25th celebration of Pakistan Film Magazine
Pakistan film posters
An article on film posters, calenders, bilboards, stickers etc..
فلمی پوسٹرز
پاکستان فلم میگزین کی 25ویں سالگرہ کے سلسلے میں گزشتہ مضمون میں "فلمی میڈیا" کاذکر ہوا، اس نشست میں سینماؤں کی فلمی تشہیر کے دیگر لوازمات مثلاً فلمی پوسٹر، فوٹو سیٹ، بل بورڈ، وال چاکنگ، بینر، سٹکر، کیلنڈر، بک لیٹ، فلمی ٹریلر اور سینما سلائیڈ وغیرہ موضوعِ بحث ہوں گے۔
فلمی پوسٹرز کی اہمیت
"فلمی میڈیا" میں فلم اور فلمی دنیا کے بارے میں خبریں، معلومات اور فلمی اشتہارات وغیرہ ہوتے تھے لیکن سینماؤں پر ایک "فلمی پوسٹر"، کسی بھی مخصوص فلم کا پہلا عکس ہوتا تھا جو فلم بینوں کے لیے کشش، تجسس اور انتظار کا باعث ہوتا تھا۔
مختلف سائز، رنگوں اور موضوعات پر بننے والے اور بالخصوص سینماؤں میں نمایاں طور پر نظر آنے والے پوٹریٹ یا لینڈ سکیپ فلم پوسٹروں پر متعلقہ فلم کے کسی خاص منظر یا فنکار کو ہائی لائٹ کیا جاتا تھا جبکہ بعض فلموں کے ایک سے زائد پوسٹرز بنائے جاتے تھے۔
ماضی میں دنیا بھر کے فلم پوسٹر، عام طور پر کسی مصور یا پینٹر کی تخلیق ہوتے تھے لیکن گزشتہ نصف صدی سے ان پر اصل تصاویر بھی نظر آنے لگیں۔ ایسے فلمی پوسٹروں پر فلم کا نام، مرکزی کردار ادا کرنے والے فنکاروں کے نام اور خاص طور پر فلم کمپنی، فلمساز، ہدایتکار، مصنف، موسیقار اور عکاس وغیرہ کے نام نمایاں ہوتے تھے۔
فلمی پوسٹروں کی تاریخ
دنیا کا پہلا فلم پوسٹر 1890ء میں ایک مختصر فلم Projections Artistiques کے لیے ایک فرانسیسی پینٹر Jules Chéret نے ڈیزائن کیا جو اصل میں ایک اشتہار تھا جس میں ایک لڑکی فلم کے شو ٹائم دکھا رہی ہے۔
اوپر، 1895ء میں فرانس میں بنایا گیا دنیا کا پہلا فلم پوسٹر ہے جبکہ نیچے برصغیر پاک و ہند کی پہلی فلم راجہ ہریش چند (1913) اور پہلی بولتی فلم عالم آرا (1931) کے اخباری پوسٹرز ہیں۔ ان کے نیچے برصغیر کی پہلی رنگین فلم کسان کنیا (1937) اور پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) کے پوسٹرز ہیں۔
پہلی مخصوص فلم کا جو پوسٹر تاریخ کے صفحات پر موجود ہے، وہ بھی ایک فرانسیسی پینٹر Marcellin Auzolle کی تخلیق تھا جو لومیئر برادرز کی فلم L'Arroseur arrosé کے لیے 26 دسمبر 1895ء کو بنایا گیا تھا۔
دنیا بھر کے فلم بینوں میں مختلف النوع کے فلم پوسٹر بڑے مقبول رہے ہیں۔ ان کی باقاعدہ نمائشیں ہوتی ہیں اور آج بھی آن لائن بکتے ہیں جنھیں شائقین بڑی بھاری قیمت پر خریدتے بھی ہیں۔
فلمی پوسٹروں کی تاریخ میں ایک پوسٹر کی ریکارڈ قیمت 15 نومبر 2005ء کو لندن میں فلم میٹروپولیس (1927) کے لیے چھ لاکھ نوے ہزار ڈالرز مقرر کی گئی تھی۔۔!
