی جٹ (1975) پہلی بار یوٹیوب پر دیکھی تھی۔ اس مضمون کی تیاری میں ایک بار پھر دیکھنا پڑی تاکہ فلم اور افسانے کا موازنہ کر سکوں۔

فلم ماجھا ساجھا (1975)

یوں تو 1975ء میں پچاس سے زائد پنجابی فلموں میں ایکشن فلموں کے علاوہ رومانٹک، کامیڈی اور سوشل فلمیں بھی ریلیز ہوئیں لیکن ان میں سے ہدایتکار اعزازسید کی پنجابی فلم ماجھا ساجھا (1975)، اپنے موضوع کے اعتبار سے ایک منفرد فلم تھی۔

جیسا کہ فلم کے پوسٹر سے ظاہر ہوتا ہے، پاکستان کی صفِ اول کی اداکارہ صبیحہ خانم نے اس فلم میں ایک ایسی مظلوم عورت اور بدقسمت ماں کا کردار کیا جس نے ذہنی طور پر دو معذور بچوں کو جنم دیا۔ اس "جرم" کی پاداش میں خاوند، گھر سے نکال دیتا ہے۔ اکیلی ماں، بے تحاشا مشکلات کے باوجود اپنے نیم پاگل بچوں کو پال کر جوان کرتی ہے لیکن بڑے ہوکر دونوں معاشرے کی تضحیک کا نشانہ بنتے ہیں۔

ایسی بامقصد سماجی اور اصلاحی فلمیں ہمارے فلم بینوں کے مزاج کے مطابق نہیں ہوتی تھیں جنھیں ایک رونٹک یا ایکشن ہیرو اور ناچتی گاتی ہیروئن ہی فن کی بلندیوں پر نظر آتی ہے۔

فلم ماجھا ساجھا (1975) میں ننھا اور علی اعجاز نے پہلی مرتبہ مرکزی کردار ادا کیے اور ان دونوں کی کارکردگی انتہائی اعلیٰ پائے کی تھی۔ فلم انسانیت (1967)، ان کی پہلی مشترکہ فلم تھی اور بہت سی فلموں میں روایتی مزاحیہ اداکاروں کی حیثیت سے نظر آئے۔ فلم دبئی چلو (1979) سے ان کے عروج کا دور شروع ہوا اور 1980 کی دھائی کے سلطانی دور میں بڑی کامیابی سے متبادل تفریح کا ذریعہ ہوتے تھے۔ یہ فلم یوٹیوب پر دیکھی تھی۔

یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ 1975ء میں جہاں ننھا اور علی اعجاز، پہلی بار مرکزی کرداروں میں نظر آئے وہاں رنگیلا اور منورظریف بھی فلموں میں ہیرو آرہے تھے۔

فلم خانزادہ (1975)

ہدایتکار اکرم خان کی ایک کامیاب فلم خانزادہ (1975) میں اسد بخاری نے ٹائٹل رول کیا۔ آسیہ، ہیروئن تھی لیکن یہ فلم اداکارہ نجمہ کے ایک بولڈ ڈانس کی وجہ سے مشہور ہوئی تھی۔

مجھے اس فلم میں سب سے زیادہ دلچسپی مسعودرانا کے مشہور گیت: "رُس کے ٹرُ پئے او سرکار، توڑ کے میرا سجرا پیار۔۔" سے تھی جو چند ایک بار سن کر زبانی یاد ہوگیا تھا۔

یاد نہیں پڑتا کہ اس گیت کی آئیڈیو کیسٹ کیسے ملی لیکن کبھی نہیں بھلا سکا کہ یہ واحد گیت تھا جس پر اپنی ساتویں یا آٹھویں کلاس کے دیگر سترہ بچوں اور استاد کے سامنے پرفارم کیا تھا۔ پہلے انھیں خلاصہ بتا دیا تھا جسے انھوں نے بڑی دلچسپی سے سنا اور دیکھا تھا۔

ڈنمارک کے سکولوں میں ہر جمعہ کی صبح ہر کلاس میں دو گھنٹے کا وقت مختص ہوتا تھا جس میں طالبِ علم اپنی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا کرتے تھے۔ میری کلاس میں ہم چھ لڑکے تھے جو عام طور پر کوئی ڈرامہ کرتے یا کہانیاں اور لطیفے سنایا کرتے جبکہ کلاس کی بارہ لڑکیاں ناچ گانے وغیرہ پیش کیا کرتی تھیں۔

فلم خانزادہ (1975)، اس سال کی اکلوتی پنجابی فلم تھی جو ساگاسینما کوپن ہیگن میں دیکھنے کا موقع ملا تھا۔

فلم خانزادہ (1975) سے متاثر ہوکر اس فلم کی مزید دو ہم نام فلمیں، نوابزادہ (1975) اور ملک زادہ (1977) بھی بنائی گئیں تو ایک اخباری کالم میں کسی نے کیا خوب طنز کی تھی کہ اب تو صرف ایک ہی "زادہ" باقی رہ گیا ہے جس پر فلم بنائی جا سکتی ہے۔

فلم بے اولاد (1975)

اس سال، پنجابی فلموں میں عام طور پر ماں کے کردار میں نظر آنے والی مشہور اداکارہ سلمیٰ ممتاز کی فلمساز اور ہدایتکار کے طور پر پہلی فلم بے اولاد (1975) ریلیز ہوئی جو بری طرح سے ناکام رہی تھی۔

یہ ناصرادیب کی بطورِ مکمل فلمی مصنف (کہانی، مکالمے اور منظرنامہ)، پہلی ریلیز شدہ فلم ہے جس کے ایک سین میں موصوف خود بھی نظر آتے ہیں اور اپنا لکھا ہوا ایک مکالمہ بھی بولتے ہیں۔

فلم بے اولاد (1975) میں سلمیٰ ممتاز نے حسبِ معمول ایک ماں کا رول کیا جس کا گمراہ بیٹا، فلم کا ولن اداکار، اقبال حسن، اسی کی گولی کا نشانہ بن کر اس کو "بے اولاد" بنا دیتا ہے۔

اس فلم میں گلوکارہ افشاں کا گایا ہوا مشہور گیت "مار گولی سینے چہ کھا لاں گی۔۔"، فلم کی ہیروئن، ممتاز پر فلمایا گیا جس کی جوڑی فلم کے ہیرو، اورنگزیب کے ساتھ تھی جو ایک انتہائی خوبرو اور باصلاحیت اداکار ہونے کے باوجود فلموں میں ناکام رہے تھے۔ سو کے قریب فلموں میں کام کرنے کے باوجود ایک معاون اداکار ہی رہے اور سولو ہیرو کے طور پر ایک بھی فلم قابلَ ذکر نہیں ہے۔

فلم بے اولاد (1975)، اس لیے ناقابلِ فراموش رہی کہ یہ واحد فلم تھی جو کوپن ہیگن کے مرکر (Mercur) سینما میں دیکھی تھی۔ ساڑھے چھ سو سیٹوں کے اس سینما ہال میں میرے علاوہ پانچ چھ افراد مزید بیٹھے ہوں گے اور ہم نے یہ پوری فلم دیکھی تھی۔ اس دن ساگاسینما کے علاوہ ایک اور سینما پر بھارتی فلم مغلِ اعظم (1960) چل رہی تھی جہاں پاکستانیوں کا رش تھا لیکن مجھ جیسا جنونی پاکستانی، ایسی بھیڑچال کا کبھی شکار نہیں ہوا۔

مرکر سینما بھی شہر کے مرکزی علاقے میں ایک بہت بڑی بلڈنگ میں اسی نام کے ایک ہوٹل کے ساتھ 1966ء میں بنا اور 1978ء میں بند ہوگیا تھا۔ اس کی جگہ ایک بہت بڑا نائٹ کلب بنا جو آج بھی موجود ہے۔

فلم دلہن ایک رات کی (1975)

1975ء کی کامیاب ترین اردو فلم، ہدایتکار ممتاز علی خان کی دلہن ایک رات کی (1975) تھی۔ پشتو فنکاروں کی یہ پہلی بڑی اردو فلم تھی جس نے خیبر سے کراچی تک پورے ملک میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑ دیے تھے۔ اس فلم کا پشتو ورژن بھی ریلیز کیا گیا تھا۔

بدقسمتی سے پشتو فلمیں فحاشی اور عریانی کی وجہ سے بدنام تھیں۔ فلم دلہن ایک رات کی (1975) کی کہانی، پشتو فلموں کے مقبول ترین ہیرو، بدرمنیر نے لکھی تھی۔ بطورِ ہیرو، یہ ان کی اکلوتی سپرہٹ اردو فلم تھی۔ دیگر کاسٹ میں نمی، مسرت شاہین، آصف خان اور نعمت سرحدی وغیرہ شامل تھے۔

فلم دلہن ایک رات کی (1975)، اپنے ایکشن اور بولڈ ناچ گانوں کی وجہ سے بڑی مشہور ہوئی۔ اس فلم میں میڈم نورجہاں کا ایک گیت "میں نے ڈھونڈا جسے باغوں میں بہاروں میں۔۔" بڑا مشہور ہوا تھا۔

فلم دلہن ایک رات کی (1975) نے لاہور میں "سولوسلورجوبلی" اور کمبائنڈ گولڈن جوبلی منائی جبکہ کراچی میں "ڈائمنڈجوبلی" کی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ یہ فلم، راولپنڈی میں 40 سے زائد ہفتے چلی تھی اور غالباً وہاں بھی گولڈن جوبلی کی تھی۔ میں نے یہ فلم وی سی آر کے دور میں دیکھی تھی۔

شبنم اور ندیم کے انتہائی عروج کا دور

گزشتہ سال کی سپرہٹ فلم دل لگی (1974) کی ملک گیر کامیابی سے اردو فلموں کی تاریخ کی مقبول ترین جوڑی، شبنم اور ندیم کو مزید عروج ملا جب یکم اگست 1975ء کو ریلیز ہونے والی دو نغماتی فلمیں، پہچان اور اناڑی (1975)، "ڈائمنڈجوبلی" فلمیں قرار پائیں۔

پہچان (1975) اناڑی (1975)

ان دونوں فلموں میں اردو فلم بینوں کے "عوامی اداکار" ندیم صاحب کا قریباً ایک ہی جیسا کردار تھا جنھوں نے "اناڑی" نام کی دو، "سیاں اناڑی" نام کی ایک اور متعدد دیگر فلموں مثلاً چھوٹے صاحب (1957)، نادان (1973) اور مکھڑا (1988) وغیرہ میں بھی اپنے روایتی ہلکے پھلکے "بھولے" کے مقبولِ عام عوامی کردار کو نبھایا تھا۔

فلم پہچان (1975) کی موسیقی نثاربزمی نے ترتیب دی تھی۔ اس فلم میں ناہیداختر کا گایا ہوا گیت: "اللہ ہی اللہ کیا کرو، دکھ نہ کسی کو دیا کرو، جو دنیا کا مالک ہے، نام اسی کا لیا کرو۔۔" بڑا مقبول ہوا جو اصل میں طاہرہ سید کی آواز میں ریڈیو پر بجنے والے ایک پنجابی گیت کی دھن پر تھا، جس کے بول تھے: "اللہ اللہ کریا کرو، خالی دم نہ بھریا کرو، مدد تیری یا رسولؐ، دل وچ غم نہ کریا کرو۔۔"

ہدایتکار پرویز ملک کی فلم پہچان (1975)، نے کراچی میں "سولوسلورجوبلی" کی اور مسلسل 30 ہفتے چل کر دیگر سینماؤں کو ملا کر 122 ہفتوں کے ساتھ "ڈائمنڈجوبلی" قرار پائی جبکہ لاہور میں مسلسل 20 ہفتے چلنے کے بعد کمبائنڈ 41 ہفتوں کے ساتھ سلورجوبلی کی تھی۔

ہدایتکار ایس سلیمان کی فلم اناڑی (1975) نے کراچی میں 19 ہفتے چل کر کل 104 ہفتوں سے "ڈائمنڈجوبلی" کی جبکہ لاہور میں مسلسل 15 ہفتے چل کر 43 ہفتوں کے ساتھ سلورجوبلی رہی تھی۔

یہ فلم ساگاسینما پر دیکھی اور اس میں احمدرشدی کا شوخ گیت "جینٹل مین، جینٹل مین، میرا نام ہوگیا۔۔" اور مہدی حسن کا "ہوں ہاں کرتے کرتے، آہیں بھرتے بھرتے، کٹے کئی سال رے، اب آجا نال رے۔۔" بڑا پسند آیا تھا۔

فلم میرا نام ہے محبت (1975)

1975ء کی جس اردو فلم کی سب سے زیادہ تعریف ہوئی، وہ ہدایتکار شباب کیرانوی کی فلم میرا نام ہے محبت (1975) تھی جو ایک انگریزی ناول سے ماخوذ تھی۔

فلم میرا نام ہے محبت (1975) میں بابرہ شریف کی اداکاری نے فلمی ناقدین کو بےحد متاثر کیا تھا۔پاکستان کی فلمی تاریخ میں صبیحہ خانم کے بعد اگر کسی اداکارہ کی اداکاری کی اس قدر تعریف ہوئی تو وہ بابرہ شریف تھی۔

اس فلم کے ہیرو، غلام محی الدین تھے جن کی ٹی وی سے آمد ہوئی لیکن کبھی صف اول کے ہیرو نہیں بن سکے تھے، بطورِ سولو ہیرو، یہ ان کی اکلوتی سپرہٹ فلم تھی۔

فلم میرا نام ہے محبت (1975) میں خانصاحب مہدی حسن کو اپنے فلمی کیرئر میں کسی ایک فلم کے سب سے زیادہ یعنی چھ گیت گانے کا موقع ملا تھا۔ "یہ دنیا رہے نہ رہے میرے ہمدم، کہانی محبت کی زندہ رہے گی۔۔" اور "تجھے پیار کرتے کرتے، میری عمر بیت جائے۔۔" جیسے سپرہٹ گیتوں کو مہدی حسن اور ناہیداختر نے الگ الگ گایا تھا۔ ایم اشرف، موسیقار تھے۔

لاہور اور کراچی میں گولڈن جوبلیاں منانے والی اس رومانٹک فلم کی چین میں بھی نمائش ہوئی اور روایت ہے کہ وہاں بھی بے حد پسند کی گئی تھی۔

فلم اک گناہ اور سہی (1975)

اک گناہ اور سہی (1975)

1975ء میں ریلیز ہونے والی ہدایتکار حسن طارق کی اردو فلم اک گناہ اور سہی (1975)، اپنے موضوع کے اعتبار سے ایک منفرد فلم تھی جس کو بین الاقوامی شہرت ملی۔ اس فلم میں اعلیٰ کارکردگی پر ماسکو کے فلمی میلے میں صبیحہ خانم کو بہترین اداکارہ کا ایوارڈ ملا تھا۔

دیگر اداکاروں میں محمدعلی، رانی اور شاہد کی یہ یادگار فلم بھی کراچی میں گولڈن جوبلی منانے میں کامیاب ہوئی تھی۔

فلم صورت اور سیرت (1975)

1970 کی دھائی میں جہاں بڑی تعداد میں فلمیں ریلیز ہوئیں، وہاں نت نئے تجربات بھی ہوئے۔ گزشتہ سال، متعدد فلموں میں اردو فلموں کے بڑے ہیروز کو ایک ساتھ اکٹھا کیا گیا تھا، اس سال پہلی بار، پاکستانی فلموں کے پہلے سپرسٹار ہیرو سدھیر کو اردو فلموں کے سپرسٹارز، محمدعلی اور وحیدمراد کے ساتھ فلم صورت اور سیرت (1975) میں پیش کیا گیا تھا۔

سدھیر کی محمدعلی کے ساتھ فلم نغمہ صحرا (1966) کے بعد نو سال بعد یہ پہلی مشترکہ فلم تھی۔ اتفاق سے دونوں نو ہی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئے تھے۔ اس فلم سے فلم بینوں کو بڑی دلچسپی تھی کیونکہ دو بڑے فنکاروں میں سے ایک اداکارہ زیبا کا شوہر اور دوسرا سابقہ شوہر تھا۔

فلم صورت اور سیرت (1975)، سدھیر کی وحیدمراد کے ساتھ دوسری مشترکہ فلم تھی۔ اس سے قبل، نو ہی سال قبل، فلم جوش (1966) میں دونوں ایک ساتھ نظر آئے تھے۔

اس وقت تک، وحیدمراد کی فلم ارمان (1966) ریلیز ہوچکی تھی جس نے انھیں اردو فلموں کا سپرسٹار بنا دیا تھا لیکن پھر بھی فلم جوش (1966) میں سدھیر کے مقابل ثانوی کردار میں تھے۔ اس پر ستم یہ کہ فلم کی ہیروئن زیبا کی جوڑی بھی سدھیر کے ساتھ تھی جو اس وقت حقیقی زندگی میں ان کی بیوی بھی تھی۔ وحیدمراد کو ایک بی کلاس ہیروئن روزینہ پر ہی اکتفا کرنا پڑا جو ان کے جنونی پرستاروں کو کبھی ہضم نہیں ہوا۔

سدھیر اور وحیدمراد کی آخری مشترکہ فلم زلزلہ (1987) تھی جو ریلیز کے اعتبار سے وحیدمراد کی زندگی کی آخری فلم بھی تھی۔

وحیدمراد کے زوال کی ہٹ ٹرک

1975ء میں وحیدمراد کے زوال کی ہٹ ٹرک مکمل ہوئی جب ان کی کل سات فلمیں ریلیز ہوئیں لیکن سولو ہیرو کے طور پر سبھی فلمیں ناکام ہوئیں۔

وحیدمراد کی اس سال کی سات میں سے تین فلموں، محبت زندگی ہے، صورت اور سیرت اور جب جب پھول کھلے (1975) میں محمدعلی بھی ساتھ تھے۔ ان دونوں کی یہ تینوں مشترکہ فلمیں کراچی میں "گولڈن جوبلی" ہوئیں۔

اس سال، سولو ہیرو کے طور پر وحیدمراد کی باقی چار میں سے دو فلمیں پنجابی زبان میں تھیں جن میں سے فلم جوگی (1975) نے لاہور میں اچھا بزنس کیا لیکن دوسری پنجابی فلم، سجن کملا (1975) کی طرح ، یہ فلم بھی کراچی میں ناکام رہی تھی۔

1975ء میں سولو ہیرو کے طور پر وحیدمراد کی دونوں اروو فلمیں، عزت اور دلربا (1975)، بری طرح سے ناکام رہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم دلربا (1975)، پہلے ہی ہفتے فارغ ہوگئی تھی لیکن ریکارڈ بکس میں سینماؤں کی تعداد کی وجہ سے "24 ہفتے" چلنے والی فلم ہے۔

یاد رہے کہ وحیدمراد کی زندگی میں ریلیز ہونے والی آخری فلم مانگ میری بھر دو (1983)، کراچی کے 25 سینماؤں میں بیک وقت ریلیز ہو کر پہلے ہی ہفتے سینماؤں سے اتر گئی تھی لیکن جعلی جوبلیوں کے ریکارڈبکس میں صرف ایک ہفتہ چلنے کے باوجود "سلورجوبلی" فلم قرار پائی تھی۔۔!

منورظریف کا آخری مکمل سال

1975ء کا سال، پاکستان کے عظیم مزاحیہ اداکار منورظریف کی زندگی کا آخری مکمل سال تھا جس میں ان کی مختلف کرداروں میں دو درجن فلمیں ریلیز ہوئیں۔

اس سال کردار نگاری میں منورظریف کی سب سے بڑی فلم زینت (1975) تھی جس میں اپنے کامیڈی ولن رول میں شبنم، ندیم، شاہد اور طالش جیسے بڑے بڑے فنکاروں پر حاوی تھے۔ خاص طور پر مہدی حسن کے ایک پیروڈی گیت "موہے پن گھٹ پہ نند لال چھیڑ گیئو رے۔۔" پر جو پرفارمنس منورظریف نے دی، برصغیر کا شاید ہی کوئی دوسرا فنکار اس مقام تک پہنچ سکتا تھا۔

فلم زینت (1975)، ایک بھاری بھر کم فلم تھی جس میں اداکارہ شبنم نے ڈبل اور ٹائٹل رول کیا۔ پہلے ہاف میں ندیم اور دوسرے ہاف میں شاہد، اس کے ہیرو تھے۔

اس فلم میں شاہد پر فلمایا ہوا موسیقار ناشاد کی دھن اور مہدی حسن کی آواز میں تسلیم فاضلی صاحب کا لکھا ہوا اعلیٰ شاعری کا شاہکار یہ گیت بھی تھا: "رفتہ رفتہ وہ میری ہستی کا ساماں ہو گئے، پہلے جاں، پھرجانِ جاں، پھر جانِ جاناں ہوگئے۔۔"

فلم زینت (1975) کے پوسٹر کی طرح اس دور میں خصوصاً ہماری اردو فلموں کی ہیروئن کے ماتھے پر "بندیا" عام نظر آتی تھی جو خالصتاً ہندومذہب کی علامت ہے۔ یورپ میں لوگوں کو یہ باور کرانا مشکل ہوتا تھا کہ ہم ہندو اور انڈین نہیں، مسلمان اور پاکستانی ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری بیشتر اردو فلموں کا ماحول مکمل طور پر ہندوستانی ہوتا تھا جس سے خاصی اجنبیت اور شرمندگی محسوس ہوتی تھی۔

منورظریف، بطورِ ہیرو

1975ء میں منورظریف کی بطورِ ہیرو کوئی ایک بھی اردو یا پنجابی فلم کسی بڑی کامیابی سے محروم رہی تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ منورظریف اگر مزید زندہ رہتے تو ان کا حشر بھی رنگیلا، ننھا اور علی اعجاز یا عمرشریف جیسا ہوتا کیونکہ پاکستانی اور خصوصاً پنجابی فلم بین، رومانٹک اور کامیڈی فلموں سے جلد اکتا جاتے رہے ہیں لیکن ایکشن فلموں کے دلدادہ رہے ہیں جس کی بہت بڑی مثالیں سدھیر، سلطان راہی اور شان ہیں جو ایک طویل عرصہ تک بامِ عروج پر رہے۔

منورظریف کی اس سال ہیرو کے طور پر فلم پیار کا موسم، ہیراپھمن، گڈی، شیدا پستول اور شوکن میلے دی (1975) کے علاوہ فلم میرا ناں پاٹے خان (1975) بھی ریلیز ہوئی جس میں انھوں نے ثابت کیا کہ وہ اپنے بڑے بھائی ظریف سے بھی کہیں بڑے فنکار ہیں۔

پنجابی فلم سجن کملا (1975) کے روایتی ہیرو وحیدمراد تھے لیکن فلم بینوں کے لیے زیادہ کشش منورظریف میں تھی۔ اردو فلم شرارت (1975) میں عورت کا کردار ہو یا پنجابی ایکشن فلم شریف بدمعاش (1975) میں ایک شرابی کا کردار، ان سبھی مختلف کرداروں میں منورظریف فنی بلندیوں پر نظر آئے تھے۔

فلم پیار کا موسم (1975)

اس سال منورظریف کی ہیرو کے طور پر نغماتی فلم پیار کا موسم (1975)، کراچی میں مسلسل اڑھائی ماہ چلنے کے بعد کل 37 ہفتے کر سکی اور یہی ایک کامیاب فلم تھی جس میں منورظریف کی ہیروئن ممتاز تھی۔ ننھا اور صاعقہ کی سیکنڈ جوڑی تھی جبکہ لہری، ولن کے رول میں تھے۔

فلم پیار کا موسم (1975)، 29 اپریل 1976ء کو منورظریف کے اچانک انتقال سے صرف تین دن بعد یعنی 2 مئی 1976ء کو ساگاسینما کوپن ہیگن میں دیکھی تھی۔ اس وقت تک منورظریف، فلمی شائقین کے مقبول ترین اداکار بن چکے تھے اور ان کی فلموں کا سب سے زیادہ انتظار ہوتا تھا۔

اس میوزیکل فلم میں جب منورظریف اور ممتاز پر فلمائے ہوئے مسعودرانا اور مالا کے رومانٹک دوگانے "دیکھا جو حسنِ یار طبیعت مچل گئی، تھا آنکھوں کا قصور، چھری دل پہ چل گئی۔۔" میں یہ الفاظ آئے: "چھری دل پہ چل گئی۔۔" تو فلم آپریٹر نے فلم روک کر یہ جملہ کہا: "چھری تو ہم سب کے دلوں پر چل گئی ہے۔۔" اس پر ہال سے آہوں اور سسکیوں کی آوازیں آئیں اور بعض لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے تھے۔

منورظریف پر یہ کہاوت سو فیصدی صادق آتی ہے کہ "زندہ ہاتھی لاکھ کا لیکن مرا ہوا سوا لاکھ کا۔۔" کیونکہ پاکستان کی فلمی تاریخ میں پہلے فنکار تھے کہ جن کے انتقال کے بعد ان کی ایسی فلموں نے بھی زبردست بزنس کیا جن میں ان کے کردار معمولی ہوتے تھے۔ فلمی پوسٹروں اور اشتہارات پر انھیں سب سے زیادہ نمایاں کیا گیا اور فلم کے اصل ہیرو کو نظرانداز کیا گیا۔ منورظریف کے بعد یہ اعزاز صرف سلطان راہی کو حاصل رہا ہے۔

1975 کی چند فلمی یادیں

  • ہدایتکار جعفربخاری کی فلم عزت (1975) میں ایک گمنام اداکارہ کا رقص صرف Bikini میں دکھایا گیا تھا۔ اس فلم میں ثمراقبال نامی گلوکارہ کا یہ گیت بڑا مقبول ہوا تھا: "ہزار بار منع کیا، میری گلی نہ سیاں آنا۔۔"
  • فلمساز اور نیلام گھر فیم اداکار طارق عزیز کے بقول، ان کی مالی حالت پر رحم کھاتے ہوئے فلم ساجن رنگ رنگیلا (1975) میں میڈم نورجہاں نے یہ سپرہٹ گیت بلامعاوضہ گایا تھا: "کانٹوں پہ چلتی ہوئی، آئی تیرے گاؤں میں، دیکھ بلم، تیری قسم، چھالے پڑے پاؤں میں۔۔"
  • اداکارہ سنگیتا کی ذاتی فلم تیرے میرے سپنے (1975) نے کراچی میں صرف 13 ہفتوں میں پلاٹینم جوبلی یعنی 75 ہفتے چلنے والی فلم کا اعزاز حاصل کیا تھا۔
    اس فلم میں ناہیداختر کا مہدی حسن کے ساتھ دوگانا "سب کچھ خدا سے مانگ لیا، تجھ کو مانگ کر۔۔" اور مسعودرانا کے ساتھ یہ شوخ گیت ہمیشہ یاد رہا: "تیرے گھر ڈولی لے کے آؤں گا، تجھے دلہن بنا کے لے جاؤں گا، تیرے بچوں کا ابا کہلاؤں گا، ان شاءاللہ، ان شاء اللہ۔۔"
  • ہدایتکار قمرزیدی کی فلم پالکی (1975) میں مہدی حسن کا گیت "یہ جھکی جھکی نگاہیں، انھیں میں سلام کرلوں، یہیں اپنی صبح کرلوں، یہیں اپنی شام کرلوں۔۔" اتنا پسند تھا کہ اکثر گنگناتا رہتا تھا۔ اس گیت کی محمدعلی صاحب پر پکچرائزیشن بھی بڑی اچھی لگی اور اس پر زیبا اور ندیم کے تاثرات بھی ہمیشہ یاد رہے۔
    اس فلم کے ٹائٹل پر انگریزی حروف کو اردو طرز پر لکھا گیا تھا اور ان پر نقطے وغیرہ لگائے گئے جو کبھی نہیں بھلا سکا۔ فلم پوسٹر پر بھی Palki کی "پی" پر تین نقطے لگائے گئے تھے۔
  • ہدایتکار حیدر کی فلم بدل گیا انسان (1975) میں مسعودرانا کا یہ شاہکار گیت تھا: "امیروں کے خدا، تو ہی غریبوں کا خدا ہے، وہاں خوشیاں، یہاں آنسو، یہ اندھیر کیا ہے۔۔" اس گیت کے دوران محمدعلی کو ایک ریڑھی چلاتے ہوئے غریب دکھایا گیا ہے جو وہ کسی طور بھی نظر نہیں آتے تھے۔
  • 1975ء میں مہدی حسن مقبولیت کے سوا نیزے پر تھے۔ ان کی مقبولیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے ہر طرح کے گیت گوائے جارہے تھے جن میں ان کی آواز سوٹ نہیں کرتی تھی، نہ خود وہ ایسے گیت گانا پسند کرتے تھے لیکن فلم نوکر (1975) میں پہلی بار موسیقار ایم اشرف نے ان سے ایک مزاحیہ گیت گوایا جس کے بول تھے: "لاکھ کرو انکار سسر جی، رنگ لائے گا پیار، دلہن میں لے کے جاؤں گا، قسم سے لے کے جاؤں گا۔۔"
  • فلم معصوم (1975) کو پاکستان ائرفورس کے سکیسربیس پر ایک ملٹری سینما میں مئی 1977ء میں دیکھنے کا موقع ملا جہاں صرف پندرہ سال کی عمر میں ایک "مہمانِ خصوصی" تھا۔ میری ہونے والی بڑی سالی (خواہر نسبتی) اور ساس (خوشدامن) نے یہ فلم دکھائی تھی۔
    جس وقت ہم تینوں فلم معصوم (1975) دیکھ رہے تھے، اس وقت میرے سسر، راڈار سسٹم پر اور میری ہونے والی بیگم، اپنے دیگر بہن بھائیوں کے ہمراہ سکول گئی ہوئی تھی۔۔!
سلطانا ڈاکو (1975)

سدھیر، پاکستان کے سینئر ترین فلمی ہیرو تھے جنھوں نے قیامِ پاکستان سے قبل لاہور میں بننے والی فلم فرض (1947) سے ایک شاندار فلمی کیرئر کا آغاز کیا۔ انھیں، پاکستانی فلموں کا پہلا سپرسٹار اور پہلا ایکشن ہیرو ہونے کا ناقابلِ شکست اعزاز بھی حاصل ہے۔ پاکستان کے واحد اداکار ہیں جو اپنے چالیس سالہ فلمی کیرئر میں ہمیشہ مرکزی کرداروں میں نظر آئے۔ 1975ء میں بھی متعدد فلموں کی کامیابی سے ایک مقبول فلمی ہیرو تھے جن میں سے ایک ایکشن پنجابی فلم سلطانا ڈاکو (1975) کا فلمی پوسٹر بڑے کمال کا تھا لیکن اس پر لکھا ہوا "سلطانہ ڈاکو" کے ہجے غلط ہیں، کیونکہ "سلطانہ"، عورت کا نام ہے، مرد کے لیے "سلطان" کو بگاڑ کر "سلطانا" کہا جاتا ہے جو "سلطانہ" کی نسبت صحیح تو ہے لیکن پھر بھی غلط ہے کیونکہ بگڑا ہوا نام ہمیشہ غلط ہی ہوتا ہے۔

1976 کی فلمی یادیں

میں عینی شاہد تھا جب 1976ء میں مسلسل تیسرے سال بھی سو سے زائد فلمیں ریلیز ہوئیں اور ہردلعزیز فنکار منورظریف کا انتہائی عروج پر پہنچ کر انتقال ہو گیا تھا۔۔!

1976 کی فلمی یادیں

1976ء کی 108 فلموں میں 46 اردو، 55 پنجابی، 5 پشتو اور 3 سندھی فلمیں ریلیز ہوئیں۔ شبانہ، تلاش اور ان داتا (1976) کامیاب ترین اردو جبکہ جگاگجر ، طوفان اور لائسنس (1976) کامیاب ترین پنجابی فلمیں تھیں۔

دوسری اور آخری ہٹ ٹرک

پاکستان فلم میگزین کے اعدادوشمار کے مطابق، 1976ء میں پاکستان کی فلمی تاریخ میں دوسری اور آخری بار، ریلیز شدہ سالانہ فلموں کی ہٹ ٹرک مکمل ہوئی تھی۔ پہلی ہٹ ٹرک 1968ء سے 1970ء تک مسلسل تین سال تک سالانہ ریلیز ہونے والی فلموں سے ہوئی تھیں۔ 1974ء سے 1976ء کی دوسری اور آخری ہٹ ٹرک کے بعد 1978ء، 1986ء اور 1989ء میں بھی سو سو سے زائد فلمیں ریلیز ہوئیں لیکن ان میں تسلسل نہیں تھا۔

منورظریف کا انتقال

1976ء کا سب سے بڑا فلمی واقعہ بلکہ سانحہ، عظیم مزاحیہ اداکار منورظریف کا اچانک انتقال تھا۔۔!

