100th Birthday celebration of

Melody Queen Madam Noor Jehan

Part 5: Noor Jehan: Classic era (1951-61)

Madam Noor Jehan’s classic era as a top singer-actress in Pakistan. ... This article covers her films, songs, press praise and the broader 1950s film context...



نورجہاں کا کلاسیکل دور

ملکہ ترنم نورجہاں کے پاکستان میں بطورِ اداکارہ/گلوکارہ فلمی کیرئر کے دس سالہ " کلاسیکل دور" کا سال بہ سال احوال جس میں برصغیر کی فلمی تاریخ کے اہم ترین واقعات اور سنگِ میل بھی شامل ہیں۔


1951ء کا سال

میڈم نورجہاں کی تین سالہ پراسرار خاموشی کے بعد پاکستان میں پہلی فلم چن وے (1951) تھی۔۔!

شائقینِ موسیقی، فلم بینوں اور فلمی تاریخ پر یہ کتنا بڑا ظلم تھا کہ برصغیر پاک و ہند کی سب سے بڑی گلوکارہ اور اداکارہ ملکہ ترنم نورجہاں، یکدم منظر سے غائب ہوگئی تھی۔۔!!!

مسلسل تین سال یعنی 1945ء، 1946ء اور 1947ء میں باکس آفس پر نمبر ون رہنے کے بعد مسلسل تین سال یعنی 1948ء، 1949ء اور 1950ء میں اس کی کوئی ایک بھی فلم ریلیز ہوئی نہ کوئی گیت سننے کو ملا تھا۔۔!

اس سے پہلے کہ میڈم نورجہاں کی واپسی کی فلم چن وے (1951) پر تفصیل سے بات کریں، پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ تقسیم کے بعد میڈم، عروج کا وہ بے مثل دور چھوڑ کر پاکستان کیوں آئیں اور اگر آنا ہی تھا تو پھر لاہور کیوں نہ آئیں اور کراچی کیوں رہیں جہاں اس وقت تک فلم انڈسٹری نہیں تھی۔۔؟

نورجہاں نے ہندوستان کیوں چھوڑا؟

1947ء ایک انتہائی المناک، خونی اور تلخ سال تھا جس میں ہندوستان کی تقسیم کے نتیجہ میں لاکھوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔ لاتعداد لوگ بے گھر اور لاپتہ ہوئے اور بے شمار قیمتی املاک تباہ و برباد ہوئیں۔ نسل کشی، جبری نقلِ مکانی اور فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔ بڑے پیمانے پر قتل و غارت، لوٹ مار، آتش زنی، اغواء اور آبروریزی کی گئی۔ انسانیت دشمن شیطانی قوتیں، اپنے پورے جوبن پر تھیں۔۔!

میڈم نورجہاں نے 1982ء میں اپنے دورہ بھارت میں دوردرشن ٹی وی پر دلیپ کمار کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے جس باڈی لینگویج میں بمبئی چھوڑنے کی وجہ بتائی، اس سے ایک عام شخص بھی یہ اندازہ لگا لیتا ہے کہ ہجرت کا فیصلہ ان کا اپنا نہیں بلکہ ان کے شوہر سید شوکت حسین رضوی کا تھا۔ بھلا اتنا شاندار فلمی کیرئر، دولت و شہرت اور ہنستا بستا گھر بار کون آسانی سے چھوڑتا ہے۔۔؟

رضوی صاحب نے بھریا میلہ چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا تھا۔۔؟

اپنی کوئی رائے قائم کرنے، قیاس آرائی کرنے یا کوئی غیرمستند سنی سنائی سنائے بغیر اس سوال کا جواب ممتاز بھارتی فلمی میگزین "فلم انڈیا" کے جنوری 1948ء کے شمارے میں کراچی سے 10 دسمبر 1947ء کی ایک خبر میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے:

    "یہ مصدقہ اطلاع ہے کہ فلمساز اور ہدایتکار عبدالرشید کاردار (فلم دل لگی فیم)، فلمساز اور ہدایتکار محبوب خان (فلم مدرانڈیا فیم)، فلمساز، ہدایتکار اور اداکار نذیر (سورن لتا فیم) اور اداکارہ/گلوکارہ خورشید (فلم تان سین فیم) نے کراچی میں رہائشی بنگلوں کے علاوہ انتہائی سستے داموں وسیع جائیدادیں خریدی ہیں۔
    پاکستان نے ان لوگوں کو زمیندار بنا دیا ہے۔.!"
اس خبرکے مطابق، تقسیم کے فسادات کے نتیجہ میں صاحبِ ثروت افراد نے بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے اور کراچی میں ہندوؤں کی متروکہ جائیدادوں کو کوڑیوں کے بھاؤ خریدا یا اثرورسوخ سے "الاٹ منٹ" کروائی جو اس دور کی بہت بڑی لوٹ مار سمجھی جاتی تھی۔

"فلم انڈیا" کے اسی شمارے میں اس خبر پرایک انتہائی تضحیک آمیز تبصرہ بھی شامل ہے جس میں میڈم نورجہاں کا نام بھی ملتا ہے۔ اس کا ترجمہ کچھ اس طرح سے بنتا ہے:

    "غریب اور پریشان حال 'کاردار'، قیامِ پاکستان سے پہلے بہت خوش تھا لیکن اس نے میاں محبوب کا مقابلہ کرنے کے لیے کراچی میں ایک شاندار گھر خرید لیا ہے۔ یہی کچھ نورجہاں، 'بے بی سٹار' اور اداکارہ خورشید نے اپنے 'قطبی ریچھ نما شوہر' (یعقوب) نے بھی کیا ہے۔
    پاکستان میں اس وقت، ہندووں کی متروکہ جائیدادیں اتنی سستی ہو گئی ہیں کہ 'فورس روڈ' (بمبئی کی ہیرامنڈی) کی حسینائیں بھی انھیں صرف ایک ماہ کی کمائی سے خرید سکتی ہیں۔
    اداکار غلام محمد (فلم خاندان فیم)، اپنی روٹی روزی کمانے کے لیے بمبئی واپس آتے ہوئے اپنے خاندان کو پاکستان (لاہور) میں محفوظ چھوڑ آیا ہے۔ حیرت ہے کہ کیا یہاں اس کا خاندان زیادہ محفوظ نہیں ہو گا البتہ غلام محمد ان اچھے مسلمانوں میں سے ایک ہے جو ابھی تک پاکستان کی زہر آلود سیاست سے متاثر نہیں ہوئے۔"

"الاٹ منٹ اور لوٹ مار"

تقسیم کے فسادات کے نتیجہ میں اس دور میں ہندوؤں اور سکھوں کی متروکہ املاک کی "الاٹ منٹ" کو "لوٹ مار" کہا جاتا تھا جس میں بہت سے "مہذب" اور مالدار لوگوں نے خوب ہاتھ رنگے تھے۔۔!

نورجہاں اور شوکت حسین رضوی
میڈم نورجہاں کے پہلے شوہر، فلمساز اور ہدایتکار سید شوکت حسین رضوی نے بھی مستقل مفادات کے حصول کے لیے کراچی کا انتخاب کیا جہاں اربابِ اختیار تھے اور اثرورسوخ چل سکتا تھا۔

لاہور میں فلم انڈسٹری تباہ و برباد ہو چکی تھی اور صوبہ پنجاب میں بھارتی پنجاب سے لٹے پٹے مہاجرین کا سخت دباؤ بھی تھا، اس لیے فوری طور پر وہاں کسی "الاٹ منٹ" کی گنجائش نہیں تھی۔

رضوی صاحب، اردو سپیکنگ تھے، لکھنو میں پیدا ہوئے، کلکتہ میں فلمی ایڈیٹر (تدوین کار) بنے، "بے بی نورجہاں" کے ساتھ لاہور آئے جہاں فلم خاندان (1942) میں ہدایتکار بنے اور پھر بمبئی کی زینت (1945) اور جگنو (1947) جیسی بلاک باسٹر فلموں کے کامیاب ترین فلمساز اور ہدایتکار ثابت ہوئے تھے۔

رضوی صاحب کے بھارت چھوڑنے کی ایک وجہ ان پر غداری کے سنگین الزامات، معاندانہ میڈیا پروپیگنڈہ اور فلم جگنو (1947) کے سنسر کے مسائل بھی ہو سکتے ہیں۔ بمبئی میں سو فیصد کامیاب فلموں کے خالق سے معاصرین کا حسد اور سازشیں بھی ہو سکتی ہیں۔

بلاشبہ شوکت صاحب، بہت بڑے کاروباری اور دوراندیش شخص تھے۔ انھوں نے بہترین حکمتِ عملی اور اثررسوخ سے صبرو تحمل کا پھل پایا اور لاہور میں ملتان روڈ پر واقع ایک بہت بڑا لیکن فسادات میں تباہ شدہ فلم سٹوڈیو (شوری)، مال روڈ کے قریب میکلوڈروڈ پر ایک اہم سینما گھر (ریجنٹ) اور گلبرگ میں ایک کوٹھی بھی "الاٹ" کروانے میں کامیاب رہے تھے۔۔!

قائدِاعظمؒ کے خلاف ہرزہ سرائی

تقسیمِ ہند کے نتیجہ میں ہونے والے ہولناک فسادات کے ذمہ دار کے طور پر قائدِاعظم محمدعلی جناحؒ کا نام لیا جاتا ہے اور یہ پروپیگنڈہ آج کے سوشل میڈیا پر بھی سننے کو ملتا ہے جس میں ہمارے بھی کچھ نام نہاد تاریخ دان شامل ہیں۔

"فلم انڈیا" کے جنوری 1948ء کے شمارے میں قائدِاعظمؒ، پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف خاصا زہر اگلا گیا تھا۔ ایک قاری کے سوال کے جواب میں کہ "جناح کون ہے۔۔؟" اس رسالے کا جواب تھا (ترجمہ):

    وہ سیاست دان جس نے ہندوستان کے پانچ کروڑ مسلمانوں کے ساتھ غداری کی اور انہیں اپنے ہی ملک میں اجنبی بنا دیا۔ ایک خودغرض آدمی جس نے 80 لاکھ گھروں کو اکھاڑ کر اپنا تخت بنایا۔ ایک چھوٹا بادشاہ جس کا تاج ہزاروں بے گناہوں کے خون سے رنگا ہوا ہے۔ کیا تم اس آدمی کو نہیں جانتے۔۔؟"
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ واقعی ہندوستان کی تقسیم اور ہولناک فسادات کے ذمہ دار قائدِاعظمؒ تھے۔۔؟

جواب ہے کہ "نہیں، بالکل نہیں، قطعاً نہیں۔۔!!!"

یہ سراسر بکواس اور تاریخ سے کھلواڑ ہے۔ قائدِاعظمؒ، ایک حقیقت پسند، لبرل اور سیکولر سیاستدان تھے جو ہندو مسلم اتحاد کے بہت بڑے اور مخلص علمبردار اور متحدہ ہندوستان کے حامی تھے۔ ایک طویل عرصہ تک کانگریس کے ممبر رہے لیکن جب 1937ء کے انتخابات کے نتیجہ میں کانگریس پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع ملا تو قائدِاعظمؒ سمیت سبھی لبرل مسلمانوں کی آنکھیں کھل گئی تھیں اور عملی طور پر ثابت ہو گیا تھا کہ ہندوؤں کو اپنی عددی برتری کے بل بوتے پر ایک جمہوری نظام کی بدولت صدیوں بعد ملنے والی حکومت میں اپنے سابق "جابراور غاصب حکمرانوں " یعنی مسلمانوں سے گن گن کر بدلہ لینے کا موقع مل گیا ہے۔

ہندوؤں کی اسی عددی برتری کے خوف اور کانگریس کی اڑھائی سالہ حکومت کے تلخ تجربات کے پس منظر میں 1940ء کی قراردادِ لاہور میں ایک الگ تھلگ پاکستان کا مطالبہ نہیں تھا بلکہ ہندوستان کی آئینی حدودمیں رہتے ہوئے مسلم اکثریتی علاقوں کے لیے مکمل صوبائی خودمختاری کی ڈیمانڈ تھی جس کو کانگریس نے تسلیم نہیں کیا اور یہی تنازعہ ہندوستان کی تقسیم کا باعث بنا تھا۔

1946ء کا کیبنٹ مشن پلان بھی ایک بہت بڑی مثال تھی کہ قائدِاعظمؒ، آخری وقت تک ہندوستان کی تقسیم نہیں چاہتے تھے۔ تقسیم کے نتیجہ میں جو فسادات ہوئے، وہ سکھوں، سماج دشمن عناصر اور مفاد پرستوں کی کارستانی تھی جس کا الزام جناح صاحب کو کسی طور بھی نہیں دیا جا سکتا۔

گوشہ نشینی کے تین سال

1947ء میں ہندوستان سے واپسی پر میڈم نورجہاں نے اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی میں خودساختہ گوشہ نشینی اختیار کی جہاں اطلاعات کے مطابق انھوں نے اپنی جائیداد خریدی ہوئی تھی۔

یہ دور کیسا تھا؟ اس پر ہمیں زیادہ سوچ بچار کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم کسی بھی فنکار کو اس کے فن کے حوالے سے جانتے ہیں اور ہر کسی کو اپنی پرائیویٹ لائف جینے کا پورا حق حاصل ہے۔ البتہ یہ طے ہے کہ کسی کے جانے سے وقت رک نہیں جاتا، نظامِ حیات چلتا رہتا ہے۔

آئیے دیکھیں کہ ان تین برسوں میں میڈم نورجہاں کی عدم موجودگی میں پاکستان اور بھارت کی فلمی تاریخ میں کیا کچھ ہوا۔۔؟

1948ء کی فلمی تاریخ

1948ء میں گو میڈم نورجہاں کی بمبئی میں فلم مرزاصاحباں (1947) ریلیز ہوئی لیکن شمال ہند میں یہ فلم گزشتہ سال ریلیز ہوچکی تھی۔ اس لیے اس سال میڈم "گمنام" یا "گمشدہ" تھیں لیکن اسی سال، پاکستان کی پہلی اور اکلوتی فلم تیری یاد (1948) ریلیز ہوئی تھی۔

پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948)

تقسیم سے قبل، لاہور کی فلموں کی مستقل اور مقبول ترین اداکاراؤں میں سے نمبر ون اداکارہ راگنی کی بمبئی میں مصروفیت اور دوسری مقبول اداکارہ منورما کی زبردستی کی نقل مکانی کی وجہ سے تیسری مشہور اداکارہ آشا پوسلے کو پاکستان کی پہلی فلمی ہیروئن ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ دلیپ کمار کے بھائی ناصرخان کو یہ ناقابلِ شکست اعزاز حاصل ہوا کہ آزادی کے بعد بھارت کی پہلی فلم شہنائی (1947) کے بعد پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) کے ہیرو بھی بنے۔

فلم تیری یاد (1948) کے سبھی فنکار تقسیم سے قبل کی لاہور اور بمبئی/کلکتہ وغیرہ کی فلموں میں کام کرتے رہے تھے جن میں گلوکارہ منورسلطانہ بھی شامل تھیں جنھیں پاکستانی فلموں کی پہلی فلم تیری یاد (1948) کی مرکزی گلوکارہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ اس فلم پر تفصیلی مضمون لکھا جا چکا ہے۔

1948ء کی بھارتی فلمی تاریخ

پاکستان کی طرح، 1948ء کا سال، بھارت کے لیے بھی پہلا مکمل سال تھا جس میں 147 ہندی/اردو فلمیں ریلیز ہوئیں۔

  • اس سال کی کامیاب ترین فلم شہید (1948) میں دلیپ کمار کے بچپن کا رول ششی کپور نے کیا تھا۔ موسیقار ماسٹرغلام حیدر کی بھارت میں یہ آخری بڑی فلم تھی۔ روایت ہے کہ ماسٹرصاحب، اس فلم کے گیت لتا منگیشکر سے گوانا چاہتے تھے لیکن فلمساز نے اجازت نہیں دی تھی۔
  • دلیپ کمار کی فلم میلہ (1948) بھی سال کی چوتھی کامیاب ترین فلم تھی جس میں پاکستان کے عظیم اداکار علاؤالدین نے اداکارہ نرگس کے باپ کا رول کیا تھا۔ اس فلم میں محمدرفیع کا گیت "یہ زندگی کے میلے، دنیا میں کم نہ ہوں گے، افسوس، ہم نہ ہوں گے۔۔" بڑا مقبول ہوا تھا۔
  • اسی سال کی فلم ضدی (1948) نے بھارتی فلموں کو دلیپ کمار اور راج کپور کے بعد تیسرا بڑا اداکار، دیوآنند بھی دیا جس کی یہ پہلی سپرہٹ فلم تھی۔
  • فلم ضدی (1948) میں بھارت کے نامور گلوکار کشورکمار نے اپنا پہلا سولو گیت "مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں۔۔" گایا تھا۔ اسی سال، لتا منگیشکر کو بھی موسیقار ماسٹرغلام حیدر نے فلم مجبور (1948) میں پہلا سولو سانگ "دل میرا توڑا، مجھے کہیں کا نہ چھوڑا۔۔" گوایا تھا۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ لتا اور کشور، پہلے کورس گیتوں میں ایکسٹرا کے طور پر گاتے تھے، فلم ضدی (1948) میں انھوں نے پہلا فلمی دوگانا "یہ کون آیا رے، کر کے سولہ سنگھار۔۔" بھی گایا تھا۔
1948ء ہی میں عظیم قوال نصرت فتح علی خان کے علاوہ گلوکار مجیب عالم اور اداکارہ روزینہ بھی پیدا ہوئے تھے۔

1948ء کے اہم واقعات

  • 1948ء میں جہاں ماہِ جنوری میں مہاتما گاندھی کا قتل ہوا وہاں ماہِ ستمبر میں قائدِاعظمؒ بھی جہانِ فانی سے کوچ کر گئے تھے۔
  • برٹش انڈیا کی مختلف ریاستوں کو دونوں ممالک ہڑپ کرنے میں مصروف رہے۔ جوناگڑھ کے بعد بھارت نے ریاست حیدرآباد پر بھی قبضہ کر لیا جبکہ کشمیر کے حصول کے لیے دونوں ممالک کے درمیان پورا سال عجیب و غریب قسم کی جنگ تھی جس میں ایک طرف بھارت کی باقاعدہ فوج تھی تو دوسری طرف پاکستان کے قبائلی مجاہدین تھے۔
  • اسی سال 14 مئی 1948ء کو اسرائیل کا قیام عمل میں آیا جو ساتھ میں پہلی عرب اسرائیل جنگ بھی لایا جس میں عربوں کو شکست ہوئی اور اسرائیلیوں نے طاقت کے بل بوتے پر یو این منڈیٹ سے کہیں زیادہ علاقے ہتھیا لیے تھے۔

1949ء کی فلمی تاریخ

1949ء میں بھی میڈم نورجہاں کی کوئی فلم یا گیت سامنے نہیں آیا لیکن زمانے کی رفتار حسبِ معمول اپنی رفتار سے چل رہی تھی۔

1949ء میں پاکستان میں کل چھ فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں سے پاکستان کی پہلی پنجابی فلم، پھیرے (1949)، پاکستان کی پہلی سپرہٹ، پہلی سلورجوبلی اور پہلی ہی نغماتی فلم ثابت ہوئی تھی۔

فلم پھیرے (1949) میں چند اہم سنگِ میل عبور ہوئے:

پاکستان کی پہلی سپرہٹ فلم پھیرے (1949)

  • پاکستانی فلموں کا پہلا سپرہٹ فی میل رومانٹک سانگ "مینوں رب دی سونھ تیرے نال پیار ہو گیا وے چناں سچی مچی۔۔" گانے کا اعزاز منورسلطانہ کو حاصل ہوا تھا۔
  • پاکستانی فلموں کا پہلا ہٹ سنجیدہ گیت "کی کیتا تقدیرے، کیوں روڑ دتے دو ہیرے۔۔" بھی منورسلطانہ نے گایا تھا۔
  • پاکستانی فلموں کا پہلا سپرہٹ دوگانا "وے اکھیاں لاویں نہ تے فیر پچھتاویں نہ انجانا۔۔" بھی منورسلطانہ نے عنایت حسین بھٹی کے ساتھ گایا تھا۔
  • پاکستانی فلموں کا پہلا ہٹ سنجیدہ مردانہ گیت "جے نئیں سی پیار نبھانا، سانوں دس جا کوئی ٹھکانہ۔۔" عنایت حسین بھٹی نے گایا تھا۔ یہ بابا عالم سیاہ پوش نے لکھا تھا۔
  • پاکستان کے پہلے کامیاب ترین موسیقار جی اے چشتی تھے جنھوں نے منورسلطانہ کے تینوں سپرہٹ گیت بھی لکھے تھے۔

1949ء کی بھارتی فلمی تاریخ

ملکہ ترنم نورجہاں کی عدم موجودگی میں لتا منگیشکر کی قسمت جاگ اٹھی جو 1942ء سے چھوٹے موٹے کورس گیتوں میں گانے کے علاوہ اداکاری بھی کر رہی تھی لیکن میڈم جیسی شہرت اور مقبولیت سے محروم رہی تھی۔ یاد رہے کہ ان دونوں کی واحد مشترکہ فلم بڑی ماں (1945) تھی جس میں دونوں نے اداکاری کے علاوہ گلوکاری بھی کی تھی۔

  • 1949ء میں پاکستان کی 6 فلموں کے مقابلے میں بھارت میں کل 159 ہندی/اردو فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔
  • لتا منگیشکر کو پہلی مقبولیت فلم محل (1949) کے اس گیت سے ملی: "آئے گا آنے والا۔۔" اسی فلم سے مدھو بالا کو سپرسٹار کا مقام ملا تھا۔
  • فلم برسات (1949)، سال کی کامیاب ترین فلم تھی جس میں لتا کا گایا ہوا گیت "ہوا میں اڑتا جائے، میرا لال دوپٹہ ململ کا۔۔" سپرہٹ ہوا تھا۔
  • اس سال کی دوسری سپرہٹ فلم انداز (1949) میں پہلی اور آخری بار دلیپ کمار اور راج کپور کو ایک ساتھ پیش کیا گیا تھا، نرگس ہیروئن تھی۔ پاکستان میں اس فلم کا چربہ، جلے نہ کیوں پروانہ (1970) بنائی گئی جس میں مندرجہ بالا فنکاروں کے کردار بالترتیب ندیم، کمال اور شبنم نے کیے تھے۔
  • دل لگی، بڑی بہن اور دلاری (1949) دیگر سپرہٹ فلمیں تھیں۔ فلم دلاری (1949) میں محمدرفیع کا گیت "سہانی رات ڈھل چکی۔۔" امر سنگیت میں شامل ہے۔

1949ء کے اہم واقعات

  • یکم جنوری 1949ء کو سوا سال سے جاری کشمیر جنگ بندہوئی تھی۔ بھارت نے 26 نومبر 1949ء کو اپنا مستقل آئین منظور کر لیا تھا لیکن پاکستان میں آئین سازی میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا اور اس کی جگہ 12 مارچ 1949ء کو "قراردادِ مقاصد" منظور کروا کر مذہبی انتہا پسندی کی دلدل میں پھینک دیا گیا تھا۔
  • 1949ء ہی میں روس، ایٹمی طاقت بننے والا دوسرا ملک بنا جبکہ چین میں ماؤزے تنگ کی قیادت میں کمیونسٹ انقلاب کامیاب ہوا۔

1950ء کی فلمی تاریخ

1950 کا سال، میڈم نورجہاں کے بغیر مسلسل تیسرا سال تھا جس میں پاکستان کی کل 13 فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں پنجابی فلم لارے (1950) سب سے بڑی نغماتی فلم تھی جبکہ پہلی اردو فلم بےقرار (1950) کے متعدد گیت بھی مقبول ہوئے تھے۔

فلم لارے (1950)
  • 1950 کا مقبول ترین فلمی گیت "تیرے لونگ دیا پیا لشکارا تے ہالیاں نیں ہل ڈھک لے۔۔" تھا جس کو منورسلطانہ اور عنایت حسین بھٹی نے گایا اور موسیقار جی اے چشتی نے دھن بنائی تھی۔
  • اردو فلموں میں پہلی بار بے قرار (1950) کے دو گیت سپرہٹ ہوئے: "دل کو لگا کے کہیں بھول نہ جانا۔۔" اور "او پردیسا، بھول نہ جانا۔۔" ان گیتوں کو بھی منورسلطانہ نے گایا جن میں سے ایک میں علی بخش ظہور کا ساتھ تھا۔ ان گیتوں کی دھنیں ماسٹرغلام حیدر نے بنائی تھیں جو واپس لاہور چلے آئے تھے۔ طفیل ہوشیارپوری، شاعر تھے۔

1950ء کی بھارتی فلمی تاریخ

1950ء میں بھارتی فلموں کا "سنہرا دور" شروع ہو چکا تھا جس میں 106 ہندی/اردو فلموں کا ذکر ملتا ہے۔

  • سمادھی، بابل، داستان اور جوگن وغیرہ کامیاب ترین فلمیں تھیں۔ دلیپ کمار، نرگس، اشوک کمار اور راج کپور چوٹی کے اداکار تھے۔
  • موسیقار نوشاد علی کی دھن میں فلم بابل (1950) کے اس خوبصورت دوگانے "ملتے ہی آنکھیں، دل ہوا دیوانہ کسی کا۔۔" نے طلعت محمود کو غزل گائیک کے طور پر بامِ عروج پر پہنچا دیا تھا۔ شمشاد بیگم ساتھ تھیں۔

1950ء کے اہم واقعات

  • 26 جنوری 1950ء کو بھارت کا آئین نافذ ہوا جبکہ پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان نے روس کا دورہ مسترد کرکے امریکہ کا سرکاری دورہ کیا جس نے پاکستان کی مستقبل کی خارجہ پالیسی کی راہیں متعین کر دی تھیں۔
  • 1950 کی دھائی کی مشہور "کوریا جنگ" شروع ہوئی جب شمالی کوریا نے 25 جون 1950ء کو جنوبی کوریا پر حملہ کر دیا تھا۔

1951ء کا سال

1951ء میں پاکستانی فلمی تاریخ کی سب سے بڑی خبر یہ تھی کہ ملکہ ترنم نورجہاں، تین سالہ خودساختہ گوشہ نشینی کے بعد واپس سلورسکرین پر جلوہ گر ہوئیں۔

سیاسی طور پر یہ بڑا تلخ سال تھا جب پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان قتل ہوئے۔ قبل ازیں، ان کا تختہ الٹنے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔ ان تلخ واقعات کی ساری کڑیاں جنوری 1951ء کے اس تاریخی واقعہ سے ملتی ہیں جب جنرل ایوب خان پہلے "مسلمان" آرمی چیف مقرر ہوئے تھے۔۔!

1951ء میں پاکستان میں 8 اردو/پنجابی اور بھارت میں 99 ہندی/اردو فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی راج کپور کی مشہورِ زمانہ فلم آوارہ (1951) تھی۔ اس فلم کو بین الاقوامی شہرت ملی تھی۔ گلوکار مکیش کا گیت "آوارہ ہوں۔۔" ایک سٹریٹ سانگ بنا۔ بازی، البیلا، دیدار اور بہار، دیگر کامیاب فلمیں تھیں۔

میڈم نورجہاں کی واپسی

تین طویل برسوں کے صبرآزما انتظار کے بعد اداکارہ اور گلوکار ملکہ ترنم نورجہاں کی فلمی دنیا میں واپسی ہوئی اور وہ بھی ایک پنجابی فلم چن وے (1951) کی صورت میں۔ یہ ایک بہت بڑی نغماتی فلم ثابت ہوئی تھی۔

فلم چن وے (1951) کے گیت

فلم چن وے (1951) کی موسیقی فیروز نظامی نے دی جو اس سے قبل فلم جگنو (1947) سے برصغیر کے مشہور موسیقار بن چکے تھے۔ اس فلم کے بیشتر گیت سپرہٹ ہوئے جنھیں میڈم نورجہاں نے گایا اور انھی پر فلمائے گئے تھے۔

  • فلم چن وے (1951) کا سب سے مقبول گیت "وے منڈیا سیالکوٹیا، تیرے مکھڑے دا کالا کالا تل وے، ساڈا کڈھ کےلے گیا دل وے۔۔" تھا۔ ایف ڈی شرف کا لکھا ہوا یہ سدا بہار گیت ایک ضرب المثل بن گیا تھا۔ فلم میں نورجہاں پر فلمایا گیا لیکن جس کے لیے گا رہی تھیں، وہ کہیں نظر نہیں آتا۔
  • ایسا ہی ایک اور سپرہٹ گیت "چن دیا ٹوٹیا وے دلاں دیا کھوٹیا۔۔" میں نورجہاں کے ساتھ موسیقار فیروز نظامی کی آواز بھی تھی جو فلم کے ہیرو جہانگیر پر فلمائی گئی تھی۔
  • فلم کا ایک اور سپرہٹ لیکن شرارتی گیت تھا "جادوکوئی پا گیا، دل ساڈا آگیا، کسے دی جوانی اتے، دل ساڈا آگیا۔۔" ایک بار گنگناتے ہوئے "جوانی" کی بجائے "زنانی" کہہ گیا جو بیگم نے کبھی معاف نہیں کیا۔۔!
  • "چنگا بنایا ای سانوں کچ دا کھڈونا، آپے بنانا تے آپےمٹانا۔۔" ایک سنجیدہ گیت تھا جو ملکہ ترنم نورجہاں کی مترنم آواز میں دل میں اتر جاتا ہے۔
  • "بچ جا منڈیا موڑ توں، میں صدقے تیری ٹوہر توں۔۔" ایک سپرہٹ کورس گیت تھا جس میں میڈم نورجہاں کے ساتھ پپو پکھراج اور سکھیاں تھیں۔
    یہ گیت میڈم کے علاوہ ان کی پہلی سوتن، اداکارہ یاسمین اور ساتھیوں پر فلمایا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فلم کے عکاس جعفربخاری تھے جو یاسمین کے شوہر تھے۔ عین ممکن ہے کہ یہی فلم اور گیت میڈم نورجہاں اور شوکت حسین رضوی کی ازدواجی زندگی میں چنگاری بن گیا ہو۔۔؟
    اس فلم کا یہ واحد گیت تھا جو معروف پنجابی شاعر استاد دامن نے لکھا تھا۔ باقی سبھی گیت ایف ڈی شرف کے لکھے ہوئے تھے۔
  • فلم چن وے (1951) میں ایک اور کورس گیت تھا "تیرے لونگ دا پیا لشکارا تے ہالیاں نے ہل ڈھک لے۔۔" ممکن ہے کہ یہ کوئی لوک گیت ہو البتہ پہلی بار فلم لارے (1950) میں بابا چشتی نے عنایت حسین بھٹی اور منورسلطانہ سے گوایا تھا اور اس گیت کا مکھڑا ایک بھارتی فلم میں محمدرفیع اور لتا منگیشکر نے بھی نقل کیا تھا۔

فلم چن وے (1951)

میڈم نورجہاں کی پاکستان میں پہلی فلم چن وے (1951)، ان کی اپنی مادری زبان "پنجابی" میں، اپنی فلم کمپنی "شاہ نور فلمز" کے بینر تلے، اپنے فلمی سٹوڈیو "شاہ نور فلم سٹوڈیو" میں تیار ہوئی اور اپنے ہی سینما، ریجنٹ میں جمعرات 29 مارچ 1951ء کو ریلیز ہوئی جہاں مسلسل 18 ہفتے یعنی ساڑھے چار ماہ تک چلتی رہی لیکن سلورجوبلی نہیں کر سکی البتہ ایک کامیاب فلم شمار ہوئی تھی۔

فلم چن وے (1951)

فلم چن وے (1951) کے فلمساز اور سپروائزر، میڈم کے شوہر سید شوکت حسین رضوی اور ہدایتکارہ اور مرکزی ہیروئن (اور گلوکارہ)، میڈم خود تھیں جو پاکستان کی فلمی تاریخ کی پہلی خاتون ڈائریکٹر بھی ریکارڈ ہوئیں۔ لیکن اصل ہدایتکار تو شوکت حسین رضوی تھے جنھیں زعم تھا کہ وہ خالص اردو بولنے والے ایک برتر شخص ہیں اور پنجابی بولنے والے کم تر لوگ ہوتے ہیں، اس لیے انھوں نے ایک پنجابی فلم کے لیے اپنا نام دینا پسند نہیں کیا تھا۔

"انارکلی" جیسی لافانی کہانی لکھنے والے ممتاز ادیب، سید امتیاز علی تاج کی کسی کہانی کو (غالباً) پہلی بار پنجابی زبان میں فلمایا گیا تھا۔

فلم چن وے (1951) کے اداکاروں میں ہیروئن، میڈم نورجہاں کے علاوہ سنتوش، جہانگیر، غلام محمد اور سلیم رضا اہم کردار تھے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ نورجہاں کی جوڑی جہانگیر کے ساتھ تھی جو پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) میں سیکنڈ ہیرو تھے۔ اداکار جہانگیر، اداکار شامل خان کے والد اور ماضی کے دو مشہور اداکاروں، سلطان اور اورنگزیب کے بڑے بھائی بتائے جاتے ہیں۔ غلام محمد نے ولن کا رول کیا اور میڈم نورجہاں کی "پہلی سوتن" یاسمین نے ایک معاون اداکارہ کا رول کیا تھا۔

ایک پنجابی فلم کیوں۔۔؟

اس دور کے کچھ ناقدین کے خیال میں یہ میڈم نورجہاں کی تنزلی تھی کہ کہاں بمبئی کی بڑی بڑی ہندی/اردو کی سپرسٹار اور کہاں ایک علاقائی اور "غیر مہذب زبان" میں بننے والی پنجابی فلم، ان کے خیال میں کم از کم کسی پاکستانی اردو فلم ہی میں آ جاتیں تو کوئی فخر کی بات ہوتی۔۔!