برصغیر میں فلمی پوسٹر
برصغیر پاک و ہند کی پہلی فیچر فلم داداصاحب پھالکے کی خاموش فلم راجہ ہریش چند (1913) تھی جبکہ پہلی بولتی فلم اردشیر ایرانی کی عالم آرا (1931) تھی جس کی ہیروئن زبیدہ، معروف پاکستانی اداکارہ جمیلہ رزاق کی خالہ تھی۔ اسی فلم میں پہلا فلمی گیت بھی گایا گیا تھا۔
برصغیر کی پہلی رنگین فلم موتی بی گڈوانی کی کسان کنیا (1937) تھی جس کے پوسٹر پر 1950 کی دھائی کے لاہور سے تعلق رکھنے والے مقبول پاکستانی کیریکٹرایکٹر غلام محمد نمایاں نظر آتے ہیں جو اس دور کے بمبئی کی امپیرئل فلم کمپنی کے ممتاز اداکار تھے اور اس فلم میں ان کا "رندھیر" کا ولن کا رول تھا۔ اس فلم کی دوسری خاص بات یہ تھی کہ اس کے مصنف سعادت حسن منٹو تھے۔
پاکستان کی پہلی فلم داؤد چاند کی تیری یاد (1948) تھی جس کے پوسٹر پر فلم کی ہیروئن آشا پوسلے کے علاوہ ہیرو ناصرخان بھی نظر آتے ہیں جو دلیپ کمار کے چھوٹے بھائی تھے۔
فلمی پوسٹروں سے دلچسپی
شعبہ آرٹ سے دلی لگاؤ کی وجہ سے ذاتی طور پر فلمی پوسٹروں اور تصویر کشی سے بڑی گہری دلچسپی رہی ہے اور ان گمنام فنکاروں کا بڑا قدردان رہا ہوں جو یہ فن پارے بناتے رہے ہیں۔ اپنے سنہرے فلمی دور یعنی 1970/73ء کے آخری دو برسوں میں انھی فلمی پوسٹروں کو دیکھنے کے لیے ہفتے میں متعدد بار سینما کا چکر لگانا ایک معمول ہوتا تھا اور ان کی یادیں اب بھی تازہ ہیں۔
فلم بنارسی ٹھگ (1973) کے پوسٹر پر فردوس، سلطان راہی، الیاس کاشمیری اور منورظریف
میرے ذہن پر آج بھی اپنے مقامی، "قیصر سینما کھاریاں" کے برآمدے میں لگے ہوئے فلمی پوسٹرز اور فلمی فوٹو سیٹس کے مناظر نقش ہیں۔ مثلاً سینمامالک کے دفتر کے دروازے کے اوپر آویزاں فریم میں فلم بنارسی ٹھگ (1973) اور مینجر کے آفس کے دروازے پر فلم بابل (1971) کے لینڈسکیپ پوسٹرز کو کبھی نہیں بھلا سکا۔
فلم بابل (1971)
فلم بابل (1971) کا آن لائن پوسٹر اصل نہیں ہے، اس پر یوسف خان کا جو کرخت چہرہ دکھایا گیا ہے، فلم میں وہ کہیں نظر نہیں آتا۔ اس فلم کے اصل پوسٹر پر اداکارہ رانی کی بڑی خوبصورت تصویر تھی جس میں سفید کالر والی قمیص میں ملبوس ہاتھ میں کتاب پڑھتی ہوئی نظر آتی ہے اور فلم میں اسی گیٹ اپ میں اس پر گلوکارہ مالا کا یہ دلکش گیت فلمایا گیا تھا "میں کھولاں کہیڑی کتاب نوں، میں کہیڑا سبق پڑھاں۔۔"
فلم چنگا خون (1972)
سینما مالک کے آفس کی دیوار پر دوسرا پوسٹر فلم چنگا خون (1972) کا یاد ہے جس کا اصل نام "غیرت نچدی وچ بازار" تھا لیکن سنسربورڈ کو یہ نام پسند نہیں آیا تھا۔ جس طرح اس پوسٹر پر اصل نام کو چھپایا گیا ہے، بالکل اسی طرح نمائش کے دوران اس فلم کے پوسٹر پر استاد رشید نے ایک کاغذپر "چنگا خون" لکھ کر چسپاں کیا اور یہ پوسٹر مشہوری کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
