A Tribute To The Legendary Playback Singer Masood Rana

Masood Rana - مسعودرانا Masood Rana sang 1035 songs in 648 films

مسعودرانا کے فلمی ریکارڈز


مسعودرانا ، پاکستان کی فلمی تاریخ کے سب سے زیادہ قابل رشک فلمی ریکارڈز کے مالک گلوکار تھے ، ایک خلاصہ ملاحظہ فرمائیں:
  • مسعودرانا ، پاکستان کی فلمی تاریخ کے واحد گلوکار ہیں کہ جو 1962ء میں اپنی پہلی فلم سے لے کر 1995ء میں اپنے انتقال تک فلمی گائیکی کی ضرورت رہے تھے۔ اس 34 سالہ فلمی کیرئر میں کبھی کوئی ایک بھی سال ایسا نہیں گذرا تھا کہ جب مسعودرانا کی بطور گلوکار کوئی فلم ریلیز نہ ہوئی ہو۔
  • مسعودرانا نے اپنے اس طویل فنی سفر میں سب سے زیادہ فلموں میں سب سے زیادہ فلمی گیت گانے کا اعزاز حاصل کیا تھا ۔ یاد رہے کہ کوئی فلمی گلوکار اپنی مرضی سے یا زبردستی نہیں گاتا تھا یا گا سکتا تھا بلکہ اس کے گیتوں کی تعداد اس کی مانگ یا ڈیمانڈ کا منہ بولتا ثبوت ہوتا تھا۔ فلمی موسیقی کی تمام تر فنی باریکیوں کے ذمہ دار موسیقار ہوتے تھے جو اپنی دھنوں کے لئے موزوں ترین گلوکار کا نتخاب کرتے تھے اور پاکستان میں مسعودرانا ، مردانہ فلمی گائیکی کی سب سے بڑی ضرورت ہوتے تھے جو کسی کی پسند یا نا پسند کے محتاج نہیں تھے۔
  • مسعودرانا کے ایک ہزار سے زائد فلمی گیتوں میں سے ساٹھ فیصد گیت پنجابی زبان میں ہیں جو پاکستانیوں کی اکثریت کی مادری زبان بھی ہے۔ مسعودرانا، پنجابی فلمی گائیکی میں ایک سٹینڈرڈ مردانہ آواز بن چکے تھے اور اجارہ داری کا یہ عالم تھا کہ ان کے گائے ہوئے پنجابی گیتوں کی تعداد پاکستان کے دیگر پانچ بڑے گلوکاروں عنایت حسین بھٹی ، سلیم رضا ، منیر حسین ، احمد رشدی اور مہدی حسن کے گائے ہوئے کل پنجابی فلمی گیتوں کی مشترکہ تعداد سے بھی زیادہ تھی۔ یاد رہے کہ پاکستان میں پنجابی فلموں کا سرکٹ ،اردو فلموں کے سرکٹ کی نسبت چار سے پانچ گنا بڑا ہوتا تھا جہاں پنجابی فلموں کو ہی زیادہ اہمیت حاصل ہوتی تھی۔
    Masood Rana records
  • پاکستان کی اردو فلموں میں زیادہ تر نوجوان طبقے کو احمد رشدی کے شوخ و چنچل گیت اور سنجیدہ طبقے کو مہدی حسن کے غزل نما رومانٹک گیت اچھے لگتے تھے لیکن اونچی سروں میں گائے گئے مشکل ترین گیتوں کے علاوہ اردو اور پنجابی فلموں کے ٹائٹل اور تھیم سانگ گانے میں مسعودرانا کا کبھی کوئی ثانی نہیں رہا۔
  • مسعودرانا ہی پاکستان کی فلمی تاریخ کے واحد گلوکار ہیں کہ جنہوں نے اردو اور پنجابی فلموں اور گیتوں کی سینچریاں بلکہ ڈبل سینچریاں بنائی تھیں۔
  • مسعودرانا اپنے فلمی کیرئر میں کبھی کسی ایک اداکار کے لئے مخصوص نہیں رہے ۔ ان کے سب سے زیادہ گیت پس پردہ تھے ، جن کی تعداد سو سے بھی زائد ہے اور جو اداکاروں اور اداکاراؤں کے علاوہ مختلف فلمی صورتحال کے لئے گائے گئے تھے۔