سوال یہ تھا کہ پھر پنجابی فلم بنانے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی۔۔؟

اصل میں چن وے (1951) سے قبل جو 22 پاکستانی فلمیں ریلیز ہوئیں، ان میں سے صرف ایک پنجابی فلم پھیرے (1949) ہی سپرہٹ تھی جس نے مسلسل چھ ماہ چلتے ہوئے اصل سلورجوبلی کی تھی۔

یاد رہے کہ اس وقت تک بھارتی فلمیں، پاکستانی سینماؤں میں آزادانہ طور پر ریلیز ہوتی تھیں اور فلم بینوں اور سینما مالکان کے لیے ملک کی تقسیم سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔

ایک اردو فلم دو آنسو (1950) کو بھی "سلورجوبلی" فلم کہا جاتا ہے لیکن وہ "جعلی جوبلی" تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ صرف 13 ہفتے چلی لیکن کراچی کے دیگر سینماؤں کو ملا کر اس کے کل 26 ہفتے بنا لیے گئے تھے۔ ایسی دھاندلی صرف پاکستان میں ہوتی ہے، ہمارے پڑوسی ملک میں تقسیم سے قبل یا بعد میں کبھی نہیں ہوئی۔

فلم چن وے (1951) کی کہانی

    فلم چن وے (1951) کی کہانی نورجہاں کے گرد گھومتی ہے جو یتیم ہونے کے بعد اپنے چچا (غلام محمد) کے ساتھ رہتی ہے جو جائیداد کے لالچ میں اس کی ماں (نفیس بیگم) سے شادی کر لیتا ہے اور نورجہاں کی شادی اپنے بیٹے (سلیم رضا) سے کرنا چاہتا ہے۔
    فلم چن وے (1951)
    اس دوران ایک نوجوان سنتوش کا سامنا نورجہاں سے ہوتا ہے جو پہلی ہی نظر میں اس پر عاشق ہو جاتا ہے اور اس سے قربت کے لیے اس کی ماں سے جھوٹ بولتا ہے کہ وہ اس کا بچھڑا ہوا بیٹا ہے۔ اس طرح سے نورجہاں، سنتوش کو اپنا بھائی سمجھتی ہے لیکن حیران ہوتی ہے کہ وہ اس کو کن نظروں سے دیکھتا ہے۔
    سنتوش کی عجیب و غریب محبت پر اس وقت بم گرتا ہے جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ نورجہاں کو گاؤں میں آئے ہوئے ایک ڈاکٹر (جہانگیر) سے محبت ہو گئی ہے۔ وہ شکستہ دل سے ان کے راستے سے ہٹ جاتا ہے۔
    چچا (غلام محمد) کی مخالفت کے باوجود جہانگیر کا نورجہاں سے خفیہ نکاح ہو جاتا ہے لیکن دوسرے ہی دن اسے بیرونِ ملک جانا پڑتا ہے۔ کچھ عرصہ بعد نورجہاں، امید سے ہوتی ہے تو اس کو عدم ثبوت کی بنا پر بدچلنی کے الزام میں دیس نکالا مل جاتا ہے۔ وہ، ایک بیٹے کو جنم دیتی ہے۔ اس دوران سنتوش اس کی حفاظت کرتا ہے۔
    جہانگیر واپسی پر نورجہاں اور سنتوش کی قربت سے شک میں مبتلا ہو جاتا ہے لیکن ایک آتشزدگی میں اسے بچاتے ہوئے سنتوش، اپنی جان پر کھیل جاتا ہے اور زخمی چچا، مرنے سے قبل سچ بولتے ہوئے نورجہاں کی پاکدامنی کی گواہی دیتا ہے جس پر ہیرو ہیروئن مل جاتے ہیں اور فلم کا خوشگوار اختتام ہو جاتا ہے۔

فلم کی کہانی خاصی طویل تھی جو بور کرتی ہے۔ اگر فلم میں سپرہٹ گیت نہ ہوتے تو شاید فلم بری طرح سے پٹ جاتی۔

"بدصورت اور بھدی ہیروئن"

میڈم نورجہاں کی فلم چن وے (1951) پر تحقیق کرتے ہوئے لاہور سے شائع ہونے والے ایک ممتاز ماہانہ ادبی رسالے 'نیرنگ خیال' کے ستمبر 1951ء کے شمارے میں اس فلم پر ایک دلچسپ تبصرہ نظر سے گزرا جو بلا تبصرہ پیش کیا جارہا ہے:

    "پاکستانی فلم انڈسٹری کا مستقبل کتنا تاریک ہے؟ اسکا اندازہ فلم 'چن وے' سے ہو سکتا ہے۔۔!
    پبلک کی تمام توقعات بری طرح مجروح ہوئیں۔ کمپنی کے پاس نئی مشینری، اپنا سٹوڈیو، قابل ڈائریکٹر، مقبول ہیروئن، ممتاز افسانہ نگار لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔.!
    افسانہ، ایسا مہمل کہ اسے سید امتیاز علی تاج کے نام سے نسبت دیتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے۔ سید شوکت حسین صاحب ایسے سوجھ بوجھ سے خالی ثابت ہوئے۔ یہ جانتے ہوئے کہ ہیروئن کی سب سے بڑی خصوصیت صرف اسکی موسیقی ہے جس کی کشش ہیروئن کی بدصورتی اور بھدے پن کو زائل کر سکتی تھی لیکن 'چن وے' میں صرف دو گانے ہیروئن کے کامیاب ہوئے ہیں۔ اگر شوکت صاحب کوشش کرتے ہو تو چار پانچ گانے کا میاب ہوسکتے تھے۔ اس فلم کے جملہ عیوب کی کچھ تو پردہ پوشی ہو جاتی مگر لال بجھکڑوں کو کون سمجھائے۔۔؟
    فلم 'چن دے' دیکھ کر محسوس ہوا کہ پاکستان میں اس صنعت کے لیے شاید کبھی میدان نہ بن سکے گا۔۔!"
ماہنامہ 'نیرنگ خیال' لاہور کا اجراء 1924ء میں ہوا۔ مدیراعلیٰ حکیم یوسف حسن تھے۔ اس رسالے نے "سال نمبر" شائع کرنے کی ابتداء کی اور علامہ اقبالؒ کی زندگی ہی میں ان کی شاعری پر "اقبال نمبر" شائع کیا تھا۔ غالباً ابھی چھپ رہا ہے۔

فلم چن وے(1951) کا پوسٹر

اس مضمون کے آغاز میں فلم چن وے (1951) کا جو پوسٹر ہے، وہ AI کی مدد سے بنایا گیا ہے۔۔!

عام طور پر جعل سازی کے سخت خلاف ہوں لیکن بدقسمتی سے ماضی میں پیشہ ور جعل سازوں نے بہت سے حقائق مسخ کیے ہیں اور اب تو AI کی مدد سے کچھ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ اس کا بہترین جواب یہی ہے کہ اس جعل سازی کو مثبت انداز میں استعمال کیا جائے۔

گزشتہ مضمون میں فلم جگنو (1947) کا پوسٹر "مجبوراً" بنانا پڑا جو ایک دلچسپ اور کامیاب تجربہ تھا۔ اس مضمون کے لیے فلم تیری یاد (1948)، پھیرے (1949) اور لارے (1950) فلموں کے پوسٹرز بھی بنائے۔ فلم چن وے (1951) کے پوسٹروں میں سے تین پوسٹر سامنے تھے لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی معیاری نہیں تھا۔

ایسے میں "مصنوعی ذہانت" یا "اے آئی" کو دعوت دی کہ وہ اپنے طور پر فلم چن وے (1951) کے ایک پوسٹر کو ری ڈیزائن کرے لیکن مایوسی ہوئی۔

AI کو ایک سادہ سا تحریری "پرامپٹ" (آرڈر یا حکم) دیا کہ (ترجمہ): "نورجہاں کی فلم 'چن وے' کے اس پوسٹر کو ری ڈیزائن کرو۔۔!"

نتیجہ مندرجہ بالا تصاویر میں سے اوپر بائیں طرف کی پہلی تصویر تھی جس میں نورجہاں کی تصویر کے علاوہ باقی سب فضولیات تھیں۔ AI کی اردو بھی خاصی کمزور نظر آئی جس میں اس کا اپنا کوئی قصور نہیں کیونکہ گوگل سرچ ہو یا مصنوعی ذہانت، ان کی تمام تر معلومات انٹرنیٹ پر موجود مواد تک محدود ہیں اور اسی مواد کی روشنی میں وہ "سوچ" سکتے ہیں یا کوئی کام کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد فلم پوسٹر کے ڈیزائن کے بارے میں ایک واضح تحریری "پرامپٹ" دیا۔ اب کی بار نتیجہ قدرے بہتر تھا لیکن نورجہاں کی تصویر واضح نہیں تھی۔ چند مزید کوششوں کے بعد جو نتیجہ سامنے آیا، وہ اس مضمون کے آغاز میں دیا گیا فلم چن وے (1951) کا پوسٹر ہے۔

ویسے AI تصوراتی تصاویر تو بہت اچھی بنا لیتا ہے لیکن حقیقی عکس کے ساتھ تھوڑا بہت مسئلہ ہے۔ تصاویر کو رنگین کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل بن گیا ہے جبکہ گرافک اور کوڈنگ میں گھنٹوں کا کام منٹوں میں ہو جاتا ہے۔ سرچ کی جگہ سمری آسان ہے لیکن تحقیقی کام پھر بھی خود ہی کرنا پڑتا ہے۔

بلاشبہ AI یا "مصنوعی ذہانت"، مجھ جیسے لوگوں کے لیے بہت بڑی نعمت ثابت ہوئی ہے جو اپنا ہر کام خود کرنے کے عادی رہے ہیں، الحمدللہ۔۔!

میڈم نورجہاں کو پاکستان کی پہلی سپرہٹ نغماتی اردو فلم کی گلوکارہ اور ہیروئن ہونے کا منفرد اور ناقابلِ شکست اعزاز حاصل ہے۔۔!

ہدایتکار سبطین فضلی کی اردو فلم دوپٹہ (1952) میں ملکہ ترنم نورجہاں کے لازوال نغمات نے نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی دھوم مچا دی تھی اور پانچ سال قبل بننے والی بلاک باسٹر فلم جگنو (1947) کی یاد تازہ کر دی تھی۔

بھارتی فلمی پریس کے مطابق، اس فلم میں ملکہ ترنم نورجہاں کے گائے ہوئے سبھی گیتوں کو اتنا پسند کیا گیا کہ ناقدین کے مطابق، اس اعلیٰ پائے کے گیت صرف نورجہاں ہی گا سکتی تھی اور فنِ گائیکی میں صرف نورجہاں ہی نورجہاں کو شکست دے سکتی تھی۔۔!

فلم دوپٹہ (1952) کی موسیقی

فلم دوپٹہ (1952) کی موسیقی ماسٹرفیروزنظامی نے ترتیب دی جو قبل ازیں، میڈم کی دو فلموں، جگنو (1947) اور چن وے (1951) کے سپرہٹ گیت تخلیق کر چکے تھے۔ یہ ان کی کامیابیوں کی ہٹ ٹرک تھی اور بلاشبہ ان کے فلمی کیرئر کی سب سے بڑی فلم تھی۔

فیروز نظامی

ماسٹرفیروزنظامی، فنِ موسیقی پر متعدد کتب کے مصنف ہونے کے علاوہ ایک لیکچرار بھی تھے لیکن افسوسناک بات یہ تھی کہ پھر کبھی ایسی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے حالانکہ تقسیم سے قبل ایک درجن اور پاکستان میں ڈیڑھ درجن کے قریب فلموں کی موسیقی ترتیب دی لیکن کامیابی صرف میڈم نورجہاں کے ساتھ ملی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فیروزنظامی، عطائی تھے اور پاکستان کی پہلی کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بیٹسمین اور پہلے سینچری میکر کرکٹر نذرمحمد کے بھائی تھے جن کے ساتھ میڈم کا ایک سکینڈل بڑا مشہور ہوا تھا جس پر آگے چل کر بات ہوگی۔

فلم دوپٹہ (1952) کے گیت مشیرکاظمی، عرش لکھنوی اور فیاض ہاشمی نے لکھے اور سبھی گیت ملکہ ترنم نورجہاں کی آواز میں ریکارڈ ہوئے تھے۔ کسی ایک فلم کے سبھی گیت گانے کا یہ ان کا پہلا موقع تھا۔

فلم دوپٹہ (1952) کے گیت

میڈم نورجہاں کی فلمیں، موسیقی کے حوالے سے جانی جاتی تھیں، اداکاری ان کی اضافی خوبی تھی۔ فلم دوپٹہ (1952) کے دس گیتوں کا حوالہ ملتا ہے جن میں سے آٹھ گیت فلم کے آن لائن پرنٹ میں ملتے ہیں۔

فلم دوپٹہ (1952) کا سب سے مقبول اور یادگار گیت تھا:

  • چاندنی راتیں، سب جگ سوئے، ہم جاگیں، تاروں سے کریں باتیں۔۔
مشیر کاظمی
اس گیت کا پس منظر بڑا دلچسپ اور سبق آموز ہے۔ اس گیت کو مشیرکاظمی نے لکھا جو اس سے قبل متعدد فلموں کے گیت لکھ چکے تھے لیکن کامیابی سے محروم رہے تھے۔ ایک رات فاقے سے تھے اور بھوک کی وجہ سے نیند نہیں آرہی تھی۔ ایسے میں آمد ہوئی اور یہ شعر کہا:
  • اک ٹیس جگر میں اٹھتی ہے، اک درد سا دل میں ہوتا ہے
    ہم راتوں کو اٹھ کر روتے ہیں، جب سارا عالم سوتا ہے۔۔
یہ مکھڑا انھوں نے ماسٹرفیروزنظامی کو سنایا تو انھیں بے حد پسند آیا اور اسی پر پورا گیت لکھ دیا گیا جو ملکہ ترنم نورجہاں کی سدا بہار آواز میں امر ہو گیا تھا۔

فلم دوپٹہ (1952) کے دیگر گیتوں میں میڈم نورجہاں کا ایک کمال کا کورس گیت ہے جو اس دور کا ایک منفرد اور جدت پسند گیت تھا جس میں سلوموشن کے علاوہ انتہائی تیزی میں گائے ہوئے بول بھی سننے کو ملتے ہیں:

  • ناچے جیا رے، آئی گھٹا ہو، چھائی گھٹا، چھما چھم چھما چھم، آجا پیا رے، میرا من تجھ کو پکارے۔۔ (مشیرکاظمی)
فلم دوپٹہ (1952) کے دیگر سپرہٹ گیتوں کی فہرست مندرجہ ذیل ہے:
  • تم زندگی کو غم کا فسانہ بنا گئے، آنکھوں میں انتظار کی دنیا بسا گئے۔۔ (عرش لکھنوی)
  • بات ہی بات میں جی، چاندنی رات میں، جیا میرا کھو گیا، ہائے کسی کا ہو گیا۔۔ (مشیرکاظمی)
  • پگلتی آگ سے اس دل کو جلتا دیکھتے جاؤ۔۔ (عرش لکھنوی)
  • سانوریا، توہے کوئی پکارے، آ جا رے۔۔ (مشیرکاظمی)
  • میرے من کے راجہ، صورتیا دکھا جا۔۔ (مشیرکاظمی)
  • میں بن پتنگ اڑ جاؤں، ہوا کے سنگ لہراؤں۔۔ (مشیرکاظمی)
اسی فلم میں معروف فلمی شاعر فیاض ہاشمی نے پہلا گیت "مصیبت ہے، بلا ہے اور میں ہوں، محبت کی سزا ہے اور میں ہوں۔۔" لکھا لیکن آن لائن فلم پرنٹ میں نہیں ملتا۔ ایسا ہی ایک گیت عرش لکھنوی کا تھا جو فلم میں نہیں ہے: "کسے معلوم تھا، تقدیر میں آنسو بہانا ہے۔۔" فلم کے دس کے دس گیت، میڈم نورجہاں کی آواز میں تھے۔

فلم دوپٹہ (1952) کی کہانی

فلم 'دوپٹہ' (1952) کی کہانی کا خلاصہ ہے:

  • "محبت، حُسن کی محتاج نہیں ہوتی، یہ جسم کا نہیں، روح کا رشتہ ہوتا ہے۔۔!"

    ایک ہنستی گاتی، شوخ و چنچل پہاڑی لڑکی "بلبل" (نورجہاں) کی ملاقات ایک فوجی افسر "روشن" (اجے کمار) سے ہوتی ہے اور پہلی ہی نظر میں دونوں میں محبت ہو جاتی ہے۔ سوتیلی ماں (ببو) کی مخالفت کے باوجود شریف النفس باپ (آزاد) ، ان کی شادی کروا دیتا ہے اور دونوں شہر چلے جاتے ہیں جہاں "روشن"، اپنے خوش مزاج چچا (غلام محمد) اور بدمزاج چچی (نفیس بیگم) کے ساتھ ایک پرتعیش گھر میں رہتا ہے۔

    چچی کی بعض اوچھی حرکتوں کے باوجود "بلبل" اور "روشن" کی ازدواجی زندگی انتہائی خوشگوار ہوتی ہے اور ایک بچہ بھی پیدا ہو جاتا ہے جو گھر کی رونق بن جا تا ہے۔ اس دوران "روشن" کو جنگ کا بلاوا آجاتا ہے اور پھر سب پر یہ خبر بم بن گرتی ہے کہ وہ جنگ میں ہلاک ہوگیا ہے۔

    "بلبل"، ان حالات کا بڑے صبرو استقامت سے مقابلہ کرتی ہے اور ساری توجہ اپنے بچے کی پرورش پر مرکوز کر دیتی ہے۔ اس دوران "روشن" واپس آ جاتا ہے لیکن اپنوں کا سامنا نہیں کر پاتا کیونکہ جنگ میں اس کا چہرہ بری طرح سے جھلس جاتا ہے اور اسے خدشہ ہوتا ہے کہ اس حال میں خاص طور پر اس کی بیوی، اس کو قبول نہیں کرے گی۔

    کہانی میں ایک اور کردار "ڈاکٹر" (سدھیر) کا اضافہ ہوتا ہے جو پلاسٹک سرجن بھی ہے اور بیماری کی صورت میں بچے کا علاج کرنے کے لیے باقاعدگی سے گھر آنے لگتا ہے۔ ایسے میں "چچی" کو موقع مل جاتا ہے اور وہ "بلبل" اور "ڈاکٹر" کی قربت کی وجہ سے ان کے ناجائز تعلقات کے قصے مشہور کر دیتی ہے جن سے "روشن" بھی متاثر ہوتا ہے اور رقابت میں ڈاکٹر کو رستے سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے لیکن ناکامی کی صورت میں فرض شناس اور مخلص ڈاکٹر، ازراہِ ہمدردی اس کو اپنے ہی کلینک میں ملازم رکھ لیتا ہے۔

    چچی، بلبل کو گھر سے نکال دیتی ہے اور وہ بھی ڈاکٹر کے مشورے پر اپنے غم بھلا کر خدمتِ خلق کے جذبہ سےسرشار ہو کر کلینک میں نرس کے طور پر کام کرنے لگتی ہے جہاں فلم کے تینوں اہم کردار (نورجہاں، اجے کمار اور سدھیر) مل جاتے ہیں۔

    ایک دن، ڈاکٹر کی نیم پاگل بیوی (عفت جہاں)، حسد کے مارے "بلبل" (نورجہاں) کو رستے سے ہٹانے کے لیے گولی مار دیتی ہے جو "روشن" (اجے کمار) کو لگ جاتی ہے لیکن بچ جاتا ہے اور حقیقت بتا دیتا ہے کہ وہ کون ہے۔ "بلبل"، اس کو اس حالت میں بھی قبول کر لیتی ہے۔

فلم دوپٹہ (1952) کی یہ کہانی اصل میں ڈاکٹر یعنی سدھیر فلم کے آغاز میں ایسے ہی ایک ٹریفک حادثہ میں زخمی ہونے والے شخص کی بیوی (یاسمین) کو سنا رہا ہوتا ہے۔

فلم دوپٹہ (1952) کے کردار

  • فلم دوپٹہ (1952) کا مرکزی کردار نورجہاں کا ہے جس کے بارے میں فلم کے ہدایتکار سبطین فضلی کا یہ بیان میڈیا میں چھپا کہ "نورجہاں کے بغیر کوئی دوسری اداکارہ یہ کردار نہیں کر سکتی تھی۔۔!"
  • فلم کے روایتی ہیرو اجے کمار تھے جو ایک خوبرو جوان تھے لیکن اداکاری واجبی سی تھی۔ کلکتہ سے تعلق تھا اور پاکستان میں اکلوتی فلم تھی۔ مزید کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔
  • پاکستان کے پہلے سپرسٹار فلمی ہیرو سدھیر کو فلم دوپٹہ (1952) سے بریک تھرو ملا تھا۔ اس فلم میں انھوں نے ایک ڈاکٹر کا بھرپور رول کیا جو فلم کی کہانی سناتا ہے بلکہ اس پر رواں تبصرہ بھی کرتا ہے۔ فلم کے آغاز میں ان کی بے ہنگم داڑھی بڑی عجیب سی لگتی ہے۔
  • غلام محمد، ایک سینئر اداکار تھے، اس فلم میں ان کے دو سین ناقابلِ فراموش تھے۔ پہلا سین بچے (بے بی اویس) کے ساتھ کھانے کی میز پر مختلف آوازیں نکالنا ہے جس میں بچے کی کارکردگی بھی لاجواب تھی اور یہ بڑا ہی دلکش منظر تھا جبکہ دوسرا منظر اچانک بجلی چلے جانے کے بعد ان کا اپنی بیوی (نفیس بیگم) کا بوسہ لینا ہے۔
  • نفیس بیگم بھی ایک معاون اداکارہ تھی جس نے غلام محمد کی ایک رومانٹک بیوی لیکن ایک مغرور اور خودسر خاتون کا رول کیا تھا۔
  • ببو، ایک مشہور اداکارہ تھی جو اپنے مختصر کردار میں نورجہاں کی سوتیلی ماں کے رول میں تھی۔
  • سیدرفیق، ایک گمنام اداکار تھے جنھوں نے ولن کا مختصر رول کیا لیکن ان کے قہقہے بڑے مصنوعی تھے۔
  • عفت جہاں، ایک گمنام اداکارہ تھی جس نے سدھیر کی پاگل بیوی کا رول کیا اور بہت اچھا کیا تھا۔
  • اداکارہ یاسمین، ایک مہمان اداکارہ کے طور پر نظر آئیں جنھیں سدھیر، اس فلم کی کہانی سناتے ہیں۔ میڈم نورجہاں کی اس پہلی سوتن کو فلم عکاس اور عملی زندگی میں شوہرِ نامدار، جعفربخاری نے بڑا عمدہ عکس بند کیا تھا۔

فلم دوپٹہ (1952) کا بزنس

فلم دوپٹہ (1952)، لاہور کے رٹز سینما میں 28 مارچ 1952ء کو ریلیز ہوئی جہاں 17 ہفتے (چار ماہ اور ایک ہفتہ) تک مسلسل زیرِنمائش رہی اور کامیاب فلموں میں شمار ہوئی تھی۔

فلم بنانے والی کمپنی "فلم ایشیاء" اور فلمساز اسلم لودھی کی یہ اکلوتی فلم تھی جبکہ بھارت میں کامیاب فلمیں بنانے والے ہدایتکار سبطین فضلی نے اس کے بعد صرف دو مزید فلمیں، آنکھ کا نشہ (1957) اور دو تصویریں (1974) بنائی تھیں۔

فلم دوپٹہ (1952)، کراچی کے ایروز سینما میں 11 جولائی 1952ء کو ریلیز ہوئی تھی۔ وہاں بھی 17 ہفتےچلی لیکن دیگر سینماؤں کو ملا کر کل 27 ہفتوں کے ساتھ سلورجوبلی فلموں میں شمار ہوئی تھی۔ فلم دوآنسو (1950) کے بعد کراچی میں یہ دوسری سلورجوبلی فلم تھی۔

بظاہر فلم دوپٹہ (1952)، کسی بڑی کامیابی سے محروم رہی حالانکہ تقسیم سے قبل، میڈم نورجہاں کی فلمیں، خاندان (1942)، زینت (1945) اور جگنو (1947) نے اسی لاہور میں "خالص" سلورجوبلیاں منائی تھیں یعنی مسلسل چھ چھ ماہ تک ایک ہی سینما پر چلتی رہی تھیں۔ لیکن فلم دوپٹہ (1952) کی "ناکامی" کی بظاہر دو بڑی وجوہات سامنے آتی ہیں:

  • پہلی اور بنیادی وجہ لاہور کی ڈیموگرافی تھی جو تقسیمِ ہند کے نتیجے میں تبدیل ہو گئی تھی۔ 1941ء کی مردم شماری کے مطابق، پنجاب کی تقسیم ہوئی جہاں 53 فیصد مسلمان، 30 فیصد ہندو اور 14 فیصد سکھ ہوتے تھے۔ پاکستان کے حصہ میں آنے والے پنجاب میں سے لاہور، واحد شہر تھا جہاں غیر مسلموں کی تعداد سب سے زیادہ یعنی 40 فیصد تک تھی لیکن 80 فیصد کاروبار پر چھائے ہوئے تھے۔ فلم بینی کا رحجان بھی زیادہ تر ہندوؤں میں ہوتا تھا، مسلمانوں میں فلم بینی کو انتہائی معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اردو فلموں کا حلقہ بھی چند بڑے شہروں تک محدود ہوتا تھا، اس لیے چار ماہ تک چلنا بہت بڑی کامیابی تھی۔
  • دوسری بڑی وجہ، اس فلم میں ایک ہندو نژاد ہیرو اجے کمار تھے جو بھارتی فلم بینوں کے لیے تو ایک پلس پوائنٹ بنے مگرپاکستانی فلم بینوں کے لیے مائنس پوائنٹ ثابت ہوئے۔ تقسیم کے نتیجہ میں زخم تازہ تھے اور فرقہ وارانہ کشیدگی موجود تھی۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی پوری فلمی تاریخ میں اجے کمار، واحد ہندو اداکار ہیں جنھیں اتنی بڑی فلم کا ہیرو ہونے کا اعزاز حاصل ہے لیکن آج اگر انٹرنیٹ پر تحقیق کریں تو ان کے بارے میں کچھ علم نہیں ہوتا بلکہ ایک کوتاہ قامت اداکار کا ریکارڈ ہی سامنے آتا ہے۔

فلم دوپٹہ (1952) کی بھارت میں نمائش

پاکستان کی پہلی نغماتی اردو فلم دوپٹہ (1952) کو اصل کامیابی بھارت میں ملی جہاں یہ فلم لبرٹی فلمز کی طرف سے 5 ستمبر 1952ء کو بمبئی کے لمنگٹن سینما کے علاوہ دیگر آٹھ سینماؤں میں بیک وقت ریلیز ہوئی اور زبردست کامیابی سے ہمکنار ہوئی تھی۔

بھارتی فلم بینوں نے پانچ سال بعد میڈم نورجہاں کی کوئی فلم دیکھی اور گیت سنے تھے۔ میڈیا میں میڈم کو "بلبل" یا Nightingale کے نام سے یاد کیا گیا اور اداکاری کے علاوہ گائیکی کی بھی بے حد تعریف کی گئی تھی۔ ایک اخباری تراشے کے مطابق، میڈم کی تعریف کرتے ہوئے یہ لکھا ہوا تھا کہ "نورجہاں، لتا منگیشکر کی آئیڈیل گلوکارہ ہیں۔۔!"

کوٹہ سسٹم

ایک "پاکستانی فلم" کی اس غیرمعمولی کامیابی سے ہر بھارتی خوش نہیں تھا۔ تقسیم کے زخم ابھی ہرے تھے۔ ایسے میں بعض ڈسٹری بیوٹرز نے فلم دوپٹہ (1952) کو ریلیز ہونے سے روکا یا دیگر رکاوٹیں ڈالیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حکومتِ پاکستان کو فلمسازوں کے دباؤ پر بھارتی فلموں کی گزشتہ پانچ برسوں سے پاکستانی سینماؤں میں آزادانہ نمائش پر پہلی بار پابندیاں لگانا پڑیں اور "کوٹہ سسٹم" کا قانون بنایا گیا۔

اس "کوٹہ سسٹم" کے مطابق، پاکستانی سینماؤں میں صرف حکومت کے منظورشدہ تقسیم کار ہی فلمیں چلا سکتے تھے جن کا پاکستانی شہری ہونا لازمی قرار پایا۔ اس قانون کے پاکستانی فلموں پر دورس اور خوشگوار اثرات مرتب ہوئے جو آنے والے برسوں میں ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے۔

"ملکہ اور درباری"

بمبئی کے ممتاز فلمی میگزین "فلم انڈیا" کے دسمبر 1949ء کے شمارے میں فلم دوپٹہ (1952) کے بارے میں ایک تصویر شائع ہوئی جس میں میڈم نورجہاں کو تو "ملکہ" کے خطاب سے یاد کیا گیا لیکن ان کے ساتھ جو صاحبان کھڑے نظر آئے انھیں "درباری" کہا گیا ہے جو شاید ایڈیٹر صاحب کا ان دو نامور ہدایتکاروں سے ذاتی بغض تھا جو تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان کو پیارے ہو گئے تھے۔۔!

یہ "درباری" کوئی عام لوگ نہیں تھے بلکہ ان میں سے ایک تو میڈم نورجہاں کے شوہرِنامدار سید شوکت حسین رضوی تھے جو تقسیم سے قبل چوٹی کے فلم ڈائریکٹر اور تقسیم کے بعد ایک کامیاب سٹوڈیو اونر تھے جن کے ملتان روڈ پر واقع "شاہ نور فلم سٹوڈیو" میں فلم دوپٹہ (1952) زیرِتکمیل تھی۔

دسمبر 1949ء کی اس تصویر سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فلم دوپٹہ (1952) کو بننے میں کئی سال لگ گئے تھے شاید یہی وجہ ہے کہ اس فلم کے اشتہارات پر شاہ نواز، اجمل، نذر، ہمالیہ والا اور ایم اسماعیل جیسےمشہور اداکاروں کے نام بھی ملتے ہیں جو اس فلم میں نہیں تھے۔

تصویر میں انتہائی دائیں طرف، فلم دوپٹہ (1952) کے ہدایتکار سبطین فضلی کھڑے نظر آتے ہیں جن کی پاکستان میں یہ پہلی فلم تھی۔ اس سے قبل انھوں نے بھارت میں عصمت (1944)،شمع (1946) اور مہندی (1947) جیسی کامیاب فلمیں بنائیں جن میں سے آخری فلم میں میڈم نورجہاں کو کاسٹ کیا گیا لیکن تقسیم کے نتیجہ میں نقل مکانی کی وجہ سے اس فلم میں اداکارہ نرگس کو شامل کرنا پڑا تھا۔

"فضلی برادران" نے اس سے قبل میڈم نورجہاں کو فلم دل (1946) میں کاسٹ کیا تھا اور پاکستان میں ان کے ایک اور بھائی فضل کریم فضلی نے چراغ جلتا رہا (1962) جیسی مشہور فلم بھی بنائی تھی۔

اس تصویر میں انتہائی بائیں طرف فلم دوپٹہ (1952) کے فلمساز اسلم لودھی تھے جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ اداکار سدھیر کے چچا تھے۔ دیگر دونوں افراد اس وقت کی کاروباری شخصیات تھیں۔

1952ء کی فلمی تاریخ

  • 1952ء میں پاکستان میں صرف 6 فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں دوپٹہ (1952)، واحد کامیاب فلم تھی۔
  • اسی سال فلم نتھ(1952) میں پاکستان کے عظیم اداکار آغا طالش کی آمد ہوئی تھی۔
  • بھارت میں 102 ہندی/اردو فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں ہدایتکار محبوب خان کی فلم آن (1952)، سال کی کامیاب ترین فلم تھی اور تقسیم کے بعد پہلی رنگین فلم تھی جس میں دلیپ کمار، نادرہ، نمی اور پریم ناتھ مرکزی کردار تھے۔
  • فلم بیجوباورا (1952)، سال کی سب سے بڑی نغماتی فلم تھی جس میں محمدرفیع کا گیت "اے دنیا کے رکھوالے۔۔" ایک کلاسک گیت شمار ہوتا ہے۔
  • بھارتی باکس آفس پر دلیپ کمار اور بھارت بوشن کی تین تین فلمیں چھائی ہوئی تھیں لیکن بین الاقوامی ایوارڈ فلم دو بیگھہ زمین (1952) کو ملا تھا۔

1952ء کے اہم واقعات

1952ء میں جہاں بھارت میں پہلے عام انتخابات کے نتیجے میں پہلی منتخب حکومت قائم ہوئی وہاں پاکستان میں آئین سازی سے مجرمانہ غفلت کا نتیجہ یہ نکلا کہ زبان کا مسئلہ گھمبیر ہوگیا اور 21 فروری 1952ء کو ڈھاکا میں طلباء کے ایک احتجاج پر پولیس کی فائرنگ سے متعدد نوجوان ہلاک ہوئے اور "بنگلہ دیش کی آزادی کو پہلے شہید" مل گئے تھے۔۔!

اسی سال برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کی تاجپوشی ہوئی اور مصر سے بادشاہت کا خاتمہ ہوا تھا۔ امریکہ بہادر نے اسی سال ہائیڈروجن بم کا تجربہ بھی کیا تھا۔

میڈم نورجہاں کے لیے 1953ء کا سال، ایک انتہائی ہنگامہ خیز سال تھا۔۔!

اس سال، میڈم نورجہاں کی اکلوتی فلم گلنار (1953) ریلیز ہوئی جس کی ریلیز کے صرف تین دن بعد ہی اس فلم کے موسیقار، ماسٹر غلام حیدر کا انتقال ہوا اور بتایا جاتا ہے کہ اسی دن میڈم کی والدہ کا انتقال بھی ہوا تھا۔

1953ء کا ایک اہم ترین واقعہ "نورجہاں اور نذرمحمد کا مشہور سکینڈل" بھی تھا جو ہمارے میڈیا میں بڑے مزے لے لے کر بیان کیا جاتا رہا ہے۔ اس پر تفصیل سے بحث ہو گی لیکن پہلے فلم گلنار (1953) پر بات کر لیں۔

فلم گلنار (1953)

"شاہ نور سٹوڈیوز اور کریسنٹ فلمز" کی مشترکہ پیش کش اور فلمساز میاں احسان کی رومانٹک فلم گلنار (1953) کی خاص بات یہ تھی کہ اس کے ہدایتکار، سیدامتیازعلی تاج تھے جو بنیادی طور پر ایک ادیب تھے اور اپنے مشہورِ زمانہ ناول "انارکلی" کی وجہ سے ایک تاریخ ساز ہستی ہیں۔

سید امتیاز علی تاج
حقیقت یہ ہے کہ اردو ادب میں ڈرامہ "انارکلی" کا وہی مقام ہے جو پنجابی ادب میں "ہیررانجھا" کا ہے۔ لوگ "انارکلی" کے افسانوی کردار کو نہ صرف حقیقی سمجھتے رہے ہیں بلکہ لاہور کے انارکلی بازار میں اس کا مقبرہ تک بنا دیا گیا تھا۔۔!

سیدامتیازعلی تاج کا تاریخی ناول "انارکلی"، 1922ء میں شائع ہوا جس کی کہانی پر پہلی بار 1928ء میں ایک خاموش فلم بنائی گئی۔ تقسیم سے قبل اس کہانی پر مزید دو ٹاکی فلمیں بنیں۔ آزادی کے بعد بھارت اور پاکستان میں یہ کہانی متعدد بار فلمائی جا چکی ہے جن میں اس سال، بھارت میں ریلیز ہونے والی سو کے قریب فلموں میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم انارکلی (1953) کے علاوہ مشہورِ زمانہ لازوال فلم مغلِ اعظم (1960) بھی شامل ہے۔

پاکستان میں فلم ڈائریکٹر کے طور پر فلم گلنار (1953)، سیدامتیازعلی تاج (70-1900) کی اکلوتی فلم تھی جس کا سکرین پلے بھی انھی کا لکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ فلم چن وے (1951)، انارکلی (1958) اور زنجیر (1960) کی کہانیاں بھی لکھیں اور متعدد فلموں کے مکالمہ نگار بھی تھے۔

تقسیم سے قبل، لاہور ہی میں بنائی جانے والی ہندی/اردو فلم سورگ کی سیڑھی (1934) کے ہدایتکار کے طور پر بھی ان کا نام ملتا ہے۔ دلچسپ اتفاق ہے کہ موسیقار ماسٹرغلام حیدر کی یہ پہلی فلم تھی۔ دو دھائیوں بعد اردو فلم گلنار (1953)، ماسٹرصاحب کی آخری فلم ثابت ہوئی جس کے ہدایتکار بھی سیدامتیازعلی تاج ہی تھے۔۔!