یادگار فلمی پوسٹرز
میرے آبائی شہر کھاریاں کے مرکزی سینما، "قیصر" کا برآمدہ، ہال جتنا لمبا ہوتا تھا اور اس میں سینما مالک کے دفتر سے فرسٹ کلاس کے گیٹ تک ایک بڑے فوٹوسیٹ کا فریم بکس تھا جس میں اسی ہفتے ریلیز ہونے والی فلموں کے فوٹو لگائے جاتے تھے۔ اس کے بائیں طرف فلم جٹ دا قول (1971) اور دائیں طرف فلم ہم لوگ (1970) اور حدبندی (1971) کے پوسٹرز آج بھی ذہن میں موجود ہیں۔
فرسٹ کلاس کے گیٹ سے کبھی نہ کھلنے والے گیٹ تک دوفریم باکس، فوٹو سیٹس کے لیے مختص تھے جن میں سے ایک پر فلم درندہ (1970) اور دوسری پر فلم علی بابا چالیس چور (1970) کے فوٹوسیٹ کبھی نہیں بھولے۔ ان کے بائیں طرف فلم خان چاچا (1972) کا بڑا دلکش اور بھاری بھر کم پوسٹرتھا۔ دائیں طرف فلم ٹکہ متھے دا (1971) کا پوسٹر اس لیے نہیں بھلا سکا کہ اس پر جو چہرہ تھا، اس کو اداکارہ فردوس سمجھتا تھا لیکن ہم عمر لڑکوں نے اصلاح کی تھی کہ وہ اداکارہ نغمہ ہے۔
درمیانے اور کبھی نہ کھلنے والے گیٹ سے سیکنڈ کلاس کے گیٹ تک تین چار مزید پوسٹر آویزاں ہوتے تھے جو یاد نہیں رہے البتہ الٹی طرف یعنی برآمدے کے ستونوں پر بھی دو تین پوسٹرز لگے ہوئے ہوتے تھے جن میں صرف ایک فلم شاہی فقیر (1970) کا پوسٹر یاد ہے جس پر اداکار ادیب کے چہرے کی بڑی تصویر کے ساتھ فلم کے ہیرو گلوکار مسعودرانا، اپنی ہیروئن غزالہ کے ساتھ فوجی وردی میں ملبوس تلوار تانے نظر آتے ہیں۔
قیصرسینما کے بعد کھاریاں کا دوسرا اہم سینما "سازین" ہوتا تھا جو کینٹ میں صدر کے علاقہ میں تھا۔ وہاں گیلری تک جانے والی سیڑھیوں میں دو پوسٹر ہمیشہ یاد رہے۔ ایک فلم اچی حویلی (1971) کا اور دوسرا فلم لارالپا (1970) کا تھا۔
ان کے علاوہ لاہور کے راوی روڈ پر لٹکا ہوا فلم بہاریں پھر بھی آئیں گی (1969) کا بورڈ اور پوسٹر بھی ذہن پہ چپک کر رہ گیا تھا جب ایک بس میں سوار ایک شادی کے سلسلہ میں لاہور گئے تھے۔
فلمی پوسٹروں کی جعل سازی
ایک فلمی پوسٹر شائقین کو فلم دیکھنے پر مائل کرتا تھا۔ اس میں وہ تمام تر مسالے ڈالے جاتے جو لوگوں کو متوجہ کیا کرتے تھے۔ فلمیں چونکہ بار بار ریلیز ہوتی تھیں، اسی لیے وقت کے ساتھ فلمی پوسٹروں میں بھی تبدیلیاں کی جاتیں اور ان فنکاروں کو پوسٹروں پر زیادہ اہمیت دی جاتی جو اس وقت عوام میں مقبول ہوتے، چاہے فلم میں ان کا کردار غیر اہم ہی کیوں نہ ہو۔