  • مسعودرانا کا فنی کیرئر چار عشروں پر محیط تھا لیکن ان کے گیت آٹھ عشروں پر پھیلے ہوئے فنکاروں پر فلمائے گئے تھے جو ایک اور منفرد ریکارڈ ہے۔ 1920ء کے عشرہ میں فلمی کیرئر کا آغاز کرنے والے اداکار نور محمد چارلی سے لے کر 1990ء کے عشرہ میں متعارف ہونے والے شان اور جان ریمبو پر بھی مسعودرانا کے گیت فلمائے گئے تھے۔
  • مسعودرانا کے گیت باپ اور بیٹوں پر بھی فلمائے گئے تھے۔ جو ایک اور عجوبہ تھا۔ اکمل ، منور ظریف ، سلطان راہی ، دلجیت مرزا اور ریاض شاہد کے بعد ان کے بیٹوں بالترتیب شہباز اکمل ، فیصل منور ظریف ، حیدر سلطان ، دلاور اور شان پر بھی مسعودرانا کے گیت فلمائے گئے تھے۔
  • مسعودرانا نے موسیقار باپ بیٹوں کے ساتھ بھی نغمہ سرائی کی تھی جن میں رشید عطرے ، ماسٹر عنایت حسین ، بابا جی اے چشتی اور صفدر حسین کے بعد ان بیٹوں بالترتیب وجاہت عطرے ، ماسٹر طفیل ، تسکین چشتی اور عباس صفدر کے نام بھی آتے تھے۔ انہوں نے تین مختلف موسیقاروں کے ساتھ سو سو سے زائد گیت بھی گائے تھے ، جن میں بابا جی اے چشتی ، ایم اشرف اور وجاہت عطرے شامل تھے۔
  • مسعودرانا نے 1966ء میں ستر سے زائد فلمی گیت گا کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ اس ایک کیلنڈر ائر میں انہوں نے جتنے اردو پنجابی سپر ہٹ گیت گائے تھے ، اس کا ریکارڈ کبھی نہیں ٹوٹ سکا۔ یاد رہے اسی سال کی فلم ہمراہی میں مسعودرانا کے سات میں سے چھ گیت سپر ہٹ ہوئے تھے جو کسی ایک فلم میں ، کسی مرد گانے والے کا ، سب سے زیادہ سپر ہٹ گیت گانے کا ناقابل شکست ریکارڈ ہے۔ اسی فلم میں مسعودرانا نے نعت ، ترانہ ، غزل ، المیہ اور طربیہ گیت گا کر اپنے ورسٹائل ہونے کہ مہر ثبت کر دی تھی۔
  • مسعودرانا نے 2 جنوری 1968ء کی عید الفطر کے دن ریلیز ہونے والی گیارہ میں سے سات فلموں میں نغمہ سرائی کر کے ایک ہی دن ریلیز ہونے والی زیادہ سے زیادہ فلموں میں گانے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔
  • کسی گلوکار کے لئے کسی ایک فلم کے سو فیصدی گیت گانے کا ریکارڈ بھی مسعودرانا کے پاس ہے جنہوں نے 1990ء کی فلم بارود کا تحفہ کے چاروں گیت گائے تھے۔ اس فلم کے سبھی گیت جنگی ترانے تھے اور شاید واحد فلم تھی جس میں کوئی نسوانی گیت نہیں تھا۔
  • مسعودرانا نے پاکستان کا پہلا ڈبل ورژن پنجابی اردو گیت فلم بندہ بشر میں گایا تھا۔ دلچسپ اتفاق ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ڈبل ورژن پنجابی اردو فلموں میں نغمہ سرائی کا ریکارڈ بھی مسعودرانا ہی کے پاس ہے جنہوں نے ایک فلم پیار کرن توں نئیں ڈرنا کے لئے کل 12 گیت بھی گائے تھے جن میں سے اردو ورژن میں چھ اور پنجابی ورژن میں پانچ گیت تھے جبکہ چھٹا گیت فلم کے لئے موسیقار کمال احمد نے خودگایا تھا لیکن ریکارڈنگ میں مسعودرانا کا گایا ہوا تھا۔
  • ملکہ ترنم نور جہاں نے سب سے زیادہ فلمی دوگانے بھی مسعودرانا ہی کے ساتھ گائے تھے۔