شوکت تھانوی

فلم گلنار (1953) کے مکالمے شوکت تھانوی (63-1904) نے تحریر کیے جنھوں نے اس فلم میں نواب صاحب کا اہم رول بھی کیا تھا۔

شوکت تھانوی، ایک ممتاز کالم اور مزاح نگار ہونے کے علاوہ ریڈیو پاکستان پر "قاضی جی" کے نام سے ایک مستقل فیچر پیش کرتے تھے۔ روزنامہ جنگ راولپنڈی کے ایڈیٹر بھی تھے۔ اس کے علاوہ کراچی کی معروف ٹی وی اداکارہ عرشِ منیر کے شوہر بھی تھے۔

دیگر ادبی شخصیات کی طرح شوکت تھانوی کو بھی فلموں میں کامیابی نہیں ملی۔ گلنار (1953) کے علاوہ انتخاب (1955)، صابرہ (1956) اور زنجیر (1960) جیسی ناکام فلموں کے مکالمے لکھے جبکہ رنگیلا کی مشہور فلم عورت راج (1979) کا مرکزی خیال بھی انھی کا تھا۔

فلم گلنار (1953) کی کہانی

فلم گلنار (1953) کی کہانی 19ویں صدی میں مغلیہ سلطنت کے زوال کے دور میں ریاست اودھ کے شہر لکھنؤ کے تہذیبی پس منظر میں لکھی گئی تھی۔ یہ کہانی، نواب مرزا شوق لکھنوی (1871-1773) کی 1862ء میں شائع ہونے والی مشہور تصنیف "مثنوی زہر عشق" سے ماخوذ ہے جو ایک نوابزادی اور اس کے غریب عاشق کے ناکام عشق کی ایک المناک داستان ہے۔ کہانی کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

    "نواب صاحب" (شوکت تھانوی)، اپنی بیٹی "گلنار" (نورجہاں) کی شادی ایک جوہری سے طے کرتے ہیں لیکن دولہا کے نقلی نواب اور اصل میں ایک "ماشکی یا بہشتی" اور پہلے سے شادی شدہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہو پاتی۔

    دوسری طرف " گلنار" کو بچپن ہی سے ایک گمنام شخص روزانہ پھول بھیجتا ہے، جو اصل میں اس کا بچپن کا ساتھی اور عاشق "فیروز" (سنتوش) ہے۔

    نواب صاحب کا ایک ہمسایہ "فیاض" (آزاد) بھی گلنار کے عاشقوں میں سے ایک ہے جوجوشِ رقابت میں آکر ایک سازش کرتا ہے اور "فیروز" کو ایک جعلی نواب بنا کر "گلنار" کے رشتے کے لیے پیش کرتا ہے۔

    فیروز کو جب یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی معشوقہ "گلنار" کو دھوکہ دے رہا ہے تو عین نکاح کے وقت اپنی اصلیت ظاہر کر کے شادی سے صاف انکار کر دیتا ہے۔

    اس کے بعد "فیاض" دوبارہ رشتہ مانگتا ہے جو منظور ہو جاتا ہے لیکن "فیروز" کو یہ منظور نہیں ہوتا۔ وہ، "فیاض" کو مجبور کرتا ہے کہ سچے عاشقوں کی طرح عشق کی قربانی دیں اور دو گولیوں میں سے ایک زہر کی گولی کو فیصلہ کرنے دیں کہ "گلنار" کا اصل عاشق کون ہے۔۔؟

    اپنے حصہ کی گولی کھانے کے بعد "فیروز"، نفسیاتی طور پر یہ سمجھ کر کہ اس نے زہر والی گولی کھا لی ہے، بے ہوش ہو جاتا ہے۔ جب یہ خبر "گلنار" تک پہنچتی ہے کہ فیروز مر گیا ہے تو وہ بھی اس کے غم میں زہر کھا لیتی ہے۔

    کچھ دیر بعد جب "فیروز" کو ہوش آتا ہے اور اسے "گلنار" کے زہر کھانے کا علم ہوتا ہے تو جلدی سے اس کے پاس پہنچتا ہے لیکن دیر ہو جاتی ہے اور وہ بھی پستول کی گولی سے اپنی زندگی کا خاتمہ کر کے عشق کو امر کر جاتا ہے۔ "فیاض" بھی زہر کی اصل گولی کھا کر مر چکا ہوتا ہے۔ فلم کا اختتام بھی ان کے اسی مزار پر ہوتا ہے جہاں سے یہ فلم شروع ہوتی ہے۔

فلم گلنار (1953) کی کہانی بڑی ہی کمزور اور انتہائی بے ربط تھی جس میں کئی ایک جھول تھے۔ مثلاً "فیروز"، اپنی معشوقہ "گلنار" سے شادی کرنے کے لیے کسی کے کہنے پر پہلے جعلی نواب بننے پرتیار ہو جاتا ہے اور پھر ضمیر جاگنے پر شادی سے انکار کردیتا ہے، پھر بھلا کیسے اسی سے دوبارہ شادی کا سوچ سکتا ہے۔۔؟ کیا نواب اس کی اجازت دیتا۔۔؟ زہریلی گولیوں کا ڈرامہ بھی انتہائی مضحکہ خیز لگتا ہے جو فلم کی ناکامی کی بڑی وجہ بنا ہوگا۔۔!

فلم گلنار (1953) کی پروڈکشن کی سب سے بڑی خوبی اس کے خوبصورت سیٹ تھے۔ رضا میر کی عکاسی کی بڑی تعریف ہوئی تھی۔ اداکاروں میں نورجہاں، سنتوش اور شوکت تھانوی کے علاوہ شاہ نواز، آزاد، ظریف، ببو، شیخ اقبال، شعلہ اور مایا دیوی وغیرہ شامل تھے۔

یہ فلم لاہور میں 6 نومبر 1953ء کو رتن سینما میں نمائش کے لیے پیش ہوئی اور مسلسل سوا دو ماہ یعنی 9 ہفتے تک چلتی رہی اور ایک اوسط درجہ کی فلم شمار ہوئی تھی۔ کراچی میں یکم جنوری 1954ء کو ریگل سینما میں چلی اور دیگر سینماؤں کو ملا کر کل 12 ہفتے ہی چل سکی اور ایک ناکام فلم ثابت ہوئی تھی۔

فلم گلنار (1953) کی موسیقی

پاکستان کی فلمی تاریخ میں فلم گلنار (1953) کی اہمیت اس کی موسیقی، موسیقار اور ملکہ ترنم نورجہاں کے لازوال گیت ہیں۔ بدقسمتی سے یہ فلم عظیم موسیقار ماسٹرغلام حیدر کی زندگی کی آخری فلم ثابت ہوئی تھی۔ فلم کی ریلیز کے تین دن بعد ان کا انتقال ہو گیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں ماسٹرغلام حیدر اور ملکہ ترنم نورجہاں کی یہ اکلوتی مشترکہ فلم تھی حالانکہ ڈیڑھ دھائی قبل یعنی 1939ء میں لاہور ہی میں بننے والی پہلی بلاک باسٹر پنجابی فلم گل بکاؤلی (1939) میں ان کا پہلا سنگم ہوا تھا۔ ماسٹرصاحب کی بھی یہ پہلی سپرہٹ فلم تھی جس میں "بے بی نورجہاں" کا گایا ہوا گیت "شالا جوانیاں مانیں۔۔" اس دور کا سٹریٹ سانگ ثابت ہوا تھا۔

میڈم نورجہاں نے کئی بار یہ اعتراف کیا کہ فلمی گیت گانے اور مائیک پر کھڑے ہونے کا طریقہ انھیں ماسٹرغلام حیدر ہی نے سکھایا تھا۔ شاید یہی احترام تھا کہ وہ اپنی ماں کا جنازہ چھوڑ کر ماسٹرصاحب کی تعزیت کے لیے پہنچ گئی تھیں۔۔!

میڈم نورجہاں کی لاہور میں بننے والی دیگر تینوں سپرہٹ فلموں یعنی یملاجٹ (1940)، چوہدری (1941) اور خاندان (1942) کے موسیقار بھی ماسٹرغلام حیدر ہی تھے جنھوں نے لاہور کی پہلی بلاک باسٹر ہندی/اردو فلم خزانچی (1941) سے ہندوستانی فلموں کی موسیقی میں ایک انقلاب برپا کر دیا تھا۔

میڈم نورجہاں کو بھی ماسٹرغلام حیدر کی لاہور میں بننے والی بلاک باسٹر نغماتی فلم خاندان (1942) سے پورے ہندوستان میں پہچان ملی تھی۔ بمبئی میں قیام کے دوران، میڈم نورجہاں اور ماسٹرغلام حیدر کو کسی مشترکہ فلم میں کام کرنے کا موقع نہیں ملا تھا۔

یہ ماسٹرغلام حیدر ہی تھے جنھوں نے تمام تر مخالفت کے باوجود بھارت کی عظیم گلوکارہ، لتا منگیشکر کو پہلی بار فلم مجبور (1948) میں سولو گیت گانے کا موقع دیا جس پر وہ ہمیشہ مشکور رہیں۔ یاد رہے کہ اس وقت تک ملکہ ترنم نورجہاں، ہندوستان چھوڑ چکی تھیں اور کراچی میں خودساختہ گمنامی کی زندگی گزار رہی تھیں۔

فلم گلنار (1953) کے گیت

فلم گلنار (1953) کے بیشتر گیت قتیل شفائی نے لکھے جن میں سے ملکہ ترنم نورجہاں کے گائے ہوئے یہ سپرہٹ اور سدابہار گیت بھی شامل تھے:

  • لو، چل دیے وہ ہم کو تسلی دیے بغیر، اک چاند چھپ گیا ہے، اجالا کیے بغیر۔۔
  • بچپن کی یادگارو، میں تم کو ڈھونڈتی ہوں، تم بھی مجھے پکارو۔۔
فلم انمول گھڑی (1946) فیم فلمی شاعر تنویرنقوی کا یہ کلاسیکل گیت بھی میڈم کی آواز میں ایک لاجواب گیت تھا جس کی شاعری، دھن اور گائیکی، ایک ماسٹرپیس تھا:
  • سکھی ری، نہیں آئے، ساجنوا مور۔۔
فلم گلنار (1953) میں دیگر گلوکاروں میں منورسلطانہ، روشن آرا بیگم اور فضل حسین کے گیت (گلہ ہے آسمان والے، ہمیں تیری خدائی سے۔۔) بھی تھے۔ عظیم موسیقار بابا جی اے چشتی کے شاگرد رحمان ورما نے اس فلم میں معاون موسیقار کے طور پر کام کیا تھا۔ وہ، نامور موسیقار کمال احمد کے استاد اور کبھی مشہور بھارتی موسیقار خیام کے پارٹنر ہوا کرتے تھے۔

نورجہاں اور نذرمحمد کا معاشقہ

فلم گلنار (1953) کی شوٹنگ کے دوران میڈم نورجہاں کا ایک سکینڈل بڑا مشہور ہوا جس کی پہلی خبر روزنامہ امروز لاہور کے 24 جون 1953ء کے شمارے میں شائع ہوئی یا کروائی گئی تھی۔۔!

اس خبر کے مطابق، نورجہاں اور نذرمحمد، "مشکوک حالت میں رنگے ہاتھوں" پکڑے گئے تھے۔ میڈم کے شوہر شوکت حسین رضوی کے خوف سے نذرمحمد نے کھڑکی سے چھلانگ لگا دی جس سے ان کا بازو ٹوٹ گیا اور ان کا کرکٹ کیرئر ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا تھا۔

نذرمحمد
نذرمحمد (96-1921) کو 1952ء میں پاکستان کی پہلی کرکٹ ٹیسٹ ٹیم کے پہلے اوپنر کھلاڑی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ انھوں نے پہلی گیند کھیلی، پہلا رن بنایا، پہلی سینچری بنائی، پہلے ہی کھلاڑی تھے جنھوں نے بیٹ کیری کیا اور میچ کے سبھی وقت میں گراؤنڈ پر موجود رہے تھے۔ صرف پانچ ٹیسٹ میچ کھیل سکے۔ وہ معروف کرکٹ آل راؤنڈر مدثرنذر (پیدائش 1956ء)کے والد تھے جنھوں نے بیٹ کیری کا کارنامہ دھرایا جو باپ بیٹے کا ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایک منفرد واقعہ ہے۔

اس موضوع پر نورجہاں اور نذرمحمد نے خود کبھی کوئی بات نہیں کی لیکن دو گمنام صحافیوں، وسیم اکبر اور ابنِ یونس کی تحریروں کو بنیاد بنایا گیا جنھیں ایک فلمی صحافی طفیل اختر نے 2007ء میں شائع ہونے والی ایک کتاب "نورجہاں، فتورجہاں" میں محفوظ کیا تھا۔

یہ واحد ماخذ تھا جس میں نورجہاں اور نذرمحمد کے مبینہ انٹرویوز تھے جس میں انھوں نے اس واقعہ پر لب کشائی کی تھی۔ میڈم نورجہاں سے بغض رکھنے، حسد کرنے اور بے پر کی اڑانے والوں نے اس سکینڈل کو خوب اچھالا، یہاں تک کہ BBC جیسی سنجیدہ ویب سائٹ بھی نذرمحمد کی سالگرہ پر یہ قصہ بیان کرتی ہے۔۔!

معروف صحافی علی سفیان آفاقی نے بھی اس واقعہ کو اپنے فلمی قصوں کے مشہور سلسلہ "الف لیلہ" میں خوب نمک مرچ لگا کر بیان کیا۔ میڈم نورجہاں کے پہلے شوہر سید شوکت حسین رضوی نے 1980 کی دھائی میں نورجہاں اور یاسمین کی اولادوں کے مابین جائیداد کی تقسیم کے تنازعہ میں جو بدنامِ زمانہ کتاب "نورجہاں اور میں" لکھی، اس میں بھی اس واقعہ کو بیان کیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر اس واقعہ کے تینوں مرکزی کرداروں یعنی نورجہاں، نذرمحمد اور شوکت رضوی کے بیانات میں تضادات پائے جاتے ہیں جو اس واقعہ کی اصلیت کو مشکوک بنا دیتے ہیں۔

نورجہاں اور نذرمحمد کا اصل واقعہ

نورجہاں اور نذرمحمد کا اصل واقعہ بس اتنا تھا کہ میڈم، اپنے عاشق مزاج شوہر، شوکت حسین رضوی کو بے وفائی سے باز رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتی رہیں لیکن ناکام رہیں۔ جب انھیں یقین ہو گیا تھا کہ اداکارہ یاسمین، ان کا گھر اجاڑ رہی ہے تو آخری حربہ کے طور پر انھوں نے اپنےشوہر پر دباؤ ڈالنے کے لیے یہ ڈرامہ رچایا جو ان کی مستقل بدنامی کا باعث بن گیا تھا۔

ہرجائی پن، مرد کی فطرت میں شامل ہے جو ایک بھنورے کی طرح ہرکلی کا رس چوسنے کی خواہش رکھتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ہر کسی کو موقع نہیں ملتا لیکن جس کو ملتا ہے، وہ بلاخوف وخطر یہ کام کر گزرتا ہے جس کے شاید سب سے تلخ تجربات میڈم نورجہاں کو ہوئے تھے۔۔!

یہاں میڈم نورجہاں کی صفائی پیش کرنا مقصود نہیں، ہر شخص اپنے اعمال کا خود جوابدہ ہے لیکن ایسے لگتا ہے کہ جیسے یہ واقعہ ان سے جان چھڑانے کے لیے گھڑا گیا تھا۔ جب میڈیا پروپیگنڈہ پر غور کریں تو منٹو کی متنازعہ کتاب "نورجہاں، سرورجہاں" کا ایک سال پہلے یعنی 1952ء میں شائع ہونا اور فلم چن وے (1951) کے تبصروں میں میڈم کو "بدصورت اور بھدی ہیروئن" قرار دینا اسی سلسلے کی مختلف کڑیاں ہیں جو ملتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

مرد کو بے وفائی کا شرعی حق۔۔!

بدقسمتی سے ایک مسلم معاشرے میں مرد کو عورت سے بے وفائی کرنے کا "شرعی حق" حاصل ہے۔ چار شادیاں، اس کی بہت بڑی مثال ہے کہ ایک مرد جب چاہے، اپنی پہلی بیوی یا بیویوں کو بتائے بغیر دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کر سکتا ہے۔ایسے میں کوئی عورت چوں چراں کرے تو ایک ہی بار تین طلاق منہ پر مار کر اس کی چھٹی کروا دی جاتی ہے۔ یہ ناروا سلوک برداشت کرنے والی عورتیں، مجبور ہوتی ہیں لیکن میڈم نورجہاں جیسی صاحبِ حیثیت عورتیں، ایسا سلوک برداشت نہیں کرتیں۔

یاد رہے کہ "سوتن" یا پنجابی میں "سوکن" کے ایک جیسے لفظی معانی ہیں۔ ریڈیو پاکستان لاہور کے دیہاتی پروگرام "جمہور دی آواز" کے مشہور کردار چوہدری نظام دین (مرزا سلطان بیگ) نے اس لفظ کی کیا کمال کی تشریح کی تھی۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کی آنکھ میں ایک تنکا پڑ جائے تو کتنی تکلیف ہوتی ہے، اگر سو تنکے ہوں تو پھر کیا حالت ہو گی۔۔؟ لفظ "سوتن"، سو تنکوں سے نکلا ہےجو کوئی بھی انسان، چاہے وہ عورت ہو یا مرد، برداشت نہیں کرتا۔

عام طور پر عورت کی فطرت میں وفا کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ خاص طور پر جب وہ کسی کے بچوں کی ماں بنتی ہے تو اس کی وفا داری میں اضافہ ہو جاتا ہے اور شاذونادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی عورت، جان بوجھ کر گمراہ ہو۔ اگر ہوتی ہے تو اس میں زیادہ تر قصور مرد ہی کا ہوتا ہے۔

نورجہاں کی فلمیں اور نجی زندگی

دلچسپ اتفاق ہے کہ میڈم نورجہاں کی زیادہ تر فلموں کی کہانیاں بھی عورت کی وفا اور مرد کی بے وفائی پر مبنی ہیں جن میں پاکستان میں دوپٹہ (1952)، پاٹے خان (1955)، انتظار (1956)، چھومنتر (1958)، کوئل اور نیند (1959) وغیرہ شامل ہیں۔۔!

شوکت حسین رضوی کی بطورِ فلمساز اور ہدایتکار پہلی پاکستانی فلم جانِ بہار (1958) کی کہانی بھی اصل میں ان کی میڈم نورجہاں کے ساتھ ذاتی زندگی کی کہانی تھی جس میں طلاق کی وجہ سے نورجہاں کام نہ کر سکیں لیکن ان کے گیت فلم میں شامل کیے گئے تھے۔

نورجہاں کے خلاف مواد

ہمارے میڈیا اور خصوصاً فلمی میڈیا میں شوبز کی خواتین کے بارے اوٹ پٹانگ اور چٹ پٹی باتیں کثرت سے ملتی ہیں۔ جو زیادہ مشہور اور مقبول ہوگا، اس کےقصے کہانیاں بھی زیادہ ہوں گی جو لوگوں میں تجسس بھی زیادہ پیدا کریں گی۔ میڈم نورجہاں جیسی عظیم المرتبت ہستی کی یہی "بدقسمتی" تھی کہ وہ ایسے منفی ذہن کے لوگوں کا نشانہ بنیں۔

کسی کی عیب جوئی کرنا یا کسی کے نجی معاملات کو عام کرنا اخلاقی دیوالیہ پن کا بدترین ثبوت ہے۔ آئیے، دیکھتے ہیں کہ میڈم نورجہاں کے خلاف اس شرمناک فعل میں کس کس نے کتنا حصہ ڈالا۔۔؟

"نورجہاں، سُرورجہاں"

میڈم نورجہاں کے خلاف پہلی تنقیدی کتاب "نورجہاں، سُرورجہاں" تھی جو معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی یادداشتوں پر مشتمل تھی اور 1952ء میں شائع ہوئی تھی۔

اس کتاب میں نورجہاں اور رضوی صاحب میں نفاق ڈالنے اور میڈم کی شخصیت کو داغدار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ شادی سے قبل ان کے ناجائز تعلقات اور اغواء کے مقدمہ میں نورجہاں کا عدالت میں شوکت رضوی کو اپنا بھائی کہنا اور پھر شادی کے لیے رضوی صاحب کا پس و پیش کرنا بھی اس کتاب کی ہائی لائٹ تھا۔

اسی کتاب میں یہ حقیقت بھی آشکار ہوتی ہے کہ سولہ سترہ سالہ نورجہاں، ایک مضبوط کردار کی مالک تھی جس کو رفیق غزنوی جیسا پیشہ ور شکاری، شکار نہ کر سکا، اسی نے نورجہاں کو "سرُور جہاں" کہا تھا۔ معروف بھارتی اداکارہ مینا شوری کے خاوند کمال امروہی کی دولت کو ٹھکرایا اور منٹو سمیت بہت سے عاشق مزاج نوجوانوں کی للچائی ہوئی نظروں سے بچتی رہی اور عافیت اسی میں سمجھی کہ اپنے بھائیوں کی شدید مخالفت کے باوجود کلکتہ اور لاہور کی فلموں کے ساتھی شوکت حسین رضوی سے شادی کر لے جو شاید کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہوا تھا۔

سعادت حسن منٹو، نورجہاں کی متعدد فلموں کے کہانی نویس تھے۔ میڈم کی گائیکی کے بہت بڑے معترف تھے۔ نورجہاں کو سہگل کے بعد سب سے بڑا نام سمجھتے تھے، یہاں تک کہ لتا منگیشکر کی مقبولیت کے دور میں بھی نورجہاں کی اہمیت اور حیثیت کے قائل تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ منٹو، نورجہاں کی شکل و صورت سے متاثر نہیں تھے حالانکہ انھوں نے میڈم کے ایک ایک انگ کو اپنی ہوس بھری نظروں سے بغور ماپا تھا۔ شاید "انگور کھٹے تھے"، اسی لیے میڈم کے نجی واقعات کو مرچ مسالے لگا کر بیان کیا تھا۔

سعادت حسن منٹو کی کتاب "نورجہاں، سرُورجہاں" کی اشاعت کے بعد ہی میڈم نورجہاں اور شوکت رضوی کے درمیان اختلافات کا آغاز ہوا تھا۔

"نورجہاں اور میں"

1970/80 کی دھائیوں میں جائیداد کے جھگڑوں میں میڈیا پر میڈم نورجہاں اور شوکت حسین رضوی کے مابین گھمسان کا رن پڑا تھا۔۔!

بظاہر، رضوی صاحب، اپنے اور نورجہاں کے مشترکہ بچوں، اکبر، اصغر اور ظلِ ہما کو ان کا حق نہیں دینا چاہتے تھے۔ اسی سلسلے میں ان کے بیانات کی روشنی میں اس دور کے ایک صحافی منیراحمدمنیر نے ایک طویل انٹرویو کیا جس کو ایک کتاب "نورجہاں اور میں" کی صورت میں شائع کیا تھا۔ یہ اس دور کی بیسٹ سیلر کتاب تھی جس کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں:

  • "نورجہاں اور میں" پڑھ کر شوکت حسین رضوی کا ایک انتہائی منفی تصور ذہن میں آیا جو آج تک قائم ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے میڈم نورجہاں کی کردارکشی کی انتہا کر دی تھی اور انھیں "طوائف، رنڈی، کنجر، میراثن، سیکس کی بھوکی اور اس کا جرمنی میں علاج کروانے کی تجویز" کا ذکر بھی کیا تھا۔
  • اسی کتاب میں انھوں نے میڈم کا برتھ سرٹیفیکیٹ بھی پیش کیا جس میں ان کا پیشہ اور خاندان "طوائف" اور ولدیت کے خانے میں "نامعلوم" لکھا ہوا تھا حالانکہ اسی تحریر کے مطابق، بڑی باقاعدگی سے بمبئی سے نورجہاں کے ماں باپ کو خرچہ بھیجا کرتے تھے۔
  • میڈم نورجہاں کا اصلی پس منظر جاننے اور ان کے خاندان کی شدید مخالفت کے باوجود رضوی صاحب نے نہ صرف شادی کی بلکہ ان کے حصول کے لیے قانونی جنگ بھی لڑی تھی۔
  • اسی کتاب میں رضوی صاحب نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان پر کالا جادو کر دیا گیا تھا ورنہ نورجہاں جیسی بدکردار اور بدچلن عورت سے کبھی شادی نہ کرتے جو ان کے تین "سید" بچوں کی ماں بنی۔ یاد رہے کہ ان کی شادی بارہ تیرہ سال تک قائم رہی تھی۔
  • شوکت حسین رضوی کو اپنے حسب نسب یعنی سید ہونے پر بڑا مان تھا۔ اوپر سے "اہلِ زبان" بھی تھے۔ درازقد، خوبرو اور تعلیم یافتہ بھی تھے لیکن انھوں نے جس عورت سے محبت کی اور پھر شادی اور بے وفائی کی، وہ ایک جاہل، اجڈ اور ان پڑھ پنجابن تھی اور یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی کہ وہ "گٹر" سے آئی ہے۔
  • شوکت رضوی کے مطابق، نورجہاں کی واحد خوبی "رونے دھونے کی ایکٹنگ" تھی جو سلورسکرین پر نہیں بلکہ عملی زندگی میں کیا کرتی جب رضوی صاحب، ناراض ہوتے اور وہ منت و سماجت پر اتر آتی تھی۔
  • "نورجہاں اور میں" جیسی انتہائی گھٹیا کتاب کو بعد میں ایک تفصیلی کتاب "نورجہاں کی کہانی، میری زبانی" کے عنوان سے شائع کیا گیا جس میں یہ الفاظ بہت ملتے ہیں، جوتشی، نجومی، پامسٹ، قیافہ شناش، ہاتھ کی لکیریں، ستاروں کی چال، عاملوں کے چکر، کالا علم، جادو اور ٹونہ ٹوٹکا وغیرہ۔
  • میڈم نورجہاں کو رضوی صاحب سے شکایت تھی کہ وہ دوسری عورتوں کے چکر میں پڑے رہتے ہیں۔ یہ سلسلہ بمبئی ہی میں شروع ہو گیا تھا اور لاہور میں سٹوڈیو اونر بننے کے بعد تو اور بھی زیادہ ہو گیا تھا۔ میڈم، خاص طور پر دو ایکسٹرا اداکاراؤں، نیلم کے علاوہ یاسمین کا ذکر کرتی تھیں، جو عکاس جعفربخاری کی بیوی اور ان کے ایک بچے کی ماں بھی تھی۔ یہ خدشہ درست ثابت ہوا اور رضوی صاحب نے یاسمین سے شادی کی اور دونوں نے ایک کامیاب ازدواجی زندگی گزاری تھی۔
  • شوکت رضوی اپنی اس کتاب میں مزید لڑکیوں کاذکر کرتے ہیں جن میں"شرارہ، نگہت سلطانہ اور رخشی" بھی شامل ہیں جن کے ساتھ ان کے تعلقات پر میڈم کو اعتراض ہوتا تھا۔
  • رضوی صاحب نے میڈم پر جن شخصیات کے ساتھ "ناجائز تعلقات" کا الزام لگایا، ان میں پہلی فلم چن وے (1951) کے ہیرو جہانگیر خان اور سنتوش، دوسری فلم دوپٹہ (1952) کے ہیرو اجے کمار اور عکاس رضا میر، فلم انارکلی (1958) کے ہدایتکار انورکمال پاشا، فلم پردیسن (1959) کے فلمساز و ہدایتکار ایم نسیم، اداکار مظہرشاہ، یوسف خان، لاہور کے ایک تاجر اور ایک پائلٹ کے علاوہ موسیقار نذیرعلی بھی شامل ہیں۔
  • شوکت حسین رضوی نے اپنی کتاب میں نورجہاں کے بھائیوں کے پاگل پن کا مذاق اڑایا۔ میڈم کو اپنے بڑے بیٹے اکبر کی شادی کی ناکامی کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا اور دعویٰ کیا کہ نورجہاں نے انھیں کہا تھا کہ وہ ان کی بیٹی "ظلِ ہما" کو ہیرامنڈی میں بٹھائے گی اور باہر تختی لگوائے گی: "ظلِ ہما دختر سید شوکت حسین رضوی"۔۔!!!
اس کتاب کی مقبولیت کے بعد اس کا دوسرا حصہ "نورجہاں کی کہانی، میری زبانی" کی صورت میں شائع ہوا لیکن پھر ان میں صلح ہوگئی تھی اور کہا سنا معاف کر دیا گیا تھا۔

"نورجہاں، گانوں اور گناہوں کی ملکہ"

ان کتابوں کی مقبولیت کی دیکھا دیکھی بہتی گنگا میں دوسروں نے بھی ہاتھ رنگے اور ایک فیاض حسین نامی صاحب نے اپنا حصہ ڈالا اور میڈم نورجہاں کے ایک مشہور جملے: "میں نے گانوں اور گناہوں کا کبھی حساب نہیں رکھا۔۔" پر ایک کتاب کا عنوان رکھا "گانوں اور گناہوں کی ملکہ"، ظاہر ہے کہ اس کتاب میں وہ تمام تر منفی مواد جمع کیا گیا ہوگا جس سے نورجہاں کے حاسدوں کی تسکین ہوئی ہوگی۔

"نورجہاں، فتورجہاں"

اس سلسلے کی اب تک کی آخری کتاب "نورجہاں، فتورجہاں"، میڈم کے انتقال کے سات سال بعد 2007ء میں شائع ہوئی جس میں پہلی کتابوں کے اہم حصے شامل کیے گئے تھے۔ یہ " کارنامہ" ایک نامور فلمی صحافی طفیل اختر نے انجام دیا تھا۔۔!

اس کتاب میں مصنف نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ رضوی صاحب کا انٹرویو 1983/84 میں ہوا اور 1985ء میں "نورجہاں اور میں" نامی کتاب شائع ہوئی تھی۔ یہ درست نہیں ہے، میں نے یہ کتاب مئی 1982ء سے قبل پڑھی تھی اور میری کولیکشن میں موجود تھی لیکن پاکستان سے ڈنمارک نقل مکانی میں بہت سا مواد ضائع ہوا جس میں یہ کتاب بھی شامل تھی۔

پاکستان میں کتابیں پڑھنے کا رحجان بہت کم رہا ہے، اس لیے ایسی کئی کتابیں، اپنے قارئین کی منتظر رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے ان کتابوں کے اثرات بڑے محدود رہے ہیں۔

پاکستان فلم میگزین کی پالیسی

پاکستان فلم میگزین پر فنکاروں کے نجی معاملات کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ اب تک کسی بھی فنکار کے بارے میں جو کچھ مختصراً ذکرہوا ہے، وہ میڈیا ہی سے ماخوذ ہے لیکن جب بھی کوئی مستند خبر ملتی ہے، ان معلومات کو اپ ڈیٹ کر دیا جاتا ہے جیسا کہ حال ہیں اداکاہ نغمہ کا ایک انتہائی شاندار ویڈیو انٹرویو سننے اور دیکھنے کا موقعہ ملا جس میں انھوں نے عکاس اکبرایرانی سے شادی سے انکار کیا ہے۔ یہ تصحیح فوراً کر دی گئی ہے۔

ایسے زبردست ویڈیو انٹرویو مزید ہونے چاہئیں تا کہ فنکاروں کی زبانی ان کے اصل واقعات سامنے آئیں۔ گو سو فیصدی درست وہ بھی نہیں ہوتے لیکن بہت سی غلط فہمیاں اور غلط معلومات کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

ملکہ ترنم نورجہاں کی 100ویں سالگرہ کے سلسلے میں نذرمحمد کے ساتھ ان کے سکینڈل پر تفصیل سے اور انتہائی غیرجانبداری سے بات ہو رہی ہے۔ اب تک اس سلسلے میں جو مواد میڈیا کی صورت میں سامنے آیا ہے، اس میں بے شمار تضادات ہیں جن کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیں:

نورجہاں اور نذرمحمد کا بچپن کا پیار۔۔؟

1972ء میں کراچی کے ایک میگزین میں وسیم اکبر نامی صاحب نے میڈم نورجہاں کا ایک تفصیلی انٹرویو شائع کیا جس میں مبینہ طور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ نورجہاں، صرف گیارہ بارہ برس کی تھیں جب ان کی پہلی ملاقات بمبئی میں نذرمحمد سے ہوئی تھی۔ گویا ان کا بچپن کا عشق تھا۔۔!

یہ 1937/38 کا دور بنتا ہے جب میڈم، "بے بی نورجہاں" کے طور پر کلکتہ میں اپنے ابتدائی فلمی دور سے گزر رہی تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ 1942ء سے قبل وہ، بمبئی نہیں گئیں۔ نذرمحمد سے ان کی پہلی ملاقات فلم چن وے (1951) کی تکمیل کے دوران ہوئی جس کا ذکر شوکت رضوی نے اپنے بیانات میں کیا اور نذرمحمد نے بھی بتایا کہ جب پہلی بار، نورجہاں سےملے تو وہ شوکت حسین رضوی کی بیوی تھیں۔

دستیاب معلومات کے غیرجانبدارانہ تجزیئے کے مطابق، نورجہاں اور نذرمحمد میں کوئی جذباتی رشتہ نہیں تھا نہ ہی کبھی ان کے مابین کوئی عہد و پیمان ہوئے۔ یہ بھی سراسر غلط ہے کہ نورجہاں عاشق اور نذرمحمد معشوق تھے۔ نورجہاں نے زندگی میں اگر کسی شخص سے عشق کیا تھا تو وہ صرف اور صرف اعجازدرانی تھے جس کا اظہار ان کے مختلف انٹرویو اور باڈی لینگویج میں ملتا ہے۔

نورجہاں، فیروز نظامی سے سیکھتی تھیں۔۔؟

یہ بھی ایک سفید جھوٹ ہے کہ نور جہاں، نذرمحمد کے بڑے بھائی، معروف موسیقار فیروز نظامی سے فنِ موسیقی سیکھنے کے لیے جایا کرتی تھی۔
میڈم نورجہاں سے بغض رکھنے اور حسد کرنے والے ان کے مقام و مرتبے اور خداداد صلاحیتوں سے واقف نہیں۔ گیارہ بارہ سال کی عمر میں راگ راگنیوں پر مکمل عبور حاصل کرنے والی نورجہاں کی فیروزنظامی کے ساتھ پہلی ملاقات بیس اکیس سال کی عمر میں فلم جگنو (1947) کی تکمیل کے دوران ہوئی تھی۔ اس کے بعد دو مزید فلمیں، چن وے (1951) اور دوپٹہ (1952) تھیں۔ ان فلموں کے گیتوں کی ریہرسل اور ریکارڈنگ کو شاید کچھ نادان لوگ یہ سمجھتے ہوں کہ میڈم، فیروز نظامی سے فنِ موسیقی سیکھا کرتی تھیں۔۔!