پاکستانی فلمی پوسٹروں میں سب سے زیادہ منورظریف اور سلطان راہی کی اجارہ داری رہی۔ایسی بہت سی فلمیں ملتی ہیں جن میں ان کے کردار معمولی ہوتے تھے لیکن جب انھیں عروج ملا تو پرانی فلموں کے پوسٹروں پر انھیں نمایاں طور پر پیش کر کے ایک طرح سے جعل سازی کی جاتی تھی اور شائقین ان دونوں فنکاروں کی کشش میں پوری فلم کو دیکھنے پر مجبور ہوتے تھے۔
ایسے بے شمار فلمی پوسٹروں میں سے فلم علی بابا چالیس چور (1970) کے اصلی اور نقلی پوسٹرز ملاحظہ فرمائیں جن میں فلم کے اصل ہیرو حبیب کی جگہ سلطان راہی کو بدلا گیا جن کا فلم میں ثانوی کردار تھا۔
فلمی پوسٹروں پر املا کی غلطیاں
ہمارے بہت سے فلمی پوسٹروں پر املا کی غلطیاں ملتی ہیں۔ خاص طور پر رومن اردو میں جب لکھا جاتا تھا تو اکثر متضاد ہجے کیے جاتے تھے۔ ایسی مثالیں البتہ بہت کم ملتی ہیں کہ اردو میں بھی املا کی غلطیاں ہوں، یقیناً وہ دانستہ نہیں ہوں گی بلکہ لاعلمی یا بے خیالی کی وجہ سے ہوں گی۔
ایسی ایک مثال فلم الف لیلہ (1968) کے ضمن میں نظر آتی ہے جب ایک قومی اخبار میں اس فلم کے اشتہار میں "الف لیلیٰ" لکھا ہوا ہے جس کے رومن سپیلنگ اس فلم کے پوسٹر پر Alif Laila کی صورت میں نظر آتے ہیں لیکن اس کا مطلب "ایک کالی رات" یا "ایک کالا حسن" ہے۔ اصل لفظ Alf Leila یعنی "الف لیلہ" ہے جس کا مطلب "ہزار داستان" ہے جو اس فلم کی کہانی بھی ہے۔
فوٹو سیٹ
"فلم پوسٹرز" کے بعد کسی فلم کا سب سے بڑا تعارف "فوٹوسیٹ" ہوتے تھے جو فلم کے مختلف حصوں پر مشتمل چھوٹے سائز کی تصاویر کا مجموعہ ہوتا تھا اور سینما گھروں کے ویٹنگ رومز میں فلم بینوں کی توجہ کا مرکز بنتا تھا۔
سینماؤں پر عام طور پر ریلیز شدہ فلم کے فوٹوسیٹ نمایاں طور پر نظر آتے تھے جبکہ آنے والی فلموں کے علاوہ خانہ پری کے لیے ماضی کی کسی فلم کے فوٹوسیٹ بھی لگا دیے جاتے تھے جنھیں لوگ بڑی دلچسپی سے دیکھتے اور یاد رکھتے تھے۔
فلمی اصطلاح میں "فلمی فوٹوسیٹ" بنانے والوں کو "سٹل فوٹو گرافر" کہا جاتا تھا جو اپنے فن کے ماہر ہوتے تھے اور بڑے کمال کے فوٹو بناتے تھے۔ فلم سے وابستگی کی وجہ سے ان کا پرائیویٹ کاروبار بھی خوب چمکتا تھا۔
میرے ذہن میں آج بھی فلم درندہ (1970) کے فوٹوسیٹ تازہ ہیں حالانکہ یہ فلم کبھی نہیں دیکھ سکا۔ اسی طرح نجانے کیوں فلم میری غیرت تیری عزت (1972) کے چند فوٹو بھی ذہن سے مٹنے کا نام نہیں لیتے حالانکہ یہ دونوں کوئی خاص فلمیں نہیں تھیں۔
بائیں طرف دیے گئے فلم قیدی (1962) اور مرد (1991) کے فوٹوسیٹ پر پنسل سے گراف نظر آرہے ہیں جو اصل میں بل بورڈ بنانے کے لیے بنائے جاتے تھے جس کا مجھے ذاتی تجربہ ہے۔ اس پر تفصیل سے بات فلم "قول قرار" کے مضمون میں ہوگی۔
بل بورڈز