مسعودرانا: آٹھ عشروں کی آواز

مسعودرانا ، پاکستان کی فلمی تاریخ کے واحد گلوکار تھے کہ جن کی آواز آٹھ عشروں پر پھیلے ہوئے اداکاروں پر فلمائی گئی تھی۔ انہوں نے سو سے زائد اداکاروں کے لئے نغمہ سرائی کی تھی جن کی یہ فہرست مرتب کی گئی ہے۔ بریکٹس میں دیئے گئے نام ان اداکاروں کے ہیں کہ جن کے پس منظر میں گیت گائے گئے تھے جنہیں عرف عام پس پردہ ٹائٹل اور تھیم سانگ کہا جاتا تھا۔
عشرہ فلمبند پس پردہ اداکار
1920 1 1 نور محمد چارلی ، (ایم اسماعیل)
1930 1 0 اے شاہ
1940 6 3 سدھیر ، سنتوش ، علاؤالدین ، طالش ، شیخ اقبال ، نذر ، (الیاس کاشمیری ، گل زماں ، ظہور شاہ)
1950 18 6 درپن ، یوسف خان ، اکمل ، اعجاز ، حبیب ، کمال ، آصف جاہ ، زلفی ، رنگیلا ، لہری ، ساون ، ریاض شاہد ، مظہر شاہ ، سکندر ، امداد حسین ، ساقی ، دلجیت مرزا ، اسد جعفری ، (صبیحہ خانم ، نیر سلطانہ ، شمیم آراء ، یاسمین ، بہار ، فضل حق)
1960 44 10 محمد علی ، وحید مراد ، رحمان ، نرالا ، حنیف ، اسد بخاری ، منور ظریف ، خلیفہ نذیر ، جگی ملک ، ننھا ، علی اعجاز ، قوی ، ندیم ، اقبال حسن ، کیفی ، خالد ، حیدر ، البیلا ، عرفان کھوسٹ ، مصطفیٰ قریشی ، افضال احمد ، عظیم ، حمید چوہدری ، ابو شاہ ، محبوب کاشمیری ، منیر ظریف ، افضل خان ، چنگیزی ، زبیر ، طارق عزیز ، بخشی وزیر ، چوہان ، گلریز ، محمود ، اعظم ، ارسلان ، مسعوداختر ، زاہد خان ، عباس نوشہ ، ماسٹر صدیق ، ضیاء ، اعجاز اختر ، کمال ایرانی ، (مسعودرانا ، نغمہ ، نبیلہ ، سلمی ممتاز ، طلعت صدیقی ، زینت ، ریکھا ، چترا ، شوکت اکبر ، گٹو)
1970 25 1 بدر منیر ، آصف خان ، شاہد ، اورنگزیب ، غلام محی الدین ، جاوید شیخ ، تنظیم حسن ، جمال ، جمیل فخری ، مجید ظریف ، خالد سلیم موٹا ، راحت کاظمی ، نوید ، غیور اختر ، عمر فیروز ، ناظم ، جمشید انصاری ، چکرم ، عثمان پیرزادہ ، شہباز ، جہانگیر مغل ، خالد عباس ڈار ، بانکا ، (طارق شاہ)
1980 15 اظہار قاضی ، فیصل ، ایاز ، شہباز اکمل ، جہانزیب، شیوا ، اسماعیل شاہ ، مسعود احسن ، بابر ، عظیم ، اسماعیل تارا ، ظہور علی ، شجاعت ہاشمی ، عابد علی ، مرزا غضنفر بیگ

1990

9   شان ، جان ریمبو ، عمر شریف ، عابد کشمیری ، فیصل منور ظریف ، اکبر شیخ ، دلاور ، عجب گل ، حیدر سلطان

Pakistan Film Magazine

The most comprehensive source to the history of Pakistani films, music and artists.



پاکستان فلم میگزین ۔۔۔ سنہری فلمی یادوں کا امین

پاکستان فلم میگزین ، پاکستانی فلموں ، فلمی گیتوں اور فلمی فنکاروں پر اولین ، منفرد اور ایک بے مثل معلوماتی اور تفریحی ویب سائٹ ہے جو 3 مئی 2000ء سے مسلسل اپ ڈیٹ ہورہی ہے۔ یہ ایک انفرادی کاوش ہے جو فارغ اوقات کا ایک بہترین مشغلہ بھی ہے۔ یہ تاریخ ساز ویب سائٹ کبھی نہ بن پاتی ، اگر پاکستانی فلموں میں میرے آئیڈیل گلوکار جناب مسعودرانا صاحب کے گیت نہ ہوتے۔ اس عظیم گلوکار کو ایک منفرد خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کے گائے ہوئے ایک ہزار سے زائد گیتوں کا پہلا اردو ڈیٹابیس بنایا گیا ہے جس میں ریکارڈ محفوظ رکھنے کے علاوہ دیگر ساتھی فنکاروں پر تفصیلی مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں۔