نذرمحمد کی گائیکی

نذرمحمد کی گائیکی کی صلاحیتوں پر شبہ ہے کیونکہ اگر وہ اتنا ہی اچھا گاتے ہوتے تو ان کے اپنے بھائی فیروزنظامی، ان سے فلمی گیت ضرورگواتے لیکن ایسا نہیں ہوا حالانکہ پاکستان کے ابتدائی دور میں مرد گلوکاروں کی شدید قلت تھی اور فلم چن وے (1951) کے ایک گیت میں نظامی صاحب نے خود میڈم کے ساتھ ایک گانا گانا پڑا تھا۔

نورجہاں کو طلاق کب ہوئی۔۔؟

"نورجہاں، فتورجہاں" کتاب میں شائع ہونے والے ابنِ یونس نامی صاحب کو اکلوتا انٹرویو دیتے ہوئے نذرمحمد نے بتایا کہ جس دن ان کا بازو ٹوٹا، اسی دن ان کی شادی کی تقریب تھی اور یہ 1953ء کا سال تھا۔

اس سے میڈم نورجہاں کا موقف درست ثابت ہوتا ہے کہ وہ، نذر محمد کو ایک دوست، بھائی اور ہمدرد سمجھ کر ملیں اور مقصد صرف اپنے شوہر شوکت رضوی پر دباؤ بڑھانا تھا کہ اگر تم دوسری عورتوں کے چکر میں پڑو گے تو میں بھی ایسا کر سکتی ہوں۔ افسوس، ہمارے معاشرے میں مرد کی مرد اور عورت کی عورت سے دوستی تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی عورت اور مرد کی دوستی کو ہمیشہ شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جو بادی النظر میں اس کیس میں بھی نظر آتا ہے۔

نذرمحمد کے مختصر انٹرویو کے مطابق، اس واقعہ کے بعد شوکت حسین رضوی نے نورجہاں کو طلاق دے دی تھی جو رضوی صاحب کی کتاب "نورجہاں اور میں" کے مطابق درست نہیں ہے کیونکہ فلم گلنار (1953) کے فلمساز میاں احسان نے (شاید اپنی فلم کی تکمیل کے لیے) دونوں میں صلح کروا دی تھی۔

دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد میڈم نورجہاں اور شوکت حسین رضوی کی تیسری اولاد یعنی ایک بیٹی، ظلِ ہما (غالباً 1954ء میں) پیدا ہوئی تھی۔ قبل ازیں، ان کے دو بیٹے تھے، اکبر (1944) اور اصغر (1947) تھے۔

نورجہاں کا تنسیخِ نکاح کا مقدمہ

یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ شوکت حسین رضوی نے نورجہاں کو طلاق نہیں دی بلکہ میڈم نے خود تنسیخِ نکاح (یا خلع) کامقدمہ دائر کیا تھا۔۔!

میڈیا میں اس واقعہ کو 1953ء کا بیان کیا گیا ہے جو مشکوک ہے کیونکہ اس سے اگلے سال یعنی 1954ء میں ظلِ ہما پیدا ہوئی تھی۔

نورجہاں کےتنسیخِ نکاح کے اس مقدمہ میں رضوی صاحب کا وکیل، بدنامِ زمانہ لعنتی کردار، مولوی مشتاق حسین تھا جس نے 1978ء میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر ایک بے بنیاد مقدمہ میں ذوالفقار علی بھٹوؒ کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ مولوی مشتاق ملعون نے اپنی جرح سے پوری کوشش کی تھی کہ نورجہاں اور نذرمحمد کا کوئی تعلق ثابت کر سکے لیکن بری طرح سے ناکام رہا تھا۔

تنسیخِ نکاح کے اس مقدمہ کے فیصلہ کے مطابق، شوکت حسین رضوی نے نورجہاں کو اس شرط پر طلاق دی کہ وہ مشترکہ جائیداد میں اپنے حصہ سے دستبردار ہو جائے گی۔۔!

میڈم نورجہاں نے اپنے حصہ کی جائیداد کو لات ماری اور اپنی نومولود بیٹی، ظلِ ہما کو لے کر "تین کپڑوں" میں گھر سے نکل آئیں۔ دونوں بیٹے، باپ کے پاس رہے جو پاکستانی قانون کے مطابق ہوتا ہے لیکن بڑے ہو کر سبھی بہن بھائی، اپنی ماں کے عاشق ثابت ہوئے جو اس عظیم عورت کی عظمت کی ایک بہت بڑی مثال ہے۔۔!

نورجہاں اور شوکت حسین رضوی کی شادی

میڈم نورجہاں (2000-1926) نے پہلی شادی 1942ء میں سید شوکت حسین رضوی (99-1914) سے کی جو لاہور میں بننے والی ہندی/اردو فلم خاندان (1942) سے پورے ہندوستان میں بطورِ فلم ڈائریکٹر مشہور ہوگئے تھے۔

سید شوکت حسین رضوی، بھارتی ریاست اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ ایک گھڑی ساز تھے۔ کلکتہ کی فلم انڈسٹری میں فلم ایڈیٹر کے طور پر کام کیا۔ 1938ء میں "بے بی نورجہاں" کے ساتھ لاہور چلے آئے جہاں تدوین کاری کے علاوہ فلم خاندان (1942) کے ہدایتکار کے طور اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ یہ ایک بلاک باسٹر فلم تھی جس کے بعد بمبئی سے بلاوا آگیا اور میڈم کے ساتھ وہاں چلے گئے تھے۔

روایت ہے اس دوران، میڈم نورجہاں کے بھائی بھی ساتھ تھے جن کے لیے ان کی بہن، سونے کی ایک چڑیا تھی۔ بمبئی میں ایک نوجوان اور خوبصورت لڑکی کو (کتاب "نورجہاں، سرورجہاں" کے مطابق) اپنے اردگرد کے ماحول میں سعادت حسن منٹو، رفیق غزنوی اور کمال امروہوی جیسے آوارہ اور اوباش نوجوانوں کی للچاتی ہوئی نظروں سے بچنے کے لیے کسی مضبوط سہارے کی ضرورت تھی جو رضوی صاحب کی صورت ملا اور دونوں نے میڈم کے بھائیوں کی شدید مخالفت اور ان کی ناکام قانونی چارہ جوئی کے باوجود شادی کر لی تھی۔

بمبئی میں قیام کے دوران جہاں میڈم نورجہاں، ہندوستان کی صف اول کی اداکارہ اور گلوکارہ بنیں وہاں رضوی صاحب بھی ایک کامیاب ہدایتکار ثابت ہوئے۔ اپنی اس کامیابی کے لیے وہ میڈم کے محتاج تھے جو ان کی سبھی فلموں کی ہائی لائٹ تھیں۔ دوسری طرف، میڈم نورجہاں کی دیگر فلموں نے بھی بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کیں جن میں انمول گھڑی (1946) سب سے بڑی فلم تھی اور جس کا رضوی صاحب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ گویا رضوی صاحب، نورجہاں کے محتاج تھے، نورجہاں، رضوی صاحب کی محتاج نہیں تھی۔

تقسیم تک دونوں کی ازدواجی زندگی بڑی خوشگوار رہی لیکن پاکستان آنے کے بعد شوری سٹوڈیو اور ریجنٹ سینما الاٹ ہوا تو رضوی صاحب کی تیکنیکی اور انتظامی صلاحیتیں، ان کی تخلیقی صلاحیتوں پر حاوی ہو گئیں۔ اب وہ فلمیں بنانے یا نورجہاں کی محتاجی سے آزاد ہوگئے تھے، بلکہ بہت آزاد ہو گئے تھے اور رنگ برنگی تتلیاں ان کے اردگرد منڈلانے لگی تھیں اور یہ نورجہاں کو گوارا نہیں تھا۔ یہی کشیدگی پہلے علیحدگی اور پھر طلاق کی صورت میں سامنے آئی تھی۔

1953ء کی فلمی تاریخ

1953ء کا سب سے بڑا دھماکا، گلوکارہ زبیدہ خانم کی آمد تھی جو 1950 کی دھائی کی سب سے مقبول اور مصروف گلوکارہ رہیں۔ میڈم نورجہاں، صرف اپنی فلموں تک محدود تھیں جو سال میں ایک آدھ فلم ہوتی تھی۔ اس سال کے اہم فلمی واقعات ملاحظہ فرمائیں:

  • 1953ء میں کل 10 فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں انور کمال پاشا کی غلام (1953)، سب سے اچھی فلم تھی۔ ہمالیہ والا نے ٹائٹل رول کیا اور وقت کی چار ہیروئنوں یعنی شمیم، راگنی، صبیحہ اور شمی کو اس فلم میں شامل کیا گیا تھا، روایتی ہیرو سنتوش تھے۔
  • موسیقار رشیدعطرے نے فلم شہری بابو (1953) میں زبیدہ خانم کو ان دو سپرہٹ گیتوں کے ساتھ متعارف کروایا تھا: "دوپٹہ بے ایمان ہوگیا۔۔" اور "راتاں میریاں بنا کے ربا ہنیریاں۔۔" ان گیتوں کے شاعر، وارث لدھیانوی کی بھی یہ پہلی فلم تھی۔
    اسی فلم میں عنایت حسین بھٹی نے پہلی بار اداکاری بھی کی اور ان پر ان کا اپنا گایا ہوا یہ سپرہٹ گیت فلمایا گیا تھا: "بھاگاں والیو، نام جبھو مولا نام۔۔"
  • "ملکہ غزل فریدہ خانم" نے فلم سیلاب (1953) میں ایک ثانوی رول کیا اور ان پر زینت بیگم اور نذیربیگم کے گائے ہوئے گیت فلمائے گئے تھے۔
  • بھارت میں اس سال 95 فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں فلم گلنار (1953) کے ہدایتکار سیدامتیازعلی تاج کی کہانی پر بنائی جانے والی فلم انارکلی (1953)، سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم تھی جبکہ دو بیگھہ زمین (1953) کو بین الاقوامی ایوارڈز ملے، اس فلم میں پاکستانی اداکار رتن کمار بھی شامل تھے۔

1953ء کے اہم واقعات

  • پاکستان میں مارچ 1953ء میں پہلی بار خونریز قادیانی فسادات ہوئے جس کے نتیجہ میں پہلی بار لاہور میں دو ماہ کے لیے مارشل لاء لگایا گیا تھا۔ انھی فسادات کے نتیجہ میں پاکستان کے دوسرے وزیرِاعظم خواجہ ناظم الدین کو گورنر جنرل ملک غلام محمد نے برطرف کر کے امریکہ میں پاکستانی سفیر محمدعلی بوگرا کو تیسرا وزیرِ اعظم مقرر کر دیا تھا۔ ان کے ساتھ ہی پہلی بار امریکی گندم بھی پاکستان آئی تھی اور اسی سال آرمی چیف جنرل ایوب خان نے اپنے طور پر امریکہ کا سرکاری دورہ بھی کیا تھا۔
  • کوریا جنگ بند ہوئی جس نے خطے کو دو حصوں یعنی شمالی کوریا اور جنوبی کوریا میں تقسیم کر دیا تھا۔
  • اسی سال روس کے مردِ آہن اور دوسری جنگِ عظیم کے اصل فاتح، جوزف سٹالن کا انتقال ہوا تھا۔
  • کبھی امریکی سی آئی اے اور دیگر یورپین خفیہ ایجنسیاں مختلف ممالک کے سربراہوں کا درپردہ تختہ الٹا کرتی تھیں جیسا کہ 1953ء میں ایران کے وزیرِاعظم مصدق یا 1977ء میں بھٹو صاحب کا ہوا۔ آج کے دور میں یعنی 2026ء میں مسٹر ٹرمپ اور نیتن یاہو، بڑی دیدہ دلیری سے اعلانیہ اپنے ناپسندیدہ حکمرانوں کا شکار کیا کرتے ہیں۔۔!

میڈم نورجہاں کی عرصہ دو سال بعد کوئی فلم ریلیز ہوئی تھی۔۔!

فلم گلنار (1953) کے ضمن میں میڈم نورجہاں کےنجی واقعات کی تفصیل بیان کی گئی تھی۔ فلموں سے دو سال کے وقفہ کی ایک بڑی وجہ، میڈم کی بیٹی، ظلِ ہما کی 1954ء میں پیدائش بھی تھی۔

آج کی نشست میں ملکہ ترنم نورجہاں کی 1955ء میں ریلیز ہونے والی اکلوتی فلم "پاٹے خان" پر بات ہوگی جو ایک بہت بڑی اور یادگار نغماتی فلم تھی جس میں وقت کی دو بڑی گلوکارائیں، نورجہاں اور زبیدہ خانم، پہلی اور آخری بار ایک ساتھ نظر آئیں۔

اس فلم کے سبھی گیت، پنجابی فلموں کے عظیم نغمہ نگار حزیں قادری نے لکھے اور ان کی دھنیں گلوکارہ کوثرپروین کے شوہر موسیقار اخترحسین اکھیاں نے ترتیب دیں جن کی یہ پہلی فلم تھی۔

ملکہ ترنم نورجہاں بطورِ پس پردہ گلوکارہ

تقسیم سے قبل فلم زینت (1945) میں ملکہ ترنم نورجہاں نے پہلی بار کسی دوسری اداکارہ کے لیے نغمہ سرائی کی تھی جو مشہور قوالی: "آہیں نہ بھریں، شکوے نہ کیے، کچھ بھی نہ زبان سے کام لیا۔۔" میں تھی۔

قیامِ پاکستان کے بعد میڈم کا پہلا ایسا گیت جو کسی دوسری اداکارہ پر فلمایا گیا، وہ فلم پاٹے خان (1955) میں تھا:

  • او جانِ بہار، آیا تیرے آنے سے رت پہ نکھار۔۔
یہ اردو کورس گیت اداکارہ مسرت نذیر پر فلمایا گیا جبکہ ایک اور گیت تھا:
  • دو راہی، رستہ بھول گئے، رنگ بدل گیا افسانے کا۔۔
یہ گیت بھی اردو زبان میں شوخ انداز میں مسرت نذیر پر اور ایک انترہ پنجابی زبان میں سنجیدہ انداز میں خود میڈم نورجہاں پر فلمایا گیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم جانِ بہار (1958) میں بھی میڈم نورجہاں کے گائے ہوئے کچھ کم نہیں، پورے پانچ گیت مسرت نذیر پر فلمائے گئے تھے۔ اس کے بعد فلم سلمیٰ (1960) سے ملکہ ترنم نورجہاں نے باقاعدگی سے پلے بیک سنگر کے طور پر فلمی کیرئر کا آغاز کیا جو اگلی چار دھائیوں تک جاری رہا تھا۔

فلم پاٹے خان (1955) کے ایک پوسٹر پر میڈم نورجہاں کے علاوہ زبیدہ خانم اور مسرت نذیر کی تصاویر ہیں جن کے ساتھ لکھا ہوا ہے کہ "پاکستان کی تین مایہ ناز گلوکارہ (گلوکارائیں)، نورجہاں، زبیدہ خانم اور مسرت نذیر، پردہ سکرین پر ایک ساتھ" جو درست نہیں کیونکہ اس وقت تک مسرت نذیر، صرف ایک اداکارہ تھیں۔ گو فلم سٹریٹ 77 (1960) میں ان کا پہلا فلمی گیت: "یوں چپکے چپکے آنکھوں میں تصویر تیری لہرائی۔۔" ملتا ہے لیکن باقاعدگی سے فلموں کے لیے نغمہ سرائی 1980 کی دھائی میں کی اور پہلا میگا ہٹ گیت: "میرا لونگ گواچہ۔۔" فلم دلاری (1987) میں شامل کیا گیا تھا۔

فلم پاٹے خان (1955) کے دیگر گیت

فلم پاٹے خان (1955) میں کل 15 گیت تھے جن میں سے آٹھ میڈم نورجہاں کے گائے ہوئے تھے۔ فلم کا سب سے مقبول گیت تھا:

  • کلی کلی جان، دکھ لکھ تے کروڑ وے، دور جان والیا، مہاراں ہن موڑ وے۔۔
میڈم کے گائے ہوئے دیگر گیت بھی بڑے مقبول ہوئے جن میں مندرجہ ذیل گیت قابلِ ذکر ہیں:
  • آجا، میری پھڑھ لے بانھ، اکھیاں ہار گیاں، دل نے تیرے اگے کر لئی ہاں۔۔
  • مینوں کہندی اے جوانی اکھاں چار کر لے۔۔
  • ہوکا میں دیواں گلی گلی وے، سانول میریا۔۔
  • موڑ لے مہار چناں، رات ٹر چلی اے۔۔
فلم پاٹے خان (1955) میں سب سے بڑی زیادتی زبیدہ خانم کے ساتھ کی گئی جن پر ایک بول کے علاوہ صرف ایک پورا گیت فلمایا گیا تھا جس کے بول تھے: "یاد سجن دی رکھ سرہانے، کڑیے سو جا۔۔" یہ ایک لوری تھی جو نورجہاں کو سلانے کے لیے گاتی ہیں۔ فلم کا یہ سب سے دلچسپ منظر تھا۔ ان کے علاوہ، زبیدہ خانم کا فضل حسین کے ساتھ گایا ہوا ایک شوخ دوگانا رخشی اور نذر پر فلمایا گیا تھا۔

اس فلم میں ظریف کے گائے ہوئے چند بول اور ایک گیت بھی تھا جبکہ عنایت حسین بھٹی کے دو گیت تھے جن میں ایک کورس گیت بڑا دلچسپ تھا جو فلم کے ولن علاؤالدین اور ساتھیوں پر فلمایا گیا تھا: "نہ ڈھک ڈھک رکھ جوانی نوں، چھڈ کھلی کھسماں کھانی نوں۔۔" یہ گیت نورجہاں کی قاتل جوانی کے لیے گایا گیا تھا۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر اس کورس گیت میں میڈم نورجہاں کی آواز بھی شامل ہوتی۔۔!

فلم کا تھیم سانگ "سجن دشمن، اٹھدے بہندے، سانوں کہندے پاٹے خان۔۔" بھی عنایت حسین بھٹی کی آواز میں تھا جو ظریف پر فلمایا گیا تھا۔

فلم پاٹے خان (1955)

میڈم نورجہاں کی پنجابی اور نغماتی فلم پاٹے خان، 18 نومبر 1955ء کو لاہور میں ریلیز ہوئی جو چار ماہ تک زیرِ نمائش رہی تھی۔ اس فلم کی خاص خاص باتیں مندرجہ ذیل ہیں:

    ایم اے رشید
  • منفرد تجربات کرنے والے ہدایتکار ایم اے رشید کی یہ پہلی فلم تھی جس میں انھوں نے ایک مزاحیہ اداکار ظریف کو پہلی مرتبہ ٹائٹل رول میں پیش کرنے کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔
  • گلوکارہ زبیدہ خانم کو سائیڈ ہیروئن کے رول میں پیش کیا جو قبل ازیں، بطورِ اداکارہ چھوٹے موٹے رول کر رہی تھیں۔
  • مسرت نذیر کی یہ تیسری فلم تھی جس میں وہ ایک ویمپ کے طور پر نظر آئیں۔ اسی سال، وہ فلم قاتل (1955) میں "چاندنی" کے نام سے متعارف ہوئیں اور دوسری فلم پتن (1955) نے مسرت نذیر کو چوٹی کی ہیروئن بنا دیا تھا۔
  • بطورِ ہیرو اسلم پرویز کی یہ پہلی فلم تھی۔ اسی سال وہ بھی فلم قاتل (1955) میں ایک معاون اداکار "ضیاء" کے طور پر متعارف ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے سدھیر اور سنتوش جیسے دیوقامت ہیروز کی صف میں شامل ہو گئے تھے۔ بعد میں ولن کے طور پر بھی ایک تاریخ بنے۔ میڈم نورجہاں نے جس فلمی ہیرو کے ساتھ سب سے زیادہ کام کیا، وہ اسلم پرویز ہی تھے جن کی ساتھ ان کی یہ پہلی فلم تھی۔
  • حزیں قادری کی بطورِ مصنف (کہانی، مکالمے اور منظرنامہ) اور گیت نگار کے یعنی چاروں شعبوں میں یہ دوسری اور پہلی کامیاب فلم تھی۔
  • موسیقار اخترحسین اکھیاں کی یہ پہلی فلم تھی جس میں ان کی کارکردگی قابلِ تعریف تھی۔

فلم پاٹے خان (1955) کی کہانی

پنجابی زبان میں "پاٹے خان"، ہر اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو شیخی بھگارے اور ہر کسی کے پھٹے میں ٹانگ اڑانے کا عادی ہو۔

    فلم "پاٹے خان" ایسے ہی ایک شخص (ظریف) کی کہانی ہے جو گاؤں گاؤں پتلیوں کا تماشا کر کے روزی روٹی کماتا ہے۔ اس دوران اس کو کسی گاؤں کے ایک چوہدری "دادُو" (علاؤالدین) کی بہن "جانو" (زبیدہ خانم) سے محبت ہو جاتی ہے۔ اس دیدہ دلیری پر اس کی مارپٹائی ہوتی رہتی ہے لیکن وہ بڑا سخت جان ثابت ہوتا ہے۔

    اسی گاؤں میں "جانو" (زبیدہ خانم) کی ایک قریبی سہیلی "مینا" (نورجہاں) بھی رہتی ہے جس کو گھر آئے ہوئے خوبرو کزن "باؤ" (اسلم پرویز) سے محبت ہو جاتی ہے۔

    ظریف

    اتفاق سے "باؤ" کی لاٹری نکل آتی ہے اور وہ، ایک بروکر (نذر) کے ساتھ شہر چلا جاتا ہے۔ "نذر"، اس کی دولت ہتھیانے کے لیے طوائفوں کا ایک گروہ تیار کرتا ہے جس میں سے ایک نقلی شہزادی (مسرت نذیر) ، اس کو بے وقوف بناتی ہے اور وہ، "مینا" کو بھول جاتا ہے۔

    "پاٹے خان"، "مینا" کا بھائی بن کر "باؤ" کو ڈھونڈنے شہر جاتا ہے اور اس کو طوائفوں کے جال سے نکالنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس دوران "چوہدری"، "مینا" کو اغوا کر لیتا ہے اور اس سے زبردستی شادی کرنا چاہتا ہے لیکن اس کی بہن "جانو"، اس کی جگہ خود دلہن بن جاتی ہے اور "مینا" کو فرار کروا دیتی ہے جو ایک "فقیر" (ایم اسماعیل) کی پناہ لیتی ہے۔ "فقیر"، "مینا" کو "باؤ" کی تلاش میں شہر لے جاتا ہے جہاں اتفاق سے دونوں مل جاتے ہیں۔

    گاؤں واپس آتے ہیں تو "چوہدری" اپنی بہن "جانو" کی شادی کسی اور سے کر رہا ہوتا ہے۔ وہ،"پاٹے خان" کو دیکھ کر مشتعل ہو جاتا ہے اور سر پر ڈنڈے کے ایک وار سے اسکو بے ہوش کر دیتا ہے۔ باراتی، قتل کیس کے ڈر سے دلہن لیے بغیر ہی واپس چلے جاتے ہیں۔ "چوہدری"، سزا کے خوف سے بھاگ جاتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد "پاٹے خان" کو ہوش آ جاتا ہے اور اس کو بنی بنائی دلہن"جانو" اور "مینا" کو اپنا "باؤ" مل جاتا ہے۔

فلم میرا ناں پاٹے خان (1975)

فلم پاٹے خان (1955) کی بات ہو اور بیس سال بعد اسی کہانی اور کرداروں پر بننے والی فلم میرا ناں پاٹے خان (1975) کا ذکر نہ تو بھلا یہ کیسے ممکن ہے۔ اس فلم کی خاص خاص باتیں مندرجہ ذیل ہیں:

  • فلم ہیررانجھا (1970) فیم ہدایتکار مسعودپرویز نے اداکار ظریف کے چھوٹے بھائی منورظریف کو ٹائٹل رول میں لے کر تھوڑی بہت تبدیلیوں کے ساتھ یہ فلم بنائی اور کیا خوب بنائی تھی۔ منورظریف کو اس فلم کے مرکزی کردار میں دیکھ کر ان کے بڑے بھائی ظریف متاثر نہیں کرتے البتہ فلم پاٹے خان (1955) کی موسیقی زیادہ سریلی تھی جس میں سازوں کا شوروغوغا کم تھا۔
  • فلم میرا ناں پاٹے خان (1975) میں میڈم نورجہاں کا رول نیلو اور اسلم پرویز کا شاہد نے کیا تھا۔ مسرت نذیر کا کردار عشرت چوہدری اور نذر کا آصف جاہ نے کیا تھا۔ ولن کے روپ میں علاؤالدین کی جگہ افضال احمد تھے جبکہ معاون اداکاروں میں ریکھا کی جگہ مینا شوری تھی۔ پاکستان کے سینئر ترین اداکار ایم اسماعیل نے بیس سال بعد بھی اپنا فلمی کردار دوبارہ کیا تھا۔
  • زبیدہ خانم کا رول بابرہ شریف نے کیا جس کی یہ پہلی پنجابی فلم تھی۔ یار لوگوں نے بڑے سکینڈلز بنائے اور منورظریف کی موت کی ایک وجہ بابرہ شریف کو بنا دیا تھا۔
  • دلچسپ اتفاق ہے کہ بابرہ شریف اور شاہد کی یہ پہلی مشترکہ فلم تھی لیکن فلمی جوڑی نہیں تھی۔ اسی فلم میں شاہد کی دوسری ہیروئن عشرت چوہدری تھی۔ موصوف کی ان دونوں اداکاراؤں کے ساتھ شادی کی خبریں عام تھیں۔
  • گلوکارہ مہناز کی (غالباً) اس پہلی پنجابی فلم میں یہ گیت بڑا مقبول ہوا جو بابرہ شریف پر فلمایا گیا تھا: "وے رانجھن یار، وے میں تیرے رنگ رنگیاں، رانجھن یار۔۔" سبھی گیت حزیں قادری نے لکھے اور موسیقار بخشی وزیر صاحبان تھے۔ فلم کے بیشتر گیت میڈم نورجہاں کی آواز میں تھے جن میں ایک اردو گیت بھی شامل تھا۔
  • فلم پاٹے خان (1955) میں ہیرو اور ولن کی فائٹ کا کوئی منظر نہیں تھا لیکن فلم میرا ناں پاٹے خان (1975) میں متعدد لڑائیاں تھیں۔ چند قابلِ اعتراض مناظر بھی تھے۔ پہلی فلم رنگین نہیں تھی لیکن مجموعی طور پر زیادہ بہتر تفریحی اور نغماتی فلم تھی۔

نورجہاں سے بغض

پاکستان میں جہاں مذہبی، سیاسی، لسانی، طبقاتی اور گروہی تعصب عام رہا ہے وہاں فلمی تعصب بھی اپنے عروج پر رہا ہے۔ ملکہ ترنم نورجہاں سے بعض لوگوں کو اچھا خاصا بغض رہا ہے۔ فلمی ایڈورٹائزمنٹ میں بھی یہ جادو سر چڑھ کر بولتا تھا جس کی ایک بدترین مثال فلم پاٹے خان (1955) کا ایک پوسٹر ہے جس سے فلم کی مرکزی ہیروئن (نورجہاں) ہی کو غائب کر دیا گیا ہے۔۔!

1954ء کی فلمی تاریخ

1954ء میں میڈم نورجہاں کی کوئی فلم ریلیز نہیں ہوئی تھی۔ اس سال صرف سات فلمیں ریلیز ہوئیں، اہم واقعات مندرجہ ذیل ہیں:

  • ہدایتکار داؤد چاند کی فلم سسی (1954) کو پاکستان کی پہلی گولڈن جوبلی فلم ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ صبیحہ خانم اور سدھیر مرکزی کرداروں میں تھے۔ موسیقار جی اے چشتی کی دھن میں کوثرپروین کا یہ گیت بڑا مقبول ہوا تھا: "نہ یہ چاند ہوگا، نہ تارے رہیں گے۔۔"
  • سال کی سب سے معیاری فلم ہدایتکار انورکمال پاشا کی گمنام (1954) رہی جس میں صبیحہ اور سدھیر، مرکزی کردار تھے۔ ماسٹر عنایت حسین کی دھن میں اقبال بانو کی غزل "پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے۔۔" بڑی پسند کی گئی تھی۔
  • ہدایتکار ڈبلیو زیڈ احمد کی فلم روحی (1954) پر فحاشی کے الزام میں پابندی لگا دی گئی تھی جو پاکستان کی فلمی تاریخ میں پہلا موقع تھا۔ شمی اور سنتوش مرکزی کردار تھے۔
  • اسی سال "جال موومنٹ" کےنتیجہ میں پاکستان نے بھارت کے ساتھ فلم کے بدلے فلم کا معاہدہ کیا جس کے دورس نتائج برآمد ہوئے۔
  • اسی سال یعنی 1954ء میں اداکار یوسف خان کی آمد ہوئی تھی۔ بابرہ شریف اور جاوید شیخ کی پیدائش کا بھی یہی سال تھا۔
  • 1954ء میں پڑوسی ملک بھارت میں کل 118 ہندی/اردو فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں سے ناگن (1954)، سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم تھی۔ فلم جاگرتی (1954) کو سال کی بہترین فلم قرار دیا گیا جس کا ٹائٹل رول رتن کمار نے کیا جنھوں نے پاکستان آنے کے بعد اسی فلم کا ری میک بیداری (1957) کے نام سے بنایا اور اس میں بھی مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

1954ء کی تاریخ

  • قیامِ پاکستان کے سات سال بعد پاکستان کا قومی ترانہ منظرِ عام پر آیا جس کو حفیظ جالندھری نے لکھا تھا۔ اس ترانے میں ایک آواز احمدرشدی کی تھی جو اس وقت ریڈیو پاکستان کراچی کے ایک نامور گلوکار بن چکے تھے اور 1960/70 کی دھائیوں میں اردو فلموں کے مقبول ترین پلے بیک سنگر تھے۔
  • اسی سال، پاکستان نے روسی بلاک کے خلاف امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ بنگالی کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ ملا۔ گورنرجنرل غلام محمد نے پہلی قانون ساز اسمبلی کو برخاست کر دیا۔ فرانس کو ویت نام میں شکست ہوئی اور ملک کو شمالی اور جنوبی حصوں میں بانٹ دیا گیا تھا۔ مصر میں عرب قوم پرست لیڈر جمال عبدالناصر نے فوجی بغاوت میں حکومت پر قبضہ کر لیا تھا۔

1955ء کی فلمی تاریخ

  • بھارت کے ساتھ فلم کے بدلے فلم کے معاہدے کے بعد 1955ء میں فلموں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہو گیا تھا اور بہت بڑی تعداد میں نئے فنکاروں کی آمد ہوئی تھی۔ گلوکار سلیم رضا، سب سے بڑی دریافت تھے۔ اسی سال، کراچی میں بھی فلمسازی کا آغاز ہو گیا تھا۔
  • سال کی واحد گولڈن جوبلی فلم نوکر (1955) تھی جبکہ قاتل، پتن اور ہیر (1955)، دیگر کامیاب فلمیں تھیں۔ بڑی تعداد میں سپرہٹ گیت تخلیق ہوئے۔ زبیدہ خانم اور عنایت حسین بھٹی کامیاب ترین گلوکارتھے۔
  • بھارت میں 1955ء میں کل 125 ہندی/اردو فلمیں ریلیز ہوئیں۔ شری 420 (1955)، کامیاب ترین فلم تھی جس میں مکیش کا گیت "میرا جوتا ہے جاپانی۔۔" سٹریٹ سانگ بنا۔ اسی سال، فلم انسانیت (1955) میں پہلی اور آخری بار دلیپ کمار اور دیوآنند ایک ساتھ نظر آئے تھے۔ دلیپ کمار کی مشہور فلم دیوداس (1955) بھی اسی سال ریلیز ہوئی تھی۔

1955ء کی تاریخ

  • 1955ء میں ایک دلچسپ حقیقت سامنے آئی۔ پاکستان اور بھارت دو مخالف سمتوں میں چلتے ہوئے نظر آئے۔ پاکستان نے جہاں مغربی پاکستان کے سبھی صوبے ختم کر کے "ون یونٹ" بنایا وہاں بھارت میں لسانی بنیادوں پر صوبوں کی ازسرِنو تشکیل کا کام شروع کر دیا تھا۔
  • اسی سال گورنرجنرل سکندرمرزا نے تیسرے وزیرِاعظم محمدعلی بوگرا کو برطرف کر کے چوہدری محمدعلی کو چوتھا وزیرِاعظم نامزد کر دیا تھا۔
  • اسی سال، پاکستان نے روسی بلاک کے خلاف سیٹو اور سنٹو جیسے دفاعی معاہدوں کے علاوہ امریکہ کو اپنی سرزمین پر فوجی اڈے دیے جس کے نتیجہ میں اگلے دس سال تک بھاری فوجی اور اقتصادی امداد حاصل کی۔ دوسری طرف بھارت نے غیرجانبدار ممالک کی عالمی تنظیم قائم کی اور خودانحصاری کی پالیسی اپنائی۔
  • 1955ء ہی میں عہدِ حاضر کے عظیم سائنسدان البرٹ آئن سٹائن کا انتقال ہوا اور امریکہ میں ڈزنی لینڈ کا افتتاح ہوا تھا۔

1956ء میں میڈم نورجہاں کی دو سدابہار نغماتی فلمیں ریلیز ہوئیں۔۔!

1956ء کا سال، پاکستان کی فلمی تاریخ کا ایک سنہرا سال ثابت ہوا جب فلمی کاروبار اپنے انتہائی عروج پر تھا۔ بہت بڑی بڑی اور یادگار فلمیں ریلیز ہوئیں۔ بڑے بڑے سپرہٹ گیت تخلیق ہوئے اور بہت سے بڑے بڑے فنکار منظرِ عام پر آئے تھے۔

اسی سال، میڈم نورجہاں کی دو نغماتی فلمیں، لختِ جگر اور انتظار (1956) بھی ریلیز ہوئیں جن کے لازوال گیت آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں۔

فلم لختِ جگر (1956) کی موسیقی

ملکہ ترنم نورجہاں کی بطورِ اداکارہ سبھی فلمیں، اپنے سدابہار گیتوں کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔ برصغیر کی فلمی تاریخ میں بطورِگلوکارہ/اداکارہ ان کا کبھی کوئی ثانی نہیں رہا۔ تقسیم سے قبل کا انتہائی عروج کا دور ہو یا پاکستان میں ابتدائی دور جس کو "کلاسیکل دور" کہا جاتا ہے، ایک بے مثل فلمی کیرئر ہے۔۔!