منورظریف
منورظریف
کا صرف 36 سال کی عمر میں
انتہائی عروج کے دور میں انتقال ہوا
پاکستانی فلم انڈسٹری، اس لحاظ سے انتہائی بدقسمت رہی ہے کہ جس کے پانچ نامور فنکار، انتہائی عروج کے دور میں پہنچ کر دارِ فانی سے کوچ کر گئے تھے۔

ایسے مرحوم فنکاروں میں ظریف (1960)، اکمل (1967)، اقبال حسن (1984) اور سلطان راہی (1996) کے علاوہ منورظریف بھی تھے جن کا صرف 36 سال کی عمر میں 29 اپریل 1976ء کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا تھا۔

اس سے قبل، منورظریف ہی کے ایک اور بھائی، رشیدظریف کا بھی جوانی ہی میں انتقال ہوگیا تھا۔ انھیں فلموں میں زیادہ کامیابی نہیں ملی تھی۔ اتفاق دیکھیے کہ منورظریف کے بیٹے، فیصل منورظریف بھی اپنے باپ کی طرح، جوانی ہی میں فوت ہوگئے تھے اور اپنی دو فلموں، پترمنورظریف دا (1993) اور پترجیرے بلیڈدا (1994) کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔

منورظریف کا انتقال ایک ایسے وقت میں ہوا کہ جب پاکستانی فلمیں اپنے انتہائی عروج پر تھیں۔ خود منورظریف کی اس سال اپنے انتقال کے ابتدائی چار مہینوں میں چھ فلمیں ریلیز ہوچکی تھیں اور درجن بھر بعد از مرگ ریلیز ہوئیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سال منورظریف کی کوئی ایک بھی فلم کسی غیرمعمولی کامیابی سے محروم رہی تھی لیکن ان کے انتقال کے بعد ان کی کمزور ترین فلمیں بھی ٹھیک ٹھاک بزنس کر گئی تھیں۔

جس دن منورظریف کا انتقال ہوا، اس ہفتے ان کی مشہور فلم جانو کپتی (1976) زیرِنمائش تھی جس میں انھوں نے عورت کا ٹائٹل رول کیا جو جنسی آپریشن سے مرد بن جاتی ہے۔ ایسی منفرد کہانی اور کارکردگی، اس سے پہلے کبھی دیکھی نہ سنی۔۔!

انتقال کے ایک دن بعد، منورظریف کی فلم انجام (1976) ریلیز ہوئی تھی۔ بعد از مرگ ریلیزشدہ فلموں میں سے فلم گاما بی اے (1976) میں مسعودرانا کے مشہور گیت "گل سن دے جانا بھاء جی، بڑی مہربانی میری جنج تے آنا۔۔" کی صورت میں ہر خاص و عام کو اپنی شادی پر آنے کی دعوت دے رہے تھے۔ اسی فلم میں ایک اور مشہور گیت "نیندراں نئیں آندیاں۔۔" کے دوران منورظریف کی اداکاری کی ڈھونڈےسے بھی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ سلورسکرین پر ایسے شوخ اور جاندار کردار دیکھ کر کوئی یقین کر سکتا تھا کہ ایسے شخص کو بھی موت آنی ہے۔۔ اللہ اکبر۔۔!

منورظریف امر ہوگیا!

جب منورظریف کا انتقال ہوا، تب 8ویں جماعت میں پڑھتا تھا اور میرا میڈیا جنون اپنے عروج پر تھا۔ سکول کی کاپیوں پر ماہنامہ "پاک ڈائجسٹ" کے علاوہ ہفت روزہ "اخبارِ پاک" بھی بناتا تھا جس میں ہفتہ بھر کے اہم ترین واقعات کو نوٹ کیا کرتا تھا۔

منورظریف امر ہوگیا!

منورظریف کے انتقال پر فل سائز تین کالمی سرخی جمائی جس پر لکھا تھا: "منورظریف امر ہوگیا!"
پنسل سے ڈبل لکھ کر لکھائی کے اردگرد مارکر سے سیاہ کیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ جیسے کالے رنگ پر سفید لکھا ہوا ہو۔اس کی ایک جھلک اپنے وہائٹ بورڈ پر مارکر سے لکھ کر فوٹوشاپ میں رنگ بدلا ہے جو اس سرخی کی یاد دلا رہا ہے۔

منورظریف کی کامیڈی فلمیں، ایکشن فلموں کے طوفانِ بدتمیزی کے سامنے ایک دیوار تھیں جس کے گرنے سے پنجابی فلموں سے کامیڈی اور موسیقی کا جنازہ نکل گیا تھا۔ ہیرو، قصائی بن گیا تھا اور ہیروئن، مجرے کرنے لگی تھی۔ ان ایکشن فلموں میں ڈائریکٹر اور رائٹر کہیں نظر نہیں آتا تھا، صرف ایک ایکٹر ہی ایکٹر تھا جس کو سلطان راہی کہتے ہیں۔

1976ء کی پنجابی فلمیں

1976ء میں اپنی دو درجن فلموں کے ساتھ سلطان راہی، کامیاب ترین اداکار تھے جن کی بھاری بھر کم ایکشن اردو فلم ان داتا (1976) کے علاوہ اردو فلم راستے کا پتھر (1976) میں اداکاری غضب کی تھی۔ اس سال انھوں نے بطورِ سولو ہیرو ایک اردو فلم تقدیر کہاں لے آئی (1976) بھی پروڈیوس کی لیکن اردو فلم بینوں کے معیار پر پورا نہیں اتر سکے تھے۔

پنجابی فلموں میں البتہ سلطان راہی کو فیصلہ کن کامیابی حاصل ہوگئی تھی۔ سال کی کامیاب ترین فلم جگاگجر (1976) کے علاوہ طوفان (1976)، ایک اعلیٰ پائے کی ایکشن فلم تھی۔ فلم الٹی میٹم (1976) میں بھٹی برادران نے بھی اپنی مخصوص شناخت ترک کرتے ہوئے سلطان راہی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ فلم لائسنس (1976) بھی ایک بہترین اور بامقصد فلم تھی جبکہ ایکشن فلم، پنڈی وال (1976) کو بھی اس دور میں بڑا پسند کیا گیا تھا۔

یوسف خان کی ڈیڑھ درجن کے قریب فلموں میں سے وارنٹ اور حشرنشر (1976) کامیاب فلمیں تھیں۔ اقبال حسن کی سولو ہیرو کے طور پر کوئی فلم قابلِ ذکر نہیں تھی۔ سینئر فنکاروں میں سدھیر کی اردو فلم ان داتا (1976) اور پنجابی فلم واردات (1976) بڑی فلموں میں شمار ہوتی ہیں جبکہ اعجاز اور حبیب کی ہیروشپ کا دور ختم ہو چکا تھا۔ اداکار کمال، پہلی بار کسی پنجابی فلم میں نظر آئے تھے۔

فلم جگا گجر (1976)

1976ء کی سب سے کامیاب پنجابی فلم جگاگجر (1976) نے پاکستان میں "گجر برانڈ" فلموں کا آغاز کیا تھا۔۔!

گزشتہ سال، فلم وحشی جٹ (1975) نے میدان مارا تو اب گجروں کی باری تھی جنھوں نے اپنے ایک حقیقی کردار، لاہور کے بدنامِ زمانہ "جگا بدمعاش" کو "جگاگجر" کے فلمی ٹائٹل سے بڑی کامیابی سے "لانچ" کیا تھا۔

"گجر" قوم، اصل میں "جٹ" قوم ہی کی ایک ذیلی شاخ ہے جو خطہ پنجاب میں عام طور پر مال مویشی پالتے ہیں اور دودھ گھی وغیرہ کا کاروبار کرتے ہیں۔

ہدایتکار کیفی کی اس سپرہٹ لیکن کمزور ڈائریکشن والی انتہائی غیر معیاری ملٹی کاسٹ ایکشن پنجابی فلم کے فلمساز "بڈھا گجر" تھے جو لاہور کی اس بدمعاش کمیونٹی کے سربراہ تھے۔ سلطان راہی نے "جٹ" کے بعد "گجر" کے مرکزی کردار میں بھی بڑی شہرت حاصل کی تھی۔ ساون کو "بڈھاگجر" کے کردار میں پیش کیا گیا تھا۔

ناصرادیب نے اصل کہانی کو توڑمروڑ کر انتہائی گھٹیا اور فضول قسم کے متکبرانہ مکالموں کے ساتھ اس فلم کو گجروں اور راٹھوں کی لڑائی میں بدل دیا تھا۔ فلم میں انتہائی احمقانہ اور اکتا دینے والی فائٹ اور غیرضروری تشدد کے علاوہ کانوں کے پردے پھاڑ دینے والی بڑھکیں اور انتہائی عامیانہ اداکاری تھی۔ میوزک بھی بڑا ہی کمزور تھا۔ صرف ننھا کی کامیڈی اچھی تھی۔

اس مضمون کی تیاری میں فلم جگاگجر (1976) کو ایک بار پھر دیکھنا بہت بڑا اور صبرآزما امتحان تھا۔۔!

گجر فلموں کی تاریخ

قیامِ پاکستان سے قبل، "گجر" نام کی کسی فلم کا کوئی حوالہ نہیں ملتا لیکن پاکستان میں اس نام کی کل 38 فلمیں ریلیز ہو چکی ہیں۔

"گجربرانڈ" کی پہلی فلم بالاگجر (1973) کا ٹائٹل رول بھی سلطان راہی نے کیا جو اپنی زندگی میں ریلیز ہونے والی "گجر" نام کی سبھی 13 فلموں میں موجود تھے۔ صرف ایک فلم جٹ، گجر تے نت (1983) میں "گجر" نہیں بنے، باقی سبھی فلموں میں ٹائٹل رولز میں تھے۔ بعدازمرگ ریلیز ہونے والی 14ویں اور آخری فلم خردماغ گجر (2003) میں بھی ٹائٹل رول میں تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اداکار شان بھی 13 گجر برانڈ ایکشن فلموں کے ہیرو تھے۔ ان کی ٹائٹل رول میں فلم ہمایوں گجر (2001) اور یوسف خان کےساتھ بڈھاگجر (2002) اس دور کی بہت بڑ ی فلمیں تھیں۔

دستیاب معلومات کی بنیاد پر اب تک "گجربرانڈ" فلموں کے سلسلے کی آخری فلم ببراگجر (2023) میں سلطان راہی کے بیٹے، حیدرسلطان نے ٹائٹل رول کیا تھا۔

جگا نام کی فلموں کی تاریخ

پاکستان فلم میگزین کے اعدادوشمار کے مطابق، درجن بھر فلموں کے ٹائٹل میں "جگا" نام ملتا ہے۔ اس نام کی پہلی فلم جگا (1958)، ایک سوشل فلم تھی جس کا ٹائٹل رول الیاس کاشمیری نے کیا تھا۔ سلطان راہی نے بھی جگا (1985) نامی فلم میں ٹائٹل رول کیا جبکہ اسی نام کی آخری فلم جگا (2016) میں کوئی گمنام ہیرو تھا۔

جگا گجر کا اصل واقعہ

لاہور کی گجر برادری کے سرمائے سے بنائی گئی فلم جگاگجر (1976) میں "جگا" کو ہیرو اور راٹھ فیملی کو ولن کے طور پر پیش کیا گیا ہے حالانکہ اصل واقعہ کے مطابق، ماہِ جولائی 1968ء کے پہلے ہفتے میں "غنڈہ ایکٹ" کے نفاذ کے بعد بکرمنڈی لاہور کے رہائشی چوہدری محمدشریف عرف "جگا گجر" کو ایک مجرم اور مفرور کے طور پر پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا۔ اس پر پولیس پر مجرمانہ حملے کے علاوہ قتل، اغوا اور سرقہ بالجبر (یعنی زبردستی دوسروں کا مال ہتھیانا) کے علاوہ دکانداروں سے جبری بھتہ وصول کرنے کے الزامات تھے جنھیں "جگابدمعاش" کی وجہ سے "جگاٹیکس" کہا جانے لگا تھا۔

لاہور کے اسلامیہ پارک کے معروف بدمعاش گروپ "بڈھاگجر" کے بھتیجے "جگاگجر" کی دشمنی قلعہ گجر سنگھ کے ایک اور مشہور بدمعاش گروپ "اچھا شوکروالا" سے تھی جنھوں نے 1954ء کے ایک میلے میں جگاگجر کے بھائی "مکھن گجر" کو قتل کردیا تھا۔ جگا نے صرف 14 سال کی عمر میں قتل کا بدلہ لیا اور جیل چلا گیا تھا۔ بعد میں اسی خونی دشمنی میں عدالتوں میں سلطانی گواہ سمیت مزید قتل ہوئے تھے۔

"اچھا شوکر والا" (چوہدری اسلم) کی بدمعاشی اور غنڈہ گردی کو فوجی آمر جنرل ایوب خان کے "سنہرے دور" میں صوبہ مغربی پاکستان کے گورنر نواب کالاباغ امیر محمد خان کی مبینہ طور پر مکمل سرپرستی حاصل ہوتی تھی۔ اس کو پنجاب کا "چھوٹا گورنر" بھی کہا جاتا تھا جس کا پولیس اور دیگر سرکاری اداروں پر دباؤ ہوتا تھا۔

چوہدری اسلم عرف اچھا شوکر والا نے "چوہدری فلمز" کے نام سے ملنگی (1965) جیسی شاہکار فلم کے علاوہ متعدد دیگر فلموں پرسرمایہ کاری بھی کی تھی۔ اس کی زندگی اور "کارناموں" پر ایک فلم اچھا شوکر والا (1992) بھی بنائی گئی جس کا ٹائٹل رول یوسف خان نے کیا تھا۔ اس طرح سے لاہور کے ان دونوں بدنامِ زمانہ متحارب قانون شکن گروپوں پر کالے دھن کے طفیل بے شمار فلمیں بنیں۔ سکرین پر انھیں ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا تھا لیکن ان کے فلمی کرداروں کا حقیقت سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔

اصل "جگا" کون تھا۔۔؟

پنجاب کی تاریخ میں اصل "جگا"، ایک سکھ نوجوان "جگت سنگھ" تھا جو موجودہ ضلع قصور میں 1901ء میں پیدا ہوا تھا۔ مقامی زمینداروں کی زیادتیوں پر قانون سے باغی ہوا اور جیل یاترا اور ایک قتل کے بعد "جگا ڈاکو" بن گیا تھا۔ وہ بھی "رابن ہڈ" کی طرح امیروں کو لوٹتا اور غریبوں کو نوازتا تھا، اس لیے غریب اور مظلوم عوام میں بڑا مقبول تھا۔ مشہور ڈاکو کردار، "ملنگی" اور "جبرو"، اس کے ہم عصر تھے۔

صرف 29 سال کی عمر میں "جگا ڈاکو"، اپنے ایک ساتھی کی غداری کی وجہ سے مارا گیا تھا۔ اس کی جواں سال اور بے وقت موت کے غم میں اس دورکے لوک شاعروں نے ایک عوامی ہیرو کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے لوک گیتوں کی ایک نئی صنف "جگا" ایجاد کی جس کو ایک مخصوص دھن میں گایا جاتا ہے۔

پنجاب کے دونوں اطراف مختلف فنکاروں نے بڑی تعداد میں "جگا" گایا ہے۔ ایک بھارتی پنجابی فلم میں محمدرفیع نے "جگا" اس طرح سے گایا تھا: "جے میں جان دی جگے مر جانا تے اک دے میں دو جمدی، جگیا، وے ستی پئی ماں دے کلیجے چھرا لگیا۔۔" جبکہ ایک پاکستانی فلم انگارا (1985) میں مسعودرانا اور ناہیداختر نے "جگا" اس طرح سے گایا تھا: "جگے جٹ دا نہ ثانی کوئی، نہ دھرتی تے ہور جمیا، سارا جگ خیرمنگدا، توں جتھوں لنگیا۔۔"

قیامِ پاکستان سے قبل لاہور میں اس موضوع پر پہلی بار پنجابی فلم جگا ڈاکو (1940) بنائی گئی تھی۔ اس فلم کا ٹائٹل رول ایک سینئر پاکستانی اداکار چوہدری گل زمان نے کیا جن پر ان کی اپنی فلم گل بلوچ (1944) میں گلوکار محمدرفیع کا گایا ہوا پہلا فلمی گیت "سوہنیے نی، ہیریئے نی، تیری یاد نے ستایا۔۔" فلمبند ہوا تھا۔

جگا ڈاکو کی کہانی کو پاکستان میں جگت سنگھ جگا (1997) کے نام سے بنایا گیا جس کا ٹائٹل رول اقبال گوندل نامی ایک گمنام اداکار نے کیا تھا جبکہ اس کے علاوہ "جگا" نام دوسری فلمی کہانیوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔

"تایا جگا"

"جگا ڈاکو" اور "جگا بدمعاش" کا ذکر ہوا تو اپنے ایک قریبی عزیز اور محسن، "تایا جگا" کے بغیر بات مکمل نہیں ہو سکتی جنھیں احترام سے "تایا جی" کہا کرتے تھے لیکن ان کے ہم عمر اور بزرگ انھیں "جگا" کہتے تھے۔ افسوس ناک امر یہ تھا کہ ان کی مہذب اور باوقار بیگم کو اسی مناسبت سے "جگی" کہا جاتا تھا جو بڑا معیوب لگتا تھا۔

بچپن میں تو اتنی سمجھ نہ تھی لیکن جب ہوش سنبھالا تو احساس ہوا کہ ہمارے اس تایا کو دیا گیا "جگا" نام کچھ مناسب نہیں ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کے کارنامے سنے تو ان کی وجہ شہرت سمجھ میں آنے لگی تھی۔

"تایا جگا"، شہر کے بااثر، صاحبِ ثروت اور نامی گرامی افراد میں شمار ہوتے تھے۔ ایک رعب دار اور دبنگ قسم کے شخص تھے۔ تھانہ کچہری تک رسائی تھی۔ قاہرہ کے مصر کے بازار سے لے کر لاہور کی ہیرا منڈی تک اپنی داستانیں چھوڑ کر آئے ہوئے تھے۔ چال ڈھال اور بول چال بھی منفرد تھی۔ 1960 کی دھائی کے مقبول پنجابی فلمی ولن اداکار مظہرشاہ کا سا انداز تھا اور تکیہ کلام ہوتا تھا: "جہیڑی گل میں کہناں۔۔" یعنی "جو بات میں کہتا ہوں۔"

"تایا جگا" سے زیادہ تعلق دسمبر 1976ء کے بعد ہوا جب دوسری بار پاکستان گیا اور ان کے ٹرک کی باڈی بنوانے میں مدد کی تھی۔ اس دور میں کھاریاں کے اردگرد کے دیہاتوں میں پہلی بار بجلی کی سہولت آئی تو گھر گھر بجلی کی وائرنگ کا کام عام ہوگیا تھا۔ میں نے بھی پارٹ ٹائم کے طور پر یہ کام سیکھا اور بجلی کی پہلی وائرنگ"تایا جگا" کے گھر بنے ہوئے دو نئے کمروں میں کی تھی۔ اس سے ہمارا تعلق مزید گہرا ہوا اور اکثر میل ملاقات ہوتی رہتی تھی۔

1981ء میں میری زندگی کا ایک انتہائی تلخ واقعہ ہوا جب ایک پرانے جاننے والے شخص نے اس مسجد میں گھڑی چوری کا سنگین الزام لگایا جہاں پنج وقتہ باجماعت نماز پڑھتا تھا۔

یہ بات "تایا جگا" تک پہنچی تو انھوں نے اپنے اثرورسوخ سے یہ احسان کیا کہ پولیس کو میرے گھر آنے دیا نہ مجھے پولیس سٹیشن جانے کی شرمندگی اٹھانا پڑی۔ مسجد ہی میں تھانیدار نے پوچھ گچھ کے بعد معاملہ رفع دفع کردیا تھا۔ امام مسجد اور علاقے کے معززین، جو میرے ساتھ ایک ہی صف میں نماز ادا کیا کرتے تھے، میری ایمانداری اور مثبت کردار کی گواہی دے رہے تھے۔ تھانیدار کی جرح سے مدعی جھوٹا اور میں بے گناہ ثابت ہوگیا تھا۔

اس ناقابلِ فراموش واقعہ کا تلخ ترین پہلو یہ تھا کہ میرے ہونے والے سسر ایک ریٹائرڈ فوجی افسر اور باریش مذہبی آدمی تھے اور پیری مریدی بھی کیا کرتے تھے۔ ان دنوں، ان سے بڑی قربت ہو چکی تھی، اس کے باوجود، انھوں نے میرے مثبت کردار کی گواہی نہیں دی البتہ چند برسوں بعد اپنی بیٹی میرے نکاح میں دے دی تھی۔۔!

کچھ عرصہ بعد والدصاحب، پاکستان تشریف لائے تو انھوں نے اس واقعہ کی مکمل چھان بین کی۔ مدعی، ان کے ماتحت کام کر چکا تھا۔ اس نے ساری حقیقت کھول کر بیان کر دی کہ کس شخص کے کہنے پر اس نے اتنا گھٹیا الزام عائد کیا تھا۔

والد صاحب نے مجھ سے تفصیل جانی تو پہلی بار انھیں یہ بتایا کہ ہمارا ایک عزیز جو کبھی والدصاحب کا بہترین اور قریبی دوست ہوتا تھا، اس نے پاکستان میں قیام کے دوران باقاعدہ ایک ہوٹل پر چائے پلاتے ہوئے اس شرط پر اپنے پاس یورپ لے جانے اور گھر داماد بنانے کی پیش کش کی تھی کہ میں اپنے والدین کو چھوڑ دوں لیکن صاف انکار پر اس نے اس طرح سے بدنام کر کے انتقام لیا تھا۔

آج بھی سوچتا ہوں کہ اگر "تایا جگا" نہ ہوتے تو اس نام نہاد گھڑی چوری کیس میں میرا کیا حشر ہوتا۔۔؟

فلم لائسنس (1976)

سینئر ہدایتکار اسلم ایرانی کی بہترین پنجابی فلم لائسنس (1976)، سعادت حسن منٹو کے اسی نام کے ایک افسانے سے ماخوذ تھی۔ نجمہ، سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی کی اس فلم کا مرکزی خیال تھا کہ ایک عورت کو جسم فروشی کا لائسنس تو مل سکتا ہے لیکن محنت مزدوری اور تانگہ چلانے کا نہیں۔

فلم لائسنس (1976) کی خاص بات یہ بھی تھی کہ اس میں اس دور کے ایک نامور قوال، عزیز میاں قوال اپنی مشہور قوالی "میں شرابی شرابی۔۔" گاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

1950/60 کی دھائیوں میں صابری برادران (غلام فرید اور مقبول صابری)، بہت بڑے قوال تھے جن کی ایک مشہور ترین قوالی "تاجدارِ حرم، او نگاہِ کرم۔۔" اتنی مقبول ہوئی کہ مشہور گلوکار عاطف اسلم نے بھی اسے اپنے انداز میں گایا تھا۔

1970/80 کی دھائیوں میں عزیز میاں قوال کا طوطی بولتا تھا۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ قوال تھے جو اپنا کلام خود ہی لکھتے اور گاتے تھے۔ ایک انقلابی قوال تھے جن کی سمجھ عام لوگوں کو نہیں آتی تھی لیکن ان کا انداز بڑا مقبول تھا۔

1990 کی دھائی سے نصرت فتح علی خان کو عروج ملا۔ پنجابی زبان کے پہلے بڑے قوال تھے لیکن ان کا جو کام مغربی ممالک میں مقبول ہوا، وہ مغربی اور مشرقی موسیقی کو ملانا ہے۔ ریڈیو ڈنمارک پر ایک بار ان کا ایسا ہی ایک آئٹم سنا تھا اور بڑا مزہ آیا تھا۔

فلم جٹ کڑیاں توں ڈردا (1976)

اداکار کمال، بڑے کمال کے فنکار تھے۔ 1960 کی دھائی میں اردو فلموں کے مقبول ترین ہیرو تھے۔ محمدعلی اور ندیم نے ان کے مقابل ثانوی کردار کیے لیکن 1970 کی دھائی میں پس منظر میں چلے گئے تھے۔ آخری اہم فلم انسان اور گدھا (1973) تھی۔

1976ء میں ایک نئے انداز میں سامنے آئے اور پہلی بار ایک پنجابی فلم جٹ کڑیاں توں ڈردا (1976) بنائی جس میں نیلو، نشو، نجمہ اور عشرت چوہدری کے اکلوتے ہیرو تھے۔

یہ فلم، تین فلموں کے سلسلے کی پہلی فلم تھی۔ اس کے بعد انھوں نے اسی کہانی اور کرداروں کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید دو فلمیں، اج دیاں کڑیاں (1977) اور کل دے منڈے (1978) بھی بنائیں جن میں اداکاروں کی فوج ظفر موج جمع کی تھی۔

فلم اج دیاں کڑیاں (1977) میں کمال نے اپنی چھ لڑکیوں یا بیٹیوں (نمی، خانم، صاعقہ، فرزانہ، ڈمپل اور نوین تاجک) کے لیے چھ لڑکے (بدرمنیر، اورنگزیب، علی اعجاز، ناظم، منصور اور جمشید انصااری) بھی تلاش کیے جبکہ فلم کل دے منڈے (1978) میں آصف خان اور عثمان پیرزادہ کے علاوہ خود کو بھی "منڈا" بنایا جو فلم بینوں کو ہضم نہیں ہوا تھا۔

1976ء کی اردو فلمیں

1976ء میں تین اردو فلمیں کراچی میں ڈائمنڈجوبلی تک پہنچیں۔ ان میں شبانہ، تلاش اور آج اور کل (1976) شامل تھیں۔ ان داتا، کوشش، سچائی اور محبت اور مہنگائی (1976) دیگر کامیاب گولڈن جوبلی فلمیں تھیں۔ شبنم اور ندیم کے علاوہ بابرہ شریف بھی سال کی کامیاب ترین اداکارہ تھی۔

اس سال کے دیگر اہم واقعات مندرجہ ذیل تھے:

  • سیدنور کی کہانی نویس کے طور پر پہلی فلم سوسائٹی گرل (1976) ریلیز ہوئی جو اداکارہ سنگیتا کی بطورِ ہدایتکارہ پہلی فلم تھی۔
  • پاکستان کی پہلی انگریزی فلم Beyond The Last Mountain ریلیز ہوئی جس کو ایک سینٹر جاویدجبار نے بنایا تھا۔ اس فلم کا اردو ورژن "مسافر" کے نام سے ریلیز ہوا۔ عثمان پیرزادہ ہیرو اور شمیم احمد ہیروئن تھی۔
  • پاکستان کی سری لنکا کے ساتھ پہلی کو پروڈکشن فلم سازش (1976) تھی۔ اس فلم میں بھی عثمان پیرزادہ ہیرو اور سری لنکا کی اداکارہ مالنی ہیروئن تھی۔ اس فلم میں میڈم نورجہاں اور غلام عباس کا یہ دوگانا بڑا مقبول ہوا تھا: "یوں تو ہر شخص نے دنیا میں محبت کی ہے، ہم نے اے جانِ وفا، تیری عبادت کی ہے۔۔"

فلم ان داتا (1976)

1976ء میں جس اردو فلم کا سب سے زیادہ ذکر ہوا وہ ہدایتکار اقبال یوسف کی ایکشن فلم ان داتا (1976) تھی جس میں دو ایکشن لی جنڈز، سدھیر اور سلطان راہی کے علاوہ اردو فلموں کے سب سے بڑے اداکار محمدعلی کو پہلی بار ایک ساتھ پیش کیا گیا تھا۔

ان دااتا (1976)

ایک اطالوی ناول کی جرم و سزا کی کہانی پر مبنی امریکی فلم The Godfather (1972) کی تقلید میں فلم ان داتا (1976) کا ٹائٹل رول سدھیر نے کیا جو پاکستان کے پہلے ایکشن ہیرو کے طور پر مشہور تھے۔ ان کے جانشین، سلطان راہی نے ان کے بیٹے اور نائب کا کردار کیا جبکہ محمدعلی، ہیروئن ممتاز کے ہیرو تھے۔ ایک جرائم پیشہ گروہ کے سربراہ طالش، مرکزی ولن تھے جن کے بیٹے مصطفیٰ قریشی اور ادیب ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم ان داتا (1976) کا دوسرا حصہ سن آف ان داتا (1987) کے طور پر ریلیز ہوا جس میں ایک بار پھر، سدھیر کا مرکزی کردار تھا۔ یہ ان کے فلمی کیرئر کی آخری فلم تھی جبکہ اس فلم میں سلطان راہی کا ٹائٹل اور ولن ٹائپ رول تھا۔

فلم شبانہ (1976)

1976ء کی کامیاب ترین اردو فلم، ہدایتکار نذرشباب کی نغماتی اور رومانوی فلم شبانہ (1976) تھی جو اردو فلموں کے سپرسٹار وحیدمراد کی فرسٹ ہیرو کے طور پر اکلوتی "ڈائمنڈجوبلی" فلم تھی، لیکن۔۔!

اس فلم میں وہ سولو ہیرو نہیں تھے۔ گو اداکار شاہد نے ولن ٹائپ رول کیا لیکن بطورِ سولو ہیرو ان کے کریڈٹ پر ایک ڈائمنڈجوبلی فلم انمول (1973) بھی تھی، اس لیے اس فلم کی کامیابی کا کریڈٹ اکیلے وحیدمراد کو نہیں ملتا جن کی اس سال ریلیز شدہ 14 فلموں میں سے یہ اکلوتی سپرہٹ فلم تھی۔

بابرہ شریف کو دو درجن فلموں کے بعد پہلی بار فلم شبانہ (1976) میں ٹائٹل رول کے علاوہ دو مختلف المزاج جڑواں بہنوں یعنی ایک شریف النفس اور معصوم بہن "فرزانہ" اور دوسری شوخ اور تیزطرار "شبانہ" کے ڈبل رول کرنے کا موقع بھی ملا جس میں اس کی کارکردگی نے اسے شبنم کے بعد اردو فلموں کی مقبول ترین ہیروئن بنا دیا تھا۔ وحیدمراد اور شاہد کی کارکردگی واجبی تھی البتہ ننھا کی کامیڈی بڑی جاندار تھی۔

فلم شبانہ (1976) کی کہانی ، ہدایتکار نذرشباب کے والدِگرامی، شباب کیرانوی نے لکھی اور شاید، اداکار شاہد کو سامنے رکھ کر لکھی ہوگی جو ان دنوں اپنی اس فلم کے کردار کی طرح، عورتوں کے شکاری کے طور پر مشہور تھے۔ مشہور اداکاراؤں، زمرد، عشرت چوہدری، سیما اور فردوس کے ساتھ ان کے سکینڈلز زبان زدِعام تھے اور غالباً اس فلم کی کہانی کو عملی جامہ پہناتے ہوئے بابرہ شریف کو بھی پھنسانے کو کوشش کر رہے تھے جس میں کامیاب بھی ہوگئے تھے۔

فلم شبانہ (1976) کی کہانی میں بہت بڑا جھول تھا۔ ایک بہن "شبانہ"، اپنی دوسری بہن "فرزانہ" کے فرضی نام سے چھوٹے بھائی (وحیدمراد) سے شادی کرتی ہے جبکہ اسی نام سے اس کی بہن بڑے بھائی (شاہد) سے شادی کر چکی ہوتی ہے، کیا جعلی نام پہ نکاح ہو سکتا ہے۔۔؟

ویسے تو ہمارے ملک میں ہر کام ہوسکتا ہے۔ ایک نام نہاد "مرشد" نے ایک بدنامِ زمانہ "پیرنی" سے عدت کے دوران نکاح کیا۔ پھر شک دور کرنے کے لیے نکاح پہ نکاح بھی کیا۔ اندھی عقیدت میں مبتلا گمراہ چیلوں کو اس غیرشرعی حرکت کا دفاع کرنے پر رتی بھر شرم نہیں آئی تھی۔۔!