اپنے فن کے ماہر پینٹروں کے بنائے ہوئے "بل بورڈز"، سینماؤں کی رونق ہوتے جو دور ہی سے نظر آتے تھے۔ کسی فلم کے اہم ترین مناظر یا کرداروں کی رنگین تصاویر بنائی جاتیں جو مرکزی سینماگھروں کے علاوہ شہر کے اہم اور مصروف مقامات پر لٹکائی جاتی تھیں۔ دیگر سینماؤں پر بورڈوں پر فلمی پوسٹرز لگا کر یہ کام کیا جاتا تھا۔
"بل بورڈز" کے علاوہ "وال چاکنگ" بھی ہوتی تھی جو سینماؤں کی دیواروں کے علاوہ شہر کے مختلف اور مصروف مقامات پر کی جاتی تھی۔ ان کے علاوہ مصروف بازاروں اور خصوصاً میکلوڈروڈ اور ایبٹ روڈ کے سینماؤں کے آس پاس کپڑوں کے فلمی بینر بھی استعمال ہوتے تھے۔
فلمی سٹکرز
فلموں کی پروموشن کے لیے "بل بورڈز" اور "وال چاکنگ" کے علاوہ "فلمی سٹکرز" بھی ہوتے تھے جنھیں عرفِ عام میں "پرچی" بھی کہتے تھے۔ یہ ایک A5 سائز کے اخباری کاغذ پر چھپنے والا اشتہار ہوتا تھا جس پر فلم کی تصاویر اور اہم معلومات کے علاوہ مقامی سینما کا نام اور تاریخ نمائش بھی درج ہوتی تھی۔
عام طور پر نئی فلم جمعہ کے دن ریلیز ہوتی تھی۔ اس دن ایک تانگے یا ویگن پر فلموں کی تشہیر کی جاتی تھی۔ تانگے کے پیچھے ایک بڑا سا بورڈ ہوتا جس پر عام طور فلم پوسٹر کے علاوہ فلم کی معلومات لکھی جاتی تھی۔ بعض اوقات ان پر ماہر پینٹر حضرات تصاویر بھی بنایا کرتے تھے۔ تانگے کے دونوں اطراف دو چھوٹے چھوٹے بورڈ لگائے جاتے جن پر کبھی جھنڈیاں لگائی جاتیں اور ڈھول کی تھاپ پر پورے شہر میں ڈھنڈورا پیٹا جاتا تھا۔
اس دوران مختلف پبلک مقامات پر فلمی کیلنڈر تقسیم کیے جاتے، فلمی بورڈز لٹکائے جاتے اور عام لوگوں کے لیے تانگے سے "فلم سٹکرز" پھینکے جاتے جو لڑکے بالے اٹھاتے یا تانگے کے پیچھے بھاگتے ہوئے آواز لگاتے "بھائی، پرچی۔۔!"
فلمی کیلنڈرز
اداکارہ ترانہ کا کیلنڈر
پاکستانی فلموں کے عروج کے دور میں جہاں فلم پوسٹرز اور دیگر فلمی اشتہارات وغیرہ ملتے ہیں وہاں انتہائی خوبصورت اور دیدہ زیب "فلمی کیلنڈرز" بھی ہوتے تھے جو عام طور پر ہوٹلوں اور دیگر پبلک مقامات کی دیواروں پرلٹکائے جاتے تھے۔ مختلف سائزکے ان کیلنڈروں پر فلموں اورفلمی اداکاروں کے علاوہ خیالی تصاویر وغیرہ بھی بنائی جاتی تھیں۔
اس دور میں ایسے کیلنڈر بھی ملتے تھے جن پر رنگین تصاویر کے علاوہ فلموں کے گیت یا مکالمے لکھے ہوئے ہوتے تھے۔ میری یادداشت میں آج بھی فلم پھنے خان (1965) کے گیت "جیو ڈھولا۔۔" کا دلکش کیلنڈر موجود ہے جس پر یہ پورا گیت لکھا ہوا تھا اور عوامی اداکار علاؤالدین کے اس دور کے مشہور ترین کردار کے علاوہ اداکارہ سلونی کی تصاویر بھی تھیں۔
فلم پھنے خان (1965) کا وہ کیلنڈر، میرے حجام کے کٹنگ سیلون میں نظر آتا تھا جس سے "ہیرو کٹ" یا "وحیدمراد کٹ" کی فرمائش کرتے لیکن وہ، بال اس قابل بھی نہ چھوڑتا کہ ہاتھ میں آسکتے یا ان پر کنگھی تک ہو پاتی۔ سر منڈھوانے کی پوری "چونی" یعنی چار آنے یا 25 پیسے کا رونا روتے ہوئے سخت غصے میں گھر جاتے ہوئے راستے میں حجام کو کھری کھری سناتے جاتے تھے۔