17 فروری 1956ء کو ریلیز ہونے والی فلم لختِ جگر (1957) میں کل 9 گیتوں میں سے ملکہ ترنم نورجہاں نے 7 گیت گائے جن میں سے 3 گیت سپرہٹ ہوئے تھے:

  • چندا کی نگری سے آجا ری نندیا، تاروں کی نگری سے آجا۔۔ (شاعر: ناظم پانی پتی)
  • آ، حال دیکھ لے میرا کہ دل میں پیار بسا کر تیرا کہ میں برباد ہوئی۔۔ (شاعر: حزیں قادری)
  • وہ خواب سہانا ٹوٹ گیا، امید گئی، ارمان گئے۔۔ (شاعر: سیف الدین سیف)
ان گیتوں کی دھنیں موسیقار جی اے چشتی نے بنائی تھیں۔ روایت ہے کہ بھارت کے عظیم موسیقار نوشادعلی نے "چندا کی نگری سے آجا ری نندیا۔۔" جیسی دلکش لوری کی دھن بنانے پر چشتی صاحب کو باقاعدہ ایک تعریفی خط لکھا تھا۔

1983ء میں پاکستان ٹیلی ویژن پر انورمقصود کے مشہورِ زمانہ "سلورجوبلی" سٹیج شو میں عظیم موسیقار جی اے چشتی نے کسرِنفسی سے کام لیتے ہوئے کہا تھا کہ "پوری زندگی میں ان سے یہی ایک کام کی دھن بنی تھی۔۔!"

نورجہاں اور جی اے چشتی

موسیقار جی اے چشتی کو یہ ناقابلِ شکست اعزاز حاصل ہے کہ انھوں نے نو دس سالہ "بے بی نورجہاں" کو پہلی بار لاہور سٹیج یا شوبز کی دنیا میں متعارف کروایا تھا۔۔!

میڈم نورجہاں نے تقسیم سے قبل فلم جگنو (1947) میں موسیقار جی اے چشتی کا اکلوتا گیت گایا تھا:
  • آج کی رات، سازِ دلِ پردرد نہ چھیڑ۔۔
اس حقیقت کا انکشاف جب میڈم نورجہاں نے بزبانِ خود "سلورجوبلی" پروگرام میں کیا تو میزبان انورمقصود دنگ رہ گئے تھے کیونکہ دیگر "اہلِ زبان" کی طرح وہ بھی پنجابی موسیقاروں کو صرف ڈھول باجے اور گھڑے بجانے والے موسیقار ہی سمجھتے تھے۔

پاکستان میں میڈم نورجہاں اور جی اے چشتی کا ساتھ پہلی بار فلم لختِ جگر (1956) میں ہوا۔ دونوں کے مشترکہ گیتوں کی تعداد دو سو کے لگ بھگ ہے جن میں سے اردو گیتوں کی تعداد ایک درجن سے زیادہ نہیں ہے۔

جی اے چشتی، پنجابی فلمی موسیقی کا سب سے بڑا نام تھے لیکن اردو فلموں کے ناکام موسیقار تھے۔ پہلی فلم تقسیم سے قبل لاہور میں بننے والی پنجابی فلم سوہنی مہینوال (1937) تھی۔ آخری فلم وحشی ٹولہ (1983) تھی۔ سو سے زائد پاکستانی فلموں کی موسیقی ترتیب دینے اور ایک ہزار سے زائد گیت کمپوز کرنے والے پہلے موسیقار تھے۔ فلمی حلقوں میں احتراماً "بابا چشتی" اور پنجابی فلمی موسیقی پر اپنے گہرے اثرات کی وجہ سے "بابائے موسیقی" بھی کہلاتے ہیں۔

قیامِ پاکستان کے بعد، جی اے چشتی، پہلی دھائی کے سب سے کامیاب اور مقبول ترین موسیقار رہے ہیں۔ انھیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ پاکستان کی پہلی سپرہٹ نغماتی سلورجوبلی فلم پھیرے (1949) کے علاوہ پاکستان کی پہلی دونوں گولڈن جوبلی اردو فلموں، سسی (1954) اور نوکر (1955) کے موسیقار بھی تھے۔ ان کے علاوہ پاکستان کی پہلی دونوں بلاک باسٹر فلموں، دلابھٹی (1956) اور یکے والی (1957) کے موسیقار بھی تھے۔ روایت ہے کہ ان دونوں فلموں کی ہوشربا کمائی سے پاکستان کے دو سب سے بڑے فلمی سٹوڈیوز، ایورنیو اور باری سٹوڈیوز، قائم ہوئے تھے۔

جی اے چشتی (94-1905)، پاکستان کی فلمی تاریخ کے واحد موسیقار ہیں کہ جنھوں نے گلوکاروں میں میڈم نورجہاں کے علاوہ زبیدہ خانم، نسیم بیگم، مالا، آئرن پروین، عنایت حسین بھٹی اور مسعودرانا کے ساتھ اور گیت نگاروں میں حزیں قادری، وارث لدھیانوی اور احمدراہی کے ساتھ گیتوں کی "سینچریاں" بنائی تھیں یعنی ان سب کے ساتھ ان کے مشترکہ گیتوں کی تعداد سو سو سے زائد ہے۔۔!

فلم لختِ جگر (1956) کی تکمیل

پاکستان کی سب سے بڑی فلم کمپنی "ایورنیو پکچرز" کو پاکستان کی پہلی بلاک باسٹر فلم دلابھٹی (1956) کی کھڑکی توڑ کامیابی ہضم نہیں ہوئی تھی، شاید اسی لیے انھوں نے ایک بھارتی فلم وچن (1955) کی کاپی فلم بنانے کے لیے راحت پروڈکشنز کی فلم حمیدہ (1956) سے ریس لگا لی جو سراسر گھاٹے کا سودا ثابت ہوا تھا۔

ہدایتکار منشی دل کی فلم حمیدہ (1956) ، ایک ہفتہ پہلے ریلیز ہو کر کامیاب رہی لیکن ہدایتکار لقمان کی فلم لختِ جگر (1956)، ایک معیاری اور نغماتی فلم ہونے کے باوجود ناکام رہی تھی۔

حیرت کی بات ہے کہ اس ناکامی اور کاروباری نقصان سے فلمساز اور ایورنیو سٹوڈیو/پکچرز کے مالک، آغا جی اے گل نے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اگلے سال ایک بار پھر مقابلے کی فضا میں فلم لیلیٰ مجنوں (1957) جیسی انتہائی کمزورفلم بنا ڈالی جو ایوریڈی پکچرز کراچی کی بھاری بھرکم نغماتی فلم عشقِ لیلی (1957) کے مقابلے میں بری طرح سے پٹ گئی تھی۔

فلموں میں چربہ سازی

چربہ فلموں کی تاریخ پر بات کریں تو دنیا بھر میں یہ متنازعہ عمل ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے۔ بلاشبہ، چربہ سازی، تخلیقی سرقہ ہے لیکن ایک موازنہ بھی ہوتا ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے۔ بعض اوقات نقل، اصل سے بہتر ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک فرانسیسی فلم دیکھی جس کا سین ٹو سین چربہ ہالی وڈ میں بنایا گیا جو اصل سے بہتر تھا۔

عام طور پر پاکستان نے جب بھی بھارتی فلموں کی نقل کی، اصل سے بدرجا بہتر فلمیں بنائیں جس کی ایک مثال فلم حمیدہ (1956) ہے جو فلم وچن (1955) سے ہر شعبہ میں برتر تھی۔ فلم لختِ جگر (1956) ، دستیاب نہیں، اس لیے اس کے بارے میں رائے دینا مشکل ہے۔

پاکستان میں چربہ فلموں کی تاریخ بڑی وسیع رہی ہے اور ہمارا سب سے بڑا ماخذ بھارتی فلمیں ہی رہی ہیں۔ پاکستان کی پہلی سلورجوبلی اردو فلم دو آنسو (1950)، تقسیم سے قبل کی میڈم نورجہاں کی فلم بھائی جان (1945) کا چربہ یا ری میک تھی لیکن اصل میں جو فلمیں مختلف ناولوں یا افسانوں پر بنتی ہیں، انھیں چربہ نہیں کہا جا سکتا۔ ان میں سبھی لوک کہانیوں پر بننے والی فلمیں بھی شامل ہیں البتہ کسی مخصوص اور خالص فلم کی کہانی کو نقل کرنا ہی اصل چربہ سازی ہے۔

پاکستان کی پہلی چربہ فلم نوکر (1955) کو شمار کیا جاتا ہے جس نے کراچی میں کمبائنڈ گولڈن جوبلی منائی تھی۔ اس کا سب سے مقبول گیت "راج دلارے، میری اکھیوں کے تارے۔۔" بھی ایک چربہ لیکن سپرہٹ اور سدابہار گیت تھا جس کی دھن جی اے چشتی نے بنائی تھی۔ اس فلم کی ملک گیر کامیابی کے بعد ایک لامتناعی سلسلہ چل پڑا۔ زیرِنظر مضمون میں فلم لختِ جگر (1956) بھی ایک چربہ فلم تھی جبکہ اس سال کی کامیاب گولڈن جوبلی فلم چھوٹی بیگم (1956) بھی ایک چربہ فلم تھی۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب پاکستان میں بھارتی فلمیں بھی ریلیز ہوتی تھیں تو پھر ان کی نقل شدہ پاکستانی فلمیں کیسے چل جاتی تھیں۔۔؟

چربہ فلموں کی تاریخ

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اگر بھارتی فلموں کی نمائش جاری رہتی اور ان پر جا بے جا پابندیاں عائد نہ کی جاتیں تو شاید اتنی بڑی تعداد میں چربہ فلمیں بھی نہ بن پاتیں۔ پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش اور ان پر پابندیوں کی مختصراً تاریخ ملاحظہ فرمائیں:

  • پاکستان کے ابتدائی پانچ برسوں یعنی 1952ء تک بھارتی فلموں کی نمائش پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ بھارتی ڈسٹری بیوٹرز، اپنی فلمیں پاکستانی سینماؤں میں آزادانہ ریلیز کیا کرتے تھے۔ اس دور میں بھارت کے مقابلے کی فلمیں بنانے کی کوشش کی جاتی تھی حالانکہ وسائل بڑے محدود ہوتے تھے۔
  • میڈم نورجہاں کی فلم دوپٹہ (1952) نے ثابت کیا کہ کم بجٹ اور نئے فنکاروں کے باوجود پاکستان میں بھی بھارت کے مقابلے کی فلمیں بن سکتی ہیں۔ لیکن اس فلم کی ریلیز پر بھارت میں جو متعصبانہ سلوک ہوا اس نے حکومتِ پاکستان کو یہ قانون بنانے پر مجبور کر دیا کہ پاکستان میں صرف پاکستانی شہری ہی بھارتی فلمیں درآمد کر کے ریلیز کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے مغربی اور مشرقی پاکستان کا الگ الگ کوٹہ مقرر کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں زیادہ تر بنگالی فلموں کی مانگ ہوتی تھی جبکہ مغربی پاکستان (یا موجودہ پاکستان) میں صرف ہندی/اردو اور پنجابی فلمیں ہی دیکھی جاتی تھیں۔
  • ایک تقسیم کار باری ملک نے اس قانون کی خلاف ورزی کی اور مشرقی پاکستان کے کوٹے کی فلم کو مغربی پاکستان میں ریلیز کر دیا جس پر فلم انڈسٹری سراپا احتجاج بن گئی۔ اس پر حکومتِ پاکستان نے 1954ء میں "فلم کے بدلے میں فلم" کا ایک معاہدہ کیا جس کے مطابق جتنی فلمیں بھارت سے درآمد کی جائیں گی، اتنی ہی پاکستانی فلمیں وہاں برآمد بھی کرنا ہوں گی۔
    یہ مقابلہ ممکن نہیں تھا کیونکہ بھارت، پاکستان کی نسبت بہت بڑا ملک تھا جہاں فلم انڈسٹری 1913ء سے قائم و دائم تھی اور سالانہ سو سے زائد ہندی/اردو فلمیں بنتی تھیں یعنی کہ ہر ہفتے دو سے زائد فلمیں سینماؤں پر آتی تھیں۔ پاکستان، میں محدود وسائل کی وجہ سے اتنی فلمیں نہیں بن سکتی تھیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بھارت کی خاص خاص اور کامیاب ترین فلمیں ہی پاکستانی سینماؤں میں ریلیز ہوتیں اور بہت سی دیگر معیاری فلمیں کوٹہ سسٹم کی وجہ سے پاکستان میں ریلیز نہیں ہو پاتی تھیں۔ ایسی فلموں نے کاروباری ذہن رکھنے والے فلمسازوں کو چربہ سازی کی طرف راغب کیا اور اس سلسلے میں فلم نوکر (1955)، پہلی بڑی کامیابی ثابت ہوئی تھی۔
  • حکومتِ پاکستان نے 1962ء میں بھارتی فلموں پر آخری قدغن لگائی جب پانچ سال تک کی نئی فلموں کی نمائش پر پابندی لگا دی تھی یعنی پاکستان میں پانچ سال پرانی بھارتی فلمیں ہی چل سکتی تھیں۔ اس نے بھی چربہ سازی کو فروغ دیا۔ فلمساز اور تقسیم کار، دہلی یا کابل یاترا میں نئی بھارتی فلمیں دیکھ کر آتے اور پاکستان میں ان کا چربہ بنا لیتے تھے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد بھارتی فلموں کی نمائش پر مکمل پابندی لگا دی گئی تو چربہ سازوں کو کھلا میدان مل گیا تھا۔
  • 1980 کی دھائی میں ملعون جنرل ضیاع مردود کے دور میں چند بھارتی فلموں کو نمائش کی خصوصی (یا آمرانہ) اجازت دی گئی۔ اس تاریک دور میں مولاجٹ (1979) کی غیرمعمولی کامیابی نے ایکشن پنجابی فلموں کو باکس آفس کی ضرورت بنا دیا تھا۔ اردو فلمیں زوال پذیر ہو چکی تھیں۔ رہی سہی کسر، VCR کی آمد نے پوری کر دی تھی۔ اس دور میں گھروں میں انڈین اور سینماؤں میں ایکشن پنجابی فلمیں چلا کرتی تھیں۔
  • جنرل مشرف کے دور میں 2006ء میں ایک بار پھر باقاعدگی سے پاکستانی سینماؤں میں بھارتی فلمیں ریلیز ہونے لگیں جو 2019ء میں بھارت کے کشمیر کو ہڑپ کرنے تک چلتی رہیں۔
    اب تو ویسے بھی سینماؤں کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ آن لائن فلم بینی، حدودوقیود کی پابند نہیں اور دورِ حاضر کا محبوب ترین مشغلہ اور بہترین بزنس بن چکی ہے۔
فلم لختِ جگر اور حمیدہ (1956) جیسی فلمیں بھی ایسی ہی چربہ سازی کا شاخسانہ تھیں۔ بھارتی فلم وچن (1955) کی کہانی مکھرم شرما نامی صاحب نے لکھی جو بڑی پاور فلم تھی جس پر انھیں بہترین کہانی نویس کے فلم فئیر ایوارڈ کے لیے بھی نامزد کیا گیا لیکن یہ فلم سال کی ٹاپ ٹین بھارتی فلموں میں نہیں آئی تھی۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ 1955ء میں پاکستان میں صرف 19 فلمیں بنیں اور ان کے بدلے میں بھارت سے بھی پورے سال میں صرف 19 فلمیں ہی درآمد کی گئی ہوں گی جن میں فلم وچن (1955) نہیں ہوگی۔ ایسے میں پاکستانی فلمسازوں نے سوچا ہوگا کہ کیوں نہ ہم خود ہی اس زبردست کہانی پر اپنی فلم (یا فلمیں) بنا لیں۔۔!

فلم لختِ جگر (1956) کی کہانی

بھارتی فلم وچن (1955) کی دونوں چربہ فلموں، لختِ جگر/حمیدہ (1956) کی کہانی مندرجہ ذیل ہے:

    ایم اسماعیل/نذیر، ایک کلرک ہے جو اپنی جواں سال بیٹی (نورجہاں/صبیحہ خانم) کی (سنتوش) سے شادی کے لیے فکر مند ہے اور پوری تیاری کر رہا ہے۔ اس کا بڑا بیٹا، بی اے کا امتحان دے رہا ہے جبکہ چھوٹا بیٹا ابھی سکول کا طالب علم ہے۔

    بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ اس کی نظریں کمزور ہو گئی ہیں اور حساب و کتاب میں غلطیوں کی وجہ سے آفس سے برطرفی کا نوٹس بھی مل گیا ہے۔ اس کی منت و سماجت سے مالک نے وعدہ کیا ہے کہ جب اس کا بیٹا بی اے پاس کر لے گا تو اس کو ملازمت پر رکھ لے گا لیکن تقدیر کو یہ منظور نہیں ہوتا اور بڑا بیٹا (فلم حمیدہ میں اعجاز)، بی اے کے امتحان میں فرسٹ پوزیشن لینے کی خوشی میں اسی دن ایک ٹریفک حادثہ میں ہلاک ہو جاتا ہے۔

    جوان بیٹے کی اچانک موت سے ایم اسماعیل/نذیر، غم و بے بسی کی کیفیت میں دیوار سے ٹکریں مارنے سے مکمل طور پر اندھا ہو جاتا ہے۔ ایسے میں نورجہاں/صبیحہ خانم، اپنے باپ اور چھوٹے بھائی کو بے یارومددگار چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتی اور سنتوش سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ شادی کو اس وقت تک ملتوی کرے کہ جب تک اس کا چھوٹا بھائی پڑھ لکھ کر برسرِروزگار نہیں ہو جاتا۔

    سنتوش تو مان جاتا ہے لیکن اس کی ماں (ریکھا/مایادیوی) نہیں مانتی اور اپنے ملازم منشی (آصف جاہ/علاؤالدین) کے بہکانے سے سنتوش کو (نسرین/شعلہ) سے شادی کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ دلھن کو پہلے دن ہی سے سنتوش کی وفا پر شبہ ہوتا ہے اور اس کے لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے شہر تک چھوڑ جاتے ہیں۔

    نورجہاں/صبیحہ خانم، ملازمت کر کے باپ اور بھائی کی کفالت کرتی ہے۔ بھائی (حبیب/نصرت کاردار)، جوان ہو کر اعلیٰ تعلیم کے بعد بڑی بہن کی رضا سے منشی کی بھانجی (یاسمین/زینت) سے شادی کرلیتا ہے لیکن اس دوران منشی (آصف جاہ/علاؤالدین) بھی اپنی بھانجی کے گھر آن دھمکتا ہے اور وہیں مستقل پڑاؤ کرتا ہے۔ اس کو افیم کا نشہ ہوتا ہے لیکن پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے کبھی سودا سلف خریدنے میں ڈنڈی مارتا ہے تو کبھی گھر کا سامان چوری بیچ کر اپنا نشہ پورا کرتا ہے۔ سامان کی چوری کا الزام بہن (نورجہاں/صبیحہ خانم) پر لگتا ہے جس پر بھائی کو بھی یقین ہو جاتا ہے۔ ایسے میں بدمزگی اور نفاق کی صورت میں بہن، اپنے بوڑھے باپ کو ساتھ لے کر گھر سے چلی جاتی ہے۔

    روزگارِ حیات کے لیے نورجہاں/صبیحہ خانم کو ایک بار پھر ملازمت کرنا پڑتی ہے اور جس بچے کی آیا کے طور پر کام ملتا ہے، وہ سنتوش کا ہوتا ہے جس کی بیوی (نسرین/شعلہ)، شکوک و شہبات کی آگ میں جلتے ہوئے اسے زہر دے کر جان سے مارنے کی کوشش کرتی ہے لیکن خود سیڑھیوں سے گر کر ہلاک ہو جاتی ہے۔ ایسے میں دو پرانے پریمی دوبارہ مل جاتے ہیں۔ اسی دوران بھائی (حبیب/نصرت کاردار) اور بھابھی (یاسمین/زینت) کو بہن (نورجہاں/صبیحہ خانم) کی بےگناہی کا علم ہو جاتا ہے اور وہ اس سے معافی مانگنے پہنچ جاتے ہیں۔

    اداکار حبیب کی آمد

    فلم لختِ جگر (1956) میں اداکار حبیب متعارف ہوئے اور انھیں وہی کردار دیا گیا جو بھارتی فلموں کے "جوبلی ہیرو" راجندرکمار کو فلم وچن (1955) میں دیا گیا تھا۔

    اداکار حبیب، ایک انتہائی خوبرو اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہونے کے علاوہ ایک بنے بنائے فلمی ہیرو بھی تھے۔ فلم کی شوٹنگ دیکھنے گئے اور ہدایتکار لقمان نے پہلی ہی نظر میں اپنی فلم لختِ جگر (1956) کے لیے سنتوش کے مقابل سیکنڈ ہیرو کے طور پر منتخب کر لیا تھا۔

    ابتدائی دور میں حبیب کو اردو فلموں میں زبردست کامیابی ملی۔ بطورِ فرسٹ ہیرو، مہتاب اور اولاد (1962) وغیرہ، ان کی بہت بڑی فلمیں تھیں۔ 1967ء میں اکمل کے اچانک انتقال کے بعد اعجاز کے ساتھ پنجابی فلموں کی ضرورت بن گئے تھے۔

    اتفاق سے حبیب اور اعجاز کے فلمی کیرئر میں بڑی زبردست مماثلت پائی جاتی ہے۔ ایک ہی کہانی پر بننے والی فلموں، بالترتیب لختِ جگر اور حمیدہ (1956) سے فلمی کیرئر کا آغاز کیا۔ پہلے اردو فلموں میں اور پھر پنجابی فلموں میں زبردست کامیابی ملی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلی پہلی پنجابی فلم بھی ایک ہی دن ریلیز ہوئی اور پہلی پہلی ہیروئن بھی ایک ہی تھی۔ عروج کے دور میں دونوں کی پنجابی فلموں کی سپرسٹارز، نغمہ اور فردوس سے جوڑیاں بڑی مقبول ہوئیں، ان سے شادیاں بھی کیں اور طلاقیں بھی ہوئیں۔

    فلمی میڈیا میں بیان کیا گیا تھا کہ حبیب کو اپنی پہلی فلم میں اعجاز کی طرح کا رول دیا گیا جو حالیہ تحقیق کے مطابق درست نہیں ہے۔ اعجاز کا فلم حمیدہ (1956) میں بڑے بھائی کا مہمان اداکار کا رول تھا لیکن حبیب کا فلم لختِ جگر (1956) میں چھوٹے بھائی اور سیکنڈ ہیرو کا بھرپور رول تھا۔ اس فلم میں حبیب کی ہیروئن یاسمین تھی جو بعد میں میڈم نورجہاں کی پہلی سوتن بنی۔ اس فلم میں دونوں یعنی نورجہاں اور یاسمین، نند اور بھاوج کے کرداروں میں تھیں۔

    فلم حمیدہ (1956) میں حبیب کا کردار اداکار نصرت کاردار نے کیا جو لاہور فلم انڈسٹری کے بانی اے آر کاردار کے چھوٹے بھائی تھے۔ انھی کی بھارتی فلم دل لگی (1949) شاید واحد فلم تھی جس میں ثریا اور منورسلطانہ کے مقابل ہیرو آئے۔ پاکستان میں صرف ثانوی کرداروں میں نظر آئے تھے۔

    فلم انتظار (1956)

    اسی سال، میڈم نورجہاں کی ایک بہت بڑی نغماتی فلم انتظار (1956) بھی ریلیز ہوئی تھی۔

    ہفتہ 12 مئی 1956ء کو عیدالفطر کا دن تھا جب ہدایتکار مسعودپرویز کی شاہکار نغماتی فلم انتظار (1956) ریلیز ہوئی تھی۔ کسی بھی عید پر ریلیز ہونے والی میڈم نورجہاں کی یہ پہلی فلم تھی جس نے کراچی میں کمبائنڈ سلورجوبلی کی تھی۔

    فلم انتظار (1956)، خواجہ خورشید انور کی لاہور واپسی پر پاکستان میں پہلی فلم تھی جس کے موسیقار ہونے کے علاوہ شریک فلمساز بھی تھے۔ فلم کی کہانی اور منظرنامہ بھی انھی کا لکھا ہوا تھا جبکہ مکالمے تاریخ ساز ادیب، سیدامتیاز علی تاج نے لکھے تھے۔

    فلم کے سبھی گیت قتیل شفائی کے زرخیز ذہن کی اختراع تھے۔ گلوکاروں میں ملکہ ترنم نورجہاں کے علاوہ کوثرپروین اور اقبال بانو کے نام ملتے ہیں لیکن کوئی مردانہ آواز نہیں ملتی حالانکہ فلم میں ضرورت تھی۔

    فلم انتظار (1956) میں میڈم نورجہاں کے گائے ہوئے سدابہار گیت مندرجہ ذیل ہیں:
    • جس دن سے پیا دل لے گئے، دکھ دے گئے۔۔
    • او جانے والے رے، ٹھہرو ذرا رک جاؤ، لوٹ آؤ۔۔
    • آگئے، گھر آگئے، بلم پردیسی، سجن پردیسی۔۔
    • چاند ہنسے، دنیا بسے، روئے میرا پیار رے۔۔
    • ساون کی گھنگھور گھٹاؤ۔ ترس گئے مورے نین۔۔
    • چھُن چھُن ناچوں گی، گُن گُن گاؤں گی۔۔
    • غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا۔۔
    • آنکھ سے آنکھ ملا لے، سوچ کر متوالے۔۔
    ملکہ ترنم نورجہاں کے ان آٹھ انتہائی سریلے ماسٹرپیس گیتوں کے علاوہ دو گیت کوثرپروین کے آواز میں بھی تھے۔

    نورجہاں اور خواجہ خورشید انور

    ملکہ ترنم نورجہاں کی شاہکار نغماتی فلم انتظار (1956) کے سبھی گیتوں کو کلاسک گیتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ حقیقت میں یہی فلم تھی جس سے خواجہ صاحب کو بریک تھرو ملا اور انھیں اردو فلموں کا سب سے بہترین موسیقار قرار دیا گیا تھا۔

    خواجہ خورشید انور، میانوالی میں پیدا ہوئے۔ لاہور میں فلاسفی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ کلاسیکل موسیقی سے گہری دلچسپی تھی۔ 1939 میں آل انڈیا ریڈیو سے آغاز کیا۔ لاہور فلم انڈسٹری کے بانی اے آر کاردار نے بمبئی میں بننے والی پہلی پنجابی فلم کڑمائی (1941) کی موسیقی ترتیب دینے کے لیے منتخب کیا جس میں انھوں نے پنجابی فوک میوزک کی مدد سے فلمی دھنیں بنائیں۔ پہلی مشہور ہندی/اردو فلم اشارہ (1943)، گلوکارہ ثریا کی پہلی اہم فلم تھی۔ عظیم گلوکار کندن لال سہگل کی آخری فلم پروانہ (1947) کی موسیقی بھی دی۔ اس دوران لاہور میں بننے والی دو فلموں، آج اور کل اور پگڈنڈی (1947) کے گیت بھی کمپوز کیے۔

    تقسیم کے بعد بھارت کی تین فلموں، سنگھار (1949)، نشانہ (1950) اور نیلم پری (1951) کی موسیقی دی لیکن کسی قابلِ ذکر کامیابی سے محروم رہے۔

    لاہور واپس آئے تو مئی 1956ء میں بطورِ موسیقار دو فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں سے ایک فلم، مرزاصاحباں (1956) کا کوئی گیت مقبول نہ ہو سکا لیکن فلم انتظار (1956) کے گیتوں نے ان کی عظمت کی دھاک بٹھا دی تھی۔ ایسے لگتا تھا کہ جیسے اس فلم نے خواجہ صاحب کو نیا جنم دیا تھا۔

    گویا، برصغیر کی فلمی موسیقی کا رخ بدلنے والے عظیم موسیقار، ماسٹرغلام حیدر کےبعد پاکستانی اردو فلموں کے سب سے بڑے موسیقار، خواجہ خورشید انور کو بھی بریک تھرو کے لیے میڈم نورجہاں کا انتظار کرنا پڑا تھا۔۔!

    کیسا عجب اتفاق ہے کہ ملکہ ترنم نورجہاں کو ایک ہی سال میں پنجابی فلموں کے سب سے بڑے موسیقار جی اے چشتی اور اردو فلموں کے سب سے بڑے موسیقار خواجہ خورشید انور کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا تھا۔۔!

    پاکستان فلم میگزین پر غیر حتمی اعدادوشمار کے مطابق، خواجہ خورشید انور نے 20 پاکستانی فلموں میں 161 گیت کمپوز کیے جن میں سے ہر تیسرا گیت میڈم نورجہاں سے گوایا تھا۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ خواجہ صاحب نے میڈم نورجہاں سے ایک درجن فلموں میں گیت گوائے لیکن اپنی آخری چار فلموں میں میڈم سے کوئی گیت نہیں گوایا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ میڈم کی آواز کی وہ کوالٹی نہیں رہی، جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ اس کے باوجود میڈم، انھیں بڑے احترام سے یاد کیا کرتی تھیں اور ان کی یاد میں پاکستان ٹیلی ویژن پر پیش کیے گئے ایک پروگرام میں نعیم طاہر سے گفتگو میں یہ بھی کہا کہ جیسی دھنیں وہ بناتے تھے، ویسی کوئی دوسرا نہیں بنا پایا۔

    خواجہ خورشید انور کی ملکہ ترنم نورجہاں کے ساتھ پہلی فلم انتظار (1956) اور آخری فلم سلامِ محبت (1971) تھی۔ ان کے علاوہ کوئل (1959) اور ہیررانجھا (1970) سب سے بڑی نغماتی فلمیں تھیں۔ ایک غیرریلیز شدہ فلم "تان سین" بھی تھی۔

    خواجہ خورشید انور (84-1912)نے اپنی آخری فلم مرزا جٹ (1982) میں بیشتر گیت مہناز اور ترنم ناز سے گوائے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی فلم کے مقابلے میں ریلیز ہونے والی فلم جٹ مرزا (1982) میں موسیقار ماسٹرعبداللہ نے زیاد تر گیت میڈم نورجہاں سے گوائے تھے۔

    فلم انتظار (1956) کی کہانی

    فلم انتظار (1956) کی کہانی اصل میں سُر اور سنگیت کی کہانی ہے۔ سنتوش کو نورجہاں کی آواز سے عشق ہے تو نورجہاں، سنتوش کے سازوں کی دیوانی ہے۔ ان میں مشرقی اور مغربی موسیقی کا تضاد بھی ہے اور لچر اور بے ہودہ ناچ گانے کی قباحت بھی ملتی ہے۔ کہانی کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے:

      فلم انتظار (1956)، ایک ایسی اندھی پہاڑی لڑکی "نمی" (نورجہاں) کی کہانی ہے جس کو اس کا باپ (مجید)، بچپن ہی سے فنِ گائیکی کے سبھی اسرارورموز ازبرکروا چکا ہے۔ ان کے ساتھ پاکبازی کا لبادے اوڑھے چچا (غالباً عاشق سمراٹ؟) اور اس کی شوخ و چنچل بیٹی (آشا پوسلے) بھی رہتی ہے جس کو صرف رقص کا شوق ہے لیکن گا نہیں سکتی۔

      نورجہاں، اپنے سریلے گیتوں میں بچپن کے ساتھی "سلیم" (سنتوش) کو یاد کرتی رہتی ہے اور اس کی واپسی کا انتظار کرتی ہے جس کو اس کی ماں، گانے بجانے والوں کو حقیر سمجھتے ہوئے ان سے میل ملاقات سے منع کرتی تھی۔

      سنتوش کو بھی نورجہاں کی دلکش آواز دن رات بے چین رکھتی ہے اور وہ، ایک نفسیاتی مریض بن جاتا ہے جس کے علاج کے لیے اس کا وفادار ملازم (غلام محمد)، بڑی کوشش کرتا ہے۔ ڈاکٹر کے مشورے پر اسے پندرہ سال پہلے کے پہاڑی مقام پر لے جایا جاتا ہے جہاں نورجہاں رہتی ہے لیکن وہاں آشا پوسلے، اندھے پن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے "نمی" کا روپ دھار لیتی ہے اور سنتوش کے قریب ہو جاتی ہے لیکن جب راز کھلتا ہے تو چچا، سنتوش پر حملہ کر کے اس کو دریا میں دھکیل دیتا ہے۔

      باپ کے مرنے کے بعد چچا، نورجہاں اور آشا پوسلے کو کراچی لے جاتا ہے جہاں "سلیم" (سنتوش) کے جڑواں اور ہم شکل بھائی "نعیم" (سنتوش) کے "رنگ محل" تھیٹر میں ناچ گانے کا کام کرتے ہیں۔ "نعیم"، ایک اوباش، شرابی اور جوئے باز نوجوان ہے جو نورجہاں پر عاشق ہو جاتا ہے لیکن اس دوران "سلیم" بھی کٹی ہوئی ٹانگ اور بیساکھیوں کے سہارے گھر واپس آ جاتا ہے اور نورجہاں کی آنکھوں کا کامیاب آپریشن کرواتا ہے۔

      نورجہاں، آنکھیں کھولنے کے بعد سب سے پہلے "سلیم" کو دیکھنا چاہتی ہے لیکن ڈاکٹر کے مشورے پر وہ، بیماری کا بہانہ کر کے بستر میں کمبل لپیٹ کر لیٹ جاتا ہے تاکہ وہ اس کی کٹی ہوئی ٹانگ دیکھ کر سکتہ کی حالت میں نہ آ جائے۔

      "نعیم"، اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نورجہاں کے قریب ہو جاتا ہے اور "سلیم" اس کو تقدیر کا لکھا ہوا سمجھ کر ایک طرف ہو جاتا ہے اور اپنا دکھ درد ستار کے سُروں میں بیان کرتا ہے جو نورجہاں کے دل پر گہرا اثر کرتا ہے اور وہ، دونوں بھائیوں کے طور طریقوں سے جان جاتی ہے کہ اس کا اصل محبوب کون ہے یا ہو سکتا ہے۔۔؟

      فلم کا اختتام، حسد و نفرت اور دھوکے بازی کے انجام سے ہوتا ہے جب آشا پوسلے اور اس کا چچا، تھیٹر کو آگ لگانے کے جرم میں پکڑے جاتے ہیں لیکن "نعیم" اپنی خودغرضی کی سزا کے طور اسی آگ میں جل کر راکھ ہو جاتا ہے اور "نمی" اور "سلیم" مل جاتے ہیں۔

    فلم انتظار (1956) کے کردار

    فلم انتظار (1956) کا مرکزی کردار تو نورجہاں کاہے جو اپنے رونے دھونے کے کردار میں بڑی مقبول ہوئیں اور قریباً ہر فلم میں ایسے ہی رول ملتے تھے۔ اس فلم میں بڑی دبلی پتلی نظر آئیں اور خاص طور ایک کورس گیت "ساون کی گھنگھور گھٹاؤ۔۔" میں میڈم کا رقص بڑے کمال کا تھا۔

    فلم کے ہیرو، سنتوش نے ڈبل رول کیا اور کیا خوب کیا۔ پوری فلم پر چھائے ہوئے تھے اور اپنے دو مختلف کرداروں یعنی معصوم اور منفی کرداروں میں جان ڈال دی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سال کی میڈم کی دونوں فلموں کے ہیرو تھے لیکن پاکستان میں میڈم نورجہاں کی اس چھٹی فلم میں چوتھی اور آخری بار نظر آئے تھے۔

    اداکار سنتوش کمار (82-1925) نے فلمی کیرئر کا آغاز بھارتی فلم آہنسا (1947) سے کیا جو مہاتماگاندھی کے "عدم تشدد" اور قومی یک جہتی پر بنائی گئی ایک گمنام فلم تھی جس کا یہ ترانہ آن لائن موجود ہے: "صدیوں سے ہے غلام جنم بومی ہماری۔۔" ایک اور گمنام فلم میری کہانی (1949) میں کام کرنے کے بعد پاکستان چلے آئے جہاں پہلی فلم بیلی (1950) تھی۔ 1950 کی دھائی میں سدھیر کے بعد دوسرے کامیاب ترین فلمی ہیرو تھے۔ سو کے قریب فلموں میں کام کیا۔ سب سے کامیاب فلم دامن (1963) اور آخری فلم آنگن (1982) تھی۔ اداکارہ صبیحہ خانم کےشوہر اور اداکار درپن کے بھائی تھے۔

    آشا پوسلے، پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) کی ہیروئن تھی لیکن اس وقت تک ایک مستقل اور کامیاب ویمپ کے طور پر جانی جاتی تھی، اس فلم میں بھی اسی کردار میں تھی۔ غلام محمد، مجید اور علی بابا کے معاون کردار تھے جن میں وہ کامیاب رہے۔ رخشی کا ایک ہی رقص تھا جو اس وقت کے عام فلم بینوں کے لیے کشش کا باعث ہوتا تھا۔ فلم میں البتہ دو کردار گمنام ہیں، ایک چچا کا کردار جو شاید عاشق سمراٹ نے کیا اور دوسرا "مسٹر ڈی سوزا" کا کردار بڑا پاور فل اور میچور تھا جو ایک مغربی دھنوں کا موسیقار ہے۔

    نورجہاں کو ایوارڈ کیوں نہیں ملا۔۔؟

    فلم انتظار (1956) کو پاکستان کی پہلی ایوارڈ یافتہ فلم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔۔!