فلم شبانہ (1976)کے مکالمے ریاض الرحمان ساغر نے لکھے جن میں مزاح یا جان پیدا کرنے کے لیے پنجابی ٹچ دیا گیا جو بڑا پسند کیا گیا تھا۔ وہ "عوامی دور" تھا اور پہلی بار پاکستان کا اصلی چہرہ سامنے آ رہا تھا البتہ بابرہ شریف کے ماتھے پر بندیا، زہر لگتی تھی۔

فلم شبانہ (1976) کو ملک بھر کے 33 سینماؤں میں ایک ساتھ ریلیز کیا گیا تھا۔ لاہور میں مسلسل ساڑھے آٹھ ماہ یعنی 34 ہفتے چل کر کل 53 ہفتوں کے ساتھ گولڈن جوبلی ہوئی جبکہ کراچی میں ساڑھے نو ماہ یعنی 38 ہفتے چل کر 101 ہفتوں کے ساتھ ڈائمنڈجوبلی کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔

فلم شبانہ (1976) کے گیت

فلم شبانہ (1976) میں مہدی حسن کے دو سپرہٹ گیتوں "جو درد ملا، اپنوں سے ملا، غیروں سے شکایت کون کرے۔۔؟" اور "بے وفا کون ہے، کون ہرجائی ہے، فیصلہ آج محفل میں ہوجائے گا۔۔" کے علاوہ خانصاحب اور ناہیداختر کا الگ الگ گایا ہوا یہ گیت بھی بڑا مقبول ہوا تھا: "تیرے سوا دنیا میں کچھ بھی نہیں، میرے صنم۔۔"

اس گیت کا یہ جملہ "پیار میرا، او فرزانہ، بھول نہ جانا۔۔" جب ریڈیو پر بجتا تھا تو کئی اوباش نوجوان، "فرزانہ" نام کی لڑکیوں کا جینا دوبھر کر دیتے تھے۔ اس پر بے بس اور مجبور والدین، ایسے لڑکوں اور خاص طور پر مہدی حسن کو خاصی بددعائیں دیتے تھے حالانکہ اس میں ان کا کوئی قصور نہیں تھا۔ نغمہ نگار تسلیم فاضلی کے لکھے ہوئے ان گیتوں کی دھنیں ایم اشرف نے بنائی تھیں جن میں کچھ احتیاط برتی جا سکتی تھی اور ایسے عام ناموں کے استعمال سے اجتناب کیا جا سکتا تھا۔

فلم شبانہ (1976) کی یادیں

فلم شبانہ (1976)، پاکستان واپسی پر 1977ء کے اوائل میں کھاریاں کے سنگم سینما پر دیکھی ہوئی میری پہلی فلم تھی۔ یہ سینما، شہر کی حدود میں واقع، جی ٹی روڈ اور لاری اڈے پر اکلوتا سینما تھا جس کا افتتاح میری ڈنمارک روانگی سے ایک ماہ بعد یعنی عیدالاضحیٰ کے دن 5 جنوری 1974ء کو فلم آس (1973) سے ہوا تھا۔

1974ء کی اس عید کے لیے قربانی کا وہ دنبہ نہیں بھولتا، جس کی بڑی خدمت کی تھی لیکن ایک دن کھیل کود میں اتنا مگن ہوا کہ اس کا تازہ چارہ لانا بھول گیا تھا۔ گھر بلایا گیا اور غصے سے بپھرے ہوئے داداجان مرحوم و مغفور نے یہ کہتے ہوئے بے اختیار ایک بیساکھی دے ماری تھی: "ایک بے زبان بھوکا پیاسا ہے اور تجھے کھیل کود سے ہی فرصت نہیں ہے۔۔"

قربانی کے جس دنبے کی اتنی خدمت کی اور اس کے لیے مار بھی کھائی، اس کا گوشت کھانا نصیب نہیں ہوا کیونکہ عید سے ایک ماہ پہلے ہی ڈنمارک بھیج دیا گیا تھا۔۔!

ڈنمارک سے واپسی

ڈنمارک میں اپنے پہلے تین سالہ قیام کے دوران سو کے قریب فلمیں دیکھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 1976ء کی ریلیز شدہ پاکستانی فلموں میں سے صرف دو ہی فلمیں یاد ہیں جو ساگا سینما کوپن ہیگن ڈنمارک میں دیکھ سکا تھا۔ وہ تھیں، کوشش اور عورت ایک پہیلی (1976)۔ اس سینما پر آخری فلم فجرِاسلام (1976) دیکھی جو انگلش زبان میں دینِ اسلام کی تاریخ پر ایک بین الاقوامی فلم تھی۔

تین سال بعد ڈنمارک سے پاکستان کے قریباً ایک ماہ کے آٹھ ہزار کلومیٹر طویل اور یادگار بائی روڈ سفر کے بعد طورخم بارڈر کے راستے پاکستان واپس پہنچا تھا۔ صرف چودہ سال کی عمر میں ڈنمارک کے علاوہ مشرقی جرمنی، مغربی جرمنی، آسٹریا، یوگوسلاویہ (سلووانیہ، کروشیا، بوسنیا اور سربیا)، بلغاریہ، ترکی، ایران اور افغانستان کی سیر کر لی تھی۔ برلن اور تہران میں متعدد دن قیام بھی کیا تھا۔ دیوارِ برلن کے علاوہ اس شہر کے چاروں حصے (امریکی، برطانوی، فرانسیسی اور روسی) بھی دیکھے جن پر دوسری جنگِ عظیم کے فاتح اتحادی ممالک نے بندربانٹ کی تھی۔ کمیونسٹ نظام کو بھی عملی طور پر دیکھا تھا۔

20 دسمبر 1976ء کو علی الصبح اپنے آبائی شہر کھاریاں کی حدود میں داخل ہوا تو لبوں پر یہ گیت مچل رہا تھا: "لے آئی پھر کہاں پر، قسمت ہمیں کہاں سے، یہ تو وہی جگہ ہے، گزرے تھے ہم جہاں سے۔۔"

کھاریاں واپسی پر پہلی بات جو محسوس کی، وہ سڑک کے اردگرد بنے ہوئے فٹ پاتھ اور سٹریٹ لائٹیں تھیں جو تین سال پہلے تک نہیں تھیں۔ دوسرا منظر سنگم سینما کا تھا جس پر اس ہفتے اردو فلم دیکھا جائے گا (1976) چل رہی تھی۔

روزنامہ جنگ نے اس دن، "عوامی حکومت کی پانچویں سالگرہ" پر ایک خصوصی رنگین شمارہ شائع کیا جس کے سرورق پر وزیرِاعظم جناب ذوالفقار علی بھٹوؒ کی ایک بڑی خوبصورت تصویر کے ساتھ کیپشن میں "ایک بے مثل لیڈر" قرار دیااور گزشتہ پانچ برسوں میں ان کی حکومت کی کارکردگی کی تفصیل تھی۔ کافی عرصہ تک وہ شمارہ میرے پاس محفوظ رہا لیکن نقل مکانی میں ضائع ہوگیا تھا۔

20 دسمبر 1976ء کو ہی پاکستان ٹیلی ویژن کی رنگین نشریات کا آغاز بھی ہوا تھا۔

1976ء کے واقعات اور گیت

منورظریف کی قبر

منورظریف کی قبر پر درج، تاریخِ وفات 29 اپریل 1976ء تو درست ہے لیکن اس دن منگل کانہیں، جمعرات کا دن تھا۔

1977 کی فلمی یادیں

میں عینی شاہد تھا جب بھٹو کا تختہ الٹا گیا اور کراچی میں ریکارڈ توڑ اردو فلم آئینہ (1977) ریلیز ہوئی تھی۔۔!

1977 کی فلمی یادیں

7 مارچ 1977ء کے متنازعہ عام انتخابات کے نتیجے میں ہونے والے شدید سیاسی بحران کی وجہ سے ماہِ رمضان کے علاوہ اپریل اور مئی کے مہینوں میں کوئی فلم ریلیز نہیں ہوئی جس کی وجہ سے اس سال صرف 80 فلمیں ہی ریلیز ہو سکیں جن میں 42 اردو، 32 پنجابی، 7 پشتو اور ایک سندھی فلم تھی۔

اردو فلموں میں آئینہ، اف یہ بیویاں، بھروسہ، محبت ایک کہانی اور سلاخیں (1977) اور پنجابی فلموں میں جیراسائیں، جبرو، قانون، چورسپاہی (1977) اور لاہوری بادشاہ (1977) کامیاب ترین فلمیں تھیں۔

جنرل ضیاء کا مارشل لاء

5 جولائی 1977ء کو ملعون جنرل ضیاء الحق نے پاکستان کے پہلے منتخب حکمران جناب ذوالفقار علی بھٹوؒ کا تختہ الٹ کر ملک کی تاریخ کا طویل اور بد ترین مارشل لاء لگایا تھا۔۔!

1977ء کے متنازعہ انتخابات اور اس وقت کی سیاسی صورتحال، عوامی رائے عامہ اور میڈیا کا کردار، مبینہ دھاندلیوں کے خلاف اپوزیشن کا ایجی ٹیشن اور پاکستان کے معاملات میں مبینہ امریکی مداخلت، نام نہاد نظامِ مصطفیٰﷺ کی تحریک اور سیاست میں مذہبی حلقوں کا کردار، بھٹو کی قابلیت اور عوامی مقبولیت کے علاوہ وقت کے فرعون، جنرل ضیاع مردود کی بدترین آمریت کا پاکستان کی سیاست، معیشت اور معاشرت پر منفی اثرات کبھی نہیں بھلا سکا۔

صرف پندرہ سال کی عمر میں یہ تلخ حقیقت ذہن نشین ہو گئی تھی کہ وؤٹ کی طاقت سے بننے والے بدقسمت ملک، پاکستان میں طاقت کا سرچشمہ عوام کبھی نہیں ہو سکتے اور یہاں ہمیشہ "جس کی لاٹھی، اس کی بھینس" کے مصداق، جنگل کا قانون ہی نافذ رہے گا۔

فلم آئینہ (1977)

1977ء کے اس سیاسی بحران سے سب سے زیادہ فائدہ، ایک فارمولا ٹائپ چربہ اردو فلم آئینہ (1977) نے اٹھایا جو کراچی میں مسلسل پانچ سال اور 401 ہفتے تک چلتی رہی تھی۔۔!

آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ سب کیسے ہوا۔۔؟

فلم آئینہ (1977)

فلم آئینہ، 18 مارچ 1977ء کو کراچی کے 22 اور حیدرآباد کے 3 سینماؤں کے علاوہ پنجاب سرکٹ کے ڈیڑھ درجن سینماؤں میں بیک وقت ریلیز ہوئی تھی۔

7 مارچ 1977ء کے عام انتخابات کے بعد ریلیز ہونے والی یہ پہلی اور اس سال کی 13ویں فلم تھی۔

فلم آئینہ (!977) کا ایک اخباری اشتہار

اسی دن، ایک پنجابی فلم دلدارصدقے بھی ریلیز ہوئی۔ ایک ہفتہ بعد پنجابی فلم آخری میدان (1977) کی نمائش بھی ہوئی۔ ان تین فلموں کے بعد اگلے دو مہینوں یعنی اپریل اور مئی 1977ء میں کوئی فلم ریلیز نہیں ہوئی۔

اس سیاسی بحران میں اپوزیشن کے "اضافی" مطالبے یعنی "نظامِ مصطفیٰ ﷺ کے نفاذ" کی شرائط مانتے ہوئے بھٹو حکومت نے شراب اور جوئے پر پابندی کے علاوہ اتوار کی بجائے جمعہ کی چھٹی کر دی تھی۔

اس سے یہ ہواکہ پہلے فلمیں جمعہ کے روز ریلیز ہوتی تھیں لیکن امنِ عامہ کی صورتحال بحال ہونے پر 9 جون 1977ء کو ریلیز ہونے والی پہلی دونوں فلمیں، اپریل فول اور دادا (1977)، جمعرات کے روز نمائش کے لیے پیش کی گئیں۔ یہ سلسلہ کچھ عرصہ تک چلا لیکن ناکام رہا۔

1970 کی دھائی میں اوسطاً ہر ہفتے دو فلمیں ریلیز ہوتی تھیں لیکن اس کشیدہ سیاسی صورتِ حالات میں پونے تین ماہ میں صرف تین فلمیں ہی ریلیز ہوسکیں۔

نئی فلمیں ریلیز نہ ہونے کی وجہ سے لوگ تفریح کے لیے ریلیز شدہ فلمیں دیکھنے پر مجبور تھے۔ گو اس دوران کرفیو، ہنگاموں اور ہڑتالوں کی وجہ سے بہت سےشو نہیں بھی ہوئے لیکن کراچی کے سینماؤں میں ریلیزشدہ فلم آئینہ (1977) کو ان حالات میں سب سے زیادہ فائدہ ہوا اور وہ بہت سے سینماؤں سے چپکی رہی اور اس طرح سے اس کے کل ہفتوں میں بھی اضافہ ہوتا رہا۔

ان دنوں میں فلم آئینہ (1977) کے دو دلچسپ اشتہارات اخبارات میں شائع ہوئے جن میں سے ایک ڈرائیوان سینما کا تھا جو یہ بتا رہا تھا کہ وہ، کرفیو کی زد میں نہیں آتے، اس لیے اس سینما پر شو جاری ہیں۔ یہ کراچی کا ایسا سینما تھا جس میں گاڑی میں بیٹھ کر فلم دیکھی جاتی تھی۔

دوسرے اشتہار میں یہ لکھا تھا: "فلم آئینہ کو وؤٹ دیں، ہمارا منشور 137 منٹ کی خالص رومانٹک اور میوزیکل تفریح ہے۔" پھر وؤٹنگ ٹائمنگ کو"شو ٹائمنگ" لکھا گیا اور پولنگ بوتھ کے طور پر ان سینماؤں کا ذکر ہوا جہاں فلم آئینہ (1977) زیرِنمائش تھی۔

فلم آئینہ (1977) کے پانچ سال

ہدایتکار نذرالاسلام کی بلاک باسٹر فلم آئینہ (1977) کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ مسلسل پانچ سال اور 401 ہفتے چلنے والی واحد پاکستانی فلم ہے۔

ان چار سو ہفتوں کو اگر برسوں میں تقسیم کریں تو آٹھ سال بنتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ فلم کراچی میں 18 مارچ 1977ء سے 14 جنوری 1982ء تک مسلسل زیرِنمائش رہی۔ یہ 4 سال، 9 ماہ اور 27 دن بنتے ہیں۔ پاکستان کی کوئی دوسری فلم اتنا طویل عرصہ تک، ایک ہی شہر میں مسلسل نہیں چلی۔

فلمی جوبلیوں سے بے خبر لوگ تو یہی سمجھیں گے کہ چار سو ہفتوں کے تو آٹھ سال بنتے ہیں پھر حساب میں یہ فرق کیوں ہے۔۔؟

فلم آئینہ(1977) کی گولڈن جوبلی

اس کا تفصیلی جواب تو "جوبلی فلمیں" کے مضمون میں دیا گیا ہے لیکن مختصراً یہ کہ پاکستان میں جوبلی فلموں کے حساب میں صرف ہفتے ہی نہیں بلکہ سینما بھی شمار کیے جاتے تھے۔ مثلاً اس اخباری اشتہار کے مطابق، آئینہ (1977) نے صرف تین ہفتوں میں گولڈن جوبلی کر لی تھی یعنی صرف 3 ہفتوں ہی میں 50 ہفتے مکمل کر لیے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہر سینما کا ایک ایک ہفتہ شمار ہوتا تھا۔

1970 کی دھائی میں اوسطاً ہر ہفتے دو فلمیں ریلیزہوتی تھیں لیکن جب دو ماہ سے زائد عرصہ تک کوئی فلم ریلیز نہیں ہوئی تو جن سینماؤں پر فلم آئینہ (1977) لگی ہوئی تھی، لگی رہی۔ اس طرح ہر سینما کا ایک ایک ہفتہ بھی شمار ہوتا رہا اور اس فلم کے مجموعی ہفتوں میں ہوشربا اضافہ ہوتا رہا۔

فلم آئینہ (1977)، اپنی ریلیز کے پہلے ہفتے میں کراچی کے 22 سینماؤں میں ریلیز ہوئی اور اس لیے اس کے 22 ہفتے شمار کر لیے گئے۔ یہاں تک کہ اس اشتہار کے مطابق، تیسرے ہی ہفتے میں 52 ہفتے کرتے ہوئے 13 سینماؤں میں چل رہی تھی۔

اب اچھے اور ذہین بچوں کی طرح حساب کا ایک سوال حل کریں گے:

    " اگر ایک فلم اپنی نمائش کے تیسرے ہی ہفتے میں 52 ہفتے کرلے اور 13 سینماؤں میں مسلسل چل رہی ہو تو بتائیں کہ دوسرے ہفتے میں کتنے ہفتے چلی ہوگی جبکہ پہلے ہفتے میں 22 سینماؤں میں ریلیزہوئی تھی۔۔؟"

اس سوال کا جواب کچھ اس طرح سے حل کیا جائے گا:

    پہلا ہفتہ: 22 سینما
    دوسرا ہفتہ: ؟ سینما
    تیسرا ہفتہ: 13 سینما
    تین ہفتوں کے کل: 52 ہفتے یا سینما
    پہلے ہفتے کے سینما جمع تیسرے ہفتہ کے سینما: کل 35 سینما (13+22)
    تین ہفتوں کے سینما منفی پہلے اور تیسرے ہفتوں کے سینما: کل 17 سینما (35-52)
    حاصل جواب: یہ فلم اپنے دوسرے ہفتے میں 17 سینماؤں میں چل رہی تھی۔۔!

فلم آئینہ (1977) کا بزنس

قدرتی بات ہے کہ جب ایک فلم اتنا طویل عرصہ چلی ہو تو اس کا بزنس بھی سب سے زیادہ ہونا چاہیے، لیکن ایسا نہیں ہے۔۔!

فلم آئینہ (1977)، اپنے مین تھیٹر بمبینو سینما پر مسلسل 48 ہفتے چلی جو کراچی کی حد تک کسی بھی فلم کا کسی بھی مین تھیٹر پر چلنے کا ریکارڈ ہے۔ اس سے یہ حقیقت بھی آشکار ہوئی کہ کراچی میں کبھی کوئی فلم خالص گولڈن جوبلی تک نہیں منا سکی یعنی کبھی کسی فلم نے مرکزی سینما پر 50 ہفتے مسلسل چلنے کا ریکارڈ قائم نہیں کیا۔

فلم آئینہ (1977) کے 240 پفتئ

صدر آصف علی زرداری کے والد حاکم علی زرداری کی ملکیت مرکزی سینما بمبینو کے بعد فلم آئینہ (1977) کو اسی بلڈنگ میں واقع ایک منی سینما، سکالا، میں منتقل کر دیا گیا تھا جہاں یہ فلم مزید چار سال تک چلتی رہی تھی۔ یہ سینما VIP یا سپیشل شو کے لیے مختص تھا جس میں صرف 144 سیٹیں تھیں جبکہ ایک عام سینما میں چھ سے سات سو کے قریب سیٹیں ہوتی تھیں۔

اب ایک اور حساب لگاتے ہیں۔ اب کی بار سوال ذرا مشکل ہے، ذہن کو الجھانے کی بجائے کیلکو لیٹر استعمال کرنے کی اجازت ہے:

    "اگر ایک سینما کی 144 سیٹیں ہوں اور وہاں روزانہ 3 اور ہر اتوار کو 4 "ہاؤس فل" شو ہوں تو بتائیں کہ 4 برسوں میں کل کتنے لوگ اس سینما میں فلم دیکھ پائیں گے۔۔؟"

اس مشکل سوال کا جواب کچھ اس طرح سے حل ہوگا:

    سینما کی کل: 144 سیٹیں
    روزانہ: 3 شو
    اتوار کے: 4 شو
    ایک ہفتے کے کل: 22 شو (3x6=18+4)
    ایک سال میں کل: 52 ہفتے
    ایک سال کے کل: 1.144 شو (22x52)
    ایک سال میں کل: 164.736 فلم بین (1144x144)
    حاصل جواب: 4 سال میں کل: 658.944 فلم بین (164736x4) ہوں گے۔

گویا فلم آئینہ (1977) کو روزانہ فل ہاؤس سکالا سینما کراچی میں چار برسوں میں ساڑھے چھ لاکھ افراد نے دیکھا تھا۔ یہ تعداد صرف ایک سال میں ان عام سینماؤں میں بنتی ہیں جہاں کم از کم چھ سو سیٹیں ہوتی تھیں۔

بمبینو سینماکراچی میں 801 سیٹیں تھیں جہاں فلم آئینہ (1977) نے کل 48 ہفتے چلنے کاریکارڈ قائم کیا تھا۔ گویا صرف اس ایک سال میں اس سینما پر ساڑھے آٹھ لاکھ کے قریب لوگوں نے فلم آئینہ (1977) دیکھی تھی۔ کراچی کے دیگر سینماؤں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔

یہاں یہ ذکر بھی ہو جائے کہ لاہور کے شبستان سینما کی 715 سیٹیں تھیں جہاں مولاجٹ (1979)، مسلسل دو سال تک زیرِنمائش رہی اور "خالص ڈائمنڈجوبلی" یا سو ہفتے کیے تھے۔ گویا ان دو برسوں میں قریباً سولہ لاکھ افراد نے صرف اس ایک سینما پر یہ فلم دیکھی جو بمبینو اور سکالا سینماؤں کی کل تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ باقی پنجاب سرکٹ کے سینماؤں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔

جوبلیوں کی جعل سازی

پاکستانی میڈیا میں فلموں کی جوبلیوں کے معاملات میں کس قدر جعل سازی ہوتی تھی، اس کی ایک مثال فلم آئینہ (1977) کا زیرِنظر اشتہار ہے جو لاہور کے کسی اخبار میں شائع ہوا تھا۔ اس میں نمایاں حروف میں "31واں" رومانی ہفتہ لکھا ہوا ہے جب کہ اوپر "تمام سرکٹ میں" بھی لکھا ہوا ہے۔

لاہور میں فلم آئینہ (1977) کی نمائش
اب جو لوگ میڈیا کو نہیں جانتے یا فلمی جوبلیوں سے ناواقف ہیں، وہ تو یہی سمجھیں کہ یہ اشتہار فلم آئینہ (1977) کی سلورجوبلی کا ہے۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ جس طرح سے سینماؤں کو ملا کر فلموں کے ہفتے بنائے جاتے ہیں، اسی طرح یہ جعلسازی بھی ہوتی تھی کہ پورے پنجاب یا پاکستان کے سینماؤں کو ملا کر ہفتے بنا لیے جاتے تھے جیسا کہ اس اشتہار میں ہوا ہے۔

اصل میں یہ اشتہار فلم آئینہ (1977) کی پنجاب سرکٹ میں ریلیزکا دوسرا ہفتہ ہے جس میں یہ فلم پنجاب بھر کے 14 سینماؤں میں چل رہی تھی۔ کلیہ وہی اوپر والا ہے کہ 31 میں سے14 نکالیں تو باقی 17 بچتے ہیں۔گویا پہلے ہفتے میں یہ فلم پنجاب سرکٹ کے 17 سینماؤں میں چل رہی تھی اور دوسرے ہفتے میں 14 میں۔ "تمام سرکٹ" کو ملا کر 31 ہفتے بن جاتے ہیں۔

فلمی اشتہارات میں جعلی ہفتوں کو جاننے کا ایک سادہ سا فارمولا یہ ہے کہ جب کوئی فلم کوئی بڑی جوبلی مناتی ہے تو وہ لاہور یا کراچی کے اتنے زیادہ سینماؤں میں نہیں چل رہی ہوتی۔

پنجاب میں اردو فلموں کا سرکٹ بڑے شہروں تک محدود ہوتا تھا اور ناکام فلمیں عام طور پر چھوٹے شہروں اور قصبوں کے سینماؤں میں کم ہی دیکھنے کو ملتی تھیں۔ فلم آئینہ (1977)، لاہور کے علاوہ راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد (جو اس وقت لائل پور کہلاتا تھا)، سیالکوٹ، گوجرانوالہ،سرگودھا اور گجرات کےسینماؤں میں چل رہی تھی اور جب یہاں نمائش ختم ہوئی تھی تو تب سرکٹ کے دیگر سینماؤں کی باری آئی تھی کیونکہ اس دور میں ہر سینما تک فلم کا پرنٹ پہنچانا ہوتا تھا اور ایک فلم کے عام طور پر تیس کے قریب پرنٹ نکلوائے جاتے تھے۔

فلم آئینہ (1977) کی کہانی

ہدایتکار نذرالاسلام کی شاہکار رومانٹک اور نغماتی اردو فلم آئینہ (1977)، بظاہر ایک فارمولا ٹائپ کہانی ہے جو عشق و محبت کی کہانیوں کے تین روایتی کرداروں یعنی ہیرو، ہیروئن اور ولن کے گرد گھومتی ہے۔

شھنم، ندیم،نمو، قوی،بہار اور ناصرہ فلم آئینہ (1977) میں

فلم آئینہ (1977)، ایک آزاد خیال لڑکی (شبنم) کی کہانی ہے جو اپنے امیر باپ (ریحان) کی شدید مخالفت کے باوجود بغاوت کرتے ہوئے ایک عام لیکن انتہائی خوددار نوجوان (ندیم) سے محبت کی شادی کر لیتی ہے۔ وقت کے ساتھ جنون کچھ کم ہوتا ہے تو دنیا داری اور روزمرہ ضروریات کے تقاضے شدید اختلافات پیدا کر دیتے ہیں اور ایک دن خاوند، غصہ میں آکر بیوی کو گھر سے نکال دیتا ہے۔

کینہ پرور باپ، موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی گھناؤنی چال چلتا ہے اور جب خاوند، اپنی بیوی کو منانے کے لیے آتا ہے تو یہ کہہ کر گھر سے نکال دیتا ہے کہ اس کی بیوی طلاق چاہتی ہے۔ بیٹی کے سامنے بھی جھوٹ بولتا ہے کہ اس کے خاوند نے اس کو بھرے مجمع میں طلاق دے دی ہے۔

باپ کے لیے بہت بڑا چیلنج یہ ہوتا ہے کہ اس کی بیٹی، امید سے ہوتی ہے جو اس کی دوسری شادی کے لیے ایک رکاوٹ ہوتی ہے۔ ایک دوردراز پہاڑی مقام پر حمل ضائع کروانے میں ناکامی کے بعد، نومولود بچے کو یتیم خانے بھیجنے کا سوچتا ہے لیکن اتفاق سے وہیں بچے کا باپ آ جاتا ہے جسے اس شرط پر بچہ مل جاتا ہے کہ وہ کہیں دور چلا جائے گا اور اس کی بیٹی کو خبر تک نہ ہونے دے گا۔ زچہ کو یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کے ہاں مردہ بچہ پیدا ہوا ہے۔

بچے کی جدائی میں ماں کا برا حال ہوتا ہے جو کئی سال بعد اپنے ماں باپ کے ساتھ اس کی قبر دیکھنے کے لیے اس مقام پر جاتی ہے جہاں اس کو مبینہ طور پر دفن کیا گیا تھا۔ وہاں، اس کا اصل بچہ نظر آتا ہے جس کو ماں کے سوال پر اس کا باپ، اس کی تصویر دکھاتا ہے جو ہوبہو قبرستان والی عورت کی ہوتی ہے۔ اس موقع پربچہ، اپنی ماں کا پیچھا کرتے ہوئے فلم کا تھیم سانگ "مجھے دل سے نہ بھلانا۔۔" گاتا ہے جو اس نے اپنے باپ سے کئی بار سنا تھا اور اس کے باپ نے اس کی ماں کے ساتھ بھی گایا تھا۔

ماں (شبنم)، اس جانے پہچانے گیت کی کشش میں بچے (شاہ زیب) کا پیچھا کرتی ہے جہاں اس کی ملاقات اچانک اپنے بچھڑے ہوئے خاوند (ندیم) سے ہو جاتی ہے۔ گلے شکوے ہوتے ہیں اور یہ راز کھلتا ہے کہ ان کی جدائی اور غلط فہمی، باپ کی کارستانی ہے۔ اس موقع پر ماں باپ (بہار اور ریحان) بھی نادم ہو کر پہنچ جاتے ہیں۔ بچھڑے ہوئے اپنے بچے سمیت مل جاتے ہیں اور فلم کا خوشگوار اختتام ہو جاتا ہے۔

شبنم، ندیم اور شاہزیب فلم آئینہ(1977) میں

فلم آئینہ (1977) کی کردار نگاری

شبنم

شبنم نے حسبِ معمول فلم آئینہ (1977) میں فرسٹ ہیروئن کا رول کیا اور خوب کیا لیکن چہرے مہرے سے تروتازہ نوجوان لڑکی نہیں لگتی تھی۔ فلم کے آخری مناظر میں ایک دکھی ماں کے کردار میں اس کی کارکردگی لاجواب تھی حالانکہ سنجیدہ اداکاری میں اوور ایکٹنگ کے لیے مشہور تھی۔

عام طور پر کسی فلمی ہیروئن کی فنی عمر نو دس سال سے زیادہ نہیں ہوتی لیکن شبنم، اردو فلم بینوں میں اس قدر مقبول تھی کہ اس نے اچھا خاصا اوور ٹائم بھی لگایا تھا۔

شبنم، 1959ء میں ایک بنگالی فلم میں متعارف ہوئی اور پہلی اردو فلم چندا (1962) تھی۔ ہیروئن کے طور پر سولہ سترہ سال سے کام کر رہی تھی۔ کلوزاپ میں عمررسیدہ لگتی تھی۔ شاید اسی لیے اس کا بڑا گہرا میک اپ کیا جاتا تھا، سر پر بڑی بے ہنگم وگ لگائی جاتی تھی۔ شرمناک صورتحال وہ ہوتی تھی جب اس کے ماتھے پر بندیا چپکائی جاتی تھی جو کسی مسلمان کردار کی نشانی نہیں ہوسکتی۔

شبنم کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ اس کے انتہائی خوبصورت اور انتہائی متناسب جسم پر ہر طرح کا پہناوا بہت اچھا لگتا تھا۔ پینٹ شرٹ میں تو قیامت ڈھاتی تھی۔ اس فلم کے بعض مناظر میں بھی بڑی پرکشش نظر آئی۔

اس سال کی دونوں ڈائمنڈجوبلی فلموں، آئینہ اور اف یہ بیویاں (1977) کی ہیروئن شبنم تھی۔ شمعِ محبت، سنگم، میرے حضور اور نیا سورج (1977)، اس کی دیگر فلمیں تھیں۔

ندیم

ندیم کے فلم آئینہ (1977) میں ہیرو اور ایک خوددار شخص کے کردار نے بڑے گہرے اثرات مرتب کیے تھے۔ سننے میں آیا تھا کہ ان کو ہوٹل ریسیپشنٹ کے کردار میں دیکھنے کے بعد ایسی جاب کے خواہش مندوں کی تعداد بڑھ گئی تھی۔ اس کے علاوہ 1970 کی دھائی میں موٹر سائیکل عام ہونے لگے جو اس فلم میں نوجوانوں کی توجہ کا مرکز بن گئے تھے۔ اس سے پہلے عام طور پر نیلے رنگ کے ویسپا سکوٹر ہوتے تھے جن سے میری بڑی گہری یادیں وابستہ ہیں۔

شبنم کے ساتھ ندیم کی 50 فلموں میں سے یہ 31ویں فلم تھی۔ باکس آفس پر اردو فلموں کی یہ کامیاب ترین جوڑی تھی۔

دلچسپ اتفاق ہے کہ 1977ء کی فلم آئینہ، ندیم کی 77ویں فلم تھی۔ پہلی فلم چکوری (1967) تھی۔

اس سال، انھوں نے کل ایک درجن فلموں میں کام کیا۔ کویتا کے ساتھ محبت ایک کہانی (1977) بھی ایک کامیاب فلم تھی جبکہ عشق عشق، سنگم، درد، روٹی کپڑا اور انسان اور بڑےمیاں دیوانے (1977) اوسط درجہ کی فلمیں تھیں۔ ایک ناکام فلم پرستش (1977) میں وحیدمراد کے مقابل فرسٹ ہیرو تھے جبکہ فلم محبت مر نہیں سکتی (1977)، صرف ایک ہفتہ ہی میں سینماؤں سے فارغ ہوگئی تھی حالانکہ اس فلم کا میڈم نورجہاں، مہدی حسن اور تصورخانم کا یہ گیت سپر ہٹ ہوا تھا: "تو میری زندگی ہے، تو میری ہر خوشی ہے، تو ہی پیار، تو ہی چاہت، تو ہی بندگی ہے۔۔"