فلم پائل (1970) کا کیلنڈر
میرے بچپن کے یادگار فلمی کیلنڈروں میں فلم پائل (1970) کا کیلنڈر ناقابلِ فراموش ہے۔ اس پر اداکارہ شبانہ کی تصویر تھی لیکن مجھے جو چیز متاثر کرتی تھی وہ، اس کیلنڈر کا پس منظر تھا جو ذہن سے چپک کر رہ گیا تھا۔
1970/71ء میں ہوش سنبھالا، مطالعہ کا شوق روزانہ اخبارات کا مستقل عادی بنا گیا۔ سیاست اور تاریخی واقعات سے گہری دلچسپی پیدا ہوگئی کیونکہ اس دور میں مشرقی پاکستان کا نام بہت سننے میں آتا تھا۔ پہلے عام انتخابات پھر خانہ جنگی اور پھر پاک بھارت جنگ کے بعد مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بننا۔۔!
قیصرسینما، گیمن کالونی کھاریاں کینٹ کی ایک دیوار پر فلم پائل (1970) کے اوپر یہ جملہ لکھا ہوا تھا "مشرقی پاکستان کی آخری اردو فلم"، (حالانکہ یہ درست نہیں)۔ میرے ذہن پر مشرقی پاکستان کا تصور فلم پائل (1970) کے کیلنڈر کے مطابق، ندی نالوں اور برف پوش پہاڑوں کی دلکش سرزمین کے طور پر نقش ہوگیا تھا۔ آج بھی یہ یادگار کیلنڈر دیکھتا ہوں تو بچپن کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔
بک لیٹس
ماضی میں جب ایک فلم کا پرنٹ ہر سینما تک پہنچایا جاتا تھا تو اس کے ساتھ دیگر لوازمات مثلاً فلم پوسٹر، فوٹوسیٹ، کیلنڈر اور سٹکروں کے علاوہ ایک "بک لیٹ" بھی ہوتی تھی جس میں فلم کی کہانی، فلم بنانے والوں کی تفصیل اور فلمی گیت حرف بحرف لکھے ہوئے ہوتے تھے۔ ساتھ ہی عام طور پر ہر گیت کے ساتھ گلوکار، موسیقار اور گیت نگار کے نام بھی درج ہوتے جو ایک طرح سے فلم کی مکمل دستاویز یا ڈاکومینٹ ہوتی تھی۔
انھی بک لیٹس کی نقل میں مختلف پرنٹنگ ادارے فلموں کے کتابچے یا پمفلٹ شائع کرتے جو چار چار آنے میں سرعام بکتے اور فلمی شائقین کے لیے دلچسپی کا سامان ہوتے تھے۔
فلمی ٹریلرز
سینماؤں میں نئی فلموں کی تشہیر کے لیے پوسٹروں، فوٹو اور وال چاکنگ کے علاوہ "فلمی ٹریلز" بھی دکھائے جاتے تھے جو پانچ دس منٹ کی ایک فلم ہوتی تھی جس میں پوری فلم کے اہم مناظر اور گیتوں وغیرہ کو ہائی لائٹ کیا جاتا تھا۔ یہی ٹریلرز بعد میں ٹی وی پر بھی دکھائے جاتے تھے۔
بچپن میں جن فلموں کے ٹریلرز سب سے زیادہ دیکھے، ان میں جلوہ (1966)، سجدہ (1967)، نئی لیلیٰ نیا مجنوں (1969)، انجمن اور بے قصور (1970) وغیرہ شامل تھیں۔
ان کے علاوہ اس دور میں سینماؤں میں نیوز ریڈر کے بغیر "خبرنامہ" بھی دکھایا جاتا تھا جس میں ہر ہفتے کے اہم سیاسی واقعات کی ویڈیوز ہوتی تھیں۔ مختلف کمپنیوں کی اشتہاری فلمیں بھی ہوتی تھیں جن میں سے لائف بوائے صابن، لپٹن چائے اور سپورٹس سگریٹس کی فلمیں خاص طور پر یاد ہیں۔