    1957ء کے پہلے "فلمی ایوارڈز"، حکومتِ پاکستان نے دیے جن میں فلم انتظار (1956) کو آدھے یعنی پانچ ایوارڈز کا مستحق سمجھا گیا تھا۔ خواجہ خورشید انور کو بیک وقت تین ایوارڈز ملے جو بہترین فلمساز، مصنف اور موسیقار کے ایوارڈز تھے۔ باقی دو ایوارڈز، بہترین ہدایتکار مسعودپرویز اور بہترین اداکار سنتوش تھے۔ گلوکارہ کا کوئی ایوارڈ نہیں تھا۔۔!

    پاکستان کے پہلے سرکاری ایوارڈز میں گلوکار یا گلوکارہ کا ایوارڈ نہ ہونا بھارتی فلم فیئر ایوارڈز کی تقلید بھی ہو سکتا ہے لیکن میڈم نورجہاں کے ایک ویڈیو انٹرویو کے مطابق، اس کی وجہ ایک اور بھی ہو سکتی ہے۔۔!

    میڈم بتاتی ہیں کہ اس دور میں فنڈریزنگ کی ایک تقریب میں انھیں گانے کا کہا گیا۔ انھوں نے اس تقریب میں فیض احمدفیض کی مشہور نظم "مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ۔۔" گانے کی کوشش کی تو انھیں روک دیا گیا کیونکہ اس وقت، فیض، مبینہ کمیونسٹ تعلق اور "راولپنڈی سازش کیس" کی وجہ سے زیرِ عتاب اور پابندِ سلاسل تھے۔

    میڈم نے اصرار کیا کہ اگر وہ، یہ نظم نہیں گائیں گی تو پھر کچھ بھی نہیں گائیں گی۔ مجبوراً انھیں گانے دیا گیا لیکن پاکستان کی انتہائی نااہل بیوروکریسی کویہ بات انتہائی ناگوار گزری اور شاید یہی بغض تھا کہ اس سرکاری ایوارڈز کی بندربانٹ میں نورجہاں کو کوئی ایوارڈ نہیں ملا۔ ظاہر ہے کہ اگر بہترین گلوکارہ کا ایوارڈ دیا جاتا اور نورجہاں کے فلم انتظار (1956) میں بے مثل گیتوں کو نظرانداز کر کے دیا جاتا تو سراسر ناانصافی اور بددیانتی ہوتی۔۔!

    1956ء کی فلمی تاریخ

    1956ء کا سال، پاکستان کی فلمی تاریخ میں ایک بڑا یادگار تھا جب کل 32 فلمیں ریلیز ہوئیں۔ اس سال کے اہم ترین فلمی واقعات مندرجہ ذیل ہیں:

    • 1956ء کی سب سے بڑی دریافتیں، مہدی حسن اور احمدرشدی تھے جنھوں نے کراچی میں بننے والی فلموں سے آغاز کیا تھا۔ اسی سال گلوکارہ نسیم بیگم بھی منظرِعام پر آئی تھیں۔ "واسطہ ای رب دا توں جائیں وے کبوترا۔۔ (منورسلطانہ) اور "رناں والیاں دے پکن پراٹھے۔۔ (عنایت حسین بھٹی)، سال کے مقبول ترین گیت تھے۔
    • اداکاروں میں اعجاز اور حبیب کے علاوہ اکمل، نیلو، شمیم آرا، بہار، دیبا، لہری، ساون اور سلطان راہی جیسے بڑے بڑے نام سامنے آئے تھے۔
    • دلابھٹی (1956)، پہلی بلاک باسٹر فلم تھی جس کی کمائی سے لاہور کا جدید فلم سٹوڈیو، ایورنیو قائم ہوا۔ سدھیر اور صبیحہ مرکزی کردار تھے۔
    • فلم باغی (1956)، پاکستان کی پہلی سپرہٹ ایکشن فلم تھی جس کا ٹائٹل رول سدھیر نے کیا جو اس سال کے کامیاب ترین فلمی ہیرو تھے جن کے کریڈٹ پر ایک بلاک باسٹر پنجابی فلم کےعلاوہ دو گولڈن جوبلی اردو فلمیں، ایک سلورجوبلی اردو فلم اور ایک کامیاب پنجابی فلم تھی۔ اسی فلم کی کمائی سے لاہور کا اے ایم فلم سٹوڈیو بنایا گیا تھا۔
    • اس سال کے دوسرے کامیاب ترین ہیرو سنتوش تھے جن کے کریڈٹ پرچار سلورجوبلی اردو فلمیں تھیں جن میں ایک انتظار (1956) بھی تھی۔
    • 1956ء ہی میں معروف ٹی وی اداکارہ بشریٰ انصاری کی پیدائش بھی ہوئی تھی۔
    • پڑوسی ملک بھارت میں 1956ء میں سوا سو کے قریب فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں دیوآنند کی فلم سی آئی ڈی (1956) کامیاب ترین فلم تھی۔ اس فلم میں محمدرفیع، شمشاد بیگم اور آشا بھونسلے کا گایا ہوا گیت "لے کے پہلا پہلا پیار۔۔" سال کا مقبول ترین بھارتی فلمی گیت تھا۔

    1956ء کے اہم واقعات

    • عرصہ نو سال بعد 1956ء میں پاکستان کا پہلا آئین منظور ہوا۔ 23 مارچ کا دن اسی کی یاد میں منایا جاتا تھا جو بعد میں "یومِ پاکستان" بنا دیا گیا تھا۔
    • بھارت میں ریاستوں یا صوبوں کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا عمل شروع ہوا تھا۔
    • معروف امریکی گلوکار ایلوس پریسلے کا راک اینڈ رول، پہلی بار سامنے آیا۔ اسی سال کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک اور ویڈیو ریکارڈنگ سسٹم ایجاد ہوا تھا۔
    • آجکل یعنی 2026ء میں آبنائے ہرمز کا علاقہ امریکہ اور ایران کے مابین میدانِ جنگ بنا ہوا ہے، 70 سال قبل یعنی 1956ء میں بھی ایک اور اہم تجارتی گزرگاہ، نہرسویز کو قومیانے پر اسرائیل نے برطانیہ اور فرانس کی مدد سے مصر پر حملہ کر دیا تھا۔ مفادات کی یہ جنگیں ہر دور میں اسی طرح سے لڑی جاتی رہی ہیں اور لڑی جاتی رہیں گی۔

1957ء میں ملکہ ترنم نورجہاں کی ایک اور بہت بڑی نغماتی فلم ریلیز ہوئی تھی۔۔!

میڈم نورجہاں کی پاکستان میں بطورِ اداکارہ/گلوکارہ 7ویں فلم، نوراں (1957)، تیسری پنجا بی فلم تھی جس کے گیت، ان کی پہلی دونوں پنجابی فلموں، چن وے (1951) اور پاٹے خان (1955) سے زیادہ مقبول ہوئے لیکن باکس آفس پر یہ فلم کوئی بڑا کارنامہ سرانجام نہ دے سکی تھی۔

کراچی کی ایوریڈی پکچرز کے فلمساز جے سی انند کی پنجابی فلم نوراں (1957) کے ہدایتکار کے طور پر "ایم اے خان" نامی گمنام شخص کا نام آتا ہے۔ روایت ہے کہ اس فلم کے اصل ہدایتکار "بلومہرا" تھے جو بھارت سے آئے تھے۔ 31 مئی 1957ء کو ریلیز ہونے والی یہ فلم اپنے سدابہار سریلے نغمات کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔

فلم نوراں (1957) کی موسیقی

فلم نوراں (1957) کے درجن بھر گیتوں میں سے ملکہ ترنم نورجہاں کی آواز میں دس گیت تھے جن میں سے یہ دو شاہکار رومانٹک گیت سولو تھے:

  • ویکھیا ہووے نی کسے تکیا ہووے، اُچا جیا شملہ تے اکھ مستانی، اے تے میرے چن جئے ڈھول دی نشانی۔۔
  • تیرے بول نیں تے میریاں نیں بلیاں، تیری یاد وچ پہلی واری کھلیاں، وے آ کے ٹر جان والیا، راہیا۔۔
ملکہ ترنم نورجہاں کا یہ سنجیدہ سولو گیت بھی بڑا مقبول ہوا تھا:
  • کدی آ وے دلبرا، واسطہ ای، ہائے بلیاں تے ساہ، لگی دل نوں آہ، پھیرا پا وے دلبرا، واسطہ ای۔۔
میڈم نورجہاں کے منیرحسین کے چار دوگانوں میں یہ سپرہٹ رومانٹک گیت بھی تھا:
  • پنچھی تے پردیسی، آکے ٹر جاندے، جا کے نئیں آندے، ہانیا، نہ جاویں دل لا کے۔۔
ان دونوں کا یہ دلکش سنجیدہ دوگانا بھی بڑا مقبول ہوا تھا:
  • اک چیز گواچی دل کولوں، جنھوں نین نمانے لبھدے نیں۔۔
ان کے علاوہ اقبال بانو کے گیت "تیرے عشق نچایا، کر کے تھیا تھیا۔۔" کو اداکارہ/رقاصہ رخشی پر فلمایا گیا جو نورجہاں اور سلیم رضا کی شادی کے موقع پر گاتی ہے۔ اسی فلم میں گلوکار منیرحسین کا پہلا سپرہٹ سولو گیت "اک بیڑی وچ دو سوار، ایک پردیسی، اک مٹیار۔۔"بھی تھا جو سدھیر پر فلمایا گیا تھا۔ شاید ہی کوئی دوسری فلم ہوگی جس میں سدھیر پر کسی گلوکار کے گائے ہوئے پورے پانچ گیت فلمائے گئے ہوں گے۔۔!

گیت نگار حزیں قادری

فلم نوراں (1957) کے گیت نگار، حزیں قادری تھے جن کا کارکردگی مثالی تھی۔۔!

حزیں قادری کے بے شمار گیت، امر سنگیت میں شامل ہیں۔ وہ، پاکستانی پنجابی فلموں میں نہ صرف فلمی گیتوں کا سب سے بڑا نام تھے بلکہ بطور کہانی نویس، مکالمہ نگار اور منظرنامہ نگار کے طور پر بھی اپنی مثال آپ تھے۔ ان کے کریڈٹ پر بہت بڑی بڑی سپرہٹ فلمیں موجود ہیں۔

کسی بھی فلمی شاعر کے لیے یہ بہت بڑا اعزاز ہوتا ہے کہ اس کے ذہن کی تخلیق مقبولِ عام ہو۔ فلم نوراں (1957) میں حزیں قادری کے لکھے ہوئے گیتوں میں سے تین گیت اسقدر مقبول اور زبان زدِعام ہوئے کہ ان کے بولوں پر الگ سے فلمیں بھی بنائی گئیں۔ ان میں فلم اک پردیسی اک مٹیار (1964)، پنچھی تے پردیسی اور تیرے عشق نچایا (1969) شامل ہیں۔ پاکستان کی فلمی تاریخ میں ایسی کوئی دوسری فلم نہیں ملتی کہ جس کے گیتوں سے اتنی فلموں کے نام اخذ کیے گئے ہوں۔

موسیقار صفدرحسین

فلم نوراں (1957) کے موسیقار، صفدرحسین تھے جنھوں نے فلم ہیر (1955) سے دھماکہ خیز آغاز کیا تھا۔

صفدر حسین، اسی سال ریلیز ہونے والی ڈیڑھ درجن گیتوں والی پاکستان کی سب سے بڑی نغماتی فلم عشقِ لیلیٰ (1957) کے موسیقار بھی تھے۔ فلم نوراں (1957) جیسی ایک اور نغماتی فلم کے ساتھ ایک ہی سال میں دو بہت بڑی میوزیکل فلمیں دیں اور خاص بات یہ تھی کہ ایک اردو اور دوسری پنجابی فلم تھی۔۔!

یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ صفدرحسین نے ایک ہی کہانی پر مقابلے میں بننے والی کامیاب فلم عشقِ لیلیٰ (1957) کی موسیقی دی اور ان کے ماموں اور استاد، عظیم موسیقار رشیدعطرے نے ناکام فلم لیلیٰ مجنوں (1957) کی موسیقی ترتیب دی تھی۔ موسیقار صفدرحسین نے فلم عشقِ لیلی) (1957) کے بیشتر گیت عنایت حسین بھٹی سے گوائے جبکہ رشیدعطرے نے فلم لیلیٰ مجنوں (1957) میں گلوکارہ ناہیدنیازی کو متعارف کروانے کے علاوہ اپنے بھتیجے گلوکار منیرحسین سے بیشتر گیت گوائے تھے۔

گلوکار منیرحسین

فلم نوراں (1957) میں چھ گیت گانے والے گلوکار منیرحسین نے اسی سال فلم یکے والی (1957) سے اپنے فلمی کیرئر کا آغاز کیا تھا۔

ریلیز کے اعتبار سے منیرحسین کی فلم لیلیٰ مجنوں (1957) دوسری اور نوراں (1957) تیسری فلم تھی۔ پہلی تین فلموں میں ایک درجن گیت گانے والے اس باصلاحیت گلوکار کے چار دھائیوں کے فلمی کیرئر میں دو سو فلموں میں تین سو کے قریب گیت تھے۔

فلم نوراں (1957) میں موسیقار صفدرحسین نے اپنے کزن، گلوکار منیرحسین سے کچھ کم نہیں چھ گیت گوائے جن میں سے چار دوگانے ملکہ ترنم نورجہاں کے ساتھ تھے جو ایک منفرد ریکارڈ ہے۔

منیرحسین نے اپنے فلمی کیرئر میں سب سے زیادہ دوگانے ملکہ ترنم نورجہاں کے ساتھ گائے تھے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، میڈم نے کبھی کسی گلوکار یا گلوکارہ کے ساتھ کسی ایک فلم میں چار دوگانے نہیں گائے، یہ اعزاز صرف منیرحسین کو حاصل ہے۔

اس منفرد ریکارڈ کے بعدتین فلمیں ایسی ملتی ہیں کہ جن میں میڈم نورجہاں نے کسی گلوکار کے ساتھ کسی ایک فلم میں تین تین دوگانے گائے تھے، ان میں سے مہدی حسن کے ساتھ فلم عشق میرا ناں (1974) اور سوہنی مہینوال (1976) اور مسعودرانا کے ساتھ فلم عشق نچاوے گلی گلی (1984) تھی۔

گلوکار منیرحسین، پانچ نامور موسیقاروں کے عزیز تھے، رشیدعطرے کے بھتیجے، ماسٹرغلام حیدر کے داماد اور صفدرحسین، وجاہت عطرے اور ذوالفقار علی کے کزن تھے۔ لوک گلوکار سائیں اختر بھی ان کے قریبی عزیز بتائے جاتے ہیں۔

فلم نوراں (1957) کی کہانی

فلم نوراں (1957) کی کہانی، قصہ ہیررانجھا سے ماخوذ ہے۔ اس فلم کے ٹائٹل پر کہانی نویس کے طور پر کسی کا نام نہیں ملتا۔ منظرنامہ (یا سکرین پلے) کا کریڈٹ بھی کسی کو نہیں دیا گیا البتہ مکالمے حزیں قادری نے لکھے تھے۔ اس فلم کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے:

    ایک خوبرو جوان، سوہنا بلوچ (سدھیر)، اپنے ساتھی (نذر) کے ساتھ اونٹ پر سوار ایک گاؤں میں آتا ہے جہاں اس کا مرحوم ماموں، اپنے قتل سے قبل، اپنی تمام تر جائیداد، اس کے نام کر جاتا ہے۔ گاؤں میں اس کی بیوہ ممانی (مایا دیوی)، گاؤں کےطاقتور راٹھ خاندان کے رحم و کرم پر ہے جن سے ان کی پرانی خاندانی دشمنی ہے۔

    اتفاق سے گاؤں میں داخل ہوتے ہی کنویں (پنگھٹ) پر سدھیر کو راٹھ خاندان کی ایک خوبصورت لڑکی نوراں (نورجہاں) سے سامنا ہوتا ہے۔ پہلی ہی نظر میں دونوں گھائل ہو جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد ان کی محبت کے قصے عام ہو جاتے ہیں۔ ماں (کملا) کے سمجھانے بجھانے اور باپ (اجمل) کی ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود نوراں (نورجہاں) باز نہیں آتی اور دشمن خاندان کے فرد، سوہنا بلوچ (سدھیر) کی محبت میں مست رہتی ہے۔

    نوراں کی سہیلی (زینت) کا بھائی (سلیم رضا) بھی اس کے امیدواروں میں شامل ہے اور تاک میں لگا رہتا ہے۔ ایک دن، نورجہاں کو سدھیر کے ساتھ موقع پر پکڑوا کر اس کے باپ اجمل کے حوالے کرتا ہے جو بدنامی اور رسوائی کے ڈر سے اس کی شادی اسی سے کر دیتا ہے لیکن رخصتی کے باوجود، سہاگ رات کو دلھن بنی نورجہاں، سلیم رضا کو اپنا دولھا قبول نہیں کرتی اور اس کو قریب تک نہیں آنے دیتی۔

    زینت کو بھی سدھیر کے دوست نذر سے محبت ہوتی ہے اور اسی لالچ میں وہ اپنی بھابھی، نورجہاں کو سدھیر کے ساتھ بھگا دیتی ہے۔ راٹھ پیچھا کرتے ہیں۔ دونوں، شدید زخمی حالت میں ایک فقیر (جی این بٹ) کے پاس پہنچتے ہیں جو انھیں وضو کر کے نمازِ عشق پڑھنے کی تاکید کرتا ہے۔

    اسی اثنا میں راٹھ بھی وہاں بھی پہنچ جاتے ہیں اور جب انھیں پکڑتے ہیں تو دونوں سجدے میں گرے، دارِ فانی سے کوچ کر گئے ہوتے ہیں۔

فلم نوراں (1957) کی کمزور کہانی کو درجن بھر گیتوں کا سہارا دیا گیا تھا۔ سہاگ رات میں سلیم رضا کا کردار انتہائی مضحکہ خیز نظر آتا ہے۔ ہیرو کا بھیس بدل کر ہیروئن کو دم درود کرنا بھی بڑا عجیب اور فضول منظر تھا البتہ نورجہاں کا نیم عریاں حالت میں تیراکی کے مزے لینا فلم بینوں کے لیے کشش کا باعث تھا۔

ہیرو (سدھیر) کو اس فلم میں بڑا کمزور اور بے بس دکھایا گیا ہے جو فلم کی ناکامی کی بڑی وجہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ سدھیر، گزشتہ سال کی فلم باغی (1956) سے ایک بھاری بھر کم سپرسٹار ایکشن ہیرو کے طور پر بے حد مقبول ہو چکے تھے اور یہ کردار شاید ان کے لیے نہیں تھا۔

فلم کے دیگر اداکاروں میں اداکار اجمل، اپنے راٹھ کے کردار میں انتہائی بارعب نظر آئے۔ کملا نے ماں کا کردار بڑی خوبی سے کیا۔ زینت اور نذر بھی اپنے اپنے کرداروں میں مناسب رہے جبکہ میڈم نورجہاں، اپنی شوخ اور سنجیدہ اداکاری کی وجہ سے سب پر بھاری تھیں اور اس فلم میں زرق برق لباس، دلکش نقش و نگار اور گہرے میک اپ میں بے حد حسین نظر آئیں۔

فلم نوراں (1957) میں پہلی بار میڈم نورجہاں کی جوڑی سدھیر کے ساتھ تھی۔ اس سے قبل ان کی پہلی مشترکہ فلم دوپٹہ (1952) تھی جس کے فرسٹ ہیرو اجے کمار تھے۔

یادش بخیر، فلم نوراں (1957)، میڈم نورجہاں کی بطورِ اداکارہ پہلی فلم تھی جس کے فلم پوسٹرز،گجرات کے ریکس سینما میں دیکھے لیکن فلم نہیں دیکھ سکا تھا۔ یہ 1978ء میں زندگی کے 16ویں سال میں کالج اورفلم بینی کے انتہائی عروج کا دور تھا۔

فلم نوراں (1957)، پہلی بار 1980/90 کی دھائیوں میں VCR پر دیکھی اور اسوقت تصور تک نہیں تھا کہ کبھی اس فلم پر اتنا تفصیلی مضمون بھی لکھوں گا۔

1957ء کی فلمی تاریخ

پاکستان فلم میگزین کے غیرحتمی اعدادوشمار کے مطابق، 1957ء میں کل 27 فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں سوا دو سو سے زائد گیت گائے گئے۔ ان میں میڈم نورجہاں کی صرف ایک فلم اور دس گیت تھے۔ اس سال کے خاص خاص فلمی سنگِ میل مندرجہ ذیل ہیں:

  • آنجہانی سلیم رضا نے فلم نورِاسلام (1957) میں موسیقار حسن لطیف کی دھن میں ایک سدابہار نعت "شاہِ مدینہﷺ، یثرب کے والی، سارے نبی، تیرے در کے سوالی۔۔" گا کر میلہ لوٹ لیا تھا۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی سال کی فلم سات لاکھ (1957) میں سلیم رضا کی پہچان بننے والا گیت "یارو، مجھے معاف رکھو، میں نشے میں ہوں۔۔" بھی سپرہٹ ہوا تھا۔ یہیں بس نہیں، بلکہ اسی فلم میں منیرحسین نے بھی اپنا مقبول ترین اردو گیت "قرار لوٹنے والے۔۔" گایا تھا۔ زبیدہ خانم نے بھی اپنا مقبول ترین اردو گیت "آئے موسم رنگیلے سہانے۔۔" گایا اور کوثرپروین نے بھی اپنا مقبول ترین اردو گیت "ستمگر مجھے بے وفا جانتا ہے۔۔" گایا تھا۔ موسیقار رشیدعطرے کا کمال تھا کہ انھوں نے وقت کے چاروں بڑے گلوکاروں سے ان کے مقبول ترین گیت ایک ہی فلم (سات لاکھ) میں گوا لیے تھے۔۔!
  • اسی سال کی فلم عشقِ لیلیٰ (1957)، عنایت حسین بھٹی کے فلمی کیرئر کی سب سے بڑی اردو فلم تھی جس میں ان کے دیگر گیتوں کے علاوہ ایک گیت "محبت کا جنازہ جا رہا ہے۔۔" سپرہٹ ہوا تھا۔ صفدرحسین موسیقار تھے۔
  • اسی سال فلم وعدہ (1957) میں موسیقار رشیدعطرے نے ایک پارٹ ٹائم گلوکار، شرافت علی سے "جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں۔۔" جیسا لازوال گیت گوایا تھا۔
  • اسی سال موسیقار اے حمید نے فلم انجام (1957) سے فلمی کیرئر کا آغاز کیا۔ میڈم نورجہاں کے ساتھ ان کی سب سے بڑی نغماتی فلم دوستی (1971) تھی۔
  • بنگالی نژاد ہندو موسیقار دیبو بھٹاچاریہ کی پہلی فلم مسکہ پالش (1957) ریلیز ہوئی۔ میڈم نورجہاں کے ساتھ ان کی یادگار فلم بنجارن (1962) تھی۔
  • اداکارہ لیلیٰ اور کمال کی آمد کے علاوہ "چائلڈ سٹار" رتن کمار نے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ پاکستان ہجرت کی اور ساتھ میں اپنی بھارتی فلم جاگرتی (1954) بھی فلم بیداری (1957) کی صورت میں لے آئے۔ اس فلم کے ترانوں کو "مشرف بہ پاکستان" کیا گیا۔ منورسلطانہ کا ترانہ "اے قائدِاعظمؒ، تیرا احسان ہے، تیرا احسان۔۔" اور سلیم رضا کے ملی نغمات "آؤ بچو، سیرکرائیں تم کو پاکستان کی، جس کی خاطر ہم نے دی قربانی لاکھوں جان کی، پاکستان زندہ باد۔۔" اور "ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے، اس ملک کو رکھنا، میرے بچو، سنبھال کے۔۔" بڑے مشہور ہوئے تھے۔
  • اس سال کی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم یکے والی (1957) تھی جس کے ریکارڈز بزنس سے پاکستان کا سب سے بڑا فلم سٹوڈیو، باری سٹوڈیو قائم ہوا تھا۔ مسرت نذیر نے ٹائٹل رول کیا اور جی اے چشتی کی موسیقی میں زبیدہ خانم کے گیتوں نے دھوم مچا دی تھی۔
  • اس سال، بھارت میں 118 ہندی/اردو فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں مدرانڈیا (1957)، سال کی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم تھی۔

1957ء کے اہم واقعات

  • پاکستان میں 1956ء میں آئین کے نفاذ کے بعد سیاسی استحکام کا خواب، خواب ہی رہا اور 1957ء کے ایک سال میں کچھ کم نہیں، پورے تین وزرائے اعظم بدلے۔
  • پاکستان کے برعکس، بھارت میں دوسرے قومی انتخابات کامیابی سے ہوئے اور ایک جمہوری تسلسل جاری رہا۔ جواہر لال نہرو، آزادی کے دس سال بعد بھی بھارت کے وزیرِاعظم تھے۔
  • روس نے خلا میں پہلا سیٹلائٹ کامیابی کے ساتھ لانچ کیا اور یورپین یونین کے اتحاد کا عمل شروع ہوا تھا۔

1958ء میں ملکہ ترنم نورجہاں کی پلے بیک سنگر کے طور پر پہلی فلم، "جانِ بہار" ریلیز ہوئی تھی۔۔!

اس فلم پر تفصیل سے بات ہوگی لیکن پہلے بطورِ اداکارہ/گلوکارہ، میڈم نورجہاں کی اس سال کی دیگر دونوں نغماتی فلموں، چھومنتر اور انارکلی (1958) کا ذکر ہوگا۔

فلم چھومنتر (1958)

فلم چھومنتر (1958)، ایک یادگار نغماتی فلم تھی۔۔!

فلمساز اور ہدایتکار میاں مشتاق (اور میاں حفیظ) کی اکلوتی فلم چھومنتر (1958) کی کہانی نازش کاشمیری نے لکھی جنھوں نے اس فلم کے متعدد گیت بھی لکھے تھے۔ احمدراہی نے اس کامیاب فلم کے مکالمے لکھنے کے علاوہ بیشتر سپرہٹ گیت بھی تخلیق کیے تھے۔ عکاس اسلم ڈار تھے جو بعد میں ایک بہت بڑے فلم ڈائریکٹر بنے۔ موسیقار رفیق علی کی اپنی پہلی ہی فلم میں کارکردگی انتہائی شاندارتھی۔ ملکہ ترنم نورجہاں، زبیدہ خانم، پکھراج پپو اور ظریف، گلوکار تھے اور بڑے شاندار گیت تھے جن پر پہلے بات کرتے ہیں۔

فلم چھومنتر (1958) کی موسیقی

فلم چھومنتر (1958) کی پہچان اس فلم کا ایک لازوال گیت تھا:

  • بُرے نصیب میرے، ویری ہویا پیار میرا، نظر ملا کے کوئی لے گیا قرار میرا۔۔
یہ گیت کسی پروفیشنل سنگر نے نہیں بلکہ ایک پارٹ ٹائم سنگر اور عظیم مزاحیہ اداکار منورظریف کے بڑے بھائی، اداکار ظریف نے گایا جو عام طور فلموں میں ہلکے پھلکے کامیڈی گیت ہی گایا کرتے تھے۔ احمدراہی کے لکھے ہوئے اس سپرہٹ گیت کی دھن رفیق علی نے بنائی اور اس گیت کو ظریف نے زبیدہ خانم کے ساتھ دوگانے کی صورت میں بھی گایا تھا۔

پاکستان فلم میگزین کے ڈیٹابیس میں ظریف کے گائے ہوئے 30 گیتوں کا حوالہ ملتا ہے جن میں یہ سدابہار اورمقبول ترین گیت تھا۔ ظریف کا گایا ہوا پہلا گیت "اُچیاں مجاجاں والیے لیلیٰ، پا دے خیر فقیراں نوں۔۔"، فلم پاٹے خان (1955) میں اور آخری گیت "میں سالا، رانی خان دا۔۔"، فلم رانی خان (1960) میں تھا۔ اسی سال جوانی میں انتقال کر گئے تھے۔

فلم چھومنتر (1958) میں ظریف نے ایک اور گیت بھی گایا تھا: "دل دے جا، تے دل لے جا۔۔" یہ گیت بھی بہت اچھا تھا۔ گو موسیقی کو سمجھنے والے سمجھ جاتے ہیں کہ یہ گیت کوئی پیشہ ور گلوکار نہیں گا رہا لیکن مقبولیت کے لیے اچھی آواز یا فنی باریکیوں کا جاننا ضروری نہیں ہوتا۔ عوام الناس کو کچھ بھی پسند آ سکتا ہے۔

فلم چھومنتر (1958) میں زبیدہ خانم کا ایک کورس گیت "رت مستانی، ڈولے جوانی، گھنڈ چک چک کے۔۔" بھی ایک زبردست گیت تھا۔

نورجہاں بمقابلہ زبیدہ خانم

فلم چھومنتر 1958) کی ایک خاص بات اس فلم کا یہ دلکش گیت تھا:

  • اتھرو ڈُھل گئے، ہاسے رُل گئے، ڈونگیاں شاماں آیاں۔۔
ماسٹررفیق علی نے ایک ہی سنجیدہ گیت کو ایک ہی دھن اور ایک ہی جیسے بولوں کے ساتھ ملکہ ترنم نورجہاں اور زبیدہ خانم کی آوازوں میں الگ الگ گوایا تھا۔ بظاہر دونوں نے بہت اچھا گایا لیکن موسیقی کو سمجھنے یا دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ بڑا اہم گیت تھا۔

اس میں کوئی دو آراء نہیں کہ ملکہ ترنم نورجہاں کو اپنی دلکش آواز و انداز کے علاوہ فنِ گائیکی پر جو عبور حاصل تھا اور جو مقبولیت اور قبولیت ان کے حصہ میں آئی، وہ کسی دوسری فلمی گلوکارہ کو کبھی نہیں مل سکی۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فلمی گائیکی، عوامی گائیکی ہے اور وہی گیت مقبول ہوتا ہے جو عوام الناس کو پسند ہو۔ میڈم چاہے جتنی بھی بڑی گلوکارہ تھیں، دوسرے فنکاروں نے ان کی موجودگی میں اپنی قابلیت سے اپنا مقام پیدا کیا جس سے انکار ممکن نہیں ہے۔

زبیدہ خانم، 1950 کی دھائی کی مقبول ترین گلوکارہ تھیں اور پلے بیک سنگر کے طور پر چھائی ہوئی تھیں۔ ان کی اجارہ داری کا یہ عالم تھا کہ 1958ء میں کل 33 فلموں میں 254 گیت گائے گئے جن میں سے 94 گیت صرف زبیدہ خانم کی آواز میں تھے۔ گویا اس سال کا ہر تیسرا گیت زبیدہ خانم نے گایا تھا۔ میڈم نورجہاں، چونکہ صرف اپنی فلموں میں خود پر فلمائے ہوئے گیت ہی گاتی تھیں، اس لیے اس سال ان کی تین فلموں میں صرف 18 گیت تھے۔

ملکہ ترنم نورجہاں کے گیت

فلم چھومنتر (1958) میں میڈم نورجہاں، مرکزی ہیروئن تھیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم میں پون گھنٹے بعد سکرین پر نمودار ہوئیں۔ اس فلم کے کل گیارہ گیتوں میں سے چھ گیت میڈم نے گائے جن میں چار سولو، ایک کورس اور ایک دوگانا تھا جو گلوکارہ پکھراج پپو کے ساتھ سُروں کے مقابلے کا ایک گیت تھا:

  • اکھیاں وے راتیں سون نہ دیندیاں۔۔
ایک کورس گیت بھی تھا:
  • چھپک چھپک چھیا ہو۔۔
ان کے علاوہ یہ تین دلکش سریلے گیت بھی تھے:
  • اینی گل دس دیو، نکے نکے تاریو، تسی کہیڑے چن دے وچھوڑیاں دے مارے او۔۔
  • تو کی جانیں بے قدرا، قدر میرے پیار دی۔۔
  • نیلی چھت والیا، جگ دیا والِیا، میری واری دس ہاں ربا، کتھے منھ لکا لیا۔۔

فلم چھومنتر (1958) کی کہانی

    فلم چھومنتر (1958) کی کہانی، ظریف کے گرد گھومتی ہے جس کے گیتوں، عاشق مزاجی اور چھیڑچھاڑ سے پورا گاؤں تنگ ہے۔ روزانہ اس کی شکایتیں آتی ہیں اور روزانہ ہی لوگ، اسے مار کر چارپارئی پر ڈال کر اس کے گھر بھیج دیتے ہیں لیکن وہ بڑا سخت جان ثابت ہوتا ہے اور ہر بار بچ جاتا ہے۔

    اپنی ہٹ دھرمی سے اسے دیس نکالا مل جاتا ہے اور اسی عالم میں ایک دن اس کی نظر ایک گاؤں کے نواب علاؤالدین کی بیٹی لیلیٰ سے ٹکراتی ہے اور دل ہار بیٹھتا ہے۔ حسبِ معمول، ایک بار پھر پٹائی ہوتی ہے لیکن ثابتِ قدم اور مستقبل مزاج ہوتا ہے جو لیلیٰ کا دل جیتنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

    اب کی بار نواب کے کارندے ظریف کو مار کر دریا میں پھینک دیتے ہیں لیکن ایک مچھیرا (غلام محمد) اور اس کی جواں سال بیٹی (نورجہاں)، اسے دریا سے نکال لیتے ہیں۔ نورجہاں، گاؤں کے ایک اور امیر شخص (اسلم پرویز) سے محبت کرتی ہے لیکن اس کا باپ (گل زمان)، مزید دولت کے لالچ میں اپنے بیٹے کی شادی کسی امیر خاندان میں کرنا چاہتا ہے۔ اب ظریف اور نورجہاں کا درد ایک جیسا ہوتا ہے لیکن دونوں کو صدمہ پہنچتا ہے جب لیلیٰ کی شادی اسلم پرویز سے ہوتی ہے۔

    عین شادی کے دن ظریف بھیس بدل کر دلہن بنی لیلیٰ کو نورجہاں سے بدل دیتا ہے لیکن بھانڈا پھوٹ جاتا ہے۔ ڈر اور خوف سے بے نیاز ظریف، بھرے مجمے میں اپنی محبت کا اقرار کرتا ہے اور علاؤالدین، اس کی بہادری سے متاثر ہو کر اس کو موقع دیتا ہے کہ اگر وہ تین ماہ تک دس لاکھ روپیہ لے آئے تو وہ اپنی بیٹی کی شادی ظریف سے کر دے گا۔ ظریف، نہ صرف یہ چیلنج قبول کرتا ہے بلکہ اپنی طرف سے اس میں مزید پانچ لاکھ روپے کا اضافہ کر دیتا ہے تا کہ نورجہاں کی شادی بھی اسلم پرویز سے ہو سکے۔ سب رضامند ہو جاتے ہیں۔

    ایک غریب آدمی کے لیے یہ کیسے ممکن تھا کہ تین ماہ میں پندرہ لاکھ روپے کا بندوبست کر لے۔ اس دور میں کہ جب ایک لاکھ میں پوری فلم بن جاتی تھی اور "سات لاکھ" کی فلم میں اس رقم کی جائیداد، گاڑیاں اور بنگلے دکھائے گئے تھے۔ یاد رہے کہ 1958ء میں پانچ من آٹا، 12 روپے کا مل جاتا تھا اور ایک تولہ خالص سونے کی قیمت 114 روپے تھی جو 2026ء میں سوا چار لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔۔!