ریحان

ریحان نے فلم آئینہ (1977) میں ایک سخت گیر باپ کا کردار بخوبی ادا کیا۔ وہ ایک سینئر اداکار تھے۔ پہلی فلم نویلی (1952) میں ہیرو تھے لیکن عام طور پر فلموں میں چھوٹے موٹے کرداروں میں نظر آتے تھے۔ فلم زندہ لاش (1967) میں ڈریکولا کا رول ان کی زندگی کا یادگار ترین رول تھا۔

ان کے علاوہ بہار نے شبنم کی ماں کا کردار کیا۔ دیگر معاون اداکار، مہمان اداکار ہی تھے جن میں نمو، قوی، زرقا، حنیف، ناصرہ، خالدسلیم موٹا، مینا داؤد اور ابراہیم نفیس قابلِ ذکر ہیں۔

فلم آئینہ (1977) کی کہانی میں جھول

فلم آئینہ (1977) کی کہانی طبع زاد نہیں تھی، اس لیے ایک چربہ فلم کو پاکستانی قالب میں ڈھالنے کے لیے بشیرنیاز نے بڑی محنت کی ہوگی۔ اس مضمون کی تیاری میں یہ فلم دو بار دیکھنا پڑی۔ پہلی بار چندجھول نظر آئے جنھیں کنفرم کرنےکے لیے دوبارہ فلم دیکھی۔

  • کیا نشے کی حالت میں گاڑی چلائی جا سکتی ہے؟

    فلم آئینہ (1977) میں پہلا جھول فلم کے ٹائٹل ہی سے شروع ہو جاتا ہے جب شبنم، کراچی کی مختلف سڑکوں پر رات کے وقت انتہائی نشے کی حالت میں بغیر کسی حادثے کے تیزرفتار گاڑی چلا رہی ہوتی ہے۔
    شبنم اور ندیم
    دلچسپ بات یہ ہے کہ بحفاظت اپنے مطلوبہ ہوٹل پر پہنچ کر ہی ایک کار پارکنگ کے بورڈ کو ہٹ کرتی ہے۔ ہوٹل میں داخل ہو کر ریسیپشنٹ ندیم کے کاؤنٹر پر لڑکھڑاتے ہوئے جا گرتی ہے اور کمرہ بک کرواتی ہے۔ اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتی، بہکی بہکی باتیں کرتی ہے اور ندیم کے سہارے اپنے کمرے تک جاتی ہے لیکن اسے یہ بھی یاد ہے کہ نشے کی حالت میں گھر نہیں جا سکتی۔ باتھ روم میں ٹب کا پانی کھول کر بھول جاتی ہے کہ پانی، پورے کمرے میں پھیل گیا ہے جس کو بند کر کے ندیم، اس کو برہنہ حالت میں دیکھ کر اس کے بیڈ تک پہنچاتا ہے۔
    ٭ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو شخص اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتا کیا وہ گاڑی چلا سکتا ہے۔۔؟
    یورپ کے بیشتر ممالک میں شراب ایک قومی مشروب ہے لیکن ڈرائیونگ کے لیے بڑی سخت پالیسی اپنائی جاتی ہے۔ جرمنی، فرانس اور سپین سمیت ڈنمارک میں بھی نشہ کی حد صفر اعشاریہ پانچ گرام فی لیٹر مقرر ہے یعنی آپ کے جسم میں جتنا خون ہے، اس میں اگر فی لیٹر 5 گرام الکحل بھی شامل ہوجائے تو گاڑی چلانے پر جرمانہ ہوتا ہے اور اگر اس سے زیادہ ہو تو لائسنس تک چھن جاتا ہے اور جیل بھی ہو سکتی ہے۔
  • سنگدل باپ کی بیٹی سے پٹائی

    فلم آئینہ (1977) کے آخر میں ایک بیٹی، انتہائی غیض و غضب کے عالم میں اپنے باپ کے چہرے پر تھپڑوں کی بارش کر دیتی جو ہماری فلموں یا سماج میں ایک انہونی سی بات ہے۔ ماں باپ، جتنے بھی قصوروار ہوں، کوئی گئی گزری اولاد بھی تصور تک نہیں کر سکتی کہ ان پر ہاتھ اٹھایا جائے۔
    اس کے علاوہ فلمی باپ بھی بڑا سنگدل ہے کہ اپنی خوبصورت اور پڑھی لکھی بیٹی کی شادی ایک نیم پاگل شخص سے کرنا چاہتا ہے حالانکہ ایک امیر شخص ہونے کی وجہ سے بہتر سے بہتر رشتہ مل سکتا ہے۔ بھارتی فلم میں لڑکی کی شادی ایک ڈاکٹر سے ہونا ہوتی ہے جو قابلِ فہم ہوتا ہے۔
  • طلاق کے بغیر دوسرا نکاح۔۔؟

    فلم آئینہ (1977) کی کہانی میں سب سے بڑا جھول اس وقت نظر آتا ہے جب ندیم، اپنے بچے کو ریحان سے لے لیتا ہے لیکن اس پر اعتراض نہیں کرتا کہ اس کی بیوی بغیر طلاق کے دوسرا نکاح کیسے کر سکتی ہے کیونکہ اس نے طلاق تو دی ہی نہیں ہوتی۔ یہ منظر دیکھ کر بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ فلم کی کہانی، پاکستانی معاشرے سے تعلق نہیں رکھتی اور کہیں سے کاپی کی گئی ہے۔ بھارتی فلم میں بچہ بغیر شادی کے پیدا ہوتا ہے۔

فلم آئینہ (1977) کی موسیقی

فلم آئینہ (1977) کے گیت

فلم آئینہ(1977) میں موسیقار روبن گھوش کی موسیقی بڑی جاندار تھی۔ تسلیم فاضلی، اختریوسف اورسرور بارہ بنکوی کے گیت تھے۔ فلم کا مقبول ترین گیت مہدی حسن کی آواز میں تھا: "کبھی میں سوچتا ہوں، کچھ نہ کچھ کہوں، پھر یہ سوچتا ہوں، کیوں نہ چپ رہوں۔۔"

فلم کا تھیم سانگ "مجھے دل سے نہ بھلانا، چاہے روکے یہ زمانہ۔۔"،تین بار سننے کو ملتا ہے۔ مہدی حسن کواس گیت پر نگار ایوارڈ ملا لیکن یہی گیت مہناز اور عالمگیر کی آوازوں میں بھی تھا اور مجھے ذاتی طور پر، مہدی حسن کے مقابلے میں عالمگیر کی آواز میں زیادہ جان نظر آئی البتہ بچے پر فلمایا ہوا نیرہ نور کا گیت اپنے جذباتی منظر کی وجہ سے زیادہ پراثر تھا۔

فلم آئینہ (1977) کے دیگر دونوں کورس گیتوں میں خاصی یکسانیت پائی جاتی ہے۔ "وعدہ کرو ساجنا۔۔" اور "حسین وادیوں سے پوچھو۔۔" بالترتیب مہناز، عالمگیر اور نیرہ نور، اخلاق احمد کی آوازیں ہیں۔

اس فلم میں مجھے ذاتی طور پر نیرہ نور کا گیت "روٹھے ہو پھر تم کو کیسے مناؤں پیا، بولو نہ۔۔" بہت پسند آیا تھا۔ اس کی فلمبندی بھی زبردست تھی۔ خاص طور پر جب روٹھے ہوئے ندیم کےسامنے "جنگ" اخبار ہوتا ہے تو منانے والی شبنم نے "امن" اخبار کا بندوبست کیا ہوا ہوتا ہے۔

فلم آئینہ (1977) کا ایک اشتہار

فلم آئینہ (1977)، ایک چربہ فلم۔۔؟

فلم آئینہ (1977)، پہلی بار اپنےآبائی شہر کھاریاں کےسنگم سینما میں دیکھی تھی۔ فلم دیکھ کر ہی اندازہو گیا تھا کہ اس کی کہانی ہالی وڈ کی کسی فلم سے ماخوذ ہو گی۔

جس طرح پنجابی فلموں میں ایکشن اور مجرےسے کبھی دلچسپی نہیں رہی، ایسے ہی اردو فلموں میں گلیمر اور تصنع سے سخت چڑ ہوتی تھی۔ عام طور پر پاکستانی اردو فلموں کی ہیروئنوں کے ماتھے پر بندیا زہر لگتی تھی کیونکہ یہ خالصتاً ہندوآنہ علامت ہے جس کا ہمارے مسلم تہذیب و تمدن سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔

بدقسمتی سے ہماری بیشتر اردو فلمیں کسی نہ کسی بھارتی فلم کی کاپی ہوتی تھیں جس پر بڑی سخت شرمندگی محسوس ہوتی تھی جنھیں دیکھ کر اپنے ایک انڈین کلاس فیلو کایہ طنزیہ جملہ یادآ جاتا تھا کہ "تمہاری پاکستانی اردو فلمیں تو ہندوستانی فلمیں لگتی ہیں۔۔!"

اس مضمون کی تکمیل میں یہ فلم دو بار دیکھی۔ پہلی بار فلم میں متعدد جھول نظر آئے۔ دوسری بار یہ فلم اس لیے بھی دیکھنا پڑی کہ وکی پیڈیا کےبقول، فلم آئینہ (1977)، بھارتی فلم آ گلے لگ جا (1973) کی کہانی سے ماخوذ ہے۔

دیگر ذرائع کے مطابق پاکستانی فلم آئینہ (1977) کی کہانی، چار بھارتی فلموں، آ گلے لگ جا اور بوبی (1973)، کورا کاغذ (1974) اور آندھی (1975) کی کہانیوں کا ملغوبہ ہے۔

حقائق کی تلاش میں بھارتی فلم آ گلے لگ جا (1973) بھی دیکھنا پڑی اوروکی پیڈیا کی بات درست نکلی۔

بھارتی فلم کی بولڈ کہانی کافی طویل تھی جس میں شرمیلا ٹیگور، ششی کپور اور اوم پرکاش کے کردار فلم آئینہ (1977) میں بالترتیب، شبنم، ندیم اور ریحان نےکیے۔ ہماری فلم میں چائلڈ سٹار شاہ زیب کا کردار زیادہ نہیں تھا لیکن بھارتی فلم میں جس بچے نے یہ رول کیا، وہ بڑا جاندار اور انتہائی قابلَ تعریف تھا۔

فلم آئینہ (1977) کےاخباری اشتہارات میں فلم کے مصنف کے طور پر بشیرنیاز کا نام ملتا ہے لیکن فلم کے ٹائٹل پر انھیں صرف منظرنامہ (سکرین پلے) اور مکالمہ نگاری (ڈائیلاگ) کا کریڈٹ ہی دیا گیا ہے اور ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہانی نویس کے طور پر کسی کو کریڈٹ نہیں دیا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 1977ء کی فلموں میں کہانی نویس کا نگارایوارڈز بھی بشیرنیاز کو نہیں ملا البتہ انھیں خوش کرتے ہوئے اس فلم کو تھوک کے حساب سے دیے گئے 12 میں سے بہترین سکرین پلے رائٹر کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔

"الٹے بانس بریلی کو" کے مترادف فلم آئینہ (1977) کو قریباً سین ٹو سین، بھارتی فلم پیار جھکتا نہیں (1985) میں کاپی کیا گیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وکی پیڈیا پر یہ تو درج ہے کہ فلم آئینہ (1973) کی کہانی کس بھارتی فلم سے ماخوذ ہے لیکن یہ بتانے میں شاید دانستہ ڈنڈی ماری گئی ہے کہ خود بھارتی فلم کس فلم کی کاپی تھی۔ وہاں لکھا ہوا ہے کہ یہ فلم، سال کی دسویں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم تھی اور اس کا مختلف بھارتی زبانوں میں ری میک بننے کے علاوہ الجزائر کے فلم بینوں پر بڑا گہرا اثر تھا۔

فلم آئینہ (1977) کی کہانی پر AI تحقیق

شبنم اور ندیم

ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں کہ جہاں معلومات تک رسائی بہت آسان ہو چکی ہے اور معاملات کی تہہ تک پہنچنا آسان ہوگیا ہے۔ انٹرنیٹ پر مختلف ویب سائٹس ہی کیا کم تھیں کہ اب AI کا دور دورہ ہے جس میں صرف ایک سوال پر انٹرنیٹ پر موجود تمام تر مواد کا خلاصہ ایک ہی جگہ مل جاتا ہے۔

وکی پیڈیا پر یکطرفہ معلومات سے مایوس ہو کر فلم آئینہ (1977) کی کہانی کے ماخذ کی تلاش میں "مصنوعی ذہانت" کو زحمت دی تو پہلا جواب یہی ملا کہ بھارتی فلم آ گلے لگ جا (1973)، ایک بنگالی فلم Sesh Anka (1964) کا ری میک تھی۔

جواب، تسلی بخش نہیں تھا، دوبارہ کوشش کی اور "آرٹیفیشل انٹیلیجنس" کو یاد دلایا کہ فلم کی کہانی تو انڈین نہیں لگتی۔۔؟

اپنے نامکمل جواب پر Deepseek نے نہ صرف معذرت کی بلکہ بھارتی فلموں کی کہانیوں کے ماخذ کا اشارہ دینے پر شکریہ بھی ادا کیا اور مزید گہرائی میں جاتے ہوئے بتایا کہ اصل میں بھارتی فلم آ گلے لگا جا (1973) کی کہانی ایک ہالی وڈ فلم A Farewell to Arms (1932) سے ماخوذ ہے۔ یہ فلم ایک امریکی ناول نگار Ernest Hemingway کے 1929ء میں لکھے ہوئے اسی نام کے ناول پر بنائی گئی تھی۔ اس کے بعد دنیا بھر میں مزید فلمیں، ٹی وی اور سٹیج ڈرامے وغیرہ بھی اس کہانی سے ماخوذ رہے ہیں۔

فلم سلاخیں (1977)

اس سال کی سبھی اردو فلموں میں سے مجھے ذاتی طور پر فلم سلاخیں (1977)، سب سے زیادہ پسند آئی تھی۔

فلم سلاخیں (1977)

اس فلم میں محمدعلی اور بابرہ شریف نے جذباتی اداکاری کا ایک ایسا معیار مقرر کیا کہ جس کا اس دور میں کوئی دوسرا ثانی نہیں تھا۔

مہدی حسن کا گایا ہوا گیت "تیرے میرے پیار کا ایسا ناطہ ہے، دیکھ کے صورت تیری، دل کو چین آتا ہے۔۔" بڑے زبردست تاثرات کے ساتھ محمدعلی صاحب پر فلمایاگیا تھا۔ یہی گیت مہنازکی آواز میں بابرہ شریف پرفلمایا جاتا ہے جوفلم کی ہائی لائٹ ثابت ہوتا ہے۔

اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ مسلسل آٹھ پنجابی فلموں کے بعد حسن عسکری کی یہ پہلی اردو فلم تھی جس نے کراچی میں گولڈن جوبلی اور لاہور میں سلورجوبلی منائی تھی۔ یہ فلم بھی ری میک تھی اور ایک فرانسیسی ادیب کی کہانی پر بنائی گئی تھی جس کو بھارت میں کندن (1955) کے نام سے بنایا گیا تھا۔

فلم ٹیپو سلطان (1977)

پاکستان میں بنائی گئی تاریخی موضوعات پر فلمیں عام طور پر بری طرح سے ناکام رہی ہیں جس کی بڑی وجہ "عوامی" اور "قومی" سوچ میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ہمارے تاریخ دان، تاریخی واقعات کو جس انداز میں بیان کرتے ہیں، وہ لہو گرم رکھنے کا ایک بہانہ تو ہو سکتا ہے لیکن حقیقت سے اس کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

4 نومبر 1977ء کو ریلیز ہونے والی ہدایتکار رزاق قیصر کی اردو فلم ٹیپو سلطان (1977) بھی ایسی ہی فلموں میں شمار ہوتی ہے جس میں حقائق سےزیادہ جذبات کی اجارہ داری رہی ہے۔ نسیم حجازی کے مشہور ناول "اور تلوار ٹوٹ گئی" پر بنائی گئی اس فلم میں محمدعلی نے ٹائٹل رول کیا تھا۔ ٹیلی ویژن کی ممتاز اداکارہ روحی بانو کی بطورِ فرسٹ ہیروئن یہ اکلوتی فلم تھی جو فلم بینوں کو متاثر نہیں کر سکی تھی۔

فلم ٹیپو سلطان (1977)

ٹیپو سلطان (1751/99ء)، بھارت کی موجود جنوبی ریاستوں کے بیشتر مغربی حصہ میں واقع ایک قدیم ہندو اکثریتی آبادی کی ریاست میسور کے مسلمان حکمران اور انگریز راج کے خلاف آخری مسلم رکاوٹ تھے۔ حیدرآباد دکن اور مراٹھوں کی ریاستیں، ان کی پڑوسی تھیں۔

ٹیپو سلطان کے والد، حیدرعلی (1720/82ء) بھی ریاستِ میسور کے حکمران تھے۔ انھوں نے ایک سپہ سالار کے عہدے سے بغاوت کرتے ہوئے 1761ء میں ہندو راجہ کا تختہ الٹ کر ریاست پر قبضہ کیا اور انگریزوں کے سامنے ایک چٹان کی طرح سے ڈٹ گئے جو پورے ہندوستان کو ہڑپ کر رہے تھے۔

"شیرِمیسور" کہلانے والے ٹیپو سلطان، اپنے باپ کے برعکس ایک ناکام سپہ سالار تھے جو اپنی ریاست کا دفاع تک نہیں کر سکے تھے۔ چند ایک جنگیں جیتیں لیکن 1786ء کی جنگ میں بہت بڑی شکست ہوئی اور آدھی ریاست مراٹھوں کے آگے ہار دی، جس میں دو بیٹے گروی رکھوائے اور لاکھوں روپے تاوان ادا کر کے انھیں بازیاب کروایا پھر 1799ء میں انگریزوں سے فیصلہ کن شکست کھائی اور میدانِ جنگ میں جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کا قول تھا کہ "شیر کی ایک زندگی، گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے۔"

1977ء کی دیگر اہم اردو فلمیں

    اف یہ بیویاں (1977)
  • ہدایتکار ایس سلیمان کی فلم اف یہ بیویاں (1977)، اس سال کی دوسری ڈائمنڈجوبلی فلم تھی جس میں شبنم، شاہد اور نجمہ مرکزی کرداروں میں تھے۔
  • زیبا اور محمدعلی کی آخری سپرہٹ فلم بھروسہ (1977)، کراچی میں صرف ایک ہفتہ کی کمی سے "پلاٹینم جوبلی" نہ کرسکی تھی۔ اس جوڑی کی فلمیں زیادہ سے زیادہ "گولڈن جوبلی" تک پہنچتی تھیں البتہ زیبا کی فلم ارمان (1966)، اکلوتی پلاٹینم جوبلی فلم تھی جس میں اس کے ہیرو وحیدمراد تھے۔
  • 1977ء میں جہاں ندیم، مقبولیت کے سوا نیزے پر تھے وہاںوحیدمراد کے لیے یہ سال انتہائی مایوس کن تھا۔ ان کے فلمی کیرئر کا یہ پہلا موقع تھا جب سولو ہیرو کے طور پر کوئی فلم ریلیز نہیں ہوئی۔ ریلیز شدہ تین فلموں میں سے ایک میں صرف مہمان اداکار تھے۔ پرستش (1977) میں ندیم کے مقابل سیکنڈ ہیرو اور فلم اپنے ہوئے پرائے (1977) میں محمدعلی کے ساتھ تھے۔ اس فلم میں وحیدمراد پر احمدرشدی کا یہ مقبول گیت فلمایا گیا تھا: "اک میں ہی برا ہوں باقی سب لوگ اچھے ہیں۔۔"
  • اداکار اعجاز نے اپنے پہلے دور کی آخری فلم اپریل فول (1977) میں ایک مکمل ولن کا رول کیا۔ ہیروئن آسیہ تھی جس کے ساتھ مشہور ولن اداکار طارق شاہ کو ہیرو کے طور پیش کیا گیا تھا۔
    فلم اپریل فول (1977) میں آسیہ اور طارق شاہ
  • ہدایتکار مسعودپرویز کی اردو فلم انسان (1977) میں نو موسیقاروں کے نام ملتے ہیں جن میں سے سات موسیقاروں، خواجہ خورشید انور، ماسٹرعنایت حسین، صفدرحسین، اے حمید، ناشاد، نذیرعلی اور کمال احمد نے ایک ایک گیت کمپوز کیا اور سبھی نے اپنےگیت مہناز سے گوائے جو اس وقت اردو فلموں کی مقبول ترین گلوکارہ بن چکی تھی۔ دیگر دو موسیقاروں میں سے وزیرافضل نے پس پردہ موسیقی دی جبکہ وجاہت عطرے نے ایک ڈانس کا میوزک دیا تھا۔
  • ہدایتکار نذرشباب کی فلم سسرال (1977) میں موسیقار ایم اشرف نے مہدی حسن سے ان کے مزاج اور انداز سے ہٹ کر چند شوخ گیت گوائے جن میں سے "بھانڈے کلی کرالو۔۔" گلی گلی گونجا تھا۔
    مہدی حسن، محمدرفیع یا مسعودرانا کی طرح آل راؤنڈ فلمی گلوکار نہیں تھے، ان کی پہچان ایک غزل گائیک کی تھی، اس لیے ان کے لیے ہر طرح کا فلمی گیت گانا ممکن نہیں ہوتا تھا۔ اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔
    اس فلم کے دو گیتوں "میں کہتا ہوں دنیا میں پیار بڑی چیز ہے۔۔" اور "دھمادھم تڑک۔۔" میں بھی ان کی معاونت کے لیے رجب علی کی خدمات حاصل کی گئیں حالانکہ یہ دونوں گیت اکیلے احمدرشدی گا سکتے تھے جو کامیڈی گیتوں کے شہنشاہ تھے لیکن اس وقت روبہ زوال تھے۔
  • شاہداور خالدسلیم موٹا فلم سسرال (1977)
  • موسیقار کمال احمد کی شاگرد جوڑی، چندرموہن بیلی رام نے پہلی بار فلم یادوں کی بارات (1977) کی موسیقی ترتیب دی۔ پاکستانی فلموں میں یہ پہلی ہندو موسیقار جوڑی تھی جنھوں نے چند مزید فلموں کی موسیقی دی لیکن زیادہ کامیابی نہیں ہوئی۔
    ان سے قبل ایک ہندو اور بنگالی موسیقار دیبو بھٹاچاریہ تھے جو بنجارن (1962)، بدنام (1966) اور بازی (1970) جیسی فلموں کی موسیقی کی وجہ سے جانے جاتے تھے لیکن وہ اپنے استاد تمربرن کے ساتھ ایک فلم انوکھی (1956) کی موسیقی دینے پاکستان آئے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے تھے۔ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد اپنے آبائی وطن چلے گئے تھے۔
  • ہدایتکار حسن طارق کی فلم کالو (1977)، اصل میں "کالو مکرانی" کے نام سے بن رہی تھی لیکن سنسر بورڈ کو اس کے "مکرانی" نام پر اعتراض تھا۔ یہ واحد فلم ہے کہ جس میں مرکزی کردار میں کوئی اقلیتی گروہ کا فرد نظر آیا ہو۔ محمدعلی نے ٹائٹل رول کیا تھا۔
  • پنجابی فلموں کے نامور اداکار کیفی نے بطورِ ہدایتکار 32 فلمیں بنائیں۔ ان میں سے صرف دو اردو فلمیں تھیں۔ بکھرے موتی (1975) کے بعد اس سال روٹی، کپڑا اور انسان (1977)، دوسری اور آخری فلم تھی۔

فلم جبرو (1977)

اس سال کی کامیاب ترین پنجابی فلم جبرو (1977) تھی جس میں یوسف خان نے ٹائٹل رول کیا تھا۔

جبرو (1977)

ہدایتکار وحیدڈار کی اس سپرہٹ فلم میں ممتاز، ہیروئن تھی جبکہ مصطفیٰ قریشی، افضال احمد، بہار اور الیاس کاشمیری دیگر اہم کردار تھے۔

فلم جبرو (1977) نے لاہور میں پلاٹینم جوبلی اور کراچی میں سلور جوبلی کی تھی۔ اس کے گیت بھی بڑے مقبول ہوئے تھے۔

پنجابی فلموں میں انگریز دور کے ڈاکوؤں کو ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے اور یہ سلسلہ اتنا مقبول ہوا کہ ایسی فلمیں بڑی بڑی کامیابیاں سمیٹتی رہی ہیں حالانکہ کہانی میں کوئی نیا پن نہیں ہوتا تھا۔

پاکستان میں اس نوعیت کی پہلی فلم بھی جبرو (1956) ہی تھی جس میں اکمل کو پہلی بار ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ دوسری بار یوسف خان نے جبرو (1977) میں یہ رول کیا اور تیسری بار شان کو جبرو (2004) کے روپ میں دیکھا گیا تھا۔

پاکستانی فلموں میں مشہور ڈاکوؤں کے ناموں پر جو فلمیں بنیں ان میں جبرو پر 6، ملنگی پر 5،نظام پر 5، سلطانا پر 2 اور جگا پر 12 فلموں کے نام ملتے ہیں۔ یہ کل 30 فلمیں بنتی ہیں۔۔!

یوسف خان کی اس سال کی آدھ درجن فلموں میں سےایک اور فلم چورسپاہی (1977) بھی ایک کامیاب فلم تھی جس میں نجمہ اور مصطفیٰ قریشی بھی تھے۔ اس فلم میں غلام عباس کا یہ پنجابی گیت ریڈیو پر سننے کا موقع ملتا تھا: "ڈولی ٹورے کا بھین دی اج ویر پیارا۔۔"

فلم جیرا سائیں (1977)

افسوس کہ پنجابی فلموں کا بزنس ریکارڈ دستیاب نہیں ہے، اس لیے یہ بتانا مشکل ہے کہ کون سی فلم کتنی کامیاب ہوئی البتہ اپنی یادداشت کے سہارے لکھ رہا ہوں کہ کون سی فلمیں زیادہ کامیاب یامشہور ہوئی تھیں۔

جیراسائیں (1977)

سجناں دور دیا (1970)، مستانہ ماہی (1971) اور جیرابلیڈ (1973) جیسی سپرہٹ فلموں میں ہدایتکار افتخارخان کی معاونت کے بعد اس سال ہدایتکار یونس ملک کی بطورِ ہدایتکار پہلی ہی فلم جیراسائیں (1977) سپرہٹ ہوئی تھی۔ اداکارہ نجمہ کے ساتھ سلطان راہی کا ٹائٹل رول تھا جن پر مسعودرانا کا یہ شوخ گیت فلمایا گیا تھا: "تسی ساریاں بھینا ماواں، اک کڑی نوں چھڈ کے۔۔"

سلطان راہی کی اس سال بھی ڈیڑھ درجن فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں بطورِ ہیرو دو اردو فلمیں بھی تھیں۔ فلم شاہین (1977) کے علاوہ فلم جاسوس (1977) میں بھی ممتاز کے ہیرو تھے اور ان دونوں پر اے نیر اور ناہیداختر کا یہ مقبول گیت فلمایا گیا تھا: "ساتھی مجھے مل گیا، مل گیا، مل گیا، رسموں کو توڑیں گے، دنیا کو چھوڑیں گے، دل نے کیا فیصلہ۔۔" اس گیت کی دھن موسیقار طافو نے دوبارہ استعمال کی تھی۔ پہلے فلم گرہستی (1971) میں اسی دھن پر مسعودرانا سے یہ گیت گوا چکے تھے: "نہ جا میرے دلربا۔۔"

سلطان راہی کی اس سال کی پنجابی فلموں میں حسن عسکری کی قانون (1977) بڑی زبردست فلم تھی۔ اس کے علاوہ لاہوری بادشاہ، کون شریف کون بدمعاش اور ڈنکا (1977) کے علاوہ فلم دادا (1977) کی وجہ شہرت میڈم نورجہاں کا یہ ذومعنی اور قابلِ اعتراض گیت تھا: "کجھ پھس گئی اے، تھوڑی پاٹ گئی اے، میرے ویل دی قمیض اج پاٹ گئی اے۔۔" سنسربورڈ کی قینچی کے بعد اس گیت کو اس طرح سے گوایا گیا تھا: "مینوں ڈر لگدا، گھروں مار پوے گی، میری ویل دی قمیض اج پاٹ گئی اے۔۔"

سوہا جوڑا (1977)

سلطان راہی کی بطورِ ہیرو پنجابی فلم خاموش (1977)، جسم فروش لڑکیوں کے بارے میں بڑی منفرد فلم تھی۔ اس فلم میں مسعودرانا، البیلا، رنگیلا اور ساتھیوں کا گایا ہوا ایک کامیڈی/سیاسی کورس گیت قابلِ ذکر تھا: "روٹی، کپڑا، مکان، اسی نئیں منگدے۔۔"

اس سال اقبال حسن کی بھی بطورِ ہیرو دو کامیاب فلمیں تھیں۔ ان میں دلدارصدقے میں آسیہ اور سوہا جوڑا (1977) میں نجمہ ہیروئنیں تھیں۔ سدھیر کی بدرمنیر کےساتھ پنجابی فلم دو چور (1977) بھی ایک کامیاب فلم تھی۔ کمال کی اج دیاں کڑیاں (1977) بھی کامیاب فلم تھی۔ بھٹی برادران کی کوئی فلم کامیاب نہیں ہوئی جبکہ حبیب، معاون کرداروں میں نظر آئے۔ پنجابی ہیروئنوں میں یہ دور آسیہ، ممتاز اور نجمہ کا تھا۔

1977ء کی فلم بینی

ڈنمارک سے واپسی پر 1977ء کا سال، پاکستان میں میرا پہلا مکمل سال تھا جس میں ریلیز شدہ 80 فلموں میں سے صرف 13 فلمیں ہی دیکھ سکا تھا۔

اس کی بڑی وجہ اس دور کی نئی فلموں سے عدم دلچسپی اور 1950/60 کی دھائیوں کی فلموں سے گہری دلچسپی تھی۔ سات لاکھ (1957)، چاچاجی (1967) اور دلاں دےسودے (1969) وغیرہ جیسی مشہور فلمیں، پہلی بار اسی دور میں دیکھیں۔

آصف خان اور مصطفیٰ قریشی فلم آمناسامنا(1977) میں

1977ء کی دیکھی ہوئی ریلیز شدہ اردو فلموں میں آئینہ، عاشی اور شمع محبت کے علاوہ آمنا سامنا (1977) بھی تھی جو اپنے ماموں جان (مرحوم) کے ساتھ دیکھی ہوئی دوسری اور آخری فلم تھی۔ یہ چاروں فلمیں سنگم سینما کھاریاں میں دیکھیں۔

فلم اپنے ہوئے پرائے (1977)، گیریژن سینما کھاریاں میں دیکھی اور اس کا سینمابورڈ بھی لکھ کر دیا تھا۔ فلم سارجنٹ (1977)، جہلم کے پیراڈائز سینما، فلم شاہین (1977)، جہلم کے ریجنٹ سینما جبکہ فلم سلاخیں (1977)، گجرات کے فیصل سینما پر دیکھی ہوئی میری پہلی فلم تھی۔

پنجابی فلموں میں بھٹی برادران کی فلم صدقے تیری موت توں (1977) قیصرسینما میں دیکھی اور یادہے کہ ہم دوستوں کو اس فلم میں سلطان راہی کا مرکزی کردار دیکھ کر دکھ ہوا تھا۔

راہی صاحب کی فلم دوستی تے دشمنی (1977)، سنگم سینما پر دیکھی جہاں فلم جبرو (1977) بھی دیکھی لیکن فلم قانون (1977)، جہلم کے کسی سینما میں اپنے دوستوں کے ہمراہ دیکھی تھی۔ کمال کی فلم اج دیاں کڑیاں (1977)، گجرات کے شمع سینما پر دیکھی ہوئی پہلی فلم تھی۔

اس سال کی فلمی آوارہ گردی کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ اپنے شہر سے باہر کبھی کوئی فلم اکیلے میں نہیں دیکھی تھی۔

فلم ڈنکا (1977) میں سلطان راہی، مصطفیٰ قریشی اور نمو

1978 کی فلمی یادیں

میں عینی شاہد تھا جب سپرسٹار فلمی ہیرو وحیدمراد، ولن بنے اور دو نامور فنکاروں کےانتہائی سنگین واقعات نے فلم بینوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔!