فلمی سلائیڈیں
فلمی سلائیڈوں کو "گلاس سینما سلائیڈز" بھی کہا جاتا تھا جو عام طور پر 80x80x3 ملی میٹر کے شیشے کے دو ٹکڑوں کے درمیان تصویر اور تحریر کو ٹیپ سے جوڑ کر سینمامشین کے سانچے سے گزار کر سکرین پر دکھائی جاتی تھیں۔

ایک سینما سلائیڈ کی جھلک
عام طور پر بڑی بڑی کمپنیاں، پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے علاوہ فلم بینوں کی کثیر تعداد کے پیشِ نظر سینماؤں میں بھی اپنی مصنوعات کی مختصر اشتہاری فلموں کے علاوہ اس طرح کی "سٹل ایڈورٹائز منٹ" کیا کرتی تھیں۔ ان کی دیکھا دیکھی فلم کمپنیاں بھی "فلمی ٹریلرز" کے علاوہ "فلمی سلائیڈیں" بھی بنایا کرتیں جنھیں عرفِ عام میں "پکی سلائیڈیں" کہا جاتا تھا۔
ان پروفیشنل سینما سلائیڈوں کے علاوہ ہمارا ایک دیسی، آسان اور سستا طریقہ بھی ہوتا تھا جب دو باریک شیشوں کو ٹیپ سے جوڑ کر مقامی کاروبار اور مقامی سینما کے پیغامات اور اشتہارات وغیرہ کو سکرین پر دکھایا جاتا تھا۔
ان سلائیڈوں کو عرفِ عام میں "کچی سلائیڈیں" کہاجاتا تھا کیونکہ ان میں سے ایک شیشے پر سفید مٹی لگائی جاتی تھی۔ خشک ہونے پر اس پر قلم سے الفاظ کھرچے جاتے۔ مزید خراشوں سے بچنے کے لیے اس پر دوسرا شیشہ لگا کر ٹیپ سے جوڑ دیا جاتا۔ اس طرح سے جب ایسی سلائیڈیں، سینما مشین کے سانچے سے گزرتیں تو روشنی کی مدد سے سکرین پر کھرچی ہوئی تحریر الفاظ کی صورت میں نظر آتی تھی۔
اپنے مقامی سینما پر صرف دس سال کی عمر میں فلم بہارو پھول برساؤ (1972) کی سلائیڈ لکھنے اور پھر اپنی تحریر کو سینما سکرین پر دیکھنے کا موقع ملا جس کی تفصیل "قول قرار" کے مضمون میں ہوگی۔
چند یادگار فلمی پوسٹرز
ذیل میں پاکستانی فلموں کے چند انتہائی یادگار اور دیدہ زیب فلمی پوسٹرز پیش کیے جارہے ہیں جو اس دور کے گمنام فنکاروں کا کمال تھا۔۔!

Mera Punjab
(1940)

Director
(1947)

Meetha Zehar
(1938)

Jagga Daku
(1940)

Chheen Lay Azadi
(1947)

Chand Tara
(1945)
Pakistan Film Magazine
Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.
پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔
یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔
اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔










































Shujaat Hashmi
Reshma
Jafar Bukhari
Mai Bhagi
Mehboob Khan
Masood Butt
Humaima Malick
Taya Barkat
S.A. Bukhari
Khanum
Tanvir Naqvi
Zubaida Khanum
Buland Iqbal
Safdar Hussain
Hameed Chodhary
Babbu Baral