    ظریف، نورجہاں کو لے کر شہر چلا جاتا ہے جہاں ایک جگہ، ایک گانے والی اپنے فن کا مظاہرہ کر رہی ہوتی ہے۔ ظریف کے کہنے پر جب نورجہاں، اس گیت میں شامل ہوتی ہے تو منتظمین عش عش کر اٹھتے ہیں اور اس کو اپنے تھیڑ میں گانے کا موقع دیتے ہیں جہاں پہلی پرفارمنس کا اسے دو سو روپے ملتے ہیں۔ اس پر نورجہاں، پوچھتی ہے: "پندرہ لاکھ میں باقی کتنی رقم رہ گئی ہے۔۔؟" تو ظریف بڑے اطمینان سے جواب دیتا ہے: "کچھ زیادہ نہیں، بس چودہ لاکھ، 98 ہزار آٹھ سو روپے ہی باقی رہ گئے ہیں۔۔"

    ترقی کے باوجود انھیں اتنی رقم نہیں ملتی کہ پندرہ لاکھ کے ہدف کو چھو بھی سکیں۔ ایسے میں تھیٹر مالکان کی باہمی چپقلش اور لڑائی مارکٹائی میں "چھومنتر" ہوتا ہے اور ظریف کو موقع مل جاتا ہے جو ایک تجوری سے لاکھوں روپوں کی نقدی اڑا کر وعدہ کے مطابق گاؤں پہنچ جاتا ہے لیکن پیچھے پولیس بھی آ جاتی ہے جو ظریف کا تعاقب کرنے والے جعلی کرنسی بنانے والے ایک بڑے مجرم پیشہ اشتہاری گروہ کو گرفتار کر لیتی ہے جس پر اسے انعام بھی ملتا ہے۔

    وعدے کے مطابق، ظریف، پندرہ لاکھ روپے کی بھاری رقم تو نہیں لا پاتا لیکن اس کی ذہانت اورعزم و استقلال کو علاؤالدین پسند کرتا ہے اور اپنی بیٹی لیلیٰ کی شادی، اس سے اور گل زمان کو مجبور کر کے نورجہاں کی شادی اسلم پرویز سے کروا دیتا ہے۔

فلم چھومنتر (1958) کے چند اہم فنکار

فلم چھومنتر (1958) کا مرکزی کردار اداکار ظریف کا تھا جو پوری فلم پر چھائے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ میڈم نورجہاں کی پاٹے خان (1955) کے بعد یہ دوسری فلم تھی۔ اسلم پرویز، صرف خانہ پری کے لیے تھےاور سابقہ فلم (پاٹے خان) کی طرح ایک بار پھر ہرجائی ہیرو تھے۔

1960 کی دھائی کے مقبول ترین فنکار علاؤالدین کے علاوہ اداکارہ لیلیٰ کے ساتھ بھی میڈم نورجہاں نے پہلی بار کام کیا تھا۔ ان کے علاوہ اہم کرداروں میں اداکار سلیم رضا بھی تھے جو تقسیم سے قبل، لاہور میں بننے والی پہلی بلاک باسٹر فلم گل بکاؤلی (1939) کے علاوہ میڈم نورجہاں کی بمبئی میں بننے والی پہلی بلاک باسٹر فلم زینت (1945) میں ان کے ہیرو بھی تھے۔

ان تمام فنکاروں کے علاوہ دو فنکار ایسے بھی تھے جو بظاہر معمولی کرداروں میں نظر آئے لیکن حقیقت میں غیرمعمولی اور "تاریخ ساز فنکار" تھے۔ آیئے، جانیں کہ کیسے۔۔؟

اداکار غلام قادر

اداکار غلام قادر کو
لاہور کی پہلی فلم کا ہیرو
ہونے کا اعزاز حاصل ہے

فلم چھومنتر (1958) میں اداکار ظریف کے باپ کے کردار میں نظر آنے والے معاون اداکار، ماسٹر غلام قادر کو یہ ناقابلِ شکست اعزاز حاصل ہے کہ قریباً سو سال قبل، لاہور میں بنائی جانے والی پہلی فیچر فلم Daughters of Today یا "آج کی بیٹیاں" (1927) کے ہیرو تھے۔۔!

فلمساز، ہدایتکار اور عکاس، گوپال کرشن مہتا کی اس خاموش فلم کی ہیروئن ولایت بیگم تھی۔ اے آر کاردار ولن اور ایم اسماعیل، اپنی پہلی فلم میں بھی کیریکٹرایکٹر ہی تھے۔

اداکار ماسٹر غلام قادر کی ایک بلیک اینڈ تصویر فلم چھومنتر (1958) سے لی اور AI کو پہلے اس تصویر کو رنگین کرنے کا کہا۔ پھر فرمائش کی کہ ایسی تصویر کشی کرو کہ ایک صدی پہلے، لاہور کی فلموں کا یہ پہلا ہیرو، جوانی میں کیسے دِکھتا ہوگا۔۔؟

(دروغ برگردنِ اے آئی) نتیجہ ملاحظہ فرمائیں:

ماسٹر غلام قادر نے پاکستان میں دو درجن سے زائد فلموں میں کام کیا جن میں پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد (1948) بھی تھی۔ آخری فلم ہتھ جوڑی (1964) تھی۔ تقسیم کے قبل بھی دو درجن سے زائد فلموں کا ریکارڈ ملتا ہے۔ زیادہ تر معاون اداکار رہے۔ 1970ء میں انتقال ہوا تھا۔

اداکار گل زمان

اداکار گل زمان پر
محمدرفیع کا گایا ہوا پہلا گیت
فلمایا گیا تھا

فلم چھومنتر (1958) میں ہیرو اسلم پرویز کے باپ کے کردار میں نظر آنے والے معاون اداکار چوہدری گل زمان،تقسیم سے قبل لاہور میں بننے والی فلموں کے مستقل فنکار تھے اور 1940 کی دھائی میں متعدد فلموں میں ہیرو کے کرداروں میں نظر آئے تھے۔

فلم چھومنتر (1958) کے فلمساز میاں مشتاق کی (غالباً) یادگار پنجابی فلم گل بلوچ (1944) کے ہیرو اور ہدایتکار تھے۔ اس فلم میں پہلی بار عظیم گلوکار محمدرفیع کو متعارف کروایا گیا اور ان کا گایا ہوا پہلا گیت: "سوہنیے نی، ہیریے نی۔۔"، اداکار گل زمان پر ہی فلمایا گیا تھا۔۔!

ماسٹر غلام قادر کی طرح، اداکار گل زمان پر بھی AI کو طبع آزمائی کا موقع دیا۔ نتیجہ ملاحظہ فرمائیں:

اداکار گل زمان نے تقسیم کے قبل درجن بھر اور پاکستان میں پانچ درجن کے قریب فلموں میں معاون اداکار کے طور پر کام کیا تھا۔ ان کی یادگارفلموں میں سے فلم ہیررانجھا (1970) میں "سیدے کھیڑے" یعنی منورظریف کے باپ کے اہم رول میں تھے۔ 1993ء میں انتقال ہوا تھا۔

میاؤں میاؤں

یادش بخیر، فلم چھومنتر (1958) میں پہلی بار ملکہ ترنم نورجہاں کو اداکاری کرتے اور اپنے گیت خود گاتے ہوئے دیکھا اور سنا تھا۔ سنگم سینما کھاریاں میں یہ فلم بڑے ذوق و شوق سے دیکھی تھی۔ اس فلم میں خاص طور پر میڈم کا یہ مکالمہ ہمیشہ یاد رہا (ترجمہ):

  • "ِبلی، اتنی دیر سے میاؤں میاؤں کر رہی ہے اور بِلے کو خبر ہی نہیں۔۔!"
یہ فلمی ڈائیلاگ راقم نے اپنی شریکِ حیات کو شادی اور منگنی سے کئی سال پہلے، 1979ء کے آخری مہینوں میں اپنی پہلی پہلی ملاقات میں سنایا تھا۔ ان دنوں روزانہ ڈائری لکھنے کا عادی ہو چکا تھا اور یہ واقعہ اس دن کے صفحہ پر بڑے اہتمام سے رنگین پھول پتیاں بنا کر لکھا تھا۔

ازدواجی زندگی کی چار دھائیوں، چار جوان بچوں کے والدین اور دادا دادی بننے کے باوجود، تنہائی کی وہ پہلی ملاقات، ماحول اور اس وقت کے احساس و جذبات کوکبھی نہیں بھلا سکا۔۔!

فلم انارکلی (1958)

اس سال، ملکہ ترنم نورجہاں کی دوسری فلم انارکلی، 6 جون 1958ء کو ریلیز ہوئی جس میں ان کے گائے ہوئے آٹھوں گیت کلاسیک گیتوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ پہلی فلم تھی جس کے سبھی گیت میڈم نے اکیلے گائے اور کیا خوب گائے تھے۔!

نگار فلمز کے فلمساز مختاراحمد کی اس اوسط درجہ کا بزنس کرنے والی نغماتی فلم کے ہدایتکار اور مکالمہ نگار، انور کمال پاشا تھے۔ سید امتیاز علی تاج کی کہانی کا سکرین پلے مکالمے قمراجنالوی نے لکھا تھا۔ عکاس رشید لودھی تھے جبکہ تدوین کار، ایم اکرم تھے جو بعد میں بہت بڑے فلم ڈائریکٹر بنے۔

اداکاروں میں میڈم نورجہاں کے ٹائٹل رول کے علاوہ سدھیر (شہزادہ سلیم) اورہمالیہ والا (شہنشاہ اکبر) کے مرکزی کرداروں میں تھے۔ شمیم آراء، ظریف، اجمل، فضل حق اور جی این بٹ وغیرہ دیگر معاون اداکار تھے۔ ان کے علاوہ اداکارہ راگنی (دل آرام) کے ویمپ کردار میں تھی جو 1940 کی دھائی میں لاہور کی فلموں کی سپرسٹار ہیروئن ہوتی تھی۔ میڈم کے ساتھ اس کی یہ اکلوتی فلم تھی۔

فلم انارکلی (1958) کی موسیقی

فلم انارکلی (1958) کے سبھی گیت، کلاسیک گیتوں کا درجہ رکھتے ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک ماسٹرپیس تھا۔ بلاشبہ گائیکی میں ملکہ ترنم نورجہاں، بے مثل تھیں جنھوں نے ایک بار پھر اپنی عظمت کی دھاک بٹھا دی تھی۔

دونوں موسیقاروں، ماسٹرعنایت حسین اور رشیدعطرے کے علاوہ پانچوں گیت نگاروں قتیل شفائی، تنویرنقوی، سیف الدین سیف، طفیل ہوشیارپوری اور حکیم احمدشجاع کی کارکردگی بھی لائقِ تحسین تھی۔

ملکہ ترنم نورجہاں کے گائے ہوئے آٹھوں گیت کبھی VCR پر روزانہ دیکھ کر سوتا تھا۔ میڈم کی سکرین بیوٹی تو تھی ہی، آواز سونے پہ سہاگہ ہوتی تھی۔ اس فلم کے شاہکار گیت فلم میں اس ترتیب سے سننے کو ملتے ہیں:

  • صدا ہوں اپنے پیار کی، جہاں سے بے نیاز ہوں۔۔ (قتیل شفائی)
  • کیا جانے کیا ارماں لے کر، ہم تیری گلی میں آ نکلے۔۔ (حکیم احمدشجاع)
  • بانوری چکوری، کرے دنیا سے چوری چوری، چندا سے پیار۔۔ (قتیل شفائی)
  • کہاں تک سنو گے، کہاں تک سناؤں۔۔ (تنویر نقوی)
  • پہلے تو اپنے دل کی ادا جان جایئے۔۔ (قتیل شفائی)
  • بے وفا، ہم نہ بھولے تجھے۔۔ (سیف الدین سیف)
  • جلتے ہیں ارمان میرا دل روتا ہے۔ (تنویر نقوی)
  • تمہاری آرزو میں کوچہءِ قاتل تک آ پہنچے۔۔ (قتیل شفائی)

فلم انارکلی (1958) کی کہانی

پاکستان میں انارکلی کی کہانی کو صرف ایک بار فلمایا گیا ہے اور یہ ایک بہترین کاوش اور ایک کلاسک فلم تھی۔ کہانی کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں:

    کابل کے ایک سوداگر کی بیٹی نادرہ (نورجہاں) کی گائیکی کی صلاحیتوں کو اکبر کے نورتنوں میں سے ایک، "تان سین" نے تراشا اور "جشنِ ماہتابی" میں دربارِ اکبری میں پیش کیا جہاں اس کی شاندار گائیکی سے "انارکلی" کا خطاب ملا۔

    اسی محفل میں شہزادہ سلیم (سدھیر)، انارکلی (نورجہاں) کے فن کے علاوہ حسن کا بھی دیوانہ ہوجاتا ہے لیکن ایک کنیز "دل آرام" (راگنی) کے حسد اور جلن کی وجہ سے "جشنِ نوبہار" میں انارکلی کو شراب پلا کر کی گئی پرفارمنس، اس کے لیے عذاب بن جاتی ہے اور وہ، اس گستاخی پر زندان میں پھینک دی جاتی ہے۔

    شہنشاہ اکبر (ہمالیہ والا)، انارکلی کی سزا معاف کر کے واپس کابل جانے پر راضی کر لیتا ہے لیکن شہزادہ سلیم، قافلے پر حملہ کر کے انارکلی کو رہا کروا لیتا ہے لیکن پکڑا جاتا ہے۔ انارکلی اور شہزادہ سلیم کو بغاوت اور قتل و غارت کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے اور دونوں کو سزائے موت کا حکم سنا دیا جاتا ہے۔

    انارکلی کو تو دیوار میں چنا جاتا ہے لیکن شہزادہ سلیم کو موت کی سزا دینا کسی اہلکار کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ خود اکبر، اپنے بیٹے کا سر تن سے جدا کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن پدری جذبہ سے مجبور ہو کر بے بس ہو جاتا ہے۔ اس پر درباریوں کے کہنے پر دونوں کو معاف کر دیا جاتا ہے۔

    شہنشاہ اکبر، انارکلی، سلیم کو بخش دیتا ہے لیکن دل آرام، ایک تیر سے انارکلی کا کام تمام کر دیتی ہے اور محبت کی یہ کہانی امر ہو جاتی ہے۔

انارکلی کے افسانوی کردار کو لازوال شہرت 1922ء میں لکھے گئے ایک ناول سے ملی جس کو لکھنے کا اعزاز سید امتیاز علی تاج (1970-1900) کو حاصل ہے۔ اس کہانی پر برصغیر پاک و ہند میں بہت سی فلمیں بنائی جا چکی ہیں جن میں بھارت میں انارکلی (1953) اور مغلِ اعظم (1960) اور پاکستان میں انارکلی (1958)، مشہور ترین فلمیں تھیں۔

انارکلی، نور جہاں اور جہانگیر

اردو ادب میں افسانہ اور ناول نگاری نے متعدد ایسے لازوال کردار تخلیق کیے کہ جنھیں لوگ حقیقی کردار سمجھنے لگے۔ ان میں "انارکلی" کا افسانوی کردار نمایاں ہے جس کو 16ویں صدی کے مغل دور میں شہنشاہ اکبر (دورِحکومت: 1605-1556) اور اس کے بیٹے جہانگیر (دورِحکومت: 1627-1605) سے جوڑا جاتا ہے۔

تاریخی طور پر"انارکلی" کے وجود کا کوئی ثبوت نہیں ملتا البتہ اس متنازعہ کردار کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ کچھ لوگ لاہور میں انارکلی کے مقبرے کو ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو کوئی ثبوت نہیں کیونکہ پاکستان میں بیشتر مزاروں کی حقیقت اہلِ نظر بخوبی جانتے ہیں اور یہ مزار ویسے بھی کسی اور سے منسوب تھا۔

انارکلی کے قصے کا تمام تر تانابانا، دو انگریز سیاحوں، ولیم فنچ (William Finch) اور ایڈورڈ ٹیری (Edward Terry) سے جوڑا جاتا ہے جنھوں نے 1608ء میں لاہور کا دورہ کیا اور اپنی یادداشت میں سنی سنائی باتیں لکھیں کہ انارکلی، شہنشاہِ اکبر کی ایک بیوی تھی جس کے اس کے بیٹے سلیم (جہانگیر) سےناجائز تعلقات تھے۔ سزا کے طور پر اکبر نے اسے دیوار میں چنوا دیا جس پر جہانگیر نے بغاوت کر دی تھی۔

تاریخی حقائق کے مطابق، جہانگیر نے اکبر کے خلاف بغاوت، انارکلی کے لیے نہیں بلکہ اقتدار کی ہوس میں کی تھی۔ جہانگیر، اپنی شراب نوشی کی وجہ سے بدنام تھا، اسی لیے اکبر، اپنے پوتے اور جہانگیرکے سترہ سالہ بیٹے "خسرو" کو اپنا جانشین بنانا چاہتا تھا لیکن اقتدار کی اس جنگ میں جہاں جہانگیر نے اپنے ہی باپ کے خلاف بغاوت کی وہاں اپنے سگے بیٹے کو اندھا کر کے جیل میں پھینک دیا جہاں اس کی موت واقع ہوگئی تھی۔

دیگر روایات کے مطابق، انارکلی، شہنشاہ اکبر کے حرم میں "مہرالنساء" نامی ایک درباری طوائف، کنیز، لونڈی یا خادمہ تھی جس کو شہنشاہ کے بیٹے سلیم (جہانگیر) سے محبت کی سزا ملی تھی۔ یہی کہانی فلموں میں بھی فلمائی گئی ہے۔

ولیم فنچ ہی کے مطابق، شہنشاہ جہانگیر نے اپنی محبت کی نشانی کے طور پر لاہور میں ایک دیوار سے گھرے ہوئے چار مربع باغ کے بیچ میں پتھر کا ایک مقبرہ اور اس پر سونے کا گنبد تعمیر کرنے کا حکم دیا اور سفید سنگ مرمر کے نقش و نگار پر لکھوایا: " کیا میں ایک بار پھر اپنے محبوب کا چہرہ دیکھ سکتا ہوں۔ میں قیامت تک اللہ کا شکر ادا کروں گا۔" تاریخی روایات کے مطابق، یہ مزار پہلے سے موجود تھا اور اس پر انتہائی قیمتی نوادرات کو سکھ دور میں لوٹا گیا تھا۔

عام خیال یہ ہے (اور جو حقیقت کے قریب تر ہے) کہ "انارکلی" کو "مہرالنساء عرف ملکہ نور جہاں" کے حقیقی کردار سے گڈمڈ کیا جاتا رہاہے۔۔!

تاریخی روایات کے مطابق، شہنشاہ جہانگیر (عرصہ حیات: 1627-1569) ، پہلی ہی نظر میں نور جہاں (عرصہ حیات: 1645-1577) پر عاشق ہوگیا تھا۔ جہانگیر نے مبینہ طور پر نورجہاں کے خاوند شیرافگن کو قتل کروا کے 1611ء میں اس سے شادی کر لی تھی۔ "مہرالنساء" کو "نورجہاں" کا نام بھی جہانگیر ہی نے دیا تھا۔

اس موضوع پر بھارت میں ہدایتکار ایم صادق نے فلم نور جہاں (1968) بنائی جس میں میناکماری، پردیپ کمار اور شیخ مختار نے مرکزی کردار کیے لیکن اس فلم میں بعض تاریخ حقائق کو مصلحتاً مسخ کیا گیا تھا۔

پاکستان میں اس موضوع پر کوئی فلم نہیں بنی البتہ اسی سال فلم شہنشاہ جہانگیر (1968) ریلیز ہوئی جس میں "عدلِ جہانگیر" کو موضوع بنایا گیا تھا۔ سنتوش نے ٹائٹل رول کیا جبکہ صبیحہ نے ملکہ نورجہاں کا رول کیا تھا۔

ملکہ نور جہاں، ایک انتہائی ذہین و فطین اور شاطر عورت تھی جو شہنشاہ جہانگیر کی 20ویں، آخری اور انتہائی بااثر بیوی تھی۔ حقیقت میں جہانگیر کی نشے کی لت کی وجہ سے ہندوستان کی اصل حکومت (1611ء سے 1627ء تک)، اسی کے ہاتھ میں تھی۔ ان دونوں کے مقبرے لاہور میں ہیں۔

فلم جانِ بہار (1958)

فلم جانِ بہار (1958)، اس لحاظ سے یادگار تھی کہ یہ پہلی فلم تھی جس میں ملکہ ترنم نورجہاں کے گیت تو تھے لیکن وہ خود نہیں تھیں۔۔!

روایت ہے کہ پس پردہ گلوکارہ کے طور پر ملکہ ترنم نورجہاں نے پہلا گیت فلم سلمیٰ (1960) کے لیے ریکارڈ کروایا تھا لیکن ریلیز کے اعتبار سے پہلی فلم بھابھی (1960) تھی۔

سوموار 21 اپریل 1958ء کو عیدالفطر کا دن تھا اور اس دن میڈم نورجہاں کی دو فلمیں، چھومنتر اور جانِ بہار (1958) ریلیز ہوئیں۔ ایک پنجابی اور دوسری اردو فلم تھی۔ ان میں پہلی فلم میں میڈم، اداکاری اور گلوکاری بھی کر رہی تھیں لیکن دوسری فلم میں صرف گیت گائے اور خود غائب تھیں۔ اس غائب ہونے کی وجہ میڈم نورجہاں کی اپنے پہلے شوہر شوکت حسین رضوی سے علیحدگی کے بعد طلاق تھی جو اس فلم کی تکمیل کے دوران ہوئی تھی۔

فلم جانِ بہار (1958) کے فلمساز، ہدایتکار اور کہانی نویس کے طور پر شوکت حسین رضوی کا نام ملتا ہے جن کی پاکستان میں یہ پہلی فلم تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم کی کہانی بھی ان دونوں کی ذاتی زندگی کے بارے میں تھی کہ کیسے ایک تھوڑی سی بدگمانی، میاں بیوی کے رشتے میں دراڑیں ڈال دیتی ہے اور اس کی قیمت معصوم اولاد کو چکانا پڑتی ہے۔

اس فلم کے یہ دو مکالمے بڑے کمال کے تھے کہ "میرا دامن تو بالکل صاف ہے، چاہے اس پر نماز بھی پڑھ سکتے ہو۔۔" اور "میرے دوپٹے کا کوئی کونہ صاف نہیں جو آپ کے آنسو پونچھ سکے۔۔"

فلم جانِ بہار (1958) میں ملکہ ترنم نورجہاں کے ریکارڈ شدہ گیت تو شامل کیے گئے لیکن ہیروئن کے طور پر ان کی جگہ، مسرت نذیر کو لیا گیا جو اس وقت چوٹی کی ہیروئن بن چکی تھیں۔ ہیرو، سدھیر تھے جبکہ ایک چائلڈ سٹار حسنہ نے پہلی بار اداکاری کی اور خوب داد حاصل کی تھی۔ باقی فنکاروں کی فوج ظفر موج تھی۔ ایک معیاری اور بامقصد فلم ہونے کے باوجود یہ فلم، باکس آفس پر ناکام رہی تھی۔

فلم جانِ بہار (1958) کے گیت

میڈم نورجہاں کے فلم جانِ بہار (1958) میں چار گیتوں کا حوالہ ملتا ہے جن میں سے تین گیت آن لائن موجود ہیں۔ ان میں ایک سماجی طنز و مزاح کا شوخ کورس گیت تھا: "یا خدا، بخش دے پھر تابِ سخن شوہر کو۔۔" اس میں ملکہ ترنم نورجہاں کے علاوہ زبیدہ خانم، سائیں اختر، امداد حسین اور بہت سی دیگر آوازیں شامل تھیں۔

فلم کا مقبول ترین گیت میڈم نورجہاں نے گایا اور کیا خوب گایا تھا:

  • کیسا نصیب لائی تھی، گلشنِ روزگار میں۔۔
میڈم نورجہاں کا یہ گیت بھی بڑے کمال کا تھا:
  • نہ آنسو بہے تھے، نہ صدمے سہے تھے، محبت کی دنیا میں آنے سے پہلے۔۔
اس فلم میں میڈم نورجہاں کا گایا ہوا چوتھا گیت "طوفانِ محبت اٹھا ہے، ہم کاش اس میں بہہ نہ جائیں۔۔" کبھی سننے میں نہیں آیا۔

فلم جانِ بہار (1958) میں ملکہ ترنم نورجہاں کے گائے ہوئے سبھی گیت، فلم کی ہیروئن مسرت نذیر پر فلمائے گئے۔ قتیل شفائی، شاعر اور رشیدعطرے موسیقار تھے۔ میڈم کے علاوہ دیگر گلوکاروں میں زبیدہ خانم، کوثرپروین، نسیم بیگم، زاہدہ پروین، سلیم رضا، امدادحسین، سائیں اختر اور دیگر شامل تھے۔

فلم جانِ بہار (1958) کی ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ ایک محفلِ موسیقی میں نسیم بیگم اور زاہدہ پروین کے گائے ہوئے اور اداکارہ نیلو پر فلمائے ہوئے ایک کلاسیکل گیت اور رقص "آج جی بھر کے خنجر چلائیں گے ہم۔۔" کے دوران، وقت کے دونوں سپرسٹار فلمی ہیرو، سدھیر اور سنتوش، شوکت حسین رضوی کے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے نظر آئے جو ایک منفرد اور یادگار منظر تھا۔

سدھیر اور سنتوش نے اپنے اپنے چار دھائیوں کے طویل فلمی کیرئر میں کبھی کسی ایک فلم میں ایک ساتھ کام نہیں کیا تھا۔۔!

1958ء کی فلمی تاریخ

1958ء میں کل 33 فلمیں ریلیز ہوئیں۔ اہم ترین واقعات مندرجہ ذیل ہیں:

  • اس سال، لاہور کی کامیاب ترین فلم مکھڑا (1958) تھی جس میں منیرحسین نے بھی اپنے فلمی کیرئر کا مقبول ترین گیت "دِلا، ٹھہر جا، یار دا نظارا لین دے۔۔ "گایا تھا۔
    کراچی کی کامیاب ترین اردو فلم آخری نشان (1958) تھی جو سال کی اکلوتی گولڈن جوبلی فلم بھی تھی۔
  • پاکستان کا پہلا سپرہٹ جنگی ترانہ "اے مردِ مجاہد، جاگ ذرا، اب وقتِ شہادت ہے آیا۔۔ "، فلم چنگیزخان (1958) میں گانے کا اعزاز، عنایت حسین بھٹی کو حاصل ہوا تھا۔
  • دو نامور گلوکارائیں، نسیم بیگم، فلم بے گناہ (1958) اور آئرن پروین، فلم ممتاز (1958) میں متعارف ہوئیں۔ معروف موسیقار سلیم اقبال، فلم شیخ چلی (1958) اور مصلح الدین، فلم آدمی (1958) میں سامنے آئے تھے۔
  • تین نامور ولن اداکاروں، مظہرشاہ، اسد بخاری اور مصطفیٰ قریشی کے علاوہ رنگیلا اور سلمیٰ ممتاز کا فلمی کیرئر بھی شروع ہوا تھا۔
  • اسی سال، نگار ایوارڈز کا آغاز ہوا جس میں گزشتہ سال کی صرف اردو فلموں کو ایوارڈز دیے گئے تھے۔
  • بھارت میں سال بھر میں صرف چار درجن ہندی/اردو فلمیں ہی ریلیز ہو پائیں جن میں دلیپ کمار اور وجنتی مالا کی مدھو متی (1958)، کامیاب ترین فلم تھی۔

1958ء کے اہم واقعات

  • 7 اکتوبر 1958ء کو پاکستان میں پہلی بار مارشل لاء کی لعنت مسلط ہوئی۔ یہ مکروہ فعل کرنے والے کا انجام انتہائی عبرتناک ہوا۔ صرف ایک ماہ بعد اپنے ہی نام نہاد "نجات دہندہ" سے ایسا دیس نکالا ملا کہ جس دیس کا کبھی مطلق العنان حکمران ہوا کرتا تھا، اسی دیس میں دفن کے لیے دو گز زمین تک نہ مل سکی تھی۔۔(اللہ اکبر!!!)
  • دوسری جنگِ عظیم کے بعد "سردجنگ" کے بعد "خلائی جنگ" کا آغاز بھی ہوا اور امریکہ نے روس کی تقلید میں خلاء میں پہلا سیٹلائٹ بھیجا۔ اسی سال یورپین یونین کا آغاز بھی ہوا اور عرب ممالک میں خاصی اکھاڑ پچھاڑ ہوئی تھی۔
  • 1958ء ہی میں "ڈریکولا" کے کردار میں اداکار کرسٹوفرلی، مشہور ہوا جس نے بعد میں "جناح" نامی فلم میں قائدِاعظمؒ کا رول کیا تھا۔

1959ء میں میڈم نورجہاں کی ایک سُپرفلاپ فلم ریلیز ہوئی تھی۔۔!

ایک انتہائی شاندار فلم پوسٹر کے باوجود، پاپولر پکچرز کی پنجابی فلم پردیسن (1959)، ایک گمنام، گمشدہ اور سپرفلاپ فلم تھی جو میڈم نورجہاں کی پاکستان میں بطورِ اداکارہ/گلوکارہ، 13 فلموں میں سے واحد فلم تھی کہ جس کا کوئی ایک بھی گیت کبھی سننے میں نہیں آیا حالانکہ گیت نگار حزیں قادری اور احمدراہی جیسے عظیم فلمی شاعر تھے۔ اخترحسین اکھیاں نے دھنیں بنائیں اور ملکہ ترنم نورجہاں کے علاوہ زبیدہ خانم اور سلیم رضا جیسے بڑے بڑے گلوکاروں نے گیت گائے تھے۔

فلم پردیسن (1959)کے گیت

پاکستان فلم میگزین پر فلم پردیسن (1959) کے نایاب گیتوں کا جو ریکارڈ دستیاب ہے، وہ ملاحظہ فرمائیں:

  • اج آئی غماں والی شام، سجناں۔۔
  • جاویں نہ میری جان، دل توڑ کے۔۔
  • جاواں ماہی کول، مار کے اڈاریاں۔۔
  • میرے یار دا چمکدادیوا تے ندیوں پار بلدا۔۔
  • میری ٹوہر تے ماہی کردا شک نی۔۔
  • موڑ مہاراں سانول وے، کتھے دیراں لائیاں۔۔
  • اک الہڑ مٹیار دا، اک بانکی سوہنی نار دا۔۔ (مع سلیم رضا)
  • کر پکھی وانگوں رول سجناں، وے کتھے چلیاں ایں۔۔ (مع سلیم رضا)
  • ذرا میرے کولوں پراں پراں رو۔۔ (مع سلیم رضا)
فلم پردیسن (1959) کے گیارہ گیتوں میں سے مندرجہ بالا نو گیت، ملکہ ترنم نورجہاں نے گائے جن میں تین دوگانے سلیم رضا کے ساتھ تھے۔ باقی ایک گیت "چھن چھن جھانجھر چھنکاواں۔۔" زبیدہ خانم اور ایک مزاحیہ گیت "تو کون؟ میں خوامخواہ!لے پھڑ دوانی۔۔"، ظریف نے گایا تھا۔

فلم پردیسن (1959)

10 اپریل 1959ء کو جمعتہ المبارک اور عیدالفطر کا مبارک دن تھا جب پاکستان کی فلمی تاریخ میں پہلی بار ایک ہی دن سات فلمیں ریلیز ہوئیں۔ ان میں فلمساز اور ہدایتکار ایم نسیم (پاپولر) کی فلم پردیسن (1959) بھی تھی جس کا ٹائٹل رول میڈم نورجہاں نے کیا۔ اسلم پرویز، روایتی ہیرو تھے۔ آشا پوسلے، ظریف، علاؤالدین اور طالش دیگر نمایاں اداکار تھے۔

فلم پردیسن (1959) کا پرنٹ اور مزید معلومات دستیاب نہیں، اس لیے اس فلم کی کہانی کے بارے میں بات کرنا مشکل ہے البتہ اپنے گیتوں کی روشنی میں یہ ایک روایتی رومانٹک فلم لگتی ہے۔

فلم پردیسن (1959)، ایم نسیم کی بطورِ ہدایتکار پہلی فلم تھی۔ فلم ڈائریکٹر کے طور پر ان کی دیگر دونوں فلمیں، پنوں عاقل (سندھی) اور دو باغی (1970) بھی ناکام رہیں البتہ بطورِ فلمساز، پینگاں (1956)، چوہدری (1962)، چوڑیاں (1963) اور ماماجی (1964) کامیاب فلمیں تھیں۔ انھوں نے معروف اداکارہ لیلیٰ سے شادی کی تھی۔

1980 کی دھائی میں جائیداد کے تنازعہ میں میڈیا پر میڈم نورجہاں کی کردارکشی کی گئی تو ان کے سابق شوہر شوکت حسین رضوی نے فلم پردیسن (1959) کے فلمساز اور ہدایتکار ایم نسیم پاپولر کے ساتھ بھی میڈم کے ناجائز تعلقات کا الزام لگایا تھا۔

فلم نیند (1959)

ملکہ ترنم نورجہاں کی سالِ رواں کی دوسری فلم نیند (1959) تھی۔۔!