1978 کی فلمی یادیں

1977ء میں پاکستان کی انتہائی کشیدہ سیاسی صورتحال کے باعث صرف 80 فلمیں ہی ریلیز ہوسکیں لیکن 1978ء میں حالات معمول پر آئے اور ایک بار پھر 100 فلموں کی نمائش ہوئی جن میں 50 اردو، 41 پنجابی اور 9 پشتو فلمیں تھیں۔

اردو فلموں میں کامیابی کے لحاظ سے آواز، زندگی، امبر، انتخاب اور سہیلی (1978) جبکہ پنجابی فلموں میں غنڈہ، بائیکاٹ، رنگاڈاکو اور کرفیو آرڈ (1978) وغیرہ کامیاب فلمیں تھیں۔

جب وحیدمراد،ولن بنے

پاکستان کے فلمی شائقین کو یقین نہیں آیا جب ہدایتکار نذرالاسلام کی فلم شیشے کا گھر (1978) میں عظیم فلمی ہیرو وحیدمراد کو شاہد کے مقابل ایک ولن کے روپ میں پیش کیا گیا تھا۔۔!

گزشتہ سال یعنی 1977ء میں وحیدمراد نے صرف دو فلموں میں کام کیا تھا۔ دونوں فلمیں ناکام ہوئیں اور دونوں فلموں میں سولو ہیرو بھی نہیں تھے۔ اکلوتے ہیرو کے طور پر ان کی مارکیٹ ویلیو ویسے بھی ختم ہو چکی تھی، اسی لیے فلموں میں"اِن" رہنے کےلیے ولن کا رول قبول کرنے پر مجبور ہوئے لیکن فلم بینوں کے لیے یہ ہضم کرنا بڑا مشکل تھا کہ اتنا بڑا فلمی ہیرو، زوال کے دور میں ولن بھی بن جائے گا۔۔!

وحیدمراد کی ولن کے طور فلم شیشے کا گھر (1978)، اکلوتی فلم تھی۔ ان سے قبل پاکستان کی فلمی تاریخ میں اسلم پرویز، ایک بہت بڑی مثال تھے جو ہیرو کے طور متعارف ہوئے تھے۔ ابتدائی طور پر بے حد کامیاب ہوئے اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس وقت کے دیوقامت ہیرو ز، سدھیر اور سنتوش سے بھی بازی لے گئے تھے۔ ہر سینما پر بطورِ ہیرو ان کی فلمیں چل رہی ہوتی تھیں جس سے فلم بین اکتا گئے تھے۔ پھر فلم سہیلی (1960) سے ولن کے رول میں ایسی کامیابی ملی کہ انھیں اردو فلموں کا کامیاب ترین ولن اداکار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

وحیدمراد کی 1978ء کی فلمیں

1978ء میں، وحیدمراد کی 8 فلمیں ریلیز ہوئیں لیکن کسی ایک بھی فلم میں اکلوتے ہیرو نہیں تھے۔ اس سال وہ، 4 فلموں میں غلام محی الدین، 3 فلموں میں محمدعلی، 2 فلموں میں شاہد اور ایک فلم میں آصف خان کے ساتھ نظر آئے تھے۔

وحیدمراد، اس سال کی کامیاب ترین فلم آواز (1978) کے فرسٹ ہیرو تھے جس نے کراچی کے مین سینما پر سولوسلورجوبلی کے علاوہ کل 93 ہفتے چل کر پلاٹینم جوبلی کی تھی۔

ہدایتکار ظفرشباب نے تھوڑی بہت تبدیلیوں کے ساتھ اپنی ہی پرانی فلم سنگدل (1968) کا ری میک بنایا تھا۔ اس فلم کے آخر میں مزاحیہ اداکار ننھا کا یہ ڈائیلاگ بڑا مشہور ہوا تھا جب وہ، اپنے بیٹے محمدعلی اور پوتے وحیدمراد کی بیویوں (نغمہ اور شبنم) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "یہ میری بہو اور یہ ہوبہو ہے۔۔"

فلم آواز (1978) میں موسیقار اے حمید نے ایک گیت "تو میرے پیار کا گیت ہے، تو میرے دل کی آواز ہے۔۔" تین گلوکاروں سے الگ الگ گوایا تھا۔ ناہیداختر کا گیت نغمہ پر، مہدی حسن کا محمدعلی پر اور اسدامانت علی خان کا وحیدمراد پر فلمایا گیا تھا۔

یہاں ایک اور بات قابلِ ذکر ہے کہ وحیدمراد پر عظیم گلوکار احمدرشدی کے ریکارڈ ڈیڑھ سو سے زائد گیت فلمائے گئے تھے لیکن 1978ء میں وحیدمراد کی آٹھوں فلموں میں سے کسی ایک بھی فلم میں زوال پذیر احمدرشدی کا کوئی گیت نہیں ملتا۔

اردو فلموں میں تھوک کے حساب سے گیت گانے والے احمدرشدی کے اس سال درجن بھر گیت ملتے ہیں جن میں سے کوئی ایک بھی مقبولِ عام گیت نہیں تھا۔

وحیدمراد، اس سال کی دو گولڈن جوبلی فلموں، سہیلی اور پرکھ (1978) میں بھی روایتی ہیرو تھے لیکن فلمی کہانیوں اور پوسٹروں کے مطابق ان دونوں فلموں میں بالترتیب غلام محی الدین اور آصف خان کی اہمیت زیادہ تھی جو ان دنوں خاصے مقبول اداکار تھے۔ گو یہ دونوں فنکار مثبت اور منفی کرداروں میں بھی نظر آتے تھے لیکن ان کا شمار روایتی ہیروز ہی میں ہوتا ہے۔

غلام محی الدین کے ساتھ وحیدمراد کی آواز اور سہیلی (1978) کے علاوہ دو اوسط درجہ کی فلمیں، نذرانہ اور خدا اور محبت (1978) بھی تھیں۔ ان چاروں فلموں میں اور ان کے فلمی پوسٹروں پر گلوصاحب نمایاں تھے۔

وحیدمراد کا عروج و زوال

1970 کی دھائی کی فلموں پر اس معلوماتی سلسلے میں ایسے منفرد واقعات اور ریکارڈز بھی سامنے آرہے ہیں کہ جن پر پہلے کبھی غور نہیں کیا تھا۔ ان میں خاص طور پر وحیدمراد کا فلمی کیرئر سامنے آتا ہے جو کبھی "رومانٹک فلموں کے شہنشاہ" اور "واحدسپرسٹار" کے علاوہ میڈیا کی ڈارلنگ ہوتے تھے۔

1960/70 کی دھائیوں کے شائقینِ فلم، وحیدمراد کی تصاویر دیکھ کر فلم دیکھتے اور اخبار و جرائد خریدا کرتے تھے لیکن پھر وہ وقت بھی آیا کہ انھیں فلموں اور فلمی پوسٹروں پر بھی نظرانداز کیا جانے لگا۔

وحیدمراد، اپنی پہلی فلم ساتھی (1959) میں ایک ایکسٹرا کے طور پر نظر آئے۔ اپنی دوسری فلم اولاد (1962) میں پہلی بار معاون اداکار کے طور پر نظر آئے۔ اپنی چھٹی فلم ہیرا اور پتھر (1964) میں پہلی بار سولو ہیرو تھے۔ اپنی 12ویں فلم ارمان (1966) سے اردو فلموں کے سپرسٹار بنے اور چھ سال تک یعنی اپنی 51ویں فلم بہارو پھول برساؤ (1972) تک بامِ عروج پر رہے۔ کراچی میں سولو ہیرو کے طور پر یہ ان کی آخری گولڈن جوبلی فلم ثابت ہوئی تھی۔

عروج کے اس دور میں صرف ایک فلم چاندسورج (1970) تھی جس میں وحیدمراد اور ندیم موجود تھے لیکن اس فلم کی دو الگ الگ کہانیاں تھیں، اس لیے فلم میں ان دونوں کا کہیں آمنا سامنا نہیں ہوا البتہ اس وقت کی کاسٹ کریڈٹ میں وحیدمراد کو ندیم پر مکمل برتری حاصل تھی۔

اس دوران وحیدمراد نے پنجابی فلموں میں بھی قسمت آزمائی کی اور بطورِ فلمساز اپنی پہلی پنجابی فلم مستانہ ماہی (1971) میں ہیرو آئے۔ عشق میرا ناں (1974) بھی ایک سپرہٹ فلم تھی جس نے لاہور میں پلاٹینم جوبلی کی لیکن اسی دور میں پنجابی فلموں کا مزاج وحشیانہ ہوگیا جہاں ایک رومانٹک ہیرو کی گنجائش نہیں رہی تھی، اس لیے ان فلموں میں مزید کامیابیاں نہ حاصل کر پائے۔

وحیدمراد کا زوال 1973ء میں شروع ہوا جب ان کی اس سال کی سبھی فلمیں ناکام ہوئیں۔ عرصہ سات سال تک یعنی 1967ء سے 1973ء تک سولو ہیرو آنے کے بعد 1974ء میں دیگر بڑے ہیروز کے ساتھ کاسٹ کیے جانے لگے۔ اکلوتے ہیرو کے طور پر آخری اردو فلم زیب النساء (1976) تھی جو ان کی فلمی فہرست میں 85ویں فلم بنتی ہے۔ اس سال بھی سولو ہیرو کے طور پر ان کی سبھی فلمیں ناکام ہوئیں اور پھر باقی زندگی میں صرف ایک فلم نشانی (1979) میں سولو ہیرو تھے۔ یہ بھی ایک "ناکام سلورجوبلی فلم" تھی جو کراچی میں صرف تین ہفتوں ہی میں فارغ ہوگئی تھی۔

وحیدمراد کی سولو ہیرو کے طور پر آخری فلم ہیرو (1985) تھی جو ان کی اپنی پروڈکشن تھی اور ان کی موت کے بعدریلیز ہوئی تھی۔

وحیدمراد کو فلموں میں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے پہلے محمدعلی کا ساتھ ملا۔ پھر ندیم اور شاہد کے ساتھ بھی ثانوی کرداروں میں نظر آئے۔ یہاں تک کہ غلام محی الدین اور آصف خان جیسے بی کلاس ہیروز کا سہارا بھی لینا پڑا۔

پھر وہ وقت بھی آیا کہ جب وحیدمراد کو یوسف خان، سلطان راہی، بدرمنیر اور علی اعجاز کے مقابل ثانوی کردار قبول کرنا پڑے۔ اپنی آخری ریلیزشدہ فلم زلزلہ (1987) میں سدھیر کے مقابل ثانوی کردار میں تھے۔

وحیدمراد نے 25 سالہ فلمی کیرئر میں 124 فلموں میں کام کیا۔ ان کی زندگی میں ریلیز ہونےوالی، ان کی آخری فلم، مانگ میری بھردو (1983)، ایک ہی ہفتہ میں کراچی کے سینماؤں سے فارغ ہوگئی تھی اور اسی سال، صرف 45 سال کی عمرمیں 23 نومبر 1983ء کو دل کا دورہ پڑنے سے اچانک انتقال کر گئے تھے۔

دو سنگین واقعات

1978ء میں دو نامور فنکاروں، اعجاز اور شبنم کے متعلق بڑے سنگین واقعات رونما ہوئے جن میں اعجاز کو لندن ائرپورٹ پر ہیروئن کی مبینہ سمگلنگ میں پانچ سال کی جیل ہوئی اور دوسرے واقعہ میں شبنم کے گھر ڈاکہ اور گینگ ریپ کا سنگین واقعہ رونما ہوا تھا۔

شبنم اور اعجاز
شبنم اور اعجاز

پاکستان میں اس وقت، جنرل ضیاع مردود کی ناجائز مارشل لاء حکومت کی مرضی کے بغیر کوئی خبر نہیں چل سکتی تھی۔ ان دونوں سنگین واقعات کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کی گئی کیونکہ ہیروئن کی سمگلنگ میں سرکاری اہلکار بھی ملوث ہوتے تھے جن پر ایک ڈاکومنٹری فلم یہاں ڈنمارک کے ٹی وی پر دیکھی تھی۔ اس کے علاوہ شبنم کیس میں مجرمین کو جو مجرمانہ سرکاری تحفظ ملا، اس نے حکمرانوں سے شدید نفرت کے علاوہ عوام الناس میں خوف و ہراس اور عدم تحفظ کی فضا پیدا کر دی تھی۔

پاکستان کے مایوس کن حالات

دسمبر 1976ء میں ڈنمارک میں تین سالہ قیام کے بعد والدصاحب (مرحوم) کے ساتھ واپس پاکستان آیا تو ہم کشتیاں جلا کر آئے تھے کہ اب مستقل طور پر اپنے وطن ہی میں رہیں گے لیکن پاکستان کے مایوس کن حالات نے ہمارا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہونے دیا۔ والدصاحب تو چند ماہ بعد واپس ڈنمارک چلے گئے لیکن مجھے وہیں رہنا پڑا کیونکہ داداجان (مرحوم) کی موت کے بعد والدہ اور چھوٹے بہن بھائیوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جا سکتا تھا۔

والدصاحب سے خط و کتابت میں پاکستان کے حالات اور مستقبل کی نقشہ کشی کیا کرتا تھا۔ انھوں نے حتمی فیصلہ کر لیا کہ ساری فیملی کو ڈنمارک آنا چاہیے۔ اسی سلسلے میں جون 1978ء میں اسلام آباد ڈینش ایمبیسی میں ویزہ اپلائی کرنے گیا تو واپسی پر راولپنڈی کے سنگیت سینما میں ہدایتکارہ سنگیتا کی فلم مٹھی بھر چاول (1978) دیکھی۔

فلم مٹھی بھر چاول (1978)

ہدایتکارہ اور اداکارہ سنگیتا کی فلم مٹھی بھر چاول (1978)، اردو کے ایک معروف ادیب، راجندرسنگھ بیدی کے ناول "اک چادر میلی سی" سے ماخوذ ایک بہترین کاوش تھی۔

یہ، پاکستان کی پہلی فلم تھی جس کے سبھی کردار سکھ دھرم سے تعلق رکھتے تھے۔ سنگیتا کی بطور اداکارہ کردارنگاری بھی بڑی زبردست تھی لیکن ندیم، روایتی ہیرو اور سکھ کردار میں متاثر نہیں کر سکے البتہ ان پر فلمایا ہوا مسعودرانا کا اردو/پنجابی مکس گیت بڑا دلچسپ تھا: "اک کڑی دودھ مکھناں دی پلی، جیسے مشری کی ڈلی، من موہنی تے من چلی، اوسجنوں، میرے من میں بس گئی۔۔"

راولپنڈی کے سبھی سینماؤں سے غائبانہ تعارف ہوتا تھا کیونکہ روزنامہ جنگ راولپنڈی میں فلموں کے اشتہارات بڑے غور سے دیکھتے تھے لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ جب اس شہر کے کسی سینما میں کوئی فلم دیکھی تھی۔ اسی سال ڈینش سفارتخانے دوبارہ جانا پڑا اور واپسی پر گلستان سینما پر فلم انقلاب (1978) بھی دیکھی تھی۔

روایت ہے کہ سنگیت سینما راولپنڈی، ملکہ ترنم نورجہاں اور اعجاز کی مشترکہ جائیداد تھی لیکن اس وقت کس کے پاس تھا، کوئی علم نہیں، البتہ اچھا اور خوبصورت سینما تھا جس کے ساتھ ہی ریالٹو سینما بھی ہوتا تھا۔

فلمی آوارہ گردی

1978ء میں میری زندگی کی سب سے بڑی "فلمی آوارہ گردی" ہوئی جب فلم بینی کے شوق میں راولپنڈی کے علاوہ گوجرانوالہ کا سفر بھی کرنا پڑا۔۔!

عیدالفطر 5 ستمبر 1978ء کی دو تاریخی فلمیں، غازی علم الدین شہید اور حیدرعلی (1978)، قریب کے کسی سینما میں ریلیز نہیں ہوئیں، اس لیے ہمیں کھاریاں سے 80 کلومیٹر دور گوجرانوالہ جانا پڑا جہاں یہ دونوں فلمیں بالترتیب نشاط اور راکسی سینماؤں میں دیکھنے کا موقع ملا تھا۔

اس عید پر ریلیز شدہ دس میں سے آدھی فلمیں دیکھیں۔ مندرجہ بالا دو فلموں کے علاوہ فلم پلے بوائے (1978)، فیصل سینما گجرات میں دیکھی جبکہ فلم راجو راکٹ (1978)، سنگم سینما کھاریاں میں دیکھی تھی۔ فلم اکبر، امر، انتھونی (1989)، پیراڈائز سینما جہلم میں دیکھی حالانکہ سنگیت سینما گجرات میں عید کی فلموں کے لیے شائقین کی وؤٹنگ میں ہم سبھی دوستوں نے اسی فلم کو وؤٹ دیا تھا اور کسی ایک نے بھی فہرست میں موجود فلم مولاجٹ (1979) کے حق میں وؤٹ نہیں ڈالا تھا۔

اتفاق سےفلم مولاجٹ (1979) کی ریلیز ملتوی ہوگئی اور سنگیت سینما گجرات میں فلم اکبر، امر، انتھونی (1978) ہی دکھائی گئی لیکن اس دن ہم گوجرانوالہ میں تاریخی فلمیں دیکھنے کا شوق پورا کر رہے تھے۔

اس دور میں ایسے دوستوں کا ساتھ ملا جنھیں فلم بینی کا جنون کی حد تک شوق ہوتا تھا۔ میں واحد شخص تھا جس کو پرانی فلموں، ریڈیو اور موسیقی سے زیادہ دلچسپی ہوتی تھی، باقی دوستوں کو "لاہور کے ساتھ ساتھ" نئی فلمیں دیکھنے کا جنون ہوتا تھا۔

ہمارا مشترکہ شوق مطالعہ ہوتا تھا، روزانہ، ہفتہ وار اور ماہانہ اخبارات و جرائد کی گہما گہمی ہوتی۔ لاہور اور کراچی کا شاید ہی کوئی ڈائجسٹ رسالہ ہوگا جو اس دور میں نہ پڑھا ہو گا۔ ان کے علاوہ سیاسی اور تاریخی موضوعات پر سیرحاصل بحث و مباحثہ اور تبادلہ خیالات ہوتا رہتا تھا۔

فلم اکبر، امر، انتھونی (1978)

ہدایتکار حیدرچوہدری کی پنجابی فلم اکبر، امر، انتھونی (1978) کی کہانی تقسیمِ ہند کے بارے میں تھی جب فسادات میں ایک ہی خاندان کے سبھی افراد بچھڑ جاتے ہیں اور تین بھائی، تین مختلف مذاہب کے پیروکار بن جاتے ہیں لیکن فلم کے آخر میں مل جاتے ہیں اور دوبارہ مسلمان ہو جاتے ہیں۔

یہ ایک بڑی ہی بھونڈی اور فضول قسم کی فلم تھی جسے دیکھ کر سخت مایوسی ہوئی تھی اور باسی عید کا مزہ کرکرا ہو گیا تھا۔

اصل میں یہ فلم اسی نام کی ایک بھارتی فلم امر، اکبر، انتھونی (1977) سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی۔ فرق یہ تھا کہ بھارتی فلم میں بچھڑے ہوئے تینوں بھائی ملنے کے بعد بھی اپنا اپنا عقیدہ اور نام نہیں چھوڑتے اور اسی مذہب میں رہتے ہیں، جس میں ان کی پرورش ہوئی ہوتی ہے۔ ایسی برداشت تب تھی جب بھارت، ایک سیکولر ملک "ہوتا تھا" لیکن بدقسمتی سے گزشتہ کچھ عرصہ سے پاکستان کی طرح ایک انتہا پسند مذہبی ریاست بن چکا ہے۔

اس کے علاوہ، بھارتی فلم میں ہندو، مسلم اور عیسائی کردار تھے لیکن پاکستان میں چونکہ ہندوؤں سے سخت بغض رکھا جاتا ہے، اس لیے "امر" کو ہندو کی بجائے سکھ بنا دیا گیا تھا حالانکہ تاریخی تناظر میں دیکھیں تو مسلمانوں کی جو خونی دشمنی سکھوں سے رہی ہے، وہ ہندوؤں سے کبھی نہیں رہی۔

فلم اکبر، امر، انتھونی (1978) کا ایک انتہائی مضحکہ خیز سین وہ ہوتا ہے جب اپنے محبوب (اقبال حسن) کے لیے سرحد پار سے آنے والی سکھ لڑکی (عشرت چوہدری)، لاہور کی سڑکوں پر ناچتے ہوئے ناہیداختر کا یہ گیت گاتی ہے:"مینوں گل نال لا لے وے، بنتو، منتاں تیریاں کردی۔۔"

فلم چمن خان (1978)

1978ء میں پنجابی فلموں میں یوسف خان، سلطان راہی اور اقبال حسن کے بعد مصطفیٰ قریشی، افضال احمد اور آصف خان کو بھی ہیرو کے طور پیش کیا گیا۔ ہمایوں قریشی اور مجیدظریف کو بھی ایک ایک فلم میں ہیرو بنایا گیا تھا جبکہ کمال اور بھٹی بردران کی بھی متعدد فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔

اس سال کی سبھی پنجابی فلموں میں سے ایک گمنام ہدایتکار نذیرحسین کی فلم چمن خان (1978)، قابلِ ذکر ہے جس میں 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں ہونے والے پاکستانی جنگی قیدیوں کے ایک کیمپ کی افسانوی کہانی فلمائی گئی ہے جہاں سے چمن خان (سلطان راہی) اور اقبال حسن فرار ہوتے ہیں۔ یہ شاید اکلوتی فلم ہے جس میں سلطان راہی نے پشتو لہجے میں اردو بولی ہے۔

16 دسمبر 1971ء کو جب ڈھاکہ میں پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈالے تو 90 ہزارسے زائد پاکستانی سول اور ملٹری جنگی قیدی بنے جنھیں بھارت کی مختلف جیلوں میں رکھا گیا تھا۔ 30 اپریل 1974ء کو آخری قیدی بھی رہا ہو کر وطن واپس پہنچا تھا۔

ان اڑھائی برسوں میں بھارتی جنگی کیمپوں میں پاکستانی جنگی قیدیوں کی سرگرمیوں پربڑی دلچسپ معلومات میرے ذہن پر نقش ہیں جو اس دور کے ماہنامہ اردو ڈائجسٹ میں شائع ہوتی تھیں۔ متعدد پاکستانی جنگی قیدیوں کی "فتح گڑھ سے فرار" کی تفصیل، ماہنامہ حکایت میں پڑھی تھی۔

فلم پتر پھنے خان دا (1978)

پاکستانی فلموں میں "پتر" (یعنی بیٹا) کا لفظ تین درجن بار استعمال ہوا ہے لیکن ہدایتکار عارف چوہدری نے پہلی بار اس لفظ کو کسی پرانی فلم سے منسوب کیا اور فلم پتر پھنے خان دا (1978) بنائی جس میں ٹائٹل رول افضال احمد نے کیا تھا۔

یہ فلم ہدایتکار حسن طارق کی اکلوتی سپرہٹ پنجابی فلم پھنے خان (1965) کی کہانی کا تسلسل تھا جس کا ٹائٹل رول علاؤالدین نے کیا اور کیا کمال کا کیا تھا۔ اس فلم کے نمایاں اداکاروں میں سدھیر، شیریں، سلونی اور اجمل کے علاوہ مظہرشاہ بھی تھے جن کی یہ بڑھک بڑی مشہور ہوئی تھی: "جنھے ساڈے نال متھا لایا اے، اوہدی ماں نے وی وین ای پائے نیں۔۔"

اس فلم میں علاؤالدین کے "جعلی عکس" کے لافانی کردار کو عام لوگوں کے علاوہ فلم اور سٹیج کے بہت سے فنکاروں نے بھی نقل کیا۔ فلم تیس مار خان (1963) کے بعد یہ ان کا دوسرا یادگار کردار تھا جو امر ہوا۔ اسی فلم کے سپرہٹ گیت "جیو ڈھولا۔۔" سے ملکہ ترنم نورجہاں کو پنجابی فلموں میں بریک تھرو ملا تھا۔

فلم پتر پھنے خان دا (1978) میں افضال احمد نے خاصی اوور ایکٹنگ کی، شاید یہی وجہ ہے کہ وہ، ہیرو کے طور پر ناکام رہے اور زیادہ تر ولن کرداروں میں ہی نظر آئے۔ اس فلم میں شوکت علی کا ایک گیت "سوہنے عشق دی موج بہار، نچدا عشق، نچاوے یار۔۔" پسند کیا گیا تھا۔

فلم پاگل تے پیار (1978)

پنجابی فلم پاگل تے پیار (1978) جیسی ڈیڈ فلاپ، غیرمعیاری اور گمنام فلم کا ذکر صرف اس لیے ہو رہا ہے کہ یہ واحد فلم ہے کہ جس کی شوٹنگ دیکھی تھی۔۔!

1973ء میں ڈنمارک روانگی سے قبل ایک دن یہ معلوم ہوا کہ کھاریاں کی "پبی کی پہاڑیوں" میں واقع "بنی بنگلے" پر کسی فلم کی شوٹنگ ہو رہی ہے۔ نجانے کس کے ساتھ سائیکلوں پر مقررہ مقام پر پہنچے جہاں ریسٹ ہاؤس اور تالاب کی درمیان چند درختوں کے ایک جھنڈ کے آگے اداکار ندیم کی شکل کے ایک سستے ورژن، فلم کے گمنام ہیرو نوید کو اس کا فلمی باپ (اشرف خان) منانے آتا ہے جو اپنی محبوبہ کی موت کے غم میں پاگل ہو جاتا ہے۔

اس سین کے دائیں طرف فلم کی ہیروئن، اداکارہ عشرت چوہدری، ایک سیاہ رنگ کے ہیجان خیز، مختصر اور تنگ لباس میں کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی اور ہم سب للچائی ہوئی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔

فلم پاگل تے پیار (1978)، اداکارہ عشرت چوہدری کی فرسٹ ہیروئن کے طور پر اکلوتی پنجابی فلم تھی۔ اس نے متعدد سندھی، اردو اور پشتو فلموں میں بھی فرسٹ ہیروئن کے طور پر کام کیا لیکن کامیاب نہیں ہوئی۔ اس کی شہرت کی بڑی وجہ معاون اداکارہ ہونا اور اداکار شاہد سے مبینہ تعلقات تھے۔

اس فلم کے ہدایتکار اشرف خان تھے جن کی یہ چوتھی اور آخری فلم تھی۔ اس کے علاوہ ان کے کریڈٹ پر تین مزید ناکام فلمیں، منگتی (1961)، رقاصہ (1965) اور 14 سال (1968) بھی ہیں۔ یہ فلم یوٹیوب پر دیکھی تھی۔

کھاریاں پبی

میرےآبائی شہر کھاریاں کے شمال مغرب میں آزاد کشمیر کے شہربھمبر سے لے کر دریائے جہلم پر بنے ہوئے رسول بیراج تک پھیلی ہوئی چار پانچ کلومیٹر چوڑی اور قریباً سو کلومیٹر لمبی چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں اور جنگلات کا ایک سلسلہ ہے جس کو "پبی کی پہاڑیاں" کہتے ہیں۔

جی ٹی روڈ اور ریلوے لائن کے درمیان، ایک انتہائی خوبصورت اور پرفضا مقام پر ایک ریسٹ ہاؤس ہوتا تھا جس کے سامنے مغلوں کے دور کا ایک تالاب بھی تھا۔ مقامی زبان میں اس کو "بنی بنگلہ" کہتے تھے۔ روایت ہے کہ اس پرفضا مقام پر واقع ریسٹ ہاؤس میں سقوطِ ڈھاکہ کے بعد سابق صدر جنرل یحییٰ خان کو نظربند رکھا گیا تھا۔

کھاریاں پبی
کھاریاں پبی

یوٹیوب پر موجود ویڈیوز کی زبانی، اب یہ سرسبزوشاداب علاقہ ایک "نیشنل پارک" اور بہت بڑا تفریحی مقام بن چکا ہے لیکن میرے بچپن میں یہاں، زیادہ تر خشک اور ویران پہاڑیاں ہوتی تھیں جہاں زیادہ تر مختلف قسم کی جھاڑیاں اور کہیں کہیں کچھ درخت ہوتے تھے۔

ہر سال، محرم کے مہینوں میں قبروں پر تازہ مٹی ڈالنے کے لیے کنکریاں اکٹھی کرنے اور بیر کی شکل کی سرخ رنگ کی چھوٹی چھوٹی مزیدار قسم کی "کوکنیاں" کھانے جاتے تھے۔ یہ علاقہ سانپوں کے لیے بھی مشہور تھا لیکن کبھی دیکھنے میں نہیں آئے۔

انگریز دور میں جب ریلوے کا عظیم نیٹ ورک بچھایا گیا تو یہاں ایک غیر آباد سٹیشن بھی قائم ہوا جس کی ایک جھلک فلم پاگل تے پیار (1978) میں دکھائی گئی ہے۔

لاہور کی بیشتر فلموں میں لڑائی مارکٹائی کے لیے آؤٹ ڈور شوٹنگ میں جو خشک پہاڑی مناظر دکھائے جاتے تھے، وہ، عام طور پر "کھاریاں پبی" کا علاقہ ہی ہوتا تھا جہاں اکثر مقامی لوگ فلموں کی شوٹنگ دیکھنے جایا کرتے تھے۔

مجھے، اپنے دوستوں سے فلم اقبالِ جرم (1979) کی شوٹنگ دیکھنے کی دعوت ملی لیکن نہیں جا سکا تھا البتہ فلم عورت راج (1979) کی ایک ٹیم کو کھاریاں کے ایک ہوٹل میں اداکار رنگیلا اور اداکار پرویز سجاد کے ساتھ بڑی سنجیدہ گفتگو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔

ایک فلمی دوستی

1978ء کا سال میری زندگی کا 16واں سال تھا۔ میڈیا کے علاوہ فلم بینی اور ریڈیو سننے کا شوق اپنے عروج پر تھا۔ اسی سال روزانہ کی ڈائری لکھنے کا منفرد سلسلہ بھی شروع ہوا جو 1990 کی دھائی تک جاری رہا تھا۔

اس دور میں اپنے آبائی شہر کھاریاں سے باہر جتنی بھی فلمیں دیکھیں، وہ زیادہ تر اپنے ایک پینٹردوست کے ساتھ دیکھیں جسے نئی پنجابی فلمیں دیکھنے کا جنون کی حد تک شوق ہوتا تھا جبکہ مجھے پرانی یا اردو فلموں سے زیادہ دلچسپی ہوتی تھی۔

میرے پینٹر دوست کا کاروباری یا قلمی نام تو کچھ اور تھا، پیدائشی نام بھی منسوخ کر کے جو نام رکھا گیا وہ "وجاہت" تھا۔ اسی نے مجھے "الوداعی دعوت" کے طور پر پاکستان میں آخری فلم دوستانہ (1982) دکھائی جو ترنم سینما گجرات میں دیکھی ہوئی اکلوتی فلم ثابت ہوئی تھی۔

ہمارا مشترکہ شوق فلم بینی کے علاوہ خوش خطی اور مطالعہ ہوتا تھا۔ اس کی مہربانی سے پہلی بار کراچی کے رنگ برنگے ڈائجسٹ رسالے پڑھنے کا موقع ملا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس دور میں فلمی رسالے وغیرہ پڑھنے کا شوق بالکل ختم ہو چکا تھا جس کی وجہ نئی فلموں سے عدم دلچسپی تھی۔

اپنے شہر سے باہر خاص طور پر جہلم میں دیکھی گئی قریباً سبھی فلمیں اس نے اپنے خرچہ پر دکھائی تھیں۔ اصل میں یہ قیمت تھی جووہ، اپنےشوق کی تکمیل کے لیے اداکیا کرتا تھا کیونکہ اسے اپنے سخت گیر باپ سے رات کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔

وجاہت کے والدِ محترم، بھٹو صاحب کے جنونی قسم کے حامی تھے۔ جمہوریت پسند تھے لیکن مزاج آمرانہ تھا۔ ان سے ملیں اور گھنٹہ بھر کی صبرآزما تقریر نہ سننا پڑے، ممکن ہی نہیں ہوتا تھا۔

انھی کی مہربانی سے بھٹو صاحب کے حامی اخبارات و جرائد پڑھنے کا موقع ملتا تھا۔ جب آمرانہ حکومت نے پیپلزپارٹی کے ترجمان اخبار "مساوات" کے لاہور ایڈیشن پر پابندی لگائی تو موصوف نے لائلپور (فیصل آباد) ایڈیشن منگوانا شروع کردیا۔ اس پر پابندی لگی تو کراچی کا "مساوات" پچاس پچاس روپے میں خریدا جبکہ اس وقت دیگر اخبارات کی قیمت ایک یا دو روپے ہوتی تھی۔ روزنامہ تعمیر راولپنڈی، روزنامہ حیات لاہور اور ہفت روزہ نصرت کراچی بھی انھی کے طفیل پڑھنے کا موقع ملتا تھا۔ یہ مواد وہ کیسے اور کہاں سے لاتے تھے، کبھی معلوم نہیں ہوسکا۔

وقت کے فرعون سے ان کی نفرت کا یہ عالم تھا کہ انھوں نے اپنے پالتو کتے کا نام "جنرل ضیا" رکھا ہوا تھا جسے بڑی حقارت اور انتہائی غلیظ گالیوں سے دھتکار کر اپنا غصہ نکالا کرتے تھے۔

بھٹو صاحب سے بے لوث عقیدت اور میری ذاتی قابلیت کی وجہ سے بڑے قدردان تھے اور اسی وجہ سے وجاہت کو میرے گھر جانے کی اجازت ہوتی تھی۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جہلم کے کسی سینما پر فلم کا آخری شو دیکھ کر آ جاتےتھے جہاں ایک بار ایک خفیہ اہلکار نے چلتی بس میں سیاسی بحث کے دوران ہمیں ایک ایک تھپڑ رسید کیا جس سے یہ سبق ملا کہ پاکستان جیسی "سیکورٹی سٹیٹ" میں پبلک مقامات پر اپنے خیالات کے اظہار میں احتیاط برتو ورنہ "نامعلوم افراد" سے قدم قدم پر خطرے ہو سکتے ہیں۔

مجھے، اس دور کی ایکشن پنجابی فلموں سے سخت چڑ ہوتی تھی لیکن اس کی خاطر دیکھنا پڑتی تھیں۔ میرے ساتھ شاید ہی کبھی اس نے کوئی پرانی فلم دیکھی ہوگی، وہ میں اکیلے ہی دیکھتا تھا۔

اچھی طرح سے یاد ہے کہ جب ریجنٹ سینما جہلم پر فلم قاتل تے سمگلر (1978) دیکھ کر آئے تو راستے بھر اسے شرمندہ کرتا رہا کیونکہ وہ بھی سخت بور ہوا تھا لیکن اس کے باوجود یہ سلسلہ ختم نہ ہوا اور اس کے ساتھ اس سال کی جو فلمیں دیکھیں ان میں جہلم کے سینماؤں میں سے ناز سینما پر ارادہ اور انسان اور شیطان (1978) اور پیراڈائز سینما پر اکبر، امر، انتھونی، جشن اور ایکسیڈنٹ (1978) وغیرہ یاد ہیں۔

وجاہت کی فلم بینی کا بھانڈا بالآخر ایک دن پھوٹ ہی گیا جب اس کے والد، اس کا پتہ کرنے میرے گھر آئے اور ہمیں غائب پایا۔ اس کے بعد موصوف کا مجھ پر سے بھی اعتماد اٹھ گیا اور پھر کبھی راضی نہیں ہوئے بلکہ طنزیہ گفتگو کیا کرتے تھے۔

1978ء کی دیگر فلمی یادیں

1978ء میں 100 فلمیں تو ریلیز ہوئیں لیکن کوئی ایک بھی فلم سو ہفتے یا "ڈائمنڈجوبلی" نہ کر سکی تھی۔ صرف تین فلمیں، آواز، زندگی اور امبر (1978) ہی کراچی میں "پلاٹینم جوبلی" کر سکیں۔

  • کراچی کے سینماؤں میں ہدایتکار نذرالاسلام کی ایک فلم زندگی (1978)، مسلسل 21 ہفتے چلنے کے بعد 88 اور دوسری فلم امبر (1978)، صرف 14 ہفتے چلنے کے بعد کمبائنڈ 91 ہفتے چلی اور "پلاٹینم جوبلی" فلمیں قرار پائیں۔
    اس طرح سے گزشتہ سال کی طرح یہ سال بھی نذرالاسلام کے نام رہا۔ ان دونوں فلموں کے روایتی ہیرو بھی ندیم تھے جن کے ساتھ بابرہ شریف اور ممتاز، مرکزی کرداروں میں تھیں۔
    فلم زندگی (1978) میں ایم اشرف کی موسیقی کے مقابلے میں فلم امبر (1978) میں روبن گھوش کی موسیقی زیادہ جاندار تھی۔ مہدی حسن کے دو گیت: "ٹھہرا ہے سماں، ہم تم ہیں جہاں۔۔" اور "جس دن سے دیکھا ہے تجھ کو صنم، بے چین رہتے ہیں اس دن سے ہم۔۔" کے علاوہ مہناز کا یہ گیت: "مجھے لے چل، یہاں سے دور ان وادیوں میں۔۔"، ریڈیو پر چلنے والے سپرہٹ گیت تھے۔ یہ دونوں فلمیں پہلی بار نیٹ پر دیکھی تھیں۔
  • ہدایتکار ایم اے رشید کی فلم ملن (1978) میں مہدی حسن کا ایک گیت "ایسا پیار کرنے والا میری جان تجھے ڈھونڈے نہ ملے گا۔۔" میں جب یہ مصرعہ آتا ہے: "ایسا بانکا اور سجیلا نوجوان، تجھے ڈھونڈے نہ ملے گا۔۔" تو فلم بینوں کی ہنسی چھوٹ جاتی تھی کیونکہ سکرین پر گانے والے ہیرو محمدعلی صاحب کی اس وقت عمر 47 سال تھی۔۔!
    سنگم سینما کھاریاں میں دیکھی ہوئی فلم ملن (1978)، اس لیے بھی ناقابلِ فراموش ہے کہ لاری اڈے کی جس دیوار پر اس کی پبلسٹی ہوتی تھی، وہاں کوئی شیطان بڑی باقاعدگی سے فلم کے ٹائٹل سے پہلے حرف "م" کو مٹا جاتا تھا اور بے چارے پینٹر استاد رشید کی روزانہ کی دوڑ لگ جاتی تھی۔
  • ہدایتکار عابد شجاع نے منورظریف کے چھوٹے بھائی، مجیدظریف کو نیلو کے ساتھ ہیرو کے طور پر فلم غریب دا بال (1978) میں متعارف کروایا تھا لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔ فلم سیاں (1970) میں مجیدظریف اپنے بھائی منورظریف کے ساتھ اداکاری کرتے ہوئے نظر آئے لیکن زندگی بھر چھوٹے موٹے کرداروں تک ہی محدود رہے تھے۔
  • ہدایتکار ادریس خان کی پنجابی فلم لاٹھی چارج (1978)، 1977ء کی بدنامِ زمانہ تحریک نظامِ مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں بنائی گئی ایک پروپیگنڈہ تھی۔
    بھٹو کا تختہ الٹنے کے بعد ان کی کردار کشی کے لیے پاکستان پر قابض لکڑبگڑوں نے باپ کا مال سمجھتے ہوئے سرکاری خزانے کے منہ کھول دیے تھے اور بڑا زہریلا اور یکطرفہ پروپیگنڈہ ہوتا تھا جس میں ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کو اپنی اپنی اوقات کے مطابق حصہ ڈالنے کے لیے بڑی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔
  • ہدایتکار ایس سلیمان کی شوخ فلم ابھی تو میں جوان ہوں (1978) میں فلم کے ہیرو شاہد نے شبنم کے علاوہ اس فلم کے ٹائٹل سانگ میں صبیحہ، نیرسلطانہ اور مینا داؤد کے ہیرو کا کردار بھی نبھایا جو ہماری فلمی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ ہے۔ اس فلم میں مہدی حسن کایہ گیت بڑا پسند تھا اور اکثر گنگناتا رہتا تھا: "بڑی مشکل میں میرا یہ دل ہے، روٹھا یا منانا مشکل ہے۔۔"
  • ہدایتکار پرویز ملک کی ایک انتہائی سنجیدہ موضوع پر بنائی گئی ایک اور گولڈن جوبلی فلم انتخاب (1978)، فیصل سینما گجرات میں دیکھی اوربڑی پسند آئی تھی۔ شبنم اور محمدعلی مرکزی کرداروں میں تھے اور اس فلم کی کہانی ایسے بچوں کے بارے میں تھی جنھیں ماں کے انتقال کے بعد آمرانہ مزاج رکھنے والے باپ کی شفقت نہ ملنے کی شکایت ہوتی ہے۔ ایک اشارتی کہانی تھی اوراس کا ماخذ یقیناً کوئی غیر ملکی فلم تھی۔
    اس فلم میں نثاربزمی کی دھن میں ناہیداختر اور غلام عباس کا یہ کورس گیت بڑا پراثر تھا: "ہم نہ ترسیں کبھی پھر خوشی کے لیے، پیار مل جائے گر، زندگی کے لیے۔۔"
  • ہدایتکار ایس سلیمان کی فلم پرنس (1978)، فلم امبر (1978) سے صرف ایک ہفتہ کم چلی لیکن صرف "سلورجوبلی" ہی کر سکی تھی حالانکہ ایک اچھی فلم تھی۔ ندیم اور بابرہ شریف، مرکزی کردار تھے اور اخلاق احمد کا گیت "یہی ہے پیارے زندگی، کبھی ملیں غم کبھی خوشی۔۔" فلم کا مقبول ترین گیت تھا۔ شمع سینما گجرات میں یہ فلم دیکھی تھی۔
  • ہدایتکارہ شمیم آرا کی گولڈن جوبلی اردو فلم پلے بوائے (1978) میں برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کی مختلف کہانیوں کو فلمایا گیا تھا جن میں ایک مجبور باپ کی بیٹی کی شادی کے علاوہ ننھا کا کامیڈی کردار بڑا جاندار تھا جن پر شوکت علی کا یہ شوخ پنجابی گیت فلمایا گیا تھا: "میں ولایت کاہنوں آگیا، میرے ربا، مینوں کڈھ لے ایتھوں۔۔" یہ فلم عیدالفطر 5 ستمبر 1978ء کو ریلیزہوئی تھی اور گجرات کے فیصل سینما میں دیکھی تھی۔
  • پاکستان کی ایک فلم بوبی اینڈ جولی (1978) بھی تھی جس کو اس وقت کی "سپرفلاپ" فلم قرار دیا گیا تھا۔ ارشدسلمان نامی ہدایتکار تھے۔ اس فلم کی خاص بات یہ تھی فلم کے ٹائٹل کے نام کے ہیرو اور ہیروئن بھی تھے۔ معروف پوپ سنگر عالمگیر نے اس فلم کے لیے سات گیت گائے اور ناہیداختر کے ساتھ یہ پوپ سانگ بڑا مقبول ہوا تھا: "دیکھا نہ تھا یہ سماں، تیرے پیار کا، سوچا نہ تھا۔۔"
  • ہدایتکار ایم اکرم نے اپنی پنجابی فلم بائیکاٹ (1978) میں پہلی بار لوک گلوکار عالم لوہار کو ان کے مشہور گیت "موہنڈا مار کے ہلا گئی مینوں تے ہولی جیا سوری کہہ گئی۔۔" کے ساتھ پردہ سیمیں پر پیش کیا تھا۔ انھوں نے اگلی دو فلموں ہتھیار اور خانہ جنگی (1979) میں بھی اس مقبولِ عام فوک سنگر کو گانے اور اداکاری کا موقع دیا تھا۔ عالم لوہار، عارف لوہار کے والدِ گرامی تھے۔
    عالم لوہار نے پلے بیک سنگر کے طور پر متعدد گیت گائے تھے اور بطورِ ہیرو فلم "مٹی دا باوا" بھی بنا رہے تھے جس میں زمرد ہیروئن تھی لیکن وہ فلم نہ بن سکی البتہ اس کا یہ ٹائٹل سانگ بڑا مقبول ہوا تھا: "بول مٹی دیا باویا، تینوں دکھاں نیں مار مکایا، او۔۔"
  • پاکستانی پنجابی فلموں کی لی جنڈجوڑی، نغمہ اور حبیب کی روایتی ہیروئن اور ہیرو کے کرداروں میں آخری فلم تماش بین (1978) ریلیز ہوئی۔ اس جوڑی کی پہلی فلم خلیفہ (1966) تھی۔ 80 سے زائد فلموں میں ایک ساتھ نظر آنے والے یہ دونوں فنکار کچھ عرصہ کے لیے میاں بیوی بھی رہے تھے۔
  • پاکستان کے پہلے سپرسٹار ہیرو سدھیر نے فلم دشمن کی تلاش (1978) میں اپنے بیٹے کو اپنے اصل نام "زمان خان" کے ساتھ متعارف کروایا لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔ اس فلم میں بابرہ شریف ہیروئن اور مصطفیٰ قریشی ولن تھے جبکہ صبیحہ خانم نے مرکزی ویمپ کا کردار کیا تھا۔
    صبیحہ اور سدھیر، پاکستان کی پہلی گولڈن جوبلی سپرہٹ فلم سسی (1954) اور پہلی بلاک باسٹر فلم دلابھٹی (1956) کے مرکزی کردار تھے۔ اس جوڑی نے ڈیڑھ درجن فلموں میں ایک ساتھ کام کیا اور قریباً سبھی اہم رشتوں مثلاً عاشق معشوق، میاں بیوی، بہن بھائی، ماں بیٹا، باپ بیٹی، دیوربھابھی، داماد ساس اور دوست دشمن وغیرہ کے کردار کیے جو ایک منفرد ریکارڈ ہے۔

1978ء کے یادگار فلمی گیت

1978ء میں ریڈیو بہت سنا اور اس پر بجنے والے گیت اور پروگرام آج بھی یاد ہیں۔ اپنے پسندیدہ ایسے ہی ناقابلِ فراموش گیتوں کی ایک فہرست مندرجہ ذیل ہے:

  • فلم دل کے داغ (1978) میں موسیقار اے حمید کی دھن میں مہدی حسن کا یہ دلکش گیت دل کے تار چھیڑ دیتا تھا: "میرے دل سے زندگی بھر ، تیرا پیار کم نہ ہوگا، تجھے بھول جاؤں مجھ سے، کبھی یہ ستم نہ ہوگا۔۔"
  • فلم آدمی (1978) میں موسیقار کمال احمد کی دھن میں اخلاق احمد کا گایا ہوا تھیم سانگ "تقدیر کے ہاتھوں میں کھلونا ہے آدمی، دنیا ہے تماشائی، تماشا ہے آدمی۔۔" اکثر لبوں پر مچلتا رہتا تھا۔
  • فلم سہیلی (1978) میں موسیقار ایم اشرف کی دھن میں اسدامانت علی خان کا یہ رومانٹک گیت بڑا پسند تھا: "آنکھیں غزل ہیں آپ کی اور ہونٹ ہیں گلاب، سارے جہاں میں آپ کا کوئی نہیں جواب۔۔"
  • فلم آبشار (1978) میں ایم اشرف ہی کی دھن میں مہدی حسن کا یہ سپرہٹ گیت کبھی پسندیدہ گیتوں میں شمار ہوتا تھا: "بہت خوبصورت ہے میرا صنم، خدا، ایسے مکھڑے بناتا ہے کم۔۔"
  • پنجابی فلم غنڈہ (1978) میں موسیقار صفدرحسین کی دھن میں مسعودرانا کا یہ گیت روزمرہ بول چال کا حصہ بن گیا تھا: "ہور سناؤ سجنو، کی حال چال اے، ہس کے تے ویکھو، بس ایناں ای سوال اے۔۔" اسی گیت کو ناہیداختر نے بھی گایا لیکن اس کا اس فلم میں زیادہ ہٹ گیت "کنڈلاں دے والاں والیا، تیرے نال پیار پا لیا۔۔" ہوا تھا۔
  • فلمی گیتوں پر تحقیق کرتے ہوئے نغمہ اور حبیب کی مرکزی کرداروں میں آخری اردو فلم میرا نام راجہ (1978) میں موسیقار بخشی وزیر کی دھن میں مسعودرانا کے ایک گیت نےچونکا دیا تھا جو آج بھی اکثر گنگناتا رہتا ہوں: "جان جائے کہ رہے، ہم تو تجھے چاہیں گے، نام لیتے ہوئے اک دن تیرا، مرجائیں گے۔۔"
  • پنجابی فلم ارادہ (1978)، ناز سینما جہلم میں دیکھی تھی۔ اس فلم کی ہائی لائٹ چکوری کے لیے کیفی پر فلمایا ہوا موسیقار مشتاق علی کی دھن میں مہدی حسن کا یہ اکلوتا گیت تھا: "گورے مکھڑے تے کالا کالا تل سوہنیے، میرا آگیا تیرے اتے دل سوہنیے۔۔" یہ گیت ناہیداختر نے بھی گایا تھا۔
  • فلم کورا کاغذ (1978) میں موسیقار نذیرعلی کی دھن میں مہدی حسن کا یہ گیت اکثر لبوں پر مچلتا رہتا تھا: "دیکھ کےدل کا کورا کاغذ، لکھ دیا میں نے سلام، آپ کے حسن کے نام۔۔"
  • فلم بارات (1978) میں موسیقار ایم اشرف کے دو گیت بڑے مقبول ہوئے۔ ان میں پہلا گیت مہناز کا گایا ہوا تھا: "میں ہوتی اک مورنی اور تو ہوتا اک مور، جنگل جنگل ناچتی اور یہ کرتی شور، میرا تو تو تو۔۔" جبکہ دوسرا گیت اے نیر کی آواز میں تھا جو اکثر گنگناتا رہتا تھا: "یاد رکھنے کو کچھ نہ رہا، بھول جانے کو کچھ بھی نہیں، دنیا اتنی بڑی ہے مگر، دل لگانے کو کچھ بھی نہیں۔۔"
  • فلم شرمیلی (1978) میں موسیقار کریم شہاب الدین کے دو گیت بڑے مقبول ہوئے تھے۔ پہلا گیت مہناز کا تھا: "میں نہ جاؤں گی سسرال، میرا میاں کمائے نہ۔۔" اور دوسرا اے نیر کا سنجیدہ گیت تھا: "جی رہے ہیں ہم تنہا، اور تیرا غم تنہا۔۔"
  • 1978ء میں گلوکار اے نیر خاصے مقبول تھے اور ان کے بیشتر گیت سپرہٹ ہوتے تھے۔ ایک ناکام ترین فلم احتجاج (1978) میں موسیقار ناشاد کی دھن میں ان کا یہ گیت میرے پسندیدہ ترین گیتوں میں سے ایک رہا ہے: "تجھ سے مل کر مجھے اکثر یہ گماں ہوتا ہے، خواب جیسی کہیں اپنی یہ ملاقات نہ ہو۔۔"
  • فلم مہمان (1978) میں موسیقار ایم اشرف کی دھن میں غلام عباسکا گایا ہوا یہ گیت بھی پسندیدہ ترین گیتوں میں رہا ہے: "دیکھ کر تجھ کو میں غم دل کے بھلا دیتا ہوں، رات دن تجھ کو میں جینے کی دعا دیتا ہوں۔۔"
  • فلم ایکسیڈنٹ (1978) میں کمال احمد کی دھن میں مہدی حسن کا یہ گیت بھی بڑا پسند تھا: "تمہارا، آخری کر لوں نظارا، پھر چلے جانا۔۔"

1979 کی فلمی یادیں

میں عینی شاہد تھا اس تاریک اور تاریخ ساز دور کا جب ذوالفقار علی بھٹوؒ کو پھانسی دی گئی اور فلم مولاجٹ (1979) ریلیز ہوئی تھی۔۔!

1979 کی فلمی یادیں

1979ء میں کل 99 فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں 40 اردو، 48 پنجابی، 9 پشتو اور 3 سندھی فلمیں تھیں۔

اس سال کی کامیاب ترین فلم مولاجٹ (1979) تھی لیکن معیار کے لحاظ سے دبئی چلو (1979) سب سے بہترین فلم تھی۔ وحشی گجر، ہتھیار اور پرمٹ (1979)، دیگر کامیاب پنجابی فلمیں تھیں۔ اردو فلموں میں پاکیزہ اور مس ہانگ کانگ (1979) کامیاب ترین فلمیں تھیں۔

بھٹو کی پھانسی

4 اپریل 1979ء کو ذوالفقار علی بھٹوؒ کو بے گناہ پھانسی دینے کے بعد پاکستان پر قابض، غاصب اور جابر قوتوں نے عوام الناس اور لواحقین کو خبر دیے بغیر رات کی تاریکی میں بڑی رازداری کے ساتھ ان کے آبائی قبرستان میں دفن کر دیا تھا۔

بھٹو کی پھانسی پر میری ڈائری کا ایک ورق
بھٹو کی پھانسی پر میری ڈائری کا ایک ورق
ریڈیو پاکستان کی دن گیارہ بجے کی خبروں میں جب یہ المناک خبر نشر ہوئی تو اس وقت ریڈیو سن رہا تھا۔۔!

اسی دن ایک فوتیدگی ہوئی۔ یہ خبر لے کر وہاں گیا تو ہر کوئی میت کو چھوڑ کر بھٹو کو رونے لگا تھا۔ ایسی بے لوث عوامی محبت و عقیدت نہ کبھی دیکھی، نہ کبھی سنی تھی۔۔!

بھٹو کی پھانسی کے دوسرے دن، کھاریاں کی مرکزی عیدگاہ میں نمازِ ظہر کے بعد غم و غصہ اور بے بسی کی تصویر بنے جمِ غفیر کے ساتھ جامع مسجد عالمگیری کے امام قاضی صاحب نے غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھائی جس میں حصہ لینے کی عظیم سعادت حاصل ہوئی تھی۔

قاضی صاحب کی ہدایت پر قرآن خوانی کے علاوہ نمازِ جمعہ کے بعد بھٹوصاحب کی روح کو ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں جو پاکستان کے غیور عوام کا اپنے عظیم قائد کے لیے خراجِ عقیدت تھا۔

اگست 1976ء میں امریکی وزیرِخارجہ ہنری کسنجر کی بھٹو کو دی گئی "عبرتناک مثال" کی دھمکی کو عملی جامہ پہنانے والے بھٹو کے قاتلوں، غداروں اور آستین کے سانپوں نے "پنچھی اڑ گیا" جیسے تاریخی جملے پر جشن منایا اور بھٹو کے بدترین مخالفین نے مٹھائی تقسیم کی تھی۔

روزنامہ جنگ راولپنڈی کے اسی دن یعنی 4 اپریل 1979ء کے خصوصی شمارے کی آٹھ کالمی شہ سرخی "ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی" کے اوپر بائیں طرف سیاہ بیک گراؤنڈ پرسفید لکھائی میں نمایاں طور قرآنِ حکیم کی یہ آیت مع ترجمہ شائع کی گئی یا شائع کروائی گئی تھی: "وتعز من تشاء و تذل من تشاء" (اللہ، جس کو چاہتا ہے عزت بخشتا ہے اور جس کو چاہتا ہے رسوا کردیتا ہے۔)

1979ء کے سالانہ واقعات پر مبنی روزنامہ امروز لاہور نے بھٹو کے پھانسی کے واقعہ کو گول کر دیاتھا کیونکہ میڈیا میں بھٹو کا نام لینا بھی ایک جرم بنا دیا گیا تھا۔

بھٹو کی پھانسی کے دوسرے دن یعنی 5 اپریل 1979ء کو جمعرات کی رات کو ہفتہ وار اردو فیچر فلم کے سلسلے میں پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن نے فلم نیا سویرا (1970) دکھائی تھی۔۔!

یہ بات اب بحث طلب نہیں رہی کہ وہ "نیا سویرا" تھا یا "مستقل اندھیرا"۔۔!!!

تیری پھانسی توں نئیں ڈرنا

"تیری پھانسی توں نئیں ڈرنا، میں تے اللہ ہی اللہ کرنا، اللہ ہو۔۔!!!"

یہ ایک ایسا ولولہ انگیز اور ایمان افروز کورس گیت تھا جو بھٹو کی پھانسی کے بعد گونجا۔ ظاہر ہے کہ سرکاری ریڈیو یا ٹی وی پر تو نہیں آسکتا تھا لیکن ہوٹلوں، بسوں اور دیگر پبلک مقامات پر سننے کو ملتا اور عوامی جذبات کی بھرپور ترجمانی کیا کرتا تھا۔

اپنی نوعیت، موضوع اور موقع محل کے اعتبار سے اس منفرد گیت کو حزیں قادری نے لکھا اور موسیقار مشتاق علی کی شاندار دھن میں مسعودرانا نے دھمال کے انداز میں گایا تھا۔ فلم میں مظہرشاہ، مصطفیٰ قریشی اور ساتھیوں پر فلمایا گیا تھا۔

یہ اشارتی گیت، ہدایتکار ارشد مرزا کی پنجابی فلم بکا راٹھ (1979) میں گایا گیا تھا جو بظاہر ہندوستان پر انگریز سامراج کے خلاف نام نہاد جنگِ آزادی کی ایک روایتی فلمی کہانی تھی۔

اسی سال، تاریخی موضوعات پر بننے والی دیگر فلموں میں نامور ادیب نسیم حجازی کے قیامِ پاکستان پر لکھے ہوئے ایک ناول پر سرکاری خرچ پر بنائی گئی فلم خاک و خون (1979) بری طرح سے ناکام رہی تھی۔ محمدبن قاسم اور جنرل بخت خان (1979) جیسی انتہائی کمزور فلموں کے علاوہ خانہ جنگی اور نظام ڈاکو (1979) بھی ریلیز ہوئیں لیکن باکس آفس پر جس فلم نے فلمی نقشہ بدل کر رکھ دیا، وہ ایکشن فلم مولاجٹ (1979) تھی۔

فلم مولا جٹ (1979)

فلم مولاجٹ (1979) نے پاکستان میں پرتشدد فلموں کی نئی تاریخ رقم کر دی تھی۔۔!

فلم مولاجٹ (1979) نے پاکستان میں پرتشدد فلموں کی نئی تاریخ رقم کر دی تھی
ہدایتکار یونس ملک کی رنگین پنجابی فلم مولاجٹ (1979)، ہدایتکار حسن عسکری کی بلیک اینڈ وہائٹ پنجابی فلم وحشی جٹ (1975) کا تسلسل تھی۔

ممتاز اردو ادیب، جناب احمدندیم قاسمی (مرحوم) کے افسانے "گنڈاسا" سے ماخوذ، نامور فلمی رائٹر ناصرادیب کی اس فلمی کہانی کے مرکزی کردار "مولا" کو پہلی بار کسی فلم کے ٹائٹل کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔

احمدندیم قاسمی کے افسانہ "گنڈاسا" کو سب سے پہلے پاکستان ٹیلی ویژن پر ایک ڈرامے کی صورت میں پیش کیا گیا جس میں "مولا" کا مرکزی کردار اداکار منورسعید نے کیا تھا۔

"گنڈاسا" کو پہلی بار فلم وحشی جٹ (1975) میں متعارف کروایا گیا لیکن اس کو عروج فلم مولاجٹ (1979) سے ملا۔ ذات پات، طبقاتی کشمکش اور قتل و غارت کو فروغ دینے والی پہلی فلم میں ایک "جٹ" کی خونی دشمنی "ملک" برادری سے اور دوسری فلم میں "نت" برادری سے ہوتی ہے۔

فلم مولاجٹ (1979) سے پاکستانی پنجابی فلموں میں "سلطانی دور" کا آغاز ہوا جس میں رائٹر، ڈائریکٹر یا پروڈیوسر کہیں نظر نہیں آتا تھا، صرف ایک ایکٹر تھا جو سلطان راہی کی صورت میں 1996ء میں اپنے اندوہ ناک قتل تک ایکشن فلموں کی علامت بنا رہا۔

فلم مولاجٹ (1979) کے کردار

سلطان راہی
آسیہ
چکوری
مصطفیٰ قریشی

فلم مولاجٹ (1979) میں فلم وحشی جٹ (1975) سے ٹائٹل رول "مولا" (سلطان راہی) کے علاوہ "مکھو" (آسیہ) کے مرکزی کردار بھی لیے گئے تھے۔

پہلی فلم کے مرکزی ولن کردار،"ملک" (الیاس کاشمیری) کو دوسری فلم میں مہمان اداکار کے طور پر پیش کیا گیا۔ "روشن" (افضال احمد) کے علاوہ "بالا گاڈی" (اقبال حسن) کا ذکر بھی ہوا جس کو اس فلم میں "مودا گاڈی" (کیفی) سے بدلا گیا۔ ایک "اتھری ملکانی" (غزالہ) کا کردار ایک "اتھری دارو نتنی" (چکوری) سے کروایا گیا۔ بھابھی "دانی" (سیما) کا کردار بھی دہرایا گیا۔

فلم مولاجٹ (1979) میں "نوری نت" (مصطفیٰ قریشی) اور "ماکھا نت" (ادیب) کے علاوہ "اکو نت" (اسدبخاری) کے اضافی کردار ہیں۔

پنجابی فلموں میں ایکسٹرا کرداروں میں نظر آنے والے ایک درازقد اداکار شکیل کو اپنی زندگی کا مختصر مگر لازوال کردار ملا جس میں انھیں ایک جیلر کے روپ میں مصطفیٰ قریشی کا مشہورِ زمانہ مکالمہ سنتے ہوئے پایا گیا "نواں آیا ایں سوہنیا۔۔!"