جمعتہ المبارک 16 اکتوبر 1959ء کو ریلیز ہونے والی اردو فلم نیند (1959) بھی میڈم کے فلمی کیرئر کی ایک بہت بڑی نغماتی فلم تھی۔ خاص طور پر اس فلم کے یہ دو گیت شاید ان کے "کلاسیکل دور" کے سب سے بہترین اور بھاری بھر کم گیت ہیں:
  • تیرے در پر صنم چلے آئے، تو نہ آیا تو ہم چلے آئے۔۔
  • چھن چھن چھن باجے، پائل باجے، سانوریا۔۔
ان شاہکار گیتوں کے علاوہ اس فلم میں میڈم نورجہاں کے رقص قابلِ دید تھے۔ ڈانس ماسٹر عاشق حسین سمراٹ اور عکاس رضامیر کی کارکردگی بڑی زبردست تھی۔

فلم نیند (1959) میں "آگئی رات نہ آئے سانوریا۔۔" بھی ایک اچھا گیت تھا۔ موسیقار رشیدعطرے، ایک انتہائی اعلیٰ پائے کے موسیقار تھے۔ گیت نگاروں، تنویر نقوی اور قتیل شفائی کی کارکردگی لاجواب تھی۔ گلوکاروں میں ملکہ ترنم نورجہاں کے علاوہ زبیدہ خانم اور نسیم بیگم نے بھی اپنی خداداد صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا تھا۔

زبیدہ خانم اور نسیم بیگم

فلم نیند (1959) کے دس گیتوں میں سے آٹھ گیت، میڈم نورجہاں نے گائے جن میں ایک کورس گیت "اکیلی کہیں مت جانا، جمانا ناجک ہے۔۔" میں زبیدہ خانم اور نسیم بیگم بھی ساتھ تھیں۔ اس گیت میں نمایاں آواز تو میڈم کی تھی لیکن زبیدہ خانم کو دونوں انتروں میں آدھے آدھے بول دیے گئےجبکہ نسیم بیگم کو آخری پورا انترہ گانے کا موقع ملا تھا۔ یہ گیت میڈم کے علاوہ نیلو، نگہت سلطانہ اور سکھیوں پر فلمایا گیا تھا۔

عام طور پر یہ ایک معمولی اور غیراہم بات لگتی ہے لیکن تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بڑی اہم ہے۔ زبیدہ خانم، 1950 کی دھائی کی مقبول ترین گلوکارہ تھیں اور اس سال یعنی 1959ء میں ایک کیلنڈر ائیر میں سو گیت گانے والی پہلی پاکستانی گلوکارہ بھی تھیں۔ لیکن عین عروج پر پہنچ کر اسی سال، شادی کے بعد فلمی دنیا سے کنارہ کش ہو رہی تھیں۔

زبیدہ خانم کی جگہ لینے کے لیے نسیم بیگم تیار تھی جو اسی سال کی یادگار فلم کرتارسنگھ (1959) کے شاہکار گیت "دیساں دا راجہ، میرے بابل دا پیارا۔۔" سے بامِ عروج پر پہنچ گئی تھی۔ فلمساز اور موسیقار، نسیم بیگم کی مقبولیت کو کیش کروانا چاہتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی اس فلم کا ایک دوگانا "جیا دھڑکے سکھی رے جور سے۔۔" میں میڈم نورجہاں کے ساتھ زبیدہ خانم کی بجائے نسیم بیگم سے گوایا گیا تھا۔

یاد رہے کہ اسی سال کی فلم جھومر (1959) میں "چلی رے چلی رے، میں تو دیس پیا کے چلی رے۔۔" گا کر ناہیدنیازی بھی صفِ اول کی گلوکارہ بن گئی تھیں۔

فلم نیند (1959) کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ میڈم نورجہاں کا ایک گیت "کیوں اداس ہو رہے ہو شام کی طرح۔۔"، اداکارہ رخشی پر فلمایا گیا جو ایک نامور ڈانسر یا مجرا اداکارہ تھی لیکن اس فلم میں اس نے اپنا کردار بخوبی نبھایا تھا۔

فلم نیند (1959) کی کہانی

فلم نیند (1959) کی کہانی کا مرکزی خیال، فلم کے پہلے فی میل کورس گیت میں ملتا ہے کہ "اکیلی کہیں مت جانا، زمانہ نازک ہے۔۔" یعنی عورت ہر دور میں غیرمحفوظ رہی ہے۔ فلم کی کہانی کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے:

    ایک ہوس پرست سرمایہ دار (اسلم پرویز)، اپنی خوبصورت سیکرٹری (رخشی) کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد کوئلہ چننے والی ایک غریب لڑکی (نورجہاں) کو شکار کرتا ہے۔ اس کا فرمانبردار منشی (دلجیت مرزا) ، اس کے لیے راہ ہموار کرتا ہے۔

    نورجہاں، اپنی سادگی اور بھولپن کی وجہ سے ایک آسان شکار بن کر اسلم پرویز کے ایک ناجائز بچے کی ماں بن جاتی ہے جس کو وہ، قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ نورجہاں کے قبیلے کا ایک بدمعاش لیکن غیرت مند نوجوان (علاؤالدین)، کوشش کرتا ہے کہ اسلم پرویز، نورجہاں کو اپنا لے لیکن ناکام رہتا ہے۔

    نورجہاں، اپنا بچہ لے کر خود، اسلم پرویز کے پاس جاتی ہے۔ وہ، بچے کو جان سے مارنے کی کوشش کرتا ہے۔ نورجہاں، اس سے ریوالور چھین لیتی ہے لیکن جب بچے کو کھڑکی سے پھینکنے کی کوشش کرتا ہے تو نورجہاں گولی چلا کر اس کو موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے۔ اس سے قبل کہ قانون حرکت میں آئے، اسی صدمے میں خود بھی مر جاتی ہے۔

    بچہ، علاؤالدین اور اس کی بیوی (نگہت سلطانہ) پالتے ہیں اور ایک اعلیٰ سکول میں داخل کروا کر اس کے تاریک اور تلخ ماضی کو دفن کرنے اور مستقبل کو روشن اور تابناک بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

فلم نیند (1959) کے اہم کردار

فلم نیند (1959) کی کہانی میں اداکار اسلم پرویز نے ایک ہوس پرست سرمایہ دار کا منفی کردار بخوبی ادا کیا اور ہیرو کے اس روایتی تصور کو بدل دیا کہ جو نیکی کا ایک مجسمہ ہوتا ہے یا فلم کے آخر میں گناہوں سے تائب ہو کر راہِ راست پر آ جاتا ہے۔ یہ کردار، اسلم پرویز کے بطورِ ولن شاندار فلمی کیرئر میں ایک سنگِ میل ثابت ہوا تھا۔

میڈم نورجہاں کی سکرین بیوٹی بڑے کمال کی تھی اور اس فلم میں بڑی سمارٹ اور پُرکشش نظر آئیں۔ خاص طور پر جب اس فلم میں تین دیگر حسینائیں یعنی نگہت سلطانہ، نیلو اور رخشی بھی تھیں تو ان کے مقابلے میں میڈم کا حُسن مزید نکھر کر سامنے آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ عمر بڑھنے سے میڈم کی بارعب شخصیت میں روز بروز نکھار پیدا ہوتا رہا اور وہ لاکھوں میں ایک نظر آتی تھیں۔ اس فلم میں اداکاری بھی بہت اچھی کی اور ان کے سدابہار سریلے گیتوں نے سونے پر سہاگے کا کام کیا تھا۔

اداکارہ نگہت سلطانہ، ایک شوخ کردار میں نظر آئی۔ یاد نہیں پڑتا کہ کبھی کسی دوسری اردو فلم میں اس نے ایسا کوئی بھرپور کردار کیا ہو۔ شاید اسی فلم کے دوران یا بعد میں، اس نے، اس فلم کے ہدایتکار حسن طارق سے شادی کر لی تھی۔

یاد رہے کہ میڈم نورجہاں کی اپنے پہلے شوہر شوکت حسین رضوی سے کشیدگی کے دوران یہ واقعہ عدالت تک پہنچا تھا کہ میڈم نے نگہت سلطانہ کی پٹائی کی تھی۔

فلم نیند (1959) میں اداکارہ نیلو کا ثانوی رول تھا جو ایک ڈانسر اداکارہ کے طور پر جانی جاتی تھی جبکہ ایک اور ڈانسر اداکارہ، رخشی نے اس فلم میں بہت اچھی اداکاری کی تھی۔

اداکار دلجیت مرزا، اس دور میں اردو فلموں کے ایک مقبول کامیڈین تھے جن کی اداکاری کا سٹائل ہالی وڈ اداکاروں جیسا ہوتا تھا۔ انھیں کامیڈین سے زیادہ شہرت بطورِفلمسازاور ہدایتکار ملی تھی۔ ان کی ایک پنجابی فلم ٹھاہ (1972)، ایک بہت بڑی نغماتی فلم تھی جس میں ملکہ ترنم نورجہاں کے سپرہٹ گیت تھے۔

فلم نیند (1959) میں اداکار علاؤالدین کے بدمعاش کے کردار، گیٹ اپ اور مکالموں کی ادائیگی نے فلم بینوں کو بڑا متاثر کیا۔ ایک اور عظیم اداکار، طالش نے ایک اندھے اور مظلوم باپ کے کردار میں اپنی قابلیت کی دھاک بٹھا دی۔

کراچی کے ایک فلمی صحافی اسدجعفری نے فلم نیند (1959) میں ایک غریب اور بے بس روایتی ہیرو کا مختصر رول کیا جو نورجہاں سے شادی کرنا چاہتا ہے لیکن جب اپنے ہی باس کو اپنی محبوبہ کی آبروریزی کے بعد ایک ناجائز بچے کی ماں بنتے ہوئے دیکھتا ہے تو صدمے سے شہر ہی چھوڑ جاتا ہے۔

اداکارہ لیلیٰ نے مہمان اداکارہ کے طور پر کام کیا۔ دیگر معاون کردار بھی اپنی اپنی جگہ خوب رہے۔ مجموعی طور پر نیند (1959)، ایک بہترین نغماتی اور سبق آموز فلم تھی البتہ پہلی بار دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم کوئی ہندوستانی فلم دیکھ رہے ہیں۔

حسن طارق

فلم نیند (1959) کے ہدایتکار حسن طارق کی یہ پہلی فلم تھی۔۔!

حسن طارق، لیجنڈری فلمساز اور ہدایتکار انور کمال پاشا کے ایک ہونہار شاگرد تھے۔ فلم سات لاکھ (1957) میں معاون ہدایتکار تھے۔ عام طور پر طوائفوں کے موضوع پر بنائی جانے والی فلموں کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ انجمن (1970) اور امراؤجان ادا (1972) جیسی بڑی بڑی فلمیں ان کے کریڈٹ پر ہیں۔ ہدایتکار ایس اے ملک اور ذکااللہ کچھلو کی اس کامیاب فلم کا سکرین پلے بھی انھی کا لکھا ہوا تھا۔

حسن طارق کا کمال تھا کہ انھوں اپنی پہلی ہی فلم میں ایک انوکھا تجربہ کیا اور فلم کے روایتی ہیرو (اسلم پرویز) کو ایک مکمل ولن کے روپ میں پیش کیا جبکہ ایک بدمعاش (علاؤالدین) کو مثبت کردار میں پیش کیا۔

اسلم پرویز نے فلم قاتل (1955) سے فلمی کیرئر کا آغاز کیا اور اسی سال کی فلم پاٹے خان (1955) سے چوٹی کے ہیرو بن گئے تھے۔ 1950 کی دھائی کے دونوں سپرسٹارز، سدھیر اور سنتوش کے بعد اسلم پرویز، تیسرے کامیاب ترین ہیرو تھے لیکن اسی منفرد کردار میں زبردست کامیابی کے بعد 1960ء کی دھائی میں اردو فلموں کے مقبول ترین ولن ثابت ہوئے تھے۔

فلم نیند (1959) کے اہم ترین کردار، علاؤالدین کو اسی سال کی فلم کرتارسنگھ (1959) نے اردو/پنجابی فلموں کی ضرورت بنا دیا تھا اور جتنے ورسٹائل کردار انھیں ملے، پاکستان کی فلمی تاریخ میں شاید ہی کبھی کسی دوسرے اداکار کو ملے ہوں گے۔

ریاض شاہد

فلم نیند (1959) کی کہانی اور مکالمے ریاض شاہد نے لکھے جن پر ہندی مکالموں کے اثرات واضح طور پر محسوس ہوتے ہیں۔

ریاض شاہد، بنیادی طور پر ایک صحافی تھے۔ بطورِ رائٹر پہلی فلم بھروسہ (1958) تھی۔ شہرت کا باعث دو تاریخی فلمیں، زرقا (1969) اور یہ امن (1971) ہیں۔ ان کی بیشتر سوشل فلموں کی کہانیوں میں ایک بات خاص طور پر محسوس کی جا سکتی ہے کہ ان میں عام طور پر ایک آبروباختہ عورت کا کردار ضرور ہوتا تھا یا مشہور ہوتا تھا۔

ریاض شاہد نے اس فلم میں نورجہاں کی چھوٹی بہن کا رول کرنے والی اداکارہ نیلو سے 1966ء میں شادی کی جس کو اسی سال فلم ناگن (1959) سے بطورِ فرسٹ ہیروئن، بریک تھرو ملا اور 1960ء کی دھائی کی چوٹی کی اداکارہ ثابت ہوئی تھی۔ ریاض شاہد اور نیلو، ماضی قریب کے چوٹی کے فلمی ہیرو، شان کے والدین تھے۔

نورجہاں اور نیلو کا بوسہ

فلم نیند (1959) کی دیگر "خوبیوں" کے علاوہ اس فلم کا ایک یادگار اور بولڈ منظر ایسا بھی تھا کہ جس پر کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر بھی خاصا چرچا رہا۔

یہ ایک دلکش اور نایاب منظر تھا جب فرطِ مسرت سے مغلوب ہو کر چھوٹی بہن نیلو، اپنی بڑی بہن نورجہاں کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ پیوست کر دیتی ہے جس کو عرفِ عام میں بوسہ، پپی یا kiss کہتے ہیں۔ اس بوسے کا ہم جنس پرستی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

اس اچانک فعل کے بعد نورجہاں اور نیلو کے تاثرات بڑے معصوم اور دل موہ لینے والے تھے جنھیں تصویر کی صورت میں محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

عام طور پر مغربی ممالک کی فلموں میں بوس و کنار کے مناظر، عام اور معمولی بات ہوتی ہے لیکن ہمارے سماجی اور مذہبی تناظر میں شاذونادر ہی ایسا ہوتا ہے۔ پاکستانی فلموں میں دو اور مناظر یاد ہیں جب فلم کالا پانی (1963) میں سدھیر، ترانہ کا اور فلم بہارو پھول برساؤ (1972) میں وحیدمراد، رانی کا بوسہ لیتے ہیں۔

ملکہ ترنم نورجہاں نے پلے بیک سنگر کے طور پر اداکارہ نیلو کے لیے بڑے سپرہٹ گیت گائے جن کا تذکرہ، میڈم نورجہاں کی 100ویں سالگرہ کے اس طویل سلسلے کے اگلے حصہ یعنی "نورجہاں کا سنہرا دور" میں ہوگا۔

سننے میں آیا تھا کہ میڈم نورجہاں کی ایک بیٹی کی شادی اداکارہ نیلو کے بیٹے شان سے طےپائی تھی لیکن پھر منسوخ ہو گئی تھی۔ (واللہ اعلم بالصواب)

نورجہاں اور اعجاز کی شادی

فلم نیند (1959) کی ریلیز کے صرف تین دن بعد 19 اکتوبر 1959ء کو میڈم نورجہاں نے ایک نوجوان اداکار اعجاز کے ساتھ شادی کر لی تھی۔ دلھن (33 سال) اور دولھا (24 سال) کی عمروں میں نو سال کا فرق تھا۔

میڈم نورجہاں کی شوکت حسین رضوی کے بعد یہ دوسری شادی تھی جبکہ اعجاز کی یہ پہلی شادی تھی جو 28 اپریل 1971ء تک قائم رہی تھی۔ دونوں، تین بیٹیوں کے والدین تھے۔

اداکار اعجاز کی بطورِ ہیرو پہلی فلم بڑا آدمی (1957) تھی۔ اسی سال، ان کی پہلی کامیاب فلم راز (1959) ریلیز ہو چکی تھی۔ اعجاز کا شمار، پاکستان کے چند گنے چنے فلمی ہیروز میں ہوتا ہے کہ جو بیک وقت اردو اور پنجابی فلموں میں کامیاب رہے۔ اعجاز کو پاکستان کا پہلا "ڈائمنڈ جوبلی ہیرو" ہونے کا اعزاز حاصل ہے لیکن رانجھا کا لازوال اور بے مثل کردار ان کی بڑی پہچان بنا۔

فلم کوئل (1959)

میڈم نورجہاں کی پاکستان میں اداکارہ/گلوکارہ کے طور سبھی فلموں میں سے باکس آفس پر کامیاب ترین کلاسک فلم "کوئل"، جمعتہ المبارک 25 دسمبر 1959ء کو ریلیز ہوئی تھی۔

ہدایتکار مسعودپرویز (جو اس فلم میں جمال بٹ کے ساتھ شریک فلمساز بھی تھے) کی اس شاندار نغماتی فلم میں مرکزی کردار تو ملکہ ترنم نورجہاں کا تھا جن کے ہیرو ایک بار پھر اسلم پرویز تھے جن کے ساتھ میڈم کی اس سال کی تینوں فلموں کے علاوہ یہ کل پانچویں اور آخری فلم تھی۔ اس طرح سے میڈم نے جس ہیرو کے ساتھ سب سے زیادہ کام کیا، وہ اسلم پرویز ہی تھے۔

فلم کوئل (1959) کی کہانی شمس لکھنوی نے لکھی جبکہ مکالمے اور منظرنامہ، موسیقار خواجہ خورشید انور کا لکھا ہوا تھا۔

فلم کوئل (1959) کی کہانی

فلم کوئل (1959) کی کہانی عورت کی وفا اور مرد کے شکی مزاج ہونے پر بنائی گئی ہے۔ خلاصہ ملاحظہ فرمائیں:

    استاد اللہ بندے خان (علاؤالدین)، ایک نامی گرامی گویے اور موسیقار ہیں۔ جب ملہار گاتے ہیں تو آسمان بادلوں سے بھر جاتا ہے لیکن ان کے گھر میں آٹے کا کنستر خالی ہوتا ہے۔ مہمان آ جائے تو گھر کا سامان بیچ کر آؤ بھگت کرنا پڑتی ہے۔ اسی کسمپرسی کے عالم میں ایک انتہائی خودغرض اور سازشی دوست (نذر) آ دھمکتا ہے جو مہمان بلائے جان ثابت ہوتا ہے۔

    اتفاق سے خان صاحب کو قاہرہ میں ایک جشنِ موسیقی میں شرکت کا سرکاری دعوت نامہ ملتا ہے جہاں بھاری انعام کی توقع ہوتی ہے۔ کسی حادثے کی صورت میں ان کا بیمہ ہوتا ہے۔ بیوی (ساحرہ) کو ناراض کر کے اپنی اکلوتی بیٹی زرینہ (نورجہاں) کے اچھے مستقبل کی امید پر حامی بھر لیتے ہیں اور بیوی اور بچی کو دوست کی حفاظت میں دے کر قاہرہ چلے جاتے ہیں۔

    سوئے اتفاق سے جہاز حادثے کا شکار ہو کر بصرہ (عراق) کے قریب گر کر تباہ ہو جاتا ہے لیکن خان صاحب بچ جاتے ہیں۔ ایک پاکستان سوداگر (اسلم پرویز، ڈبل رول)، پہچان لیتا ہے اور اپنے گھر لے جاتا ہے جہاں اپنے بیٹے سلیمان (اسلم پرویز) کو ان سے موسیقی کی تعلیم دلواتا ہے۔

    اس دوران اخبار میں خان صاحب کے انتقال کی خبر پر حکومت کی طرف سے ان کی بیوہ کو بیمہ کی رقم کا ایک لاکھ روپے کا چیک دینے کی خبر ملتی ہے۔ اس پر فیصلہ کرتے ہیں کہ اب کبھی پاکستان، واپس نہیں جائیں گے کیونکہ اپنی پوری زندگی میں اتنی رقم نہیں کما سکتے تھے جتنی ان کی موت پر ان کی بیوی کو مل گئی ہے۔

    خان صاحب کے گاؤں میں ان کی موت کی خبر کے بعد ان کی بیوی (ساحرہ)، اپنی بیٹی زرینہ (نورجہاں) کو موسیقی کی تعلیم دیتی ہے جبکہ مہمان (نذر) اس سے چھپ کر نورجہاں کو ناچنے کی تربیت دیتا ہے۔ اسی دوران، نذر، گاؤں میں مشہور کر دیتا ہے کہ ساحرہ نے اس سے شادی کر لی ہے۔ اس پر گاؤں والوں کے غیض و غضب سے بچنے کے لیے وہ، کراچی چلے جاتے ہیں جہاں نذر، نورجہاں کو ایک سٹیج پر ناچ گانے کے لیے "نگینہ بائی" کے نام سے پیش کرتا ہے۔ انھیں زبردست کامیابی ملتی ہے جس سے ان کی مالی حالت بہت بہتر ہو جاتی ہے لیکن ساحرہ کو ناچ گانے کی کمائی حرام لگتی ہے، وہ سلائی کڑھائی کر کے گزارہ کرتی ہے۔

    بصرہ میں باپ کے انتقال کے بعد عرصہ گیارہ سال بعد نوجوان سلیمان (اسلم پرویز) کے اصرار پر خان صاحب (علاؤالدین)، بھیس بدل کر واپس پاکستان واپس آتے ہیں اور اپنے گاؤں میں اپنی بیوی اور دوست کے رومانس کی افواہ پر سیخ پا ہو جاتے ہیں۔

    اس کے بعد کراچی میں اسلم پرویز کے گھر جاتے ہیں جہاں پڑوس ہی میں مشہور سٹیج گلوکار/رقاصہ نگینہ بائی (نورجہاں) بھی رہتی ہے۔ وہ اپنے بچپن کے ساتھی سلیمان (اسلم پرویز) کی یاد میں بچپن کا گیت گاتی ہے جو دونوں کو ملا دیتا ہے لیکن کاروباری مفادات میں نورجہاں کا باس (آزاد)، ان میں اختلافات پیدا کر دیتا ہے جو بعد میں نیلو کی سچائی کی وجہ سے ختم ہو جاتے ہیں اور دونوں کے ملنے کے علاوہ علاؤالدین بھی اپنی وفاشعار بیوی ساحرہ سے مل جاتے ہیں جس نے بیمہ کی رقم کا ایک لاکھ روپے کا چیک کیش نہیں کروایا ہوتا۔ نذرکو اپنے کرتوتوں کی سزا کے طور پر جیل کی ہوا کھانا پڑتی ہے۔

فلم کوئل (1959) کے کردار

فلم کوئل (1959) میں مرکزی کردار تو علاؤالدین کا ہے جو اس وقت پاکستان کے چوٹی کےآل راؤنڈ اداکار بن چکے تھے اور مرکزی کرداروں میں کاسٹ ہوتے تھے۔ میڈم نورجہاں نے ان کی بیٹی اور ایک ماہر گلوکارہ/رقاصہ کے طور پر بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جبکہ اسلم پرویز، ہیرو کے طور پر مناسب رہے۔ نیلو نے بھی اپنے کردار سے انصاف کیا۔ ساحرہ، ایک معاون اداکارہ تھی جو عام طور پرماں کے کرداروں میں نظر آتی تھی، اسکی کارکردگی بھی بہت اچھی تھی۔ اداکار آزاد اور سینئر اداکار غلام محمد کے کردار مختصر تھے البتہ مزاحیہ اداکار نذر نے ایک ولن کے طور پر زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔

فلم کوئل (1959) کی موسیقی

فلم کوئل (1959) کے گیتوں کو کلاسک گیتوں کا درجہ حاصل ہے۔ انھیں تنویرنقوی نے لکھا اور موسیقار خواجہ خورشیدانور تھے جن کے ساتھ میڈم کی فلم انتظار (1956) کے بعد یہ دوسری فلم تھی۔

فلم کوئل (1959) کا مقبول ترین گیت ایک دوگانا تھا:

  • رِم جِھم، رِم جِھم، پڑے پھوار، تیرا میرا نت کا پیار۔۔
یہ گیت فلم کے شروع میں دو بچوں پر فلمایا جاتا ہے اور آوازیں دو گلوکارہ بہنوں، ناہیدنیازی اور نجمہ نیازی کی ہوتی ہیں۔ فلم کا اینڈ بھی اسی گیت پر ہوتا ہے جبکہ اس کو زیادہ شہرت ملکہ ترنم نورجہاں اور منیرحسین کی آوازوں میں ملی۔ یہ گیت میڈم اور اسلم پرویز پر فلمایا گیا تھا۔

فلم کے آغاز میں ایک کلاسیکل گیت استاد فتح علی خان کی آواز میں علاؤالدین پر فلمایا گیا تھا جس کے بول تھے: "گرج گرج کر آئیں بادل۔۔"

اسی فلم میں ملکہ ترنم نورجہاں نے بھی ایک کلاسیکل سولو گیت گایا تھا: "دل کا دیا جلایا میں نے۔۔" اس گیت کو ایک کورس گیت کی شکل میں ریہرسل کے طور پر چار آوازوں میں بھی گایا گیا جب ماں (ساحرہ)، اپنی بیٹی (بے بی پروین) اور علاؤالدین، (غالباً) صغیر آغا کو سکھاتے ہیں۔ صرف منیرحسین کی آواز پہچانی گئی ہے۔

فلم کوئل (1959) کے بارہ گیتوں میں سے دو گیت زبیدہ خانم نے گائے جو نیلو پر فلمائے گئے تھے: "ہو، دل جلا نہ دل والے۔۔" اور "مستی میں جھوم جھوم رے۔۔" یہ گیت بھی بڑے مقبول ہوئے تھے۔

ان کے علاوہ دیگر گیتوں میں ملکہ ترنم نورجہاں کے یہ اعلیٰ پائے کے مسحورکن گیت بڑے پسند کیے گئے تھے:

  • مہکی فضائیں، گاتی ہوائیں، بہکے نظارے، سارے کے سارے، تیرے لیے۔۔
  • ساگر روئے، ندیا شور مچائے، یاد پیا کی آئے، نیناں بھر آئے۔۔
  • اور بے وفا، میں نے تم سے پیار کیوں کیا۔۔
  • تیرے بنا، سونی سونی لاگے رے، چاندنی رات۔۔
فلم میں یہ سبھی گیت سننے والوں پر بڑا گہرا اثر کرتے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خواجہ صاحب کی موسیقی میں خاصی یکسانیت پائی جاتی ہے جو عام فلم بینوں کے لیے بوریت کا باعث ہوتی تھی۔ یہی وجہ کہ خواجہ خورشید انور، موسیقی کو سمجھنے یا میری طرح دلچسپی رکھنے والوں میں بہت بڑا نام و مقام رکھتے ہیں لیکن تجارتی بنیادوں پر ایک ناکام موسیقار تھے۔ اردو فلموں، انتظار (1956) اور کوئل (1959) کے علاوہ پنجابی فلم ہیررانجھا (1970)، ان کی سب سے بڑی نغماتی فلمیں تھیں۔

"کوئل" کے چند دلچسپ حقائق

فلم کوئل (1959) میں ملکہ ترنم نورجہاں کے فلمی کردار "زرینہ" کو اپنی سحرانگیز آواز کی بدولت "پاکستان کی کوئل" کا خطاب دیا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری زبانوں (اردو/ہندی/پنجابی وغیرہ) میں بیشتر پرندوں کی طرح "کوئل" (Cuckoo) کا لفظ بھی تذکیروتانیث سے عاری ہے اور یہ مونث بولا جاتا ہے مذکر نہیں، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ "کوئل گاتی ہے۔۔" حالانکہ اصل میں "کوئل گاتا ہے۔۔" کیونکہ صرف "نر یا میل کوئل" ہی گاتا ہےجبکہ "مادہ یا فی میل کوئل" کی آواز بڑی کرخت ہوتی ہے۔

قدرت کا کرشمہ دیکھئے کہ "نر کوئل"، نہ صرف کوّے کے قرب و جوار میں رہتا ہے بلکہ اسی کی طرح رنگ کا کالا بھی ہوتا ہے اور "کُو کُو" کی سُریلی آواز بھی اسی کی ہوتی جو "مادہ کوئل" کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے نکالتا ہے یا گاتا ہے۔

"مادہ کوئل" بھورے رنگ کی ہوتی ہے اور اتنی مکار ہوتی ہے کہ اپنا گھونسلا تک نہیں بناتی بلکہ اپنے انڈے عام طور پر کوّؤں کے گھونسلوں میں دے آتی ہے جو انھیں سینچتے اور پالتے ہیں۔ قدرت کا نظام دیکھیے کہ صرف ایک ماہ میں پرندوں کے بچے مکمل جوان اور خودمختار ہو کر گھونسلوں سے اُڑ بھی جاتے ہیں۔

"کوّا"، ایک انتہائی چالاک پرندے کے طور پر مشہور ہے لیکن کوئل، اس کو بھی ماموں بنا دیتی ہے اور اپنے بچوں کی پرورش مفت میں اسی سے کرواتی ہے۔ کوئل کے بچے پیدائشی طور پر اتنے چالاک اور خودغرض ہوتے ہیں کہ کوّؤں کے اصل بچوں یا انڈوں کو انھی کے گھونسلوں سے باہر پھینک دیتے ہیں تاکہ اکیلے انھی کی پرورش ہوتی رہے۔

یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہو گی کہ برصغیر پاک و ہند کے فلمی گیتوں میں مترنم پرندوں کا ذکر بہت ملتا ہے۔ پاکستان میں کوئل (1959) کے علاوہ بلبل (1955)، بلبلِ بغداد (1962) اور مینا (1970) ایسی فلمیں ہیں کہ جو ان خوش الحان پرندوں کے ناموں پر بنی ہیں۔

میڈم نورجہاں کا مصروف ترین سال

میڈم نورجہاں نے 1959ء میں تین فلموں، "پردیسن"، "نیند" اور" کوئل" میں کام کیا جو ان کا پاکستان میں کسی ایک سال میں زیادہ سے زیادہ ریلیز شدہ فلموں کا ریکارڈ ہے۔

گو گزشتہ سال یعنی 1958ء میں بھی میڈم کی تین فلمیں (چھومنتر، انارکلی اور جانِ بہار) ریلیز ہوئیں لیکن ان میں سے ایک فلم صرف گلوکارہ کے طور پر تھی۔

میڈم نورجہاں نے تقسیم سے قبل بمبئی میں 1945ء کی چار فلموں (زینت، گاؤں کی گوری، بڑی ماں اور لال حویلی ) میں کام کیا جو ان کے پورے فلمی کیرئر میں ایک سال میں زیادہ سے زیادہ فلموں میں بطورِ اداکارہ/گلوکارہ کام کرنے کا ریکارڈ تھا۔

1959ء کی فلمی تاریخ

  • 1959ء میں پاکستان میں کل 38 فلموں میں تین سو سے زائد گیت گائے گئے جن میں سے میڈم نورجہاں کے حصہ میں تین فلمیں اور 23 گیت آئے۔ زبیدہ خانم نے ایک کیلنڈر ائیر میں 111 گیت گا کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ گلوکاروں میں سلیم رضا، موسیقاروں میں جی اے چشتی اور گیت نگاروں میں تنویرنقوی، نمایاں تھے۔
  • 1959ء کی سب سے بڑی فلم کرتارسنگھ (1959) تھی جس کے گیت "دیساں دا راجہ۔۔" نے نسیم بیگم کو بامِ عروج پر پہنچا دیا تھا۔ ایس بی جون کا گایا ہوا گیت "تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے۔۔" سال کا مقبول ترین مردانہ گیت تھا۔
  • بھارت میں سو کے قریب فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں راج کپور اور نوتن کی فلم اناڑی (1959) کامیاب ترین فلم تھی۔

1959ء کے اہم واقعات

  • پاکستان کے مختارِ کل، فوجی آمر، مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، صدرِ مملکت اور فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان نے "بنیادی جمہوریتوں کا نظام" متعارف کروایا جس میں مشرقی اور مغربی پاکستان سے چالیس چالیس ہزار بلدیاتی (بی ڈی) ممبران منتخب ہوئے جو صدارتی انتخاب میں وؤٹ دینے کے مجاز تھے۔ عام لوگوں کو صرف بلدیاتی ممبران منتخب کرنے کا حق دیا گیا لیکن صدر، اپنے انتخاب یا قانونی جواز کے لیے ہر ایرے غیرے نتھو خیرے پاکستانیوں (اور بنگلہ دیشیوں) کے وؤٹوں کا محتاج نہیں تھا۔۔!
  • "خلائی دوڑ" میں روس بازی لے گیا جب اس کا ایک راکٹ چاند کے مدار میں داخل ہوگیا تھا۔



Pakistan Film Magazine

Pakistan Film Magazine is the first and largest website of its kind, containing unique information, articles, facts and figures on Pakistani and pre-Partition films, artists and film songs.
It is continuously updated website since May 3, 2000.




PAK Magazine
is an individual effort to compile and preserve the Pakistan history online.
All external links on this site are only for the informational and educational purposes and therefor,
I am not responsible for the content of any external site.

Old site mazhar.dk

پاک میگزین" کا آغاز 1999ء میں ہوا جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بارے میں اہم معلومات اور تاریخی حقائق کو آن لائن محفوظ کرنا ہے۔

یہ تاریخ ساز ویب سائٹ، ایک انفرادی کاوش ہے جو 2002ء سے mazhar.dk کی صورت میں مختلف موضوعات پر معلومات کا ایک گلدستہ ثابت ہوئی تھی۔

اس دوران، 2011ء میں میڈیا کے لیے akhbarat.com اور 2016ء میں فلم کے لیے pakfilms.net کی الگ الگ ویب سائٹس بھی بنائی گئیں
لیکن 23 مارچ 2017ء کو انھیں موجودہ اور مستقل ڈومین pakmag.net میں ضم کیا گیا جس نے "پاک میگزین" کی شکل اختیار کر لی تھی۔



PAK Magazine
Pakistan Film Magazine
Pakistan Media
Namaz timetable for Copenhagen, Denmark
Back to the top of the page