فلم مولاجٹ (1979) کے دیگر معاون اداکاروں میں عالیہ، امروزیہ، انیتا، رنگیلا اور البیلا وغیرہ کو صرف ایک ایک گیت میں پیش کیا گیا۔ نصراللہ بٹ اور اقبال درانی بھی صرف ایک ایک سین کے ولن تھے۔

ان کے علاوہ، مزاحیہ اداکار لاڈلا، مرکزی کامیڈین تھے لیکن کسی ایک بھی سین میں متاثر نہیں کرسکے اور اوور ایکٹنگ کا شکار رہے البتہ خوش قسمت تھے کہ ایک فلمساز نے انھیں فلم شاگرد مولے جٹ دا (1983) میں ہیرو اور ٹائٹل رول میں لینے کا رسک لیا اور اس کی سزا بھی پائی تھی۔

فلم مولا جٹ (1979) کا تعارف

باہوفلمز کی ایکشن پنجابی فلم مولاجٹ (1979) کا آغاز، حضرت سلطان باہوؒ کےمزار کی تصویر پر فلمساز محمدسروربھٹی کی آواز میں اس شعر سے ہوتا ہے: "حق باہوؒ، بے شک باہوؒ، اک نظر کرم دی تک باہوؒ۔۔"

فلم مولا جٹ میں بھٹو اور جنرل ضیا
فلم مولا جٹ میں بھٹو اور جنرل ضیا۔۔؟
اس کے بعد فلم کی کہانی کاخلاصہ بیان کرتے ہوئے تخلیقِ کائنات کے بارے میں ایک حدیثِ قدسی عربی اور اردو ترجمہ کے ساتھ پڑھی جاتی ہے جس کی روشنی میں فلم کے دو مرکزی کرداروں کا تعارف کروایا جاتا ہے۔ ایک "اللہ کا خلیفہ" یعنی ایک نیک اور منصف انسان "مولا جٹ" ہے جبکہ دوسرا "شیطان کا پیروکار" یعنی زمین پر فساد برپا کرنے والا اور طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا ایک خردماغ شخص "نوری نت" ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وائس آف امریکہ (VOA) کو دیے گئے ایک ویڈیو انٹرویو کے مطابق، فلمساز محمدسروربھٹی نے فلم مولاجٹ (1979) کو ذوالفقار علی بھٹوؒ اور جنرل ضیاء الحق ملعون کی کہانی بتایا ہے جس میں "مولا جٹ" کا کردار، بھٹو کا ہے اور یہ تاریخی ڈائیلاگ کہ "مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نئیں مرسکدا۔۔" بھی بھٹوصاحب کی پھانسی کے بارے میں تھا۔ شاید اسی لیے صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے متعدد دیگر رہنما اس ڈائیلاگ کو دھراتے رہے ہیں۔

فلم مولا جٹ (1979) کی کہانی

فلم مولا جٹ (1979) کی کہانی

فلم مولاجٹ (1979) کے ٹائٹل کے دوران، ایک مظلوم لڑکی (عالیہ)، ایک بدمعاش "ماکھا نت" (ادیب) سے اپنی عزت بچاتے ہوئے گاؤں گاؤں بھاگتی ہے لیکن کوئی اس کی داد رسی کو نہیں آتا۔ یہاں تک کہ پولیس بھی خوف کے مارے اس کی مدد نہیں کرتی۔ بالآخر ہانپتے کانپتے "25 دیہاتوں کے منصف مولا جٹ" (سلطان راہی) کے گاؤں پہنچ جاتی ہے جہاں اسے پناہ اور تحفظ مل جاتا ہے۔

"ماکھا نت"، طاقت کے نشے سے سرشار "مولا جٹ" کی بھابھی "دانی" (سیما) سے بھی گستاخی کرتا ہے جس پر وہ فلک شگاف آواز میں "مولیا۔۔" پکارتی ہے اور وہ پلک جھپکتے میں کسی جن کی طرح حاضر ہوجاتا ہے اور اس کو یکطرفہ سزا سنادیتا ہے کہ وہ اس لڑکی سے شادی کرے اور بدلے میں اس کی بہن کی شادی لڑکی کے بھائی سے کی جائے گی۔

"ماکھانت"، یہ فیصلہ نہیں مانتا اور انجام کار "مولے" کے دوست "مودے گاڈی" (کیفی) کے ہاتھوں مار کھاتا ہے اور جب ناک پر نشان لے کر گھر پہنچتا ہے تو اس کی مغرور اور خودسر بہن دارونتنی (چکوری) اسے بزدلی کا طعنہ دے کر گولی مار دیتی ہے۔

طاقت کے نشے سے سرشار اور انتہائی متکبر، دارو کا دوسرا بھائی "نوری نت" (مصطفیٰ قریشی) جیل سے رہا ہو کر آتا ہے اور اپنےبھائی کا انتقام لینے کے لیے "مولے" کے گاؤں جاتا ہے جہاں "مودا گاڈی" سے سامنا ہوتا ہے۔ وہ، اس کی ٹانگ توڑ دیتا ہے۔ اب دشمنی (یا انصاف)، بہن کے رشتے کے علاوہ ٹانگ کے بدلے میں ٹانگ بھی ہو جاتی ہے۔

"25 دیہاتوں کا منصف مولا جٹ"، یہ خبر پا کر ایک بار پھر "وحشی جٹ" بن جاتا ہے اور قبر سے دفن شدہ "گنڈاسا" نکال کر تن تنہا انتقام لینے اور انصاف قائم کرنے کے لیے "نوری نت" سے بدلہ لینے نکل پڑتا ہے اور پھر ان کی متعدد جھڑپیں اور جیل یاترا ہوتی ہے۔

چاند کی 14ویں تاریخ کو "مولا جٹ"، اپنے فیصلے کےعین مطابق "مودا گاڈی" کی بارات لے کر "نوری نت" کے گاؤں پہنچ جاتا ہے جہاں شدید مزاحمت ہوتی ہے۔ اس دوران قانون گہری نیند سویا ہوا ہوتا ہے۔ قتل و غارت کا بازار گرم ہوتا ہے اور اکیلا "مولا جٹ" بے شمار لوگوں کو اپنے گنڈاسے کی مدد سے گاجر مولیوں کی طرح سے کاٹنے کے بعد "نوری نت" پر بھی حاوی ہو جاتا ہے لیکن اس کی بہن "دارونتنی" کے ہاتھ جوڑنے پر معاف کر دیتا ہے۔

"نوری نت" کویہ برداشت نہیں ہوتا کہ کوئی اس پر رحم کرے۔ وہ، مولے کے انصاف کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی ٹانگ خود ہی کاٹ کر کٹی ہوئی ٹانگ اور اپنی بہن بھی دے دیتا ہے۔ اس طرح سے فلم مولاجٹ (1979) کا اختتام ہو جاتا ہے اور خلاصہ یہ ہوتا ہے کہ انسانیت، انتقام نہیں، انصاف چاہتی ہے۔

فلم مولاجٹ (1979) کی اداکاری

فلم مولاجٹ (1979) میں سبھی اداکاروں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق اچھا کام کیا لیکن اداکاری کے شعبے میں فلم کے ولن اداکار، مصطفیٰ قریشی، سب پر بازی لے گئے تھے۔

ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے کیرئر کا آغاز کرنے والے مصطفیٰ قریشی کی پہلی فلم پردیسی (1958)، ایک سندھی فلم تھی۔ لاکھوں میں ایک (1967)، پہلی اردو اور چار خون دے پیاسے (1973)، پہلی پنجابی فلمیں تھیں۔ فلم مولا جٹ (1979) سے قبل سو سے زائد فلموں میں کام کرچکے تھے۔ متعدد فلموں میں ہیرو بھی آئے لیکن چار سو سے زائد فلموں کے طویل کیرئر میں یہ ان کی سب سے بڑی فلم تھی اور "نوری نت" کا تاریخ ساز کردار، اکلوتا کردار تھا جو ان کی پہچان بنا جو بھارتی فلم شعلے (1975) کے "گبھر سنگھ" (امجد خان) سے متاثر تھا۔

اچھی طرح سے یاد ہے کہ ریڈیو پاکستان لاہور کی گلی گلی گونجنے والی کمرشل سروس سے مسلسل دو سال تک اس فلم کا ریڈیو پروگرام نشر ہوتا رہا جس میں بلاناغہ اس فلم کے ڈائیلاگ سننے کو ملتے جو بچے بچے کی زبان پر آگئے تھے۔ مجھے بھی یہ فلم دیکھنے کی ترغیب ریڈیو ہی سے ملی ورنہ اس دور کی ایکشن پنجابی فلموں کو دور ہی سے سلام کیاکرتا تھا۔

فلم مولاجٹ (1979) کا دوسرا بڑا کردار "دارو نتنی" کی صورت میں اداکارہ چکوری کا تھا جو کبھی صفِ اول کی اداکارہ نہیں بن سکی لیکن اس کے فلمی کیرئر کی یہ سب سے بڑی فلم ثابت ہوئی تھی۔ کیفی، اپنے معاون کردار میں مناسب رہے۔

فلم مولاجٹ (19799 کا ٹائٹل اور ہیرو کا رول، سلطان راہی نے کیا جو ان کی بے شمار دیگر فلموں کی طرح کا ایک روایتی کردار تھا لیکن اس کردار نے انھیں بلاشرکت غیرے، ایکشن پنجابی فلموں کی ضرورت بنا دیا تھا۔

فلم کی ہیروئن، آسیہ، "مکھو جٹی" کے رول میں فلم بینوں کی نیندیں حرام کیا کرتی تھی۔ اس فلم میں اسے بلا کا حسین اور پرکشش پیش کیا گیا۔ خاص طور پر پنجابی زبان کے شاہپوری لہجے میں اس کا انداز اور مکالمے دل موہ لینے والے تھے۔

اے کاش، پنجابی فلموں میں پنجابی زبان کےمختلف لہجوں اور بولیوں کے مستقل کردار ہوتے تو شاید پنجابی/سرائیکی وغیرہ کی غیرضروری لسانی کشیدگی کبھی پیدا نہ ہوتی۔۔!

فلم مولاجٹ (1979) کا نوری نت (مصطفیٰ قریشی)

فلم مولا جٹ (1979) پر اعتراضات

ہماری فلمیں عام طور پر تیکنیکی طور پر بڑی کمزور ہوتی تھیں اور ان میں بڑے بڑے جھول ہوتے تھے۔ اس فلم میں بھی مندرجہ ذیل خامیاں نظر آتی ہیں:

  • فلم مولاجٹ (1979) کے آغاز میں پورا پنجاب، اتنا بے غیرت اور بے بس دکھایا گیا ہے کہ ایک لڑکی کی عزت کی حفاظت تک نہیں کر سکتا۔ "ماکھانت" کے خوف سے لوگ دروازے تو بند کر لیتے ہیں لیکن ان کے چہروں پر خوف کی بجائے مسکراہٹیں نظر آتی ہیں۔
  • "25 دیہاتوں کے منصف" مولا جٹ نے ایک مظلوم لڑکی کی عزت تو بچالی لیکن اس کا مجرا (یا رقصِ بسمل) پورا دیکھا، کیا غیرت مندی ہے۔۔!
  • اپنے بھائی کے قتل کا برملا اعتراف کرنے والی "دارو نتنی" کی ضمانت بڑی آسانی سے ہو جاتی ہے جیسے انسانی جان کی قدروقیمت اور ملک میں قانون نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔
  • بندوق بردار "اکو نت"، "گنڈاسا بردار مولا جٹ" کی طرف ایک دستی بم سے پن نکال کر پھینکتا ہے لیکن مضحکہ خیزطور پر وہ اس کو کیچ کر کے واپس پھینک دیتا ہے جس سے وہ بھی بچ جاتا ہے لیکن گنڈاسے کے پے درپے وار نہیں سہ پاتا اور ہلاک ہو جاتا ہے۔ جتنی طاقت سے گنڈاسے کے وار ہوتے ہیں، اس سے تو ایک انسانی جسم کے چیتھڑے اڑ جانا چاہئیں لیکن صرف زخم ہی ہوتے ہیں جو لگتا ہے کہ فلم پر پابندی کے بعد دوبارہ شوٹ ہوئے تھے۔
  • ایک شخص اپنے دھیان درخت کاٹ رہا ہوتا ہے لیکن اس کو اچانک پیچھے سے گزر جانے والے "نوری نت" کی آنکھوں کی سرخی تک نظر آ جاتی ہے۔
  • ہسپتال کے بیڈ فاصلے پر ہیں، درمیان میں تھانیدار کھڑا ہے لیکن قریب کے منظر میں "مولا جٹ اور نوری نت" کے چہرے بالکل قریب ہو جاتے ہیں۔
  • فلم کے اختتامی مراحل میں بارات کے بہت بڑے واقع اور قتل و غارت کے باوجود پولیس کا کہیں نام و نشان نہیں ہوتا۔
  • خوبصورت شاہ پوری بولنے والی "مکھو"، اچانک خالص ماجھی بولی میں گانا شروع کر دیتی ہے، کاش وہ گیت بھی شاہ پوری میں ہوتے۔
  • فلم میں انتہائی احمقانہ اور بچگانہ فائٹ کے علاوہ تصویر کو روکنا، سلوموشن کرنا یا ادھر ادھر گھمانا (یا روٹیٹ کرنا)، انتہائی غیر پیشہ وارانہ حرکتیں ہوتی تھیں۔
  • فلم مولاجٹ (1979) کے بعض مکالمے بھی انتہائی قابلِ مذمت ہیں مثلاً یہ مشرکانہ مکالمہ کہ "اگر خدا کے پاس بھی لے جاتا تو "ماکھا جٹ" کو دیکھ کر وہ بھی منہ موڑ لیتا۔۔" (نعوذباللہ)۔
    اسی طرح سے "دارو نتنی" کا یہ شرانگیز، متعصبانہ اور جاہلانہ مکالمہ "اسیں کتے تے کمی نوں نئیں ماردے۔۔" اور "مکھو" کا بظاہر شوخ انداز میں پورے پنجاب کو "چھان بورا" کہنا بھی انتہائی توہین آمیز تھا۔

مولاجٹ (سلطان راہی) اور نوری نت (مصطفیٰ قریشی)

فلم مولا جٹ (1979) کے تنازعات

فلم مولاجٹ (1979) نے 5 ستمبر 1978ء کو عیدالفطر کے دن ریلیز ہونا تھا لیکن سنسربورڈ نے نمائش کی اجازت نہیں دی تھی۔۔!

مجھے یہ تاریخ اس لیے یاد ہے کہ گجرات کے سنگیت سینما پر عوامی رائے لی گئی کہ عید کے دن کون سی فلم لگائی جائے۔ ہم دوستوں میں سے کسی ایک نے بھی فلم مولاجٹ (1979) کے حق میں وؤٹ نہیں دیا تھا۔ ہمارا انتخاب فلم اکبرامرانتھونی (1978) تھی جو عید پر لگائی گئی تھی۔

فلم مولاجٹ (1979) پر سب سے بڑا اعتراض تو یہی تھا کہ یہ ایک پرتشدد فلم ہے جس میں گنڈاسے کی مدد سے انسانوں کو بڑی بےدردی اور سنگدلی سے گاجر مولیوں کی طرح سے کاٹا گیا ہے۔ سینماؤں پر غیرسنسرشدہ حصے دکھائے جاتے تھے۔

فلم مولاجٹ (1979) میں نوری نت کی کٹی ہوئی ٹانگ

فلم کی نمائش کے دوران فلمساز کی اعلیٰ احکام سے عدالتی آنکھ مچولی جاری رہی اور دو سال تک یہ فلم "سٹے آرڈر" پر چلتی رہی۔ اسی فلم کی وجہ سے "سنسر شپ آف فلمز ایکٹ مجریہ 1963ء" میں ترامیم کرنا پڑی اور بالآخر مارشل لاء کےایک حکم پر اس فلم پر فروری 1981ء میں پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

فلم مولاجٹ (1979) پر دوسرا الزام یہ تھا اس میں ذات پات اور خاندانی دشمنیوں کو ہوا دی گئی ہے اور خاص طور پر "نت برادری" کی توہین کی گئی ہے۔ مثلاً یہ جملہ"ملکاں دےپوترے مارے سان تے نتاں دے دھوترے وی ماراں گا۔۔" (ملک برادری کے پوتے مارے تھے، اب نت برادری کے نواسے بھی ماروں گا۔۔!)

بتایا جاتا ہے کہ پاکستان کے ایک صنعتی نشاط گروپ کے مالک منشانت کے علاوہ پنجاب کے سابق وزیرِ اعلیٰ پرویز الہٰی کے خاندان کا بھی" نت برادری" سے تعلق بتایا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ اس برادری نے بھی فلم کی نمائش پر مقدمہ کر دیا تھا۔

فلم مولا جٹ (1979) کی موسیقی

فلم مولاجٹ (1979) کی موسیقی کا شعبہ سینئر موسیقار ماسٹرعنایت حسین کے پاس تھا جنھوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایکشن فلم میں خوبصورت دھنوں سےمزین دلفریب گیت تخلیق کیے تھے۔

فلم مولاجٹ (1979) کی موسیقی

اس فلم کی پس پردہ موسیقی بھی بڑی زبردست تھی، خاص طور پر "نوری نت" کی آمد پر پس منظر میں جو ٹون بجتی ہے، وہ فلم کی کامیابی میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔

ایک گمنام شاعر نسیم فضل نے فلم مولاجٹ (1979) کے گیت لکھے جن کی فلم میں ترتیب حسب ذیل ہے:

اس فلم کے کورس گیت "اے تے ویلا آپ دسے گا۔۔" میں عالم لوہار کے بیٹے عارف لوہار نےبھی سنگت کی جو شاید فلموں میں باپ اور بیٹے کا پہلا مشترکہ فلمی گیت ہو سکتا ہے۔

فلم مولا جٹ (1979) کا بزنس

فلم مولاجٹ (1979ء) نے ملک بھر میں بزنس کے نئے ریکارڈز قائم کیے اور خاص طور پر ایک طویل عرصہ تک پنجاب بھر کے مختلف سینماؤں میں زیرِ نمائش رہی تھی۔

9 فروری 1979ء کو شبستان سینما لاہور کے علاوہ پنجاب سرکٹ کے دیگر سینماؤں میں ریلیز ہونے والی سلطان راہی کے ٹائٹل رول میں فلمساز محمدسروربھٹی اور ہدایتکار یونس ملک کی ریکارڈ توڑ فلم مولاجٹ (1979) کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ پاکستان کی پہلی فلم ہے کہ جس نے اپنے مین تھیٹر پر مسلسل دو سال چل کر "خالص ڈائمنڈجوبلی" یعنی سو ہفتے چلنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ ان دو برسوں میں لاہور کے دیگر سینماؤں کو ملا کر کل 216 ہفتے بن گئے تھے۔

فلم مولا جٹ (1979) کا بزنس

شبستان سینما لاہور پر اس فلم کے 159ویں ہفتے کے اخباری اشتہار سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اس فلم کی نمائش کا یہ مسلسل تیسرا سال ہے جو درست نہیں۔ ہمارے ہاں فلموں کے اصل ہفتوں کے ساتھ سینماؤں کی تعداد کو بھی شامل کیا جاتا تھا جس کی ایک مثال ایک اور اخباری اشتہار میں فلم مولاجٹ کا "956واں ہفتہ" ہے جو اصل میں پورے پاکستان یا پنجاب کے سینماؤں کو ملا کر بنایا گیا ہے جبکہ عام طور پر فلموں کے ہفتے صرف ایک ہی شہر مثلاً لاہور یا کراچی کے سینماؤں کے گنے جاتے تھے۔

پنجاب کے دیگر بڑے شہروں میں فلم مولاجٹ (1979) کے بزنس کے بارے میں مختلف ذرائع سے جو معلومات ملتی ہیں، ان کے مطابق، بیشتر شہروں کے سینماؤں نے اتنا کمایا کہ مالکان خود اسی ٹائپ کی فلمیں پروڈیوس کرنے لگے۔ بہت سی تھرڈ پارٹیاں بن گئیں جو رائل پارک لاہور سے اس فلم اور پنجاب سرکٹ کے سینماؤں کو کرایہ پر لیتیں اور خوب پیسہ کماتی تھیں۔

اپنے آبائی شہر یا قصبے کھاریاں کے بارے میں عینی شاہد ہوں کہ جہاں کبھی کوئی فلم دو ہفتوں سے زیادہ نہیں چلی، وہاں اس فلم نے مسلسل چھ ہفتے چلنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔

کھاریاں کے جی ٹی روڈ پر واقع شہر کے اکلوتے پٹرول پمپ کی دونوں دیواروں پر اس فلم کے ساتھ سرخ رنگ سے بڑا سا "6واں شاندار ہفتہ" لکھا ہوا کبھی نہیں بھلا سکا۔ یہ فلم سنگم سینما پر چار اور قیصرسینما پر دو ہفتے چلائی گی لیکن میں نے صرف ایک ہی بار دیکھی تھی۔

کراچی میں ڈائمنڈجوبلی

فلم مولاجٹ (1979) نے کراچی میں بھی "ڈائمنڈجوبلی" منائی تھی۔ گو متعدد فلمی صحافی اور ریکارڈ کیپرز اس سے متفق نہیں لیکن ایک اخباری اشتہار کے مطابق، اس فلم نے شالیمار اور روبی سینماؤں میں 100 ہفتے مکمل کیے۔ ایک اور دلچسپ اشتہار 95ویں ہفتے کا بھی ہے جب یہ فلم کراچی کے سکالا، زینت اور مہتاب سینماؤں میں چل رہی تھی۔

اس اخباری اشتہار کا اگر باریک بینی سےجائزہ لیں تو فلم مولاجٹ (1979) نے "اگر" کراچی میں ڈائمنڈجوبلی کی تھی تو دوسرے رن میں کی ہوگی، پہلے میں نہیں کیونکہ یہ فلم، 1979ء میں ریلیز ہوئی اور 1981ء میں اس پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ شاید اسی سال نئی اجازت کے ساتھ ریلیز ہوئی ہوگی۔

اس دوران 1978ء سے 1982ء تک سکالا سینما کراچی میں فلم آئینہ (1977) چل رہی تھی، اس لیے فلم مولاجٹ (1979) کا یہ اشتہار جنوری 1982ء کے بعد کا ہی ہو سکتا ہے۔

فلم مولا جٹ (1979) نے کتنی کمائی کی؟

فلمساز محمدسروربھٹی (مرحوم)، دھن کے بڑے پکے تھے اور کبھی کسی انٹرویو میں بھولے سے بھی یہ نہیں بتایا کہ فلم مولاجٹ (1979) سے انھوں نے ذاتی طور پر کتنی کمائی کی۔ البتہ یہ ضرور بتاتے تھے کہ اس وقت دس روپے کے سینما ٹکٹ پر چھ روپے کا سرکاری ٹیکس ہوتا تھا اور دو ماہ اور 26 دنوں میں ساڑھے 14 لاکھ روپے میں بننے والی اس بلاک باسٹر فلم نے صرف ایکسائز ٹیکس کی مد میں حکومتِ پنجاب کو ساڑھے چار کروڑ روپے ادا کیے تھے۔ بقول بھٹی صاحب کے، اس وقت لاہور میں رائے ونڈ کے مقام پر دو سو کنال زمین کی قیمت ایک لاکھ روپیہ ہوتی تھی۔

مولاجٹ (1979)

اپنے مختلف ویڈیو انٹرویوز میں سروربھٹی (مرحوم) یہ مبالغہ آرائی بھی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ جتنا ٹیکس انھوں نے اس ایک فلم کا دیا، اس سے پاکستان کے تمام قرضے ادا ہو سکتے تھے۔۔!

مولاجٹ (1979)، سروربھٹی کی پہلی فلم تھی جس پر انھوں نے اپنی جائیداد بیچ کر سرمایہ کاری کی لیکن اس کی کمائی سے کوئی بڑی جائیداد تو نہیں بنا سکے البتہ مزید چار فلمیں ضرور بنائیں۔ ان کی دوسری فلم چن وریام (1981) بھی ایک سپرہٹ ڈائمنڈجوبلی فلم تھی لیکن اگلی دو فلمیں، مرزاجٹ (1982) اور حق مہر (1985) نرم رہیں البتہ اکلوتی اردو فلم بازارِ حسن (1988)، ایک کامیاب فلم تھی۔

اس کے بعد انھوں نے کبھی کوئی فلم نہیں بنائی جس کی بظاہر وجہ (انھی کے ایک انٹرویو کی روشنی میں) یہی ہو سکتی ہے کہ ان کی جمع پونجی، "بازارِ حسن" کی نظر ہو گئی تھی۔۔!

دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم مولاجٹ (1979) کی کمائی سے بھٹی صاحب نے ناصرادیب کو 45 ہزار روپے کی گاڑی تحفے میں دی تھی۔ اس کے علاوہ انھیں کہانی نویسی پر ساڑھے سات ہزار روپے معاوضہ بھی دیا لیکن ناصرادیب کا کہنا ہے کہ انھیں، اس فلم کے لیے صرف دو ہزار روپے ادا کیے گئے، باقی رقم سے ان کی گاڑی کی مرمت کروائی گئی تھی۔

فلم مولاجٹ (1979) کی کمائی سے شبستان سینما لاہور کے مالک نے ایک اور سینما، پرنس بنایا تھا جبکہ بہت سے سینما مالکان نے اس فلم کی کمائی سے مزید فلموں میں سرمایہ کاری کی تھی جو اس وقت ایک منافع بخش کاروبار بن چکا تھا۔

شبستان اور پرنس سینما لاہور

فلم مولاجٹ (1979) کی ریکارڈ توڑ کمائی سے سروربھٹی صاحب تو کوئی بڑی سرمایہ کاری نہ کر سکے لیکن ماضی میں دیگر فلمسازوں نے بڑی بڑی سرمایہ کاریاں کیں جن میں پاکستان کی پہلی بلاک باسٹر فلم دلابھٹی (1956) کی کمائی سے آغا جی اے گل نے "ایورنیو سٹوڈیوز"، فلم یکے والی (1957) کی کمائی سے باری ملک نے "باری سٹوڈیوز" اور فلم مہتاب (1962) کی کمائی سے شباب کیرانوی نے "شباب سٹوڈیوز" وغیرہ بنانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔

فلم مولا جٹ (1979) پر اختلافات

فلم مولاجٹ (1979) کی غیرمعمولی کامیابی کے بعد اس فلم کے بنانے والے "تین بڑوں" یعنی فلمساز محمدسروربھٹی، ہدایتکار یونس ملک اور مصنف ناصرادیب کے اختلافات کھل کر سامنے آئے۔ جھوٹی انا، خودپسندی اور خود نمائی کی وجہ سے تنازعہ یہ تھا کہ اس فلم کا کریڈٹ کس کو جاتا ہے۔۔؟

فلمساز محمدسرور بھٹی

فلم مولاجٹ (1979) پر پہلا اختلاف تو اس فلم کی ریلیز کے دوران ہی سامنے آ گیا تھا جب اشتہارات وغیرہ میں ہدایتکار یونس ملک کی بجائے صرف فلمساز محمد سروربھٹی ہی کو نمایاں کیا جاتا تھا جو اس فلم کو صرف اپنی تخلیق سمجھتے تھے اور دوسروں کو اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے والے تنخواہ دار ملازم یا کارندے سمجھتے تھے۔

سلطان راہی، مصطفی قریشی اور محمدسرور بھٹی مع دیگر
عام طور پر دنیا بھر میں کسی بھی فلم کو ہدایتکار کے نام سے جانا جاتا ہے لیکن فلم مولاجٹ (1979) کے فلمساز سروربھٹی کا دعویٰ تھا کہ اس فلم کا سکرپٹ ان کا اپنا لکھا ہوا تھا جس کے لیے انھوں نے فلم وحشی جٹ (1975) کے فلمساز سے باقاعدہ اجازت لی تھی۔

"نوری نت" کے لافانی کردار کے علاوہ "دارونتنی" اور اس فلم کے متعدد مشہور مکالمے بھی بھٹی صاحب کے اپنے ذہن کی اختراع تھی لیکن سکرین پلے اور دیگر مکالمے ناصرادیب سے لکھوائے جو یہ اعتراف کرتے ہیں کہ "نوری نت" کا کردار سروربھٹی صاحب ہی کی تخلیق تھا۔

مصطفی قریشی (نوری نت) مصطفی قریشی (نوری نت)
سروربھٹی، فلم مولاجٹ (1979) کے ہدایتکار کے طور پر سینئر فلم ڈائریکٹر اسلم ایرانی کی خدمات حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن سلطان راہی کو ہیرو نہ لینے پر بات نہ بن سکی تھی۔ پھر کیفی صاحب سے بات ہوئی، انھوں نے فلم میں ایک ثانوی کردار تو قبول کر لیا لیکن ہدایتکاری سے معذرت کر لی کیونکہ انھیں نوری نت کا کردار کرنے کی اجازت نہیں ملی تھی۔

اس کے بعد، فلمساز سروربھٹی نے یونس ملک اور جہانگیرقیصر کے نام پر ٹاس کیا اور پہلے کو منتخب کر لیا اور منہ مانگا معاوضہ دیا۔ ملک صاحب سے بھی فلم مولاجٹ (1979) کے وائنڈاپ پر اختلاف ہوا جو نوری نت کی ٹانگ کو مولاجٹ سے کٹوانا چاہتے تھے لیکن بھٹی صاحب نہیں مانے اور اپنی مرضی کا سین ہی فلمایا تھا۔

سروربھٹی (مرحوم)، ایک پیشہ ور اور کامیاب مقدمہ باز تھے۔ پہلے فلم مولاجٹ (1979) کی نمائش کے لیے مارشل لاء حکام سے قانونی جنگ لڑتے رہے اور مسلسل دو سال تک "سٹے آرڈر" پر ہی فلم کی نمائش جاری رکھی۔ پھر یونس ملک نے فلم مولاجٹ ان لندن (1981) بنائی تو عدالتی کاروائی سے اس فلم سے "مولا" کا لفظ کٹوادیا تھا۔ گزشتہ ایک دھائی سے ایک بار پھر میڈیا کی زینت بنے اور فلم دی لیجنڈ آف مولاجٹ (2022) کے حقوق کی جنگ جیتنے میں بھی کامیاب رہے تھے۔

اپنے ایک ویڈیو انٹرویوز میں یہ بتاتے ہیں کہ اس فلم کی نمائش ایک معاہدے کے تحت ہوئی ہے لیکن اس کا انھیں کتنا معاوضہ ملا، اپنی دیگر فلموں سے ملنے والے ذاتی منافع کی طرح یہ سوال بھی گول کر جاتے تھے۔

16 اکتوبر 1956ء کو پیدا ہونے والے محمدسرور بھٹی کا 68 سال کی عمر میں 13 جنوری 2025ء کو لاہور میں انتقال ہوا۔ وہ کالینوں کا کاروبار کیا کرتے تھے اور آخری عمر میں اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک سکول چلا رہے تھے۔

ہدایتکار یونس ملک

ہدایتکار یونس ملک

فلم مولاجٹ (1979) کے ہدایتکار یونس ملک کی بطورِ ہدایتکار پہلی فلم جیراسائیں (1977) تھی جو ایک سپرہٹ فلم تھی۔ انھیں فلم مستانہ ماہی (1971) اور جیرابلیڈ (1973) کے شہرت یافتہ ہدایتکار افتخارخان کا شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔

اسی سال، یونس ملک کی ایک اور فلم وحشی گجر (1979) بھی سپرہٹ ہوئی جس سے ان کے اعتماد میں مزید اضافہ ہوا۔ بعد میں انھوں نے تین درجن فلموں میں سے شیرخان (1981) کے علاوہ مولابخش (1988) جیسی سپرہٹ فلم بھی بنائی جس میں انھوں نے وقت کی سپرسٹار ہیروئن، انجمن کا چیلنج قبول کرتے ہوئے اس کے مقابلے میں نادرہ اور نیلی کو بڑی کامیابی کے ساتھ متعارف کروایا تھا۔

1952ء میں لاہور میں پیدا ہونے والے یونس ملک کا 8 جولائی 2015ءکو انتقال ہوگیا تھا۔

مصنف ناصرادیب

فلم مولاجٹ (1979) کے مصنف، ناصرادیب تھے لیکن فلمساز محمدسروربھٹی، اس فلم کا کریڈٹ خود لیتے تھے اور ناصرادیب کو بڑے سخت الفاظ میں یاد کرتے تھے۔

ان دونوں کے اصل اختلافات فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ (2022) کی تکمیل کے دوران سامنے آئے جب مذکورہ فلم کے حقوق کی بات چلی اور فلم بینوں کو پہلی بار پتہ چلا کہ اصل حقیقت کیا ہے؟

مختلف انٹرویوز، وی لاگز اور حقائق کی روشنی میں بے شمار سپرہٹ ایکشن پنجابی فلموں کے رائٹر ناصرادیب کی انتہائی متنازعہ اور متضاد شخصیت سامنے آتی ہے:

ناصر ادیب
  • اپنی پہلی کامیاب فلم وحشی جٹ (1975) کی طرح فلم مولاجٹ (1979) بھی ناصرادیب کی تخلیق ثابت نہیں ہوتی اور ان کی 414 فلموں کی قلعی بھی کھل جاتی ہے کہ موصوف نے احمدندیم قاسمی کے صرف ایک افسانے کو کتنی بار کیش کروایا تھا۔ نصف صدی بعد فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ (2022)، اس جعل سازی کی "ہٹ ٹرک" ثابت ہوتی ہے۔
  • ہدایتکار اقبال کاشمیری کی متعدد فلموں کے وائنڈاپ میں یکسانیت کا مذاق اڑانے والے ناصرادیب، خود ہی اعتراف کرتے ہیں کہ ساری زندگی ایک ہی کہانی لکھتے رہے جس کا خلاصہ ہوتا تھا: "تینوں نئیں چھڈاں گا۔۔!" (تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔۔!)
  • ایک فلم، ٹیم ورک کا نتیجہ ہوتی ہے جس کا "ان داتا"، فلمساز،"ناخدا"، ہدایتکار اور "مرکزی کردار"، اداکار ہوتا ہے لیکن موصوف سارا کریڈٹ صرف رائٹر کو دیتے ہیں اور ریاض شاہد کو نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "اداکار، ایک "بندر" ہوتا ہے جسے رائٹراپنے اشاروں پر نچاتا ہے۔۔!"
  • ناصرادیب کی فلمی کہانیاں، ان کے بچپن کے تجربات کا نچوڑ ہیں جن سے وہ کبھی باہر نہیں نکل سکے۔ انھیں، پولیس سے نفرت اور بدمعاشوں سے محبت رہی ہے کیونکہ ایک "نادر" نامی بدمعاش نے ان کے باپ کو پولیس سے بچایا تھا جس کی وجہ سے ان کی بیشتر فلموں کا ہیرو "نادر" ہوتا تھا۔
  • ناصرادیب کو اس بات کا ادراک تھا کہ اپنی فلمی کہانیوں کی روشنی میں تعلیم یافتہ اور مہذب لوگوں میں انھیں پرلے درجے کا جاہل، اجڈ اور غیرمہذب شخص سمجھاجاتا تھا جس نے بدتمیزی، غنڈہ گردی اور بدمعاشی کو پنجابی فلموں کی پہچان بنا دیا تھا اور اہلِ پنجاب کو کوئی وحشی قبائل کا درجہ دے دیا تھا جہاں تہذیب و تمدن کا کبھی گزر نہیں ہوا تھا۔
  • شاید یہی وجہ ہے کہ اپنے وی لاگز اور دیگر انٹرویوز میں بظاہر سوٹڈ بوٹڈاور ٹائی لگا کر بڑے مہذب نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ ڈبل ایم اے ہیں لیکن ان کے اندر چھپا ہوا جٹ، چھپائے نہیں چھپتا۔ اس لیے حیرت نہیں ہوتی کہ موصوف، ہماری فلمی تاریخ کی واحد شخصیت ہیں کہ جس نے زبردستی ایوارڈ لینے کے لیے غنڈہ گردی اور بدمعاشی کی ایک بدترین مثال قائم کی تھی۔ اپنے اس کارنامے کا انکشاف خود اپنی زبانی، اپنے وی لاگز میں کر چکےہیں۔
  • سستی چیز ویسے بھی خوب بکتی ہے۔ خاص طور پر جہاں جہالت کا دور دورہ ہو وہاں ناصرادیب جیسے دونمبر لوگوں کی چاندی ہوتی ہے۔ موصوف چونکہ سارا کام " تالیوں یا کلیپنگ" کے لیے کرتے تھے، اس لیے انھیں دیکھنے اور پسند کرنے والے بھی معاشرے کے لوئر کلاس سے تعلق رکھنے والے جاہل، ان پڑھ اور غریب لوگ ہوتے تھے جن کے لیے فلم واحد تفریح ہوتی تھی اور جو سکرین پر نظر آنے والے "نجات دہندہ" سلطان راہی کو اپنا ہیرو سمجھتے تھے۔
  • سلطان راہی
  • ناصرادیب، یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ انھوں نے سلطان راہی کو پونے تین سو فلموں میں بیس سال تک ایک ہی کردار میں ہٹ کروایا تھا۔۔!
    حقیقت یہ ہے کہ سلطان راہی، اپنے ایکشن فلمی کرداروں سے سخت بیزار تھے اور انورمقصود کو دیے گئے ایک یادگار انٹرویو میں یہ اعتراف کرتے تھے کہ پہلے بھی ایک فائٹر تھے اور عروج کے دور میں بھی فائٹر ہی رہے اور ایکٹنگ یا اداکاری، ان سے بہت دور تھی۔ انھیں لگتا تھا کہ جس طرح کا کام ان سے کروایا جا رہا ہے، اس کو دیکھتے ہوئے بغیر کام کیے ہی دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔
  • انتہائی پرتشدد اور بے مقصد فلموں کی کہانیاں لکھنے پر ناصرادیب کو کسی قسم کو کوئی شرمندگی یا پشیمانی نہیں۔ سلطان راہی کے 1996ء میں قتل کے بعد گمنام ہوگئے تھے۔ فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ (2022) کے بعد دوبارہ منظرِعام پر آئے اور آج کل یوٹیوب پر اپنا وی لاگ بھی کرتے ہیں۔
  • بدقسمتی سے اپنے یکطرفہ وی لاگز اور انٹرویوز میں سفید جھوٹ بولتے ہوئے نظر آتے ہیں اور خود کو پنجابی فلموں کا گاڈفادر ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔
    دروغ گوئی کی ایک بدترین مثال یہ ہے کہ ناصر ادیب صاحب ایک محترمہ کو انٹرویو دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب ان کی پہلی کامیاب فلم وحشی جٹ (1975) ریلیز ہوئی تو اس سال کی کل 82 فلموں میں سے صرف 4 پنجابی فلمیں تھیں لیکن ان کی محنت سے بیس سال بعد 1996ء میں 125 میں سے 121 پنجابی فلمیں تھیں جو سراسر بکواس ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ 1975ء میں کل ریلیز شدہ 111 فلموں میں 52 پنجابی فلمیں اور 1996ء میں کل 71 فلموں میں صرف 13 پنجابی فلمیں تھیں۔ اسی سال سلطان راہی کا قتل ہوا اور پنجابی فلموں کے غبارے سے ہوا نکل گئی تھی اور ناصرادیب جیسے بلبلے ہوا میں گم ہو گئے تھے۔
  • ناصرادیب، مختلف انٹرویوز میں اداکارہ آسیہ کی پہلی پنجابی فلم وحشی جٹ (1975) کو قرار دیتے ہیں اور اس فلم کی تیاری کے لیے اسے پنجابی زبان سکھانے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک اور بہت بڑا جھوٹ ہے۔۔!
    سچ یہ ہے کہ فلم وحشی جٹ (1975) سےپہلے، آسیہ، چالیس سے زائد پنجابی فلموں میں کام کر چکی تھی جن میں فرسٹ ہیروئن کے طور پر دورنگیلے (1972)، جیرابلیڈ (1973)، نوکرووہٹی دا (1974)، خانزادہ اور شریف بدمعاش (1975)، جیسی بڑی بڑی پنجابی فلمیں شامل تھیں۔

فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ (2022)

ماضی کی سپرہٹ پنجابی فلموں، وحشی جٹ (1975) اور مولاجٹ (1979) کے کرداروں کو بین الاقوامی سٹائل کی پہلی پنجابی ایکشن فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ (2022) میں کاپی کیا گیا۔

اس فلم میں "گنڈاسے" اور "اکھاڑے" کو نیا رنگ دیا گیا۔ قتل، انتقام اور لڑائی مارکٹائی کی گھسی پٹی کہانی میں عمررسیدہ رائٹر کے زنگ آلود قلم سے نئے ڈائیلاگ برآمد نہ ہو سکے اور پرانی شراب کو نئی بوتل میں پیش کیا گیا۔

دی لیجنڈ آف مولا جٹ (2022)
بھاری بجٹ کی یہ فلم 2013ء میں بننا شروع ہوئی لیکن کاپی رائٹ کے مسائل کی وجہ سے نو سال بعد 2022ء میں جا کر دنیا بھر میں ایک ساتھ ریلیز کی گئی۔ دعویٰ ہے کہ اس فلم نے ریکارڈ بزنس کیا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ (2022) پر 45 سے 70 کروڑ روپے لاگت آئی اور یہ پاکستان کی مہنگی ترین فلم تھی۔ اس فلم نے پاکستان اور بیرونِ ممالک سے کل 4 ارب روپے کمائے جو اس کی کم از کم لاگت سے 9 گنا زیادہ بنتے ہیں۔ فلم بزنس کا یہ کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔۔!

پاکستان میں فلم مولاجٹ (1979) کی کمائی کے اعدادوشمار تو موجود نہیں لیکن ماضی کی ایک فلم یکے والی (1957) کے بزنس کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ اس فلم نے اپنی لاگت سے 45 گنا زیادہ کمائی کی اور اس کی آمدن سے پاکستان کا سب سے بڑا فلمی نگار خانہ، باری سٹوڈیو قائم ہوا تھا۔ پاکستان کی فلمی تاریخ میں بزنس کا یہ ریکارڈ اب تک نہیں ٹوٹ سکا۔۔!

فلم ساز اور ہدایتکار بلال لاشاری کی اس فلم کی کہانی، مکالمے اور سکرین پلے ناصرادیب نے لکھے۔ فوادخان اور حمزہ علی عباسی نے مرکزی کردار کیے جبکہ مائرہ خان اور حمائما ملک دیگر معاون اداکارائیں تھیں۔

اس مضمون کی تیاری کے سلسلے میں پہلی بار فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ (2022) دیکھی جو سراسر وقت کا ضیاع ثابت ہوا۔ یہ مضمون نہ لکھنا ہوتا تو یہ فضول اور بے ہودہ فلم کبھی نہیں دیکھتا۔

پنجابی فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ (2022) کا فلمی ماحول اور چہرے مکمل طور پر اجنبی لگے۔ فلم مولاجٹ (1979) کے مشہورِ زمانہ کرداروں اور مکالموں کے علاوہ اس فلم میں کچھ بھی نہیں تھا۔ ناصرادیب نے ساڑھے سات ہزار میں لکھے ہوئے مکالموں کو 15 لاکھ روپوں میں بیچا جس سے روپے کی بے قدری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اس فلم کے بیشتر مکالمے انتہائی عامیانہ اور نچلے درجے کے ہیں۔ ذلالت اور بے غیرتی کی انتہا اس انتہائی بے ہودہ ڈائیلاگ میں نظر آتی ہے جو ناصرادیب کی ذہنی پستی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا منہ بولا ثبوت ہے: "شعر عرض کیتا اے۔۔ ٹن ٹن ٹن، تیری بھین نوں۔۔؟"

پاکستانی فلم میں سکھوں کی پنجابی/گرمکھی۔۔!

یہ وقت بھی دیکھنا تھا کہ پاکستان کی ایک پنجابی فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ (2022)، کے ٹائٹل پر انگلش کے علاوہ صرف "سکھوں کی پنجابی یا گرمکھی" تحریر ہی پڑھنے کو ملے گی۔۔!

ایسے لگتا ہے کہ جیسے سکھوں کی بنائی ہوئی کوئی فلم دیکھ رہے ہیں۔ 1960 کی دھائی تک بھارتی پنجابی فلموں میں بھی عام استعمال کی زبان، "اردو/شاہ مکھی پنجابی" ہوتی تھی۔ فلمی پوسٹروں پر انگلش کے علاوہ اردو/شاہ مکھی اور دیوناگری ہوتی تھی اور "سکھوں کی پنجابی یا گرمکھی" شاذو نادر ہی کہیں نظر آتی تھی۔

مندرجہ بالا بھارتی پنجابی فلم لچھی (1949)، کوڈے شاہ (1953) اور میں جٹی پنجاب دی (1964) کے فلمی پوسٹروں پر اردو/شاہ مکھی پنجابی تحریر نمایاں ہے جبکہ فلم مکھڑا (1950) کے پوسٹر پر دیوناگری میں بھی ٹائٹل لکھا ہوا ہے جو ہندو پنجابیوں کی زبان تھی لیکن سکھوں کی گرمکھی کا کہیں نام و نشاں تک نہیں ہے جو متحدہ پنجاب میں ہمیشہ اقلیت میں رہے ہیں۔

یاد رہے کہ تقسیم کے بعد بھارتی پنجاب میں اکثریتی آبادی پنجابی ہندوؤں سے طویل کشمکش کے بعد یکم نومبر 1966ء کو سکھوں کو ایک الگ صوبہ پنجاب ملا تو انھوں نے پہلی بار اپنے مذہبی رسم الخط "گرمکھی" کو اپنی سرکاری زبان بنایا جس کو وہ پنجابی زبان کی معیاری تحریر کے طور پر مشہور کرتے ہیں لیکن اس سے قبل، پنجاب کے مسلمانوں اور ہندوؤں کی طرح سکھ بھی اردو ہی پڑھتے اور لکھتے تھے اور پنجابی زبان کو شاہ مکھی طرزِتحریر ہی میں پڑھا کرتے تھے۔

فلم مولاجٹ (1979) کے دیگر اثرات

فلم مولاجٹ (1979) نے فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ (2022) کے علاوہ مزید فلموں کو بھی متاثر کیا لیکن ان میں سے کوئی دوسری فلم کامیاب نہیں ہوئی تھی۔ بھیڑچال کا شکار فلمسازوں نے اسی نام کی مندرجہ ذیل فلمیں بنائی تھیں:

جٹ ان لندن (1981)
شاگرد مولے جٹ دا (1979)
  • ہدایتکار یونس ملک اور مصف ناصرادیب نے فلم "مولاجٹ ان لندن" بنائی جو عدالتی حکم پر صرف جٹ ان لندن (1981) کے نام سےریلیز ہوئی لیکن ناکام رہی تھی۔
    یہ فلم بھی مولاجٹ (1979) کی کہانی کا تسلسل تھی جس کی شوٹنگ لندن میں کی گئی تھی۔ مصطفیٰ قریشی کا ڈبل رول تھا۔
    برطانیہ جیسے مہذب ملک کے دارالحکومت لندن کی سڑکوں پر نجانے گنڈاسا جیسا وحشیانہ ہتھیار لے کر چلنے کی اجازت کیسے ملی ہوگی۔ "مولا جٹ" کے مکروہ گیٹ اپ میں اداکار سلطان راہی، اچھا خاصا کارٹون نظر آتے تھے جس کا مقامی لوگ خوب مذاق اڑاتے تھے۔ آسیہ کا رقص بھی حیرت سے دیکھتے اور سوچتے کہ کیا پبلک مقامات پر بھی مجرا ہو سکتا ہے۔۔؟
  • اسی سال ہدایتکار امین ریاض نے فلم مولاجٹ (1979) کو ایک کامیڈی فلم، مولا جٹ تے نوری نت (1981) کے نام سے بنایا تھا۔ اس وقت کی مزاحیہ فلموں کی مقبول جوڑی، علی اعجاز اور ننھا نے ٹائٹل رولز کیے، ممتاز اور اقبال حسن کی جوڑی تھی لیکن یہ فلم بھی ناکام رہی تھی۔
  • ہدایتکار اعزازسید نے فلم مولاجٹ (1979) میں کامیڈی رول کرنے والے اداکار، لاڈلا، کو ہیرو لے کر فلم شاگرد مولے جٹ دا (1979) بنائی جو بری طرح سے ناکام رہی تھی۔ انجمن اور شجاعت ہاشمی کی جوڑی تھی جبکہ سلطان راہی مہمان اداکار تھے۔
  • ہدایتکار یونس ملک نے فلم مولاجٹ (1979) کے مرکزی کرداروں پر مشتمل فلم مولا تے مکھو (1991) بھی بنائی جس میں سلطان راہی کے ساتھ انجمن کو پیش کیا گیا لیکن یہ فلم بھی ناکام رہی تھی۔ اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ بھاری بھر کم انجمن کو ایک کامیڈین "پہلوان جی" کہہ کر وزن کم کرنے کا مفید مشورہ دیتا ہے۔
  • ان کے علاوہ پڑوسی ملک بھارت میں بھی اس فلم کا ہندی/اردو کے علاوہ پنجابی زبان میں بھی چربہ ہوا لیکن وہ سبھی فلمیں ناکام رہیں جس کی بڑی وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ ایسی فلمیں صرف پاکستانی پنجاب ہی میں چل سکتی تھیں۔
مولاجٹ تے نوری نت (1981)

دبئی چلو (1979)

اس سال کی سب سے بہترین اور بامقصد پنجابی فلم دبئی چلو (1979)، ریاض بٹالوی کے لکھے ہوئے ایک ٹی وی ڈرامے سے ماخوذ اس وقت کے حالات کی زندہ تصویر تھی۔

دبئی چلو (1979)
علی اعجاز نے لاجواب کردار نگاری کی تھی۔ معاون کے طور پر اداکار ننھا تھے۔ اسی سپرہٹ فلم سے یہ کامیڈی جوڑی بڑی مقبول ہوئی تھی۔ ممتاز اور دردانہ رحمان، ہیروئنیں تھیں جبکہ نغمہ، تانی اور علاؤالدین دیگر اہم کردار تھے۔ مزاحیہ اداکار ملک انوکھا نے اپنے مختصر کردار میں پنجابی زبان کے مختلف لہجوں میں مکالمے بول کر میلہ لوٹ لیا تھا۔

اس فلم میں شوکت علی کے بھائی عنایت علی کا گایا ہوا گیت "اج مینوں مل گیا، ویزہ دبئی دا۔۔" بڑا مقبول ہوا تھا جو اس حقیقت کی نشاندہی کرتا تھا کہ اس دور میں ایک عام آدمی کے لیے دبئی جانا کتنے فخر کی بات ہوتی تھی۔

1970 کی دھائی میں پہلی بار بڑی تعداد میں پاکستانی افرادی قوت کو مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں مزدوری کے لیے جانے کا موقع ملا جس سے ملک بھر میں خوشحالی کا دور دورہ ہوا تھا۔

دسمبر 1976ء میں ڈنمارک سے واپس پاکستان پہنچا تو اپنے ننہالی گاؤں کا نقشہ دیکھ کر حیران رہ گیا جہاں تین سال پہلے تک کچے مکان ہوتے تھے لیکن اب ہر دوسرے گھر کا کوئی نہ کوئی فرد "باہر" ہوتا تھا جس نے نہ صرف مالی آسودگی کی راہیں کھول دیں بلکہ ایسا سامانِ تعیش بھی دیکھنے کو ملا جس کو استعمال کرنے کے لیے لوگوں نے برسوں تک بجلی کا کنکشن آنے کا انتظار کیا تھا۔

نہیں بھولتا کہ اپنے ماموں کے گھر کی بجلی کی وائرنگ کی اور بلب جلانے کے بعد سب سے پہلے ان کا وہ ٹیپ ریکارڈر چلایا جو چندبرس قبل صلالہ (اومان) سے لائے تھے اور ممانی نے بڑا سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔

عورت راج (1979)

1979ء میں فلمساز، ہدایتکار، مصنف اور اداکار رنگیلا کی نیم مزاحیہ لیکن انتہائی فضول قسم کی اردو فلم عورت راج (1979) موضوعِ بحث رہی۔

عورت راج (1979)
بھٹو کی پھانسی کے بعد پیپلز پارٹی، لاوارث ہوگئی تھی لیکن آمروں کی حسبِ خواہش ختم نہیں ہوئی تھی۔ ہمارے خستہ حال سیاسی اور سماجی نظام کی وجہ سے قیادت کا حق صرف بھٹو خاندان کو حاصل تھا، اس لیے پہلے بیگم نصرت بھٹو اور پھر بے نظیربھٹو کے نام سامنے آئے جس نے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں ہلچل مچا دی تھی۔

شاید یہی انسپائریشن تھی کہ رنگیلا نے نامور اردو ادیب شوکت تھانوی کا "عورت راج" کے بارے میں ایک افسانہ پڑھا اور اداکاروں کی فوج ظفر موج کے ساتھ یہ بورترین فلم بنا دی تھی۔

عورت راج (1979)

فلم عورت راج (1979) کی کہانی میں عورتوں کو مرد اور مردوں کو عورتیں بنا دیا گیا اور ان کی آوازیں بھی بدل دی گئیں۔ رنگیلا کا کمال تھا کہ اس نے "مولا جٹ" کو نسوانی رنگ میں پیش کیا اور ثابت کیا کہ "پیسہ ناچ نچائے" کا محاورہ غلط نہیں ہے۔

اس انتہائی بے مقصد، بے ربط اور فضول قسم کی اکتا دینے والی فلم میں وحیدمراد اور سلطان راہی کونازک اندام حسیناؤں کی طرح اداکاری اور مجرا کرنا پڑا جو ایک دلچسپ تجربہ تھا۔

اداکارہ رانی پر فلمائے ہوئے اور رنگیلا کے گائے ہوئے اس خوبصورت رومانٹک گیت "اپنے سانسوں میں بسا لو تو عنایت ہوگی، ورنہ پروانے کو، اے شمع، شکایت ہوگی۔۔" کے دوران سلطان راہی کا شرم و حیا کے ساتھ رقص اور اس پر وحیدمراد کا حسد کے مارے جلنا،کڑھنا اور بے چین ہونا قابلِ دیدتھا۔

اس انتہائی صبرآزما فلم کے آخر میں سلطان راہی کو گنڈاسا پکڑا دیا گیا جو اس وقت ان کی پہچان بن گیا تھا۔ اصل میں اس فلم کی کہانی، وحیدمراد کا ایک ڈراؤنا خواب ہوتی ہے جو عملی زندگی میں اپنی بیوی کا جینا دوبھر کر دیتے ہیں لیکن ایسا بھیانک خواب دیکھ کر توبہ کر لیتے ہیں۔

حیرت کی بات ہے کہ فلم عورت راج (1979)، ایک سلورجوبلی فلم تھی اور جب کوئی اردو فلم لاہور میں سلورجوبلی کرتی تھی تو اس کا شمار کامیاب فلموں میں ہوتا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ فلم عورت راج (1979) کی شوٹنگ کے لیے رنگیلا، کھاریاں آئے جہاں پبی کی پہاڑیوں میں آؤٹ ڈور شوٹنگ میں لڑائی مارکٹائی کے مناظر فلمائےگئے تھے۔ اس دوران رنگیلا اور پرویز سجاد، ایک ہوٹل میں بڑی سنجیدہ گفتگو کر رہے تھے اور باہر لوگ آوازیں کس رہے تھے کیونکہ عام لوگوں کے خیال میں رنگیلا، صرف ایک مزاحیہ اداکار تھے۔

1979ء کی دیگر فلمی یادیں

1979ء کا سال، میری فلم بینی کے عروج کا آخری سال تھا جس میں 16 نئی فلمیں دیکھیں۔ اس کے بعد اگلے تین برسوں میں صرف 10 نئی اور منتخب فلمیں ہی دیکھ سکا جن میں 1982ء میں دیکھی ہوئی اکلوتی اور آخری فلم دوستانہ (1982) بھی تھی۔ عین ممکن تھا کہ پاکستان میں رہتا تو فلم بینی کا شوق مکمل طور پرختم ہو چکا ہوتا۔۔!

1979ء کی دیگر فلموں اور گیتوں کے بارے میں کچھ یادیں تازہ کر رہا ہوں:

  • فلم بہن بھائی (1979) میں موسیقار کمال احمد نے مہدی حسن اور ان کے شاگرد غلام عباس کی آوازوں میں ایک یادگار اور شوخ دوگانا "اس دنیا میں یار، ہم تو رہے اناڑی۔۔" گوایا جو فلم میں محمدعلی اور وحیدمراد پر فلمایا گیا تھا۔
    میری معلومات کے مطابق یہ اکلوتا مردانہ دوگانا تھا جو ان دونوں سپرسٹارز پر فلمایا گیا تھا۔ اس سے قبل فلم دشمن (1974) میں مسعودرانا کا گایا ہوا تھیم سانگ "اپنا لہو پھر اپنا لہو ہے۔۔" ان دونوں فنکاروں کے پس منظر میں گایا گیا تھا۔
    فلم بہن بھائی (1979) کی ہیروئن، رانی تھی اور یہ فلم سنگم سینما کھاریاں میں دیکھی تھی۔
  • وعدے کی زنجیر (1979)
  • سنگم سینما ہی میں دیکھی ہوئی ہدایتکار شباب کیرانوی کی اردو فلم وعدے کی زنجیر (1979) میں محمدعلی اور وحیدمراد کے ساتھ ایک نئی اداکارہ انجمن کو متعارف کروایا گیا۔ روایت ہے کہ معاہدے کے مطابق، انجمن کو دیگر دو فلموں، دو راستے اور آپ سے کیا پردہ (1979) میں بھی کام کرنا پڑا لیکن اردو فلموں میں کامیابی سے محروم رہی تھی۔
    انجمن کو اصل شہرت 1981ء میں ایک ہی دن عید پر ریلیز ہونے والی چار سپرہٹ پنجابی فلموں، شیرخان، سالاصاحب، چن وریام اور ملے گا ظلم دا بدلہ (1981) سے ملی اور 1980 کی دھائی میں سلطان راہی، مصطفیٰ قریشی اور میڈم نورجہاں کی طرح، پنجابی فلموں کی ضرورت بن گئی تھی۔
  • فلمساز، ہدایتکار اور ادکار سیدکمال نے فلم یہاں سے وہاں تک (1979) بنائی جس کی زیادہ تر شوٹنگ بیرونِ ملک کی گئی۔ اس فلم میں انھوں نے پہلی اور آخری بار وحیدمراد کے ساتھ کام کیا تھا۔ ہیروئن ممتاز تھی اور تیسرے ہیرو آصف خان تھے۔ یہ فلم کھاریاں کینٹ کے شمال میں ایکس بلاک میں واقع، 17 ڈویژن سینما کے اوپن ہال میں دیکھی تھی۔
  • ہدایتکار ظہورحسین گیلانی نے اپنی فلم کون شریف کون بدمعاش (1977) میں ایک تھانیدار کے کردار کو فلم میں نالائق آں (1979) کی صورت میں ایک نئی فلم کا روپ دیا اور تیسرے درجہ کے ایک ولن اداکار جگی ملک کو ہیرو کا رول دیا۔ عشرت چوہدری، نازلی، امروزیہ اور انیتا، ہیروئنیں تھیں لیکن فلم فلاپ ہوگئی اور آج تک نہیں دیکھی۔
  • جگی ملک کے بعد اداکار ننھا کو پہلی بار فلم ٹہکا پہلوان (1979) میں سولو ہیرو اور ٹائٹل کردار میں پیش کیا گیا تھا۔ اسلم ایرانی، ہدایتکار اور مسرت شاہین، ہیروئن تھی۔ ننھا پر فلمایا گیا فلم کا تھیم سانگ مسعودرانا نے گایا تھا: "سارے شہر چہ میرے ٹہکے، میں آں ٹہکا پہلوان۔۔" یہ فلم بھی سنگم سینما کھاریاں میں دیکھی تھی۔
  • ہدایتکار سیدطیب زیدی کی فلم چوری چوری (1979) کے اشتہارات میں یہ سرخی جمائی جاتی تھی کہ "محمدعلی نے زیبا کو طلاق دے دی۔۔!" اصل میں فلم کے ایک سین کو لے کر فلم بینوں کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔ اس فلم میں زیبا کا ڈبل رول تھا اور محمدعلی کے علاوہ اس کے دوسرے ہیرو، قوی تھے جو اس فلم کے فلمساز بھی تھے۔ پہلی بار وی سی آر پر یہ فلم دیکھی تھی۔
  • پاکیزہ (1979) میں نالائق آں (1979)
  • ہدایتکار پرویز ملک کی نغماتی فلم پاکیزہ (1979)، اس سال کی بہترین اردو فلم تھی جس میں شبنم اور ندیم نے پہلی بار ینگ ٹو اولڈ کردار کیے تھے۔
    ایم اشرف کی موسیقی میں مسرورانور کے لکھے ہوئے سبھی گیت بڑے مقبول ہوئے جن میں غلام عباس کا گایا ہوا یہ گیت بڑا پسند تھا جو اکثر گنگناتا رہتا تھا: "مل جاتا ہے یار مگر پیار نہیں ملتا۔۔" ناہیداختر کا یہ کورس گیت "کچھ ان کی وفاؤں نے لوٹا، کچھ ان کی عنایت مار گئی۔۔" اکثر ریڈیو پر گونجتا تھا۔
    فلم پاکیزہ (1979)، جی ٹی روڈ پر واقع جہلم کے پرنس سینما میں دیکھی جس کا افتتاح اسی فلم سے ہوا تھا۔ اسی سینما پر فلم دنگل (1979) بھی دیکھی تھی۔
  • نذرشباب کی فلم نیاانداز (1979) کے گیت بڑے مقبول ہوئے تھے۔ میڈم نورجہاں کا گیت "دے رہی مزہ، بے رخی آپکی، آپ بولیں نہ بولیں، خوشی آپکی۔۔" کے علاوہ اے نیر کا یہ گیت بڑا پسند تھا "ضد نہ کر، اس قدر جانِ جاں، حرج کیا مسکرانے میں ہے، وہ مزہ روٹھنے میں کہاں، جو مزہ مان جانے میں ہے۔۔" یہ فلم کبھی نہیں دیکھ سکا۔
  • حیرت کی بات ہے کہ گلوکار اے نیر کی آواز متاثر نہیں کرتی تھی اور نہ ہی ان کے مقبول گیتوں کی زیادہ فلمیں دیکھ سکا البتہ ریڈیو پر بجنے والے ان کے گائے ہوئے گیت بڑے پسند آتے تھے۔ ایسے ہی گیتوں میں فلم نقشِ قدم (1979) کا یہ گیت بھی اکثر گنگناتا رہتا تھا "کرتا رہوں گا یاد تجھے میں یوں ہی صبح و شام، مٹ نہ سکے میرے دل سے بینا تیرا نام۔۔"
  • ہدایتکار جان محمد نیم مزاحیہ رومانٹک فلم مسٹررانجھا کی (1979) کا ٹائٹل رول شاہد نے کیا ،رانی ہیروئن تھی۔اس فلم کے موسیقار کے طور پر رجب علی کا نام ملتا ہے جو عین ممکن ہے کہ معروف گلوکار ہوں۔ یہ فلم بھی VCR کے زمانےمیں دیکھی تھی۔
  • وحشی گجر (1979)
  • میوزک میں کتنی پاور ہوتی ہے کہ مجھ جیسے "اینٹی ایکشن فلم" شخص کو بھی سینما ہال تک لے جاتی تھی۔ یہ اور بات ہے کہ بیشتر فلمی گیت سننے کا جو مزہ ریڈیو پر آتا تھا، وہ فلم میں کبھی نہیں آیا۔
    موسیقار طافو نے ایک سپرہٹ ایکشن پنجابی فلم وحشی گجر (1979) میں زبردست موسیقی ترتیب دی تھی۔ نغمہ نگار حزیں قادری کے لکھے ہوئے اور ملکہ ترنم نورجہاں کے گائے ہوئے سریلے گیت گلی گلی گونجتے تھے جن میں "تیرے آن دے کھڑاک بڑے ہون گے، مزے تے ماہیا ہون آن گے۔۔"، "وے جگیا، تیری اکھ دا پٹک تیر وجیا، نشانہ بڑا ٹچ لگیا۔۔"، "تیری ہک تے آہلنا پاواں گی، نت غٹ غوں غٹ غوں گاواں گی۔۔ " اور "لاہور شہر توں جنج چڑھی تے تار پشاوروں کھڑکے، کراچی تک دل دھڑکے۔۔" شامل تھے۔
    فلم وحشی گجر (1979)، فلم جگاگجر (1976) کا تسلسل تھی اور اس کا پہلا نام "جگا ٹیکس" تھا جو سنسر کی نذرہوگیا تھا۔ سلطان راہی کا ٹائٹل رول تھا اور آسیہ ہیروئن تھی۔ سنگم سینما پر یہ فلم دیکھی تھی۔

ہیررانجھا سے مولاجٹ تک

پاکستان فلم میگزین کی 25ویں سالگرہ کے طویل سلسلے کا یہ آخری مضمون تھا جس میں پاکستان کی فلمی تاریخ کے سب سے سنہرے دور یعنی 1970 کی دھائی کے دس برسوں کا احاطہ کیا گیا ہے جب فلمی کاروبار اپنے انتہائی عروج پر تھا اور اوسطاً ہر ہفتے دو نئی فلمیں ریلیز ہوا کرتی تھیں جن کا میں عینی شاہد رہا ہوں۔

وہ حسین فلمی دور کلاسک رومانٹک فلم ہیررانجھا (1970) سے شروع ہوا اور ایک ایکشن فلم مولاجٹ (1979) پر ختم ہوا۔ اس دوران مختلف فلموں اور فنکاروں کے عروج و زوال کا ناقابلِ فراموش دور دیکھا جس کو اس ویب سائٹ کی صورت میں محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

کاش، پاکستان کی فلمی تاریخ کی پہلی دو دھائیوں یعنی 1950/60 پر بھی اسی طرح سے لکھ سکتا جس کا میں "عینی شاہد" تو نہیں لیکن اس دور سے سب سے زیادہ دلچسپی رہی ہے۔۔!

سلطان راہی فلم عورت راج (1979) میں



Pardes
Pardes
(1972)
Umang
Umang
(1975)
Hoshiar
Hoshiar
(1990)



Pakistan Film Magazine

Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.




PAK Magazine
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.

Old site mazhar.dk

پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔

یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔

اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔



PAK Magazine
Pakistan Film Magazine
Pakistan Media
Namaz timetable for Copenhagen, Denmark
Back to the top of